واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات



دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات اس حصے میں کسی بھی قسم کی منافرت پھیلانے والے کو بلاتفریق بین کر دیا جائے گا۔ اس لیے احتیاط برتیں!


شیطان کی کہانی شیطان کی زبانی (پانچواں حصہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-09-11, 11:00 AM   #1
شیطان کی کہانی شیطان کی زبانی (پانچواں حصہ
M A Ansari M A Ansari آف لائن ہے 03-09-11, 11:00 AM

شیطان کی کہانی شیطان کی زبانی (چوتھا حصہ
جنت میں
خدا بھلا کرے جنت کے ٹھیکیدار بھائی رضوان کا کہ انہوں نے مجھے یہاں بھی چین سے نہ بیٹھنے دیا بارگاہ قدسی میں عرض و معروض کر کے میرے پیر یہاں سے بھی اکھاڑ دئے اور یہ حکم نا مہ بجھوا دیا کہ اب جنت میں پہنچ کر کچھ دن ساکنان فردوس کو بھی اپنی تعلیم سے فائدہ پہنچاوں۔مجھے خدمت علم و تعمیل ارشاد ِخالقِ کائنات سے ہی اتنی فرصت نہ تھی کہ جنت اور آسمان ہفتم کے فرق پر غور کرتا یا ان میں سے ایک دوسرے کو فضیلت دیتا حکم ہوا کہ جنت میں جا کر وہاں والوں کے ارمان بھی پورے کرونہ انکار کی مجال نہ اقرار کی ہمت چنانچہ بصد رنج و یاس اپنے ان ساتھیوں کو چھوڑ کر جنت میں چلا گیا ۔
جنت میں داخل ہوتے ہی ٹھیکیدار صاحب نے بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ میرا استقبال کیا کہنے کو تو یہ حضرت دربان فردوس ہیں لیکن سچ پوچھو تو بڑے مزے کرتے ہیں انکی زندگی ایسے چین سے گزرتی ہے کہ اسکی مثال موجودہ دنیا کی کوئی راحت نہیں دے سکتی ۔حضرت دیکھتے ہی کہنے لگے ،آیئے بھائی عزازیل ہمارے ایسے نصیب کہاں کہ آپکی زیارت کر سکیں اور آپکی بہترین تعلیم اور قابل تقلید زندگی سے کچھ سبق حاصل کر سکیں میں نے انکساری کے لہجہ میں ان سے بہت کچھ کہا سنا اور آخر میں کہا کہ میںرب العزت کا ایک ادنی اور حقیر بندہ ہوں اور مجھ سے اس سلسلہ میں جو بھی ہو سکا کروں گا اور اپنے لئے باعث افتخار سمجھوں گا ۔بھائی رضوان بولے یہ سب بھی آپ کے رہین منت ہونگے اگر آپ ہمارا التجا قبول فرمائیں کچھ روز خلد میں قیام کریں میں نے کہا آپ کو بھی پتہ ہے کہ پر ور دگار نے مجھے حکم بھیجا ہے کہ چند یوم آپکے ساتھ بھی گزاروں پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ میں یہاں نہ رہوں یا میری کیا مجال ہے کہ تعمیل حکم سے سر کشی کا ارادہ بھی کر سکوں ،
اسکے بعد رضوان نے با اجازت ِ خداوندی مجھے تمام خلد کی سیر کرائی جی باغ باغ ہوگیا وہ کچھ دیکھا جو کبھی نہ دیکھا تھا اور شاید اب کبھی نہ دیکھ سکوں گا ۔
الغرض میں جنت میں رہنے لگا اور وہاں بھی وہی وعظ و نصیحت کا سلسلہ شروع ہوگیا اور یہ دستور مقرر ہوا کہ ایک مخصوص اور با عظمت مقام پر یا قوت و احمر کا ممبر تیار ہوتا تھا اور اس پر ایک نوری علم ایستادہ کیا جاتا تھا ۔ اس ممبر پر میں وعظ کہتا تھا ہر مجلس میں ملائکہ کی تعداد اتنی کثیر ہوتی تھی کہ انکا شمار میری قوت شمار یہ سے بھی باہر تھا سوائے عالم الغیب کے اس تعداد کو کوئی نہیں جانتا تھا۔

ہیڈ پیغمبر
اس ترقی درجات کے زمانے میں زمین کی دنیا نے پھر ایک اور کر وٹ بدلی ، میں آسمانوں پر تھا اور آسمانی دنیا کو دولت علم و عبادت سے مالا مال کر رہا تھا ادھر زمین کی بچی بچائی مخلوق پھر سمٹ سمٹا کر ایک مرکز پر جمع ہو گئی تھی اور اپنی کھوئی ہوئی وقعت اور نگاہ التفات ڈھونڈ رہی تھی۔
مجھے اطلاع ملی کہ میری قوم کے بہت سے افراد جو کسی زمانہ میں فرشتوں کی جنگ میں فنا کئے گئے تھے اور جن کو پر وردگار نے کسی مصلحت سے ادھر ادھر روپوش ہوجانیکی اجازت دے دی تھی آج پھر بے سرو سامان پھر رہے ہیں اور انہیں کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہے یہ حالات معلوم کر کے میرا جی بے حال ہوگیا دل نے کہا چھوڑ ان مشاغل کو تیری قوم بے یار و مدد گار اور ڈانوا ڈول پھر رہی ہے انہیں راستہ بتا ۔ تاکہ وہ بھی تیری طرح مصروف عبادت ہو کر قرب الہی حاصل کر سکیں ۔ مگر مشکل یہ تھی کہ اگر میں قوی لیڈر ی کے حصول کی درخواست کر تا ہوں تو جنت اور اسکی سکونت ہاتھ سے جاتی ہے اور یہ عصمت و قار جو آج میسر ہے وہ پھر نہیں رہے گا ، مجھے اب سے بہت پہلے کے واقعات یاد تھے جو بد اعمالیوں کے باعث اہل زمین پر گزر چکے تھے اور جن کے تصور سے اب بھی روح پر سکتہ کا عالم طاری ہوجاتا ہے ۔
ایک طرف جنت تھی اور ایک طرف قومی رہبر ی ۔ میرے دل کی دنیا میں دونوں جنگ کر رہی تھیں ۔ کبھی اعزاز ذاتی کا غلبہ ہوجاتاتھا اور کبھی حب قومی کا ۔ کبھی سوچتا تھا کہ قوم کی رہبری کے لئے زمین پر جانا پڑے گا تو یہ آسمانی سکونت چھن جائے گی اور کبھی یہ احساس پریشان کرتا تھا کہ قومی خدمت پر ہزار راحتیں قربان کر دینی چاہئیں غرض عجیب ذہنی کشمکش میں مبتلا تھا کہ بارگاہ خداوندی سے حکم ملا ۔
تم اگر چاہو تو ہم تمہیں تمہاری قوم کا رہبر بنا کر بھیج سکتے ہیں تاکہ تم ان کے بھٹکے ہوئے لوگوں کو صراط مستقیم پر لگا کر قومی فرض ادا کروادر اس کے بعد بھی تمہارے ساتھ یہ رعایت رہے گی کہ تم جب چاہو آسمان پر بلا روک ٹوک آسکتے ہو اور جب چاہو اپنی قوم میں جا سکتے ہو تمہارے لئے ہفت افلاک اور جنت الفردوس کے داخلہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی ۔
اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں میں تو خود یہ چاہتا تھاکہ کسی طرح مجھے ان درجات کے ہوتے ہوئے بھی قومی رہبر کا موقع مل جائے چنانچہ میں نے خالق کائنات سے عرض کی کہ ۔اے پر ور دگار عالم تو عالم الغیب ہے تونے دل کی بات جان کر مجھے بامراد فرمایا ہے ۔ اب میں تجھ سے امداد و اعانت طلب کرتا ہوں کہ مجھے زمین پر بھیجنے سے پہلے اتنی طاقت دے دے کہ ضرورت کے وقت میں کسی کام میں معزور نہ رہوں اور روئے زمین کے ذرہ ذرہ کو مطیع اور فرمان بردار بنا سکوں ۔ دریائے رحمت نے میری یہ آرزو بھی آغوش میں لے لی اور بصد اعزاز مجھے اپنی قوم کی رہبری کے لئے بھیج دیا اور بے شمار ملائکہ کی فوف بھی میرے ساتھ کر دی۔

اسسٹنٹ پیغمبروں کی روانگی
میں ملائکہ کی کثیر فوج کے ساتھ زمین پر آیا اور اپنی سکونت کے لئے ایک نہایت پر فض مقام تجویز کرنے لگا ۔ ملائکہ کی فوجیں بھی میرے ارد گرد بس گئیں۔
اب میں نے اپنی قوم کی رہبری کے لئے ایک پروگرام بنایا اور کامل غور و خوض کے بعد یہ مناسب سمجھا کہ میں اپنی قوم کے پاس ایک اسسٹنٹ پیغمبر بھیجوں تاکہ وہ تعلیم خداوندی سے قوم جنہ کو بہرہ ور کرے ، چنانچہ میں نے چند روزہ کوشش کے بعد اپنی قوم کے چند افراد سے دوستی کر کے انہیں اپنے ساتھ ملا لیا ۔
لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ صرف چند دوستوں کے حصول میں مجھے کافی دقت اور مصائب کا سامنہ کر نا پڑا ۔ یہ بھی عجیب بات تھی کہ باوجود اس تباہی اور بے چارگی کے یہ قوم اب بھی غراتی تھی ۔ بہر حال حکمت عملیوں سے میں نے کچھ ایسے افراد حاصل کر ہی لئے جو مجھے میرے پروگرام میںامدا دے سکتے تھے ۔
سب سے پہلے میں نے سہلو طلیث ابن بلاہت کو بطور اپنے نائب یعنی اسسٹنٹ پیغمبر کے قوم کی طرف بھیجا ۔ سہلو طیث نہایت ہوشیار اور متقی جن تھا ۔ اور میرا خیال تھا کہ وہ اس خدمت کو نہایت دانش مندی سے انجام دے گا ۔ لیکن افسوس ہے کہ جانے کے بعد اس نے عرصہ تک کوئی خبر نہیںبھیجی تب میں نے ایک دوسرے جن کو تیار کر کے بطور ہادی قوم کی طرف روانہ کیا وہ بھی ایسا روپوش ہوا کہ عرصہ تک خبر نہیں ملی ۔ اسکے بعد مجبورا تیسرے پیغمبر کو مامور کیا یہ حضرت بھی اپنے سابقہ ساتھیوں کی طرح ہوا میں غائب ہوگئے تب مجبورا ایک اور پیغمبر روانہ کیا ۔ یہ حضرت بھی ایسے گئے کہ خط بھی نہ بھیجا ۔ پانچواں اور پھر چھٹا مگر سب کچھ سمجھا نے کے بعد بھی وہ حضرت غائب ہوگئے ۔
اب مجھے بڑا تعجب ہو ا اور میں نے سوچا کہ اگر یہی لیل و نہار رہے تو قوم کی رہبری اپنے بس کی بات نہیں ۔ سوچتے سوچتے دل نے کہا کہ کم از کم ایک بار کوشش کر لوں آخر یہ لوگ غائب کیوںہو جاتے ہیں جسے بھیجتا ہوں بس یہی سمجھنا پڑتا ہے کہ بس بھیج دیا کوئی خیر خبر نہیں ملتی خود مختلف ذرائع سے حالات کرتا ہوںتو مجھے پتہ چلتا ہے کہ کوئی وہاں پہنچا ہی نہیں میں نے ایک اور جن آسف بن یاسف کو تیار کیا جو بہت ہی تیز و طرار تھا اور عبادت گزار تھا ۔آسف کو اول تو اس خدمت سے تامل ہوا لیکن میرے سمجھانے سے علم پیغبری لے کر روانہ ہوا لیکن عرصہ بعد بھی واپس نہ آیا حالانکہ میںنے اسے بہت سمجھا بجھا کر بھیجا تھا لیکن پھر بھی پتہ نہیں کیوں واپس نہیں آیا اب تو میں واقعی میں پریشان ہو گیا کہ آخر یہ لوگ واپس کیوں نہیں آتے میں ان تمام معاملات پر غور کر رہا تھا کہ ایک دن آسف نہایت پریشان اور ہراساں آیا اور کہنے لگا ۔
اے عزازیل تم نے آج تک جتنے نبی بھیجے وہ سب کے سب فنا کے گھاٹ اتار دیئے گئے قوم کے سر برآور دہ جنوں نے ہر پیغمبر کے ساتھ نہایت ظالمانہ سلوک کیا ہے وہ اپنے درمیان کسی ہادی کو دیکھنا پسند نہیں کرتے ۔
یہ حالات سن کر میرے تن بدن میں آگ لگ گئی اور شرارے نکلنے لگے اور میں نے اس وقت بارگاہ رب العزت میں دعا کی کہ اے خالق کائنات مجھے طاقت دے کہ اپنی نا فرمان قوم سے انتقام لے سکوں اور مجھے کوئی گزند نہ پہنچے ارشاد ہوا کہ انتقام لے سکتے ہو تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچے گا ۔ چنانچہ میں نے اسی وقت ملائکہ کی فوج کو حکم دیا کہ قوم اجنہ میں جتنے سرکش اور باغی ہیں سب کو نیست کی گود میںسلادواور کسی کے ساتھ رعایت نہ کرو البتہ کوئی متقی اور پر ہیز گار نظر آئے تو اس کو احترام کے ساتھ ہمارے پاس بھیج دو اور باغیوں میں سے اگر کوئی صراط مستقیم پر چلنے اور شریعت آسمانی پر عمل پیرا ہونے کا وعدہ کرے تو اس کو بھی بہ حفاظت ہم تک پہنچادو ۔
ملائکہ کی فوج نے ایسا ہی کیا باغی اور سر کشوں کو چن چن کر نیست و نابود کر دیا ۔ اب اس دنیا میں صرف متقی اور نیک لوگ رہ گئے تھے فساد اور بغاوت کا خاتمہ ہو چکا تھا ۔

خدا کا وائسرائے
اس جنگ عظیم کے بعد دنیا سے گناہوں کا نام و نشان ہی جاتا رہا جس طرف نگاہ جاتی تھی رکوع و سجود کا منظر سامنے آجاتا تھا مجھے اپنی عظیم الشان کامیابی سے بے حد مسرت ہوئی اور میں حسب دستور بچے کچھے افراد کے درس و تدریس میں مصروف ہوگیا ۔ اب مجھے ان لوگوں کو تعلیم دینے میں کوئی دقت نہیں تھی اور ذاتی طور پر نہایت آسانی کے ساتھ پیغمبری کر نے لگا ۔ بادشاہ حقیقی کو میری خدمات پسند آئین اور اس نے مجھے اپنا وائسرائے بنالیا ۔ اور واسرائے بنانے کے بعد تمام کائنات میرے ما تحت کر دی ۔ روئے زمین کا چپہ چپہ میری حکومت میں آگیا اور ہفت افلاک کی باگ دوڑ بھی میرے ہاتھ میں دے دی گئی ۔جنت اور دوزخ بھی میرے زیر اثر آگئے ۔
اب میرے فرائض بہت کچھ بڑھ گئے تھے لیکن چونکہ دنیا سے گناہوں کا رواج تقریبا ختم ہو چکا تھا ۔ اس واسطے مجھے پیشتر وقت حمد ثنا ء کے لئے بھی مل جاتا تھا ۔ میری عبادت کی جگہ بھی اس زمانہ میں مخصوص نہیں تھی جب چاہتا میں آسمانوںپر چلا جاتا جب چاہتا زمین پر عبادت کر نے چلا آتا میری شہنشاہی پورے عروج پر تھی وائسرائے کی طرح مجھ پر پابندیان نہیں تھیں میں باوجود شہشاہ حقیقی کی نیابت کے بالکل آزاد تھا ۔ آپ یقین کیجئے کہ باوجود اتنی عظمت و سطوت کے میں نے کسی کو نہیں ستایا امن و امان کے دیوتا کو کبھی ناراض نہین کیا میں خدمت ملک و قوم کے لئے واسرائے بنا تھا میرا مقصد اور میری زندگی کا مشن صر ف یہی تھا کہ میری خدمت سے عوام کا بھلا ہو ۔ آجکل کے بادشاہوں کی طرح مجھ مین ملک گیری زر پر ستی اور چاہ طلبی کا مادہ نہ تھا اور میں غریبوں پر لالچی نگاہیں ڈالنے کا عادی نہ تھا اور نہ مجھ میں ذاتی وجاہت پر مغرور ہونے اور دوسرے کو حقیر سمجھنے کی صلاحیت تھی ۔

سب سے پہلا شیطانی خیال
میرے حسن انتظام اور ہوش مندیوں سے معبود حقیقی پوری طرح مطمئن تھا اور زمین و آسمان کا چپہ چپہ میرا مطیع اور فرمانبردار بنا ہوا تھا کسی کو مجال ِ سر کشی نہ تھی میں جو کچھ چاہتا تھا کر سکتا تھا دنیا کی ہر طاقت میرے اختیار میں تھی اپنی قوم کے علاوہ فرشتوں کی دنیا پر بھی میں اسی طرح مسلط تھا اور وہ سب بھی میری تابعداری کو سعادت سمجھتے تھے ،۔
ایک بیٹھے بیٹھے مجھے خیال آیا (نعوذ با اللہ کفر ، کفر نبا شد) اب کسی وجہ سے شہشاہ حقیقی اپنی تمام سر پر ستوں کے ساتھ شہنشاہیت سے کنارہ کشی کرلے یا اس کی طاقت کسی وجہ سے اس معاملہ میں کمزور پڑ جائے تو میں اسکے بعد اسی اطمنان کے ساتھ حکومت کر سکتا ہوں کیونکہ اب میں کسی معاملہ میں (نعوذ با اللہ ) خدا کا محتاج نہیں ہو ں ۔ وہ دن گئے جب میں بات بات پر اسکا محتاج تھا اور وہ بار بار میری مدد کر تے تھے او ر وقتا فوقتا مختلف قسم کی طاقتیں بخشتے رہتے تھے ۔آج ضرورت سے زیادہ ہر طاقت میرے پاس ہے اب مجھے نہ کسی کی امدا د کی ضرورت ہے نہ کسی کی سر پرستی کی ، اگر چاہوں تو آج ہی پوری آزادی کا اعلان کردوں۔

دوسرا شیطانی خیال
افسوس ہے کہ با وجود اچھا خاصا سمجھدار ہونے کے میری عقل پر اسوقت پتھر پڑ گئے تھے اور میں یہ نہ سوچ سکا کہ جس میں اعزاز بخشنے کی طاقت ہے وہ ذلت بھی تو دے سکتا ہے ۔ مگر میں سوچتا بھی تو کیسے ۔ میری خلقت نار سے ہوئی تھی اور احسان فراموشی نار کا خاصہ ہے اس واسطے کہا جا سکتا ہے کہ میں بے قصور تھا احسان فراموشی کے ان ناپاک خیالات کو روکنا میرے بس کی بات نہیں تھی ۔
پہلے شیطانی وسوسہ پر جتنے آنسوبہاوں کم ہے ۔ کیوںکہ پہلی بات تھی مگر اسکے ساتھ ہی یہ احساس بھی شروع ہوگیا کہ اگر خدا چاہے کہ عزازیل سے یہ تمام وجاہتیں اور عظمتیں چھین لے یا چھین کر کسی دوسرے کو دیدے تو شاید اسے بہت کچھ دقتیں اٹھانی پڑیں گی اور نعوذ با اللہ من ذالک پھر بھی کامیاب نہ ہوسکے گا ، کیونکہ دنیا جہان کی ساری طاقتیں میرے پاس ہیں اور جس کے بل بوتے پر (توبہ نعوذ با اللہ ) اسے ناز ہے وہ سب میرے اختیار میں ہیں ۔
لعنت ہے میرے ا ن خیالات پر جنہوں نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا اور سب کچھ چھنوا دیا ۔ بہر حال اس وقت باوجود ان شیطانی وسوسوں کے مجھ سے کوئی باز پرس نہیں کی گئی تھی اور میں بدستور حکومت اور پیغمبری کر تا رہا ۔

جبرائیل علیہ السلام کی پیدائش
جاری ہے

M A Ansari
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 134
Reply With Quote
M A Ansari کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (04-09-11)
جواب

Tags
فرض, پسند, واقعات, چین, نظر, موجودہ, ممکن, معلوم, آج, اللہ, بہترین, بھائی, تعلیم, حکم, حسن, خبر, خدا, دستور, دعا, روزہ, راستہ, زندگی, عقل, عبادت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:50 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger