واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات



دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات اس حصے میں کسی بھی قسم کی منافرت پھیلانے والے کو بلاتفریق بین کر دیا جائے گا۔ اس لیے احتیاط برتیں!


:::::::موت کا وہ شرارہ ایک پردہ نشین نگینہ تھی :::::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-05-10, 01:23 AM   #1
:::::::موت کا وہ شرارہ ایک پردہ نشین نگینہ تھی :::::::
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 15-05-10, 01:23 AM

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
دو دن پہلے میں نے ضِرار بن الازور رضی اللہ عنہ ُ کے بارے میں ایک مضمون ارسال کیا تھا ، الحمد للہ قارئین نے پسند کیا ،
اس مضمون میں ضِرار رضی اللہ عنہ ُ کی بہن خولہ کا بھی ذکر تھا ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بارے میں بھی مضمون ارسال کر دوں تا کہ دونوں بھائی بہن کی عظمت سب قارئین کے سامنے واضح ہو سکے باذن اللہ ۔
:::::::موت کا وہ شرارہ ایک پردہ نشین نگینہ تھی :::::::

بِسّمِ اللہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
اِنَّ اَلحَمدَ لِلِّہِ نَحمَدہ، وَ نَستَعِینہ، وَ نَستَغفِرہ، وَ نَعَوذ بَاللَّہِ مِن شَرورِ أنفسِنَا وَ مِن سِیَّأاتِ أعمَالِنَا ، مَن یَھدِ ہ اللَّہُ فَلا مُضِلَّ لَہ ُ وَ مَن یُضلِل ؛ فَلا ھَاديَ لَہ ُ، وَ أشھَد أن لا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہ وَحدَہ لا شَرِیکَ لَہ ، وَ أشھَد أن مُحمَداً عَبدہ، وَ رَسو لہ ::: بے شک خالص تعریف اللہ کے لیے ہے ، ہم اُس کی ہی تعریف کرتے ہیں اور اُس سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور اُس سے ہی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں اپنی جانوں کی بُرائی سے اور اپنے گندے کاموں سے ، جِسے اللہ ہدایت دیتا ہے اُسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جِسے اللہ گُمراہ کرتا ہے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں اور وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں :
::::::: خولہ بنت الأزور :::::::

ابھی تک میں نے مرد مثالی شخصیات کا ذِکر کِیا ، اِس دفعہ اِن شاء اللہ میں خواتین میں سے ایک مثالی خاتون کا ذِکر کروں گا ، مرد ہو یا عورت ہمارے لیے یہی حقیقی ہیروز ہیں ، کِسی مرد یا عورت کے ذِکر کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ صرف اپنی ہی جنس کے لیئے مثالی شخصیت ہے ، بلکہ ان میں سے ہر مرد ایک سچی مُسلمان عورت کے لیئے مثالی شخصیت ہے کہ وہ اپنے باپ ، بھائی ، خاوند ، بیٹے اور اگلی اولاد کو اِس مثالی شخصیت جیسا بنانے کی تگ و دو کرے اور جو کچھ اُس مثالی شخصیت کے مثالی کِردار میں سے وہ خود اپنا سکتی ہے اپنائے ، اور اِسی طرح خواتین کا ذِکر محض خواتین کے لیئے ہی نہیں بلکہ ہر سچے مُسلمان کے لیئے ہے کہ وہ اِس مثالی خاتون کی شخصیت کا پَرتو اپنی ماں ، بہن ، بیوی ، بیٹی اور اگلی اولاد میں سے جو مؤنث ہیں اُن میں اُجاگر کرنے کی کوشش کرے اور جو کچھ خوداپنا سکتا ہے اپنائے ۔
آئیے آپ کو اللہ کی ایک نیک بندی اور ایک حقیقی ولیہ خاتون کا واقعہ سُناتے ہیں ،،،
مُسلمانوں کا روم کے کافروں پر جہاد زور و شور سے جاری تھا ، امیرجہاد ، اللہ کی تلوار خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ اپنی تمام تر بہادری اور مؤمنانہ فراست کے ساتھ اللہ اور اُس کے دِین اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دشمنوں پر اللہ کا قہر بن کر مسلط تھے ، اور اِن معرکوں میں جو بات اُن کے لیے بلکہ تمام مسلمان لشکر کے لیے حیرانگی کا باعث تھی ،،،،،
وہ ایک گُھڑ سوار تھا جو بھرپور معرکے کے درمیان کہیں سے اچانک ظاہر ہوتا ، اُس نے سارے جِسم کو ایک سیاہ چادر میں لیپیٹا ہوتا اور ایک سبز چادر کی چوڑی پٹی اُس کی کمر پر اِس طرح بندھی ہوتی کہ اُس کا سینہ، گردن اور کمر کا پچھلے حصہ اُس میں چھپا ہوتا ، اور جب وہ نمودار ہوتا تو ایک چنگاری کی طرح دشمن کی طرف لپکتا اور اُس کے وار کِسی بڑی آگ کی لِپٹ کی طرح پھرتیلے ہوتے کہ جِس طرف جاتا دشمن گرتے ہی نظر آتے اور اُسکی پھرتی اور شجاعت کے سامنے کہیں کوئی کھڑا نہ رہتا ، وہ شرارہ صفت گھڑ سوار دُشمن کی لاشیں گِرا کر اُن کی صفیں کاٹتا ہوا اُن کے اندر تک گُھستا چلاجاتا اور جب واپس آتا تو اُسکے کپڑوں کا رنگ صِرف دُشمن کا خون ہوتا ، اور پھر ایک چکر لگا کر دُشمن پر ٹوٹ پڑتا ، جب تک میدانِ جہاد گرم رہتا اُس کی یہ ہی کاروائی رہتی ،
امیرِجہادسیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ اُسکی بہادری دیکھ کراُسے ملنے اور اُسکی شخصیت جاننے کی شدید خواہش کا اِظہار کرتے لیکن جِہاد کی کاروائی کی طرف سے کِسی اور طرف دھیان نہیں کر پاتے ،اُن کے عِلاوہ باقی لشکرِ اِسلام بھی اِس خواہش میں رہتا کہ اِس شخصیت کو جانے جِس نے رومیوں کے بڑے بڑے وار وریرز (زبردست جنگجولڑاکے) ٹکڑوں میں تقسیم کر دیے اور بڑے بڑے جنگجو ماہرین کو کُوٹ کر پھینک دِیا ،
رافع بن عُمیرہ رضی اللہ عنہ ُنے جب اُس سپر ویرر کے بارے میں جاننے کے لیے مجاھدین کا یہ شوق دیکھا تو کہا """ میں نہیں سمجھتا کہ یہ شہسوار امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ کے عِلاوہ کوئی اور ہو سکتا ہے """
ابھی وہ یہ بات کر ہی رہے تھے کہ سامنے امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ آ گئے ، تو رافع نے کہا """ اے أمیر ، یہ شہسوار کون ہے جو اِس طرح اپنی جان کو شدید خطرے ڈال کر دشمنوں کابُھرکس نکال رہا ہے """
امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُنے کہا """ میں موجودہ حالت میں اِس کی اِن فدائی کاروائیوں کو مُناسب نہیں سمجھتا ، لیکن مجھے اِس شہسوار کی بُہادری اور عقل مندی بہت پسند آئی ہے ، اے اِسلام کے بہادرو ، سب جمع ہو کر اللہ کے دِین کی حفاظت کےلیے اِس دلیرکی مدد کرو اور اللہ کے دِین کی حفاظت میں اُس سے پیچھے نہ رہنا """
پھر سب اکٹھے ہو کر صف بندی کر کے امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ کے پیچھے پیچھے دُشمن پر ٹوٹ پڑے ، جب وہ لوگ اُس شرارہ صفت شہسوار کے قریب پہنچے تو امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ نے با آوازء بلندکہا """ اے اللہ کی راہ میں اپنی جان کو داؤ پر لگانے والے اور اللہ کے دشمنوں کو برباد کرنے والے بھائی ، اپنے چہرے کو بے نقاب کرو کہ ہم تمہیں دیکھ کر اپنی آنکھیں اور دِل ٹھنڈے کر سکیں """
وہ شہسوار کوئی جواب دیے بغیر پھر دُشمن کی صفوں پر پَل پڑا اور پھر ویسا ہی ہوا کہ جِدھر وہ جاتا رومی خوف زدہ ہو کر اُس کے سامنے بھاگتے اور وہ اپنے دائیں بائیں اور سامنے سے اُن کو کِسی خوفناک آندھی کی پُھرتی سے اپنی تلوار کی لپیٹ میں لے لیتا اور کِسی خوفناک زلزلے کی طرح اُنہیں زمین بوس کرتا چلا جاتا ،
ایک اور حملے سے فارغ ہو کر جب وہ پلٹا تو پھر کچھ مجاھد اُسکے قریب پہنچے اور کہا """ تُم عجیب آدمی ہو ، تُمہار أمیر تُمہیں کوئی حُکم دے رہا ہے اور تُم اُسکی بات نہیں مانتے """ کوئی جواب دئیے بغیر وہ پھر دُشمن پر ٹُوٹ پڑا ،
جب رومیوں کی لاشوں کے انبار لگ گئے اور وہ پیچھے ہٹ گئے ، تو امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ اُس شہسوار کے قریب پہنچے اور کہا """ اے اللہ کے بندے تُم نے اپنے تمام مُسلمان بھائیوں کے اور میرے دِل میں بڑی محترم جگہ بنا لی ہے کیا تُم اِس سے زیادہ احترام چاہتے ہو ، جو اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتے ، اپنا نام تک بتانے سے بھی گُریز کر رہے ہو """
تو اُس شہسوار نے جواب دِیا """ اے أمیر میں آپکی بات جواب اِس لیے نہیں دے پا رہی کہ میں ایک پردے میں رہنے والی لڑکی ہوں اور چُھپائی جانے والی چیز ہوں میری حیا مُجھے روکتی ہے کہ آپ سے بات کروں """
امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ نے کہا """ تُم ہو کون ؟ """
تو اُس نے جواب دِیا """میں خولہ ہوں الأزور کی بیٹی مجھے خبر ملی کہ میرا بھائی ضرار دُشمن کی قید میں ہے تو میں میدانِ جہاد میں آ گئی کہ اب میں اپنے بھائی کی جگہ اللہ کے دشمنوں سے جہاد کروں اور شاید اِس دوران اللہ تعالیٰ مجھے میرے بھائی کو آزاد کروانے کا موقع عطاء فرما دے """
امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ نے کہا """ اِن شاء اللہ ہم سب مل کر تمہارے بھائی کو آزاد کروانے کی کوشش کریں گے """
عامر بن طفیل رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ """میں اُس وقت امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ کے دائیں طرف تھا ، اُنہوں نے سب کو اکٹھے ہو کر پھر دُشمن پر حملہ آور ہونے کا حُکم دِیا اور ہمیشہ کی طرح سب سے آگے وہ خود ہوئے اور اُن کے بائیں طرف خولہ بنت الأزور ہو گئیں ، جب رومیوں نے ہماری تیاری دیکھی اور خولہ کو بھی امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ کے پہلو میں دیکھا تو خوف سے چیخ کر پکارے """ اگر یہ قوم اِس شہسوار جیسی ہے تو اِس سے جنگ ہمارے بس کا روگ نہیں""" اور اپنے ٹھکانے کی طرف واپس ہو لیے ،
اِس کے بعد خولہ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی کو تلاش کرتے ہوئے مُسلمان مجاھدوں سے پوچھ گچھ کرنے لگیں جب اُنہیں کوئی خبر نہ ملی تو اُنہوں نے بڑے رنجیدہ لہجے میں کہا """ اے میرے ماں جائے ، تیری جدائی کا انگارہ تیری بہن کے دِل میں ہے لیکن تیرا کچھ پتہ نہیں چل رہا ، کیا پتہ تُم ہمارے باپ سے جا ملے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم کے سامنے شہید ہوئے تھے ، اللہ تُم پر اپنی رحمت کرے """
مجاھدین اور امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ اُن کی یہ بات سُن کربہت دلگیر ہوئے اور کچھ پر تو اتنی رقت طاری ہوئی کہ ان کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں ، پھر امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ اکیلے ہی دُشمن کی طرف پلٹے ، خولہ رضی اللہ عنہا بھی اُن کے ساتھ ہو گئیں ، جب دُشمن نے اُن کو اپنی طرف آتے دیکھا تو اپنے ہتھیار پھینک دیئے اور امان طلب کی ،
امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ نے اپنے ساتھیوں سے کہا انہیں پکڑ کر میرے پاس لے آؤ ، جب اُن کو لایا گیا تو اُنہوں نے بتایا کہ وہ وردان کے فوجی ہیں اور حُمص کے رہنے والے ہیں وردان تو بھاگ گیا ہے اوریہ لوگ صلح کرنا چاہتے ہیں اور مُسلمان جو اور جتنا جزیہ کہیں یہ لوگ دینے کو تیار ہیں ،
امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ نے کہا """ اگر میں تُم لوگوں کے علاقے تک پہنچا تو پھر اِن شاء اللہ صُلح ہو گی، فی الحال یہ بتاؤ کہ کیا تُم لوگ ہمارے اُس ساتھی (ضرار بن الأزور )کے بارے میں کچھ جانتے ہو جِس نے تمہارے سردار کے بیٹے کو قتل کیا """
تو اُنہوں نے کہا '"" کیا آپ اُس کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جِس نے اِس شہسوار سے بڑھ کر ہمارے ساتھیوں کو قتل کیا اور جو اپنے دھڑ سے کپڑے اُتار کر لڑتا ہے """
امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ اُن کی یہ بات سُن کر مُسکرائے اور کہا """ ہاں وہی """
اُنہوں نے کہا '' اُسے تو وردان نے ایک سو فوجیوں کی نگرانی میں باندھ کر بغل ( ایک علاقے کا نام ) کی طرف بھیج دِیا ہے تا کہ اپنے بادشاہ کے پاس بھیجے کہ یہ وہ جِن ہے جو زِرہ پہن کر لڑنے کی بجائے ننگے دھڑ لڑتا ہے اور جِس نے ہمارے اَن گِنت بہترین لڑاکے جنگجو (سپر فائٹنگ وریرز) قتل کیے اور تُمہارا بیٹا بھی """
امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ نے رافع بن عُمیرہ رضی اللہ عنہ ُ کو بُلایا اور کہا """ اللہ نے تُمہیں اِس علاقے اور یہاں کے راستوں کا سب سے زیادہ عِلم دِیا ہے ، اور تمہیں تدبیر (پلاننگ پاور)بھی وافر عطاء فرمائی ہے ، اپنے ساتھیوں میں سے جِس کو چاہو ساتھ لے جاؤ اور ہمارے بھائی (ضرار بن الأزور ) کو رہا کروانے کی بھر پور کوشش کرو ، اللہ کرے کہ وہ تُم سے یہ کام لے لے """
رافع بن عُمیرہ رضی اللہ عنہ ُ نے کہا """ جو آپ کا حُکم اے أمیر ، اگر اللہ نے مجھے کامیاب کر دِیا تو یہ میرے لیے بڑی خوش نصیبی ہو گی """
اُنہوں نے اپنے ساتھ لے جانے کے لیئے بہادر ترین مجاھدین میں سے سو گُھڑ سوار مُنتخب کیئے ، خولہ رضی اللہ عنہانے اُن سے درخواست کی کہ وہ بھی ساتھ جائیں گی ، تو اُنہوں نے کہا """ میں أمیر کے حُکم کے بغیر آپ کو ساتھ نہیں لے جا سکتا """
خولہ رضی اللہ عنہاجلدی سے أمیر کے پاس پہنچیں ، اور اُس لشکر کے ساتھ جانے کی درخواست کرتے ہو ئے کہا """ اے أمیر ، آپ دیکھ چُکے ہیں کہ اللہ نے مُجھے اپنی حفاظت کا حوصلہ اور سلیقہ دے رکھا ہے ، مجھے ساتھ جانے کی اجازت دیجیئے ، اِن شاء اللہ میں اپنے مجاھد بھائیوں پر بوجھ نہیں بنوں گی بلکہ اُن کی مدد کروں گی """
امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ نے اجازت دے دی تو عُمیرہ بن رافع رضی اللہ عنہ ُ نے خولہ رضی اللہ عنہا کوساتھ لے لیا اور دُشمن کے قافلے کے نشانات دیکھتے ہوئے روانہ ہو گئے ،
رافع بن عُمیرہ رضی اللہ عنہ ُ اپنے قافلے کو لے کر دُشمن سے پہلے ہی اُس کی منزل کے قریب پہنچ گئے اور ''الحیات '' نامی ایک وادی میں رُکے اور اپنے ساتھیوں سے کہا """ الحمد للہ خوشخبری ہے کہ دشمن ابھی تک یہاں نہیں پہنچا ، بس اب ہم سب لوگ اِس وادی میں پھیل کر چُھپ جاتے ہیں اور دُشمن کا انتظار کرتے ہیں """
اُن لوگوں کے چُھپنے کے تھوڑی ہی دیر کے بعد دُشمن کے قافلے کا گَرد و غبار نظر آنے لگا ، جوں ہی دُشمن کا قافلہ پورے کا پورے وادی میں داخل ہوا ، مجاھدین نے تکبیر بُلند کرتے ہوئے چاروں طرف سے حملہ کر دِیا اور ایک گھنٹے سے کم وقت میں اپنے بھائی ضرار بن الأزور رضی اللہ عنہ ُ کو بھی آزاد کروا لیا اور تمام کافروں کو قتل کر کے اُنکا اسلحہ اور سواریاں قابو کر کے واپس پلٹ گئے
دیکھیئے اللہ کے وہ بندے اور بندیاں جو اللہ کی رضا کے طلب گار ہوتے ہیں کِس طرح اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مُقرر کردہ حدُود اور پابندیوں میں رہتے ہوئے اللہ کے دِین کے عین مُطابق اپنی زندگیاں بسر کرتے ہیں، اِن حقیقی أولیاء اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سچے اور عملی محبان کی زندگیاں کوئی قصے کہانیاں نہیں واقعات ہیں ، اور نہ ہی یہ کہنا دُرُست ہے کہ وہ زمانہ اور تھا اور اب حالات بدل چُکے ہیں اُنکے وقت کے مُطابق وہاں بھی بہت جدت پسندی اور آزاد روی کا واویلا رہتا تھا ، اِسی لیے تو کافر اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکام سُن کر کہتے تھے ، ((((( إِن ھذا إِلَّا أساطیر الأولین ::: یہ سب تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ))))) سورت الانعام / آیت25، یعنی ہمارا زمانہ تو نیا ہے ، نئے دور کی نئے تقاضے ہیں یہ مُحمد اور اُس کی باتوں کا زمانہ تھوڑی ہے کہ اب اِن پُرانی کہانیوں کو سُنا جائے اور اُن پر عمل کِیا جائے ، اور آج بھی اُن کے رُوحانی پیروکار کچھ اِسی قِسم کا فلسفہ بیان کرتے ہیں ،
خولہ بنت الأزور رضی اللہ عنہا کی بہادری اور اللہ کی راہ میں اپنی جان داؤ پر لگانے کا یہ ایک ہی واقعہ نہیں بلکہ اور بھی واقعات ہیں ، لیکن طوالت کے خوف سے اُنہیں بیان نہیں کِیا جارہا ، اِس واقعہ میں خاص غورکرنے کی چند باتیں ہیں ،
::::::: اللہ تعالیٰ نے اپنے دِین میں عورت کو ڈربے کی مُرغی نہیں بنایا ، اور نہ ہی عورت کو پردے اور چاردیواری کا قیدی بنایا ہے ، صرف اُس پر چند ایسی پابندیاں لگائی ہیں ، جو اُس کی فطری حیا ء کو رونق بخشتی ہیں ، اُسے سِکھاتی ہیں کہ تُم ایک قیمتی نگینہ ہو جِس کی چمک دمک کے کئی رنگ ہیں اور اُن میں سے کوئی بھی بازار کے لیے نہیں صرف اُن کے لیے اور اُس طرح ہے جِن کے لیے اور جِس طرح تمہارے خالق و مالک اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے ، اوروہ پابندیاں اُسے اپنی عزت کا احساس دِلاتی ہیں ، اُسے یہ سمجھاتی ہیں کہ تُم کِسی کی بیٹی ہو ، بہن ہو ، بیوی ہو ، ماں ہو ، اور اگر اِس کے عِلاوہ کچھ بنو گی تو پھر محض ایک جِنسِ تماشا ہو جاؤ گی ، جِس کےطلب گار تو بہت ہوتے ہیں لیکن اُسکی کوئی عِزت نہیں ہوتی ، جو ہوس پرستی اور نفسانی خواہشات کا ہدف تو ہوتی ہے لیکن اُسے مُحبت نہیں کی جاتی ،
::::::: اللہ تعالیٰ نے عورت کواُس کی اپنی اور اُس کے خاندان کی عِزت اور حیاء کی حفاظت کے لیے مقرر کردہ پردے کی حدود میں رہتے ہوئے زندگی کے کِسی بھی معاملے میں شریک ہونے کا حق دیا ہے ، اِسلام میں عائد کردہ چند پابندیاں عورت کو وہ عِزت اور حفاظت عطاء کرتی ہیں جواُس سے پہلے کِسی معاشرے و مذہب میں نہیں تھیں اور نہ اُسکے عِلاوہ کِسی معاشرے و مذہب میں ہیں،
اِسلام میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ہر حکم اور ہر پابندی پر عمل کرتے ہوئے صحابہ اور صحابیات رضی اللہ عنہم اجعمین نے دُنیا کی سپر پاورز کو اپنے پیروں تلے روند کر بھی دکھایا اوردُنیا کی زندگی میں اپنی معاشی اور معاشرتی ذمہ داریاں بھی حلال ذرائع سے اور بہترین طور پر پورا کر کے دِکھائیں ،
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں ان حقیقی مثالی شخصیات کی محبت رزق فرمائے اور ان کے قدموں کے یقنیاً جنت تک پہنچانے والے نقوش پر قدم بہ قدم چلنے کی ہمت و جرأت عطا فرمائے ، و آخر کلامنا اَن الحمدَ للہ و الصلاۃ و السلام علی رسول اللہ ، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 543
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (15-05-10), کنعان (08-06-10), ھارون اعظم (15-05-10), نورالدین (19-05-10), ملک بھائی (26-05-10), wajee (16-05-10), راجہ اکرام (16-05-10), شھزادباجوہ (09-08-11), ضِرار Derar (15-05-10), طلحہ (15-05-10), عبداللہ آدم (16-05-10), عبداللہ حیدر (15-05-10)
پرانا 15-05-10, 09:34 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
بہت شکریہ
بہت بہت شکریہ
بہت بہت بہت شکریہ
عادل صاحب
آپ نے میرا دل خوش بلکہ وہ کیا کہتے ہین
گارڈن گارڈن کر دیا
خوش رہو جناب
پر میرے سولواں کے جواب ضرور دینا
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا
کنعان (08-06-10), نورالدین (19-05-10), راجہ اکرام (16-05-10), عبداللہ آدم (16-05-10), عبداللہ حیدر (25-05-10)
پرانا 15-05-10, 09:46 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,143
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عادل صاحب!
ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ آپ نےشہ زور اور طاقتور صحابہ کو سب کے لیے مثالی شخصیت قرار دیا ہے لیکن ظاہر ہے ہر آدمی میں اتنا زور بازو تو نہیں‌ہو سکتا جس طرح کا آپ لکھتے اور بتاتے ہیں تو پھر سب کے لیے نمونہ کیسے ہوئے؟؟؟‌
یہ مثالیں تو فوج کے جوانوں، پہلوانوں اور باڈی بلڈرز کو دی جانی چاہئیں۔ میرے جیسے لوگ جو مکہ کھانے کی سکت نہیں رکھتے انہیں معاف ہی رکھیے۔
طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (15-05-10), نورالدین (19-05-10), راجہ اکرام (16-05-10)
پرانا 15-05-10, 11:37 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,861
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طلحہ مراسلہ دیکھیں
عادل صاحب!
ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ آپ نےشہ زور اور طاقتور صحابہ کو سب کے لیے مثالی شخصیت قرار دیا ہے لیکن ظاہر ہے ہر آدمی میں اتنا زور بازو تو نہیں‌ہو سکتا جس طرح کا آپ لکھتے اور بتاتے ہیں تو پھر سب کے لیے نمونہ کیسے ہوئے؟؟؟‌
یہ مثالیں تو فوج کے جوانوں، پہلوانوں اور باڈی بلڈرز کو دی جانی چاہئیں۔ میرے جیسے لوگ جو مکہ کھانے کی سکت نہیں رکھتے انہیں معاف ہی رکھیے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
طلحہ بھائی ،
یہ واقعات تو ایک """ نوخیز دوشیزہ """ کے ہیں ،
معاف کیجیے گا کیا آپ جسمانی طور پر اُس سے بھی نازک ہیں !!!
میرے بھائی یہ مثالیں سب ہی ایمان والوں کے لیے ہیں ، صرف سولجرز ، ریسلرز یا باڈی بلڈرز کے لیے نہیں ،
بھائی ، حق و باطل کے معرکے جسمانی اور مادی قوتوں اور وسائل کی بنا پر نہیں لڑے جاتے نہیں جیتے جاتے ،
جہاد حُنین میں کیا ہوا ، جب صحابہ رضی اللہ عنہم کو اپنی کثرت پر ناز ہوا اور اس پر توکل سا ہوا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں شکست کا منہ دکھایا ،
آپ خیر القرون کی ساری ہی جہادی مہموں میں مومنین اور کفار کی مادی طاقت اور وسائل کا موازنہ کر لیجیے ، حقیقت سمجھنے میں مدد ملے گی ان شاء اللہ ،
طلحہ بھائی ، اگر اللہ بے چاہا تو کسی وقت البراء بن مالک رضی اللہ عنہ ُ کا تعارف ارسال کروں گا جو اتنے سے جسم کے ملاک تھے کہ ایک بڑی ڈھال میں بیٹھ کر دشمن کے باغ کی چار دیواری میں پھینکے گئے اور پوری فوج سے لڑتے بھڑتے ہوئے اپنے مجاھد بھائیوں کے لیے مرکزی دروازہ کھولا ،
عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہُ کو دیکھیے جن کی ٹانگیں اتنی پتلی تھیں کہ کبھی صحابہ رضی اللہ عنہم مذاق بھی کر لیتے ، یہ عبداللہ رضی اللہ عنہ ُ ہر معرکے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ساتھ رہے اور اگلی صفوں میں جا کر دشمنوں کی درگت بناتے رہے ،
تو میرے بھائی ، جسمانی قوت اپنی جگہ ایک ضرورت تو ہے لیکن اصل اساس نہیں ، ویسے اگر آپ چاہیں تو ان شاء اللہ اس قابل ہو سکتے ہیں کہ مکے کھاکھا کر بھی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دشمنوں کا ناطقہ بند کر سکیں ، و السلام علیکم۔

Last edited by عادل سہیل; 16-05-10 at 01:09 AM.
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (08-06-10), نورالدین (19-05-10), احمد بلال (21-05-10), راجہ اکرام (16-05-10), ضِرار Derar (16-05-10), طلحہ (16-05-10), عبداللہ آدم (16-05-10), عبداللہ حیدر (25-05-10)
پرانا 16-05-10, 01:38 AM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,233
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
عادل سہیل بھائی
جزاک اللہ خیر
راجہ اکرام آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-05-10, 05:39 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,143
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عادل صاحب آپ کی باتیں میری سمجھ میں تو نہیں آ رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو خاص حد تک ہی جسمانی قوت عطا فرمائی ہے۔ چلیں میری بات چھوڑیں، یہ بتائیں کہ تاریخ میں اور کتنی صحابیات کا ذکر ہے جو اس طرح لڑا کرتی تھیں؟ کیا وہ ہمارے لیے مثال نہیں ہیں؟
طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (16-05-10)
پرانا 16-05-10, 07:47 PM   #7
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,052
شکریہ: 24,031
4,992 مراسلہ میں 14,715 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم

وہ خواتین کے لیے مثال ہیں نا بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے لیے یہ آیت ہی کافی ہے کہ:
'''نکلو(اللہ کی راہ میں(خواہ ہلکے ہو یا بھاری""۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔

عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کا اپنے بیٹوں کے ساتھ باقاعدہ اس بات پر جھگڑا ہوا کہ میدان میں کون جائے گا۔بیٹوں نے کہا کہ ابا جان آپ کی ایک ٹانگ میں نقص بھی ہے اور عمر بھی زیادہ ہے اور سب سے بڑھ کر ہم ہیں ناآپ کی طرف سے لشکر میں نمائندگی کرنے والے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو انہوں نے ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا
::::::::::::االلہ کی قسم میں جنت میں لنگڑاتا ہوا داخل ہونا چاہتا ہوں؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

کیا ہم ان سے بھی کمزور ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟ہرگز نہیں صرف
یہ ہے کم ہمتی جو بے بسی معلوم ہوتی ہے

والسلام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (26-05-10), کنعان (08-06-10), عبداللہ حیدر (25-05-10)
پرانا 16-05-10, 08:07 PM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,233
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

طلحہ بھائی
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
جواب تو مکرمی عادل بھائی ہی دیں گے
لیکن مجھے جو بات سمجھ آتی ہے وہ یوں کہ
مختلف شخصیات مختلف صفات کی حامل ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ ایک شخصیت کی تمام ہی صفات کو اپنایا جائے۔
زندگی مختلف شعبہ جات میں منقسم ہے، ان شعبہ جاتے میں سے جس شعبے میں جس شخصیت کا جو کردار یا اس کی سیرت کا جو پہلو رہنمائی کرے اسے اپنایا جائے۔
مثال کے طور پر خولہ بنت الأزور رضی اللہ عنھا کی شخصیت کا یہ پہلو ہمارے سامنے آیا کہ وہ بہترین مجاہدہ تھیں
لیکن ایک بہترین ولیہ بھی تھی۔ ان کی شخصیت میں بہادری، اللہ کے دین سے محبت، اطاعت امیر یہ ساری ایسی خوبیاں ہیں جو ہر کسی کے لئے قابل عمل اور قابل تقلید ہیں
جہاں تک تعلق ہے شہہ سواری ، نیزہ بازی، تیر اندازی یا تلوار بازی کا تو وہ جب بھی کوئی اس میدان میں جائے تو اس کو مشعل راہ بنائے۔
اور یہ تو آپ جانتے ہیں جو میدان میں جائے گا وہ اتنا باہمت ضرور ہوگا کہ یہ ان کے لئے مثالی شخصیت ہوں۔

کیا خیال ہے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (26-05-10), ھارون اعظم (17-05-10), طلحہ (25-05-10), عبداللہ آدم (17-05-10), عبداللہ حیدر (25-05-10)
پرانا 19-05-10, 06:40 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Cool

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طلحہ مراسلہ دیکھیں
عادل صاحب آپ کی باتیں میری سمجھ میں تو نہیں آ رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو خاص حد تک ہی جسمانی قوت عطا فرمائی ہے۔ چلیں میری بات چھوڑیں، یہ بتائیں کہ تاریخ میں اور کتنی صحابیات کا ذکر ہے جو اس طرح لڑا کرتی تھیں؟ کیا وہ ہمارے لیے مثال نہیں ہیں؟
السلام علیکم
شکریہ طلحہ صاحب
میرے کو بھی بڑی اوکھی ہو کر سمجھ آتی ہین
لگے رہو آپ بھی
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-05-10, 11:42 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,861
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
طلحہ بھائی اور ضِرار بھائی،
ماشاء اللہ بھائی راجہ اکرام نے بہت مناسب جواب دیا ہے ، کیا آپ صاحبان مزید کچھ جاننا ، کہنا یا سننا پسند فرماتے ہیں ؟؟؟
و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
ضِرار Derar (26-05-10)
پرانا 25-05-10, 12:47 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,143
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راجہ جی کی بات کچھ کچھ سمجھ میں آئی ہے، لیکن جیسا ضرار نے کہا کہ اوکھی سمجھ میں آتی ہے۔ آسان اسلوب میں لکھ دیا کریں۔
طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا
ضِرار Derar (26-05-10), عبداللہ آدم (25-05-10), عبداللہ حیدر (25-05-10)
پرانا 25-05-10, 09:30 AM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
طلحہ بھائی اور ضِرار بھائی،
ماشاء اللہ بھائی راجہ اکرام نے بہت مناسب جواب دیا ہے ، کیا آپ صاحبان مزید کچھ جاننا ، کہنا یا سننا پسند فرماتے ہیں ؟؟؟
و السلام علیکم۔
السلام علیکم
عادل صاحب
آپ بتاتے ہی کب ہو
جو یہ سوال کیا ہے
میرے کتنے سوال تو آپ نے جواب نہیں دیا
بس نصیحتین کرتے رہتے ہو
شعیوں سے بھی بھائی بھایئی بننے کو کہتے ہو
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 26-05-10, 12:30 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,861
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طلحہ مراسلہ دیکھیں
راجہ جی کی بات کچھ کچھ سمجھ میں آئی ہے، لیکن جیسا ضرار نے کہا کہ اوکھی سمجھ میں آتی ہے۔ آسان اسلوب میں لکھ دیا کریں۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی میرے اُس آسان اسلوب کی کچھ مثال پیش کیجیے اور یوں کہ میرا لکھا ہوا کوئی جملہ جو آپ کو مشکل لگتا ہو اسے آسان کر کے لکھ دیجیے ، تا کہ میں آپ کا مطلوبہ آسان اسلوب سمجھنے کی کوشش کروں اور اگر ممکن ہو تو اپنانے کی بھی ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
ضِرار Derar (26-05-10)
پرانا 26-05-10, 12:37 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,143
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی میرے اُس آسان اسلوب کی کچھ مثال پیش کیجیے اور یوں کہ میرا لکھا ہوا کوئی جملہ جو آپ کو مشکل لگتا ہو اسے آسان کر کے لکھ دیجیے ، تا کہ میں آپ کا مطلوبہ آسان اسلوب سمجھنے کی کوشش کروں اور اگر ممکن ہو تو اپنانے کی بھی ، و السلام علیکم۔
و علیکم سلام۔
حضور، اولین فرصت میں اس مضمون کا عنوان سہل فرما دیں تا کہ مبتدیوں کا فہم بھی اس میں پوشیدہ معانی کا ادراک کر سکے۔
طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-05-10, 12:55 AM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,861
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طلحہ مراسلہ دیکھیں
و علیکم سلام۔
حضور، اولین فرصت میں اس مضمون کا عنوان سہل فرما دیں تا کہ مبتدیوں کا فہم بھی اس میں پوشیدہ معانی کا ادراک کر سکے۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اللہ اللہ ، یہ انداز گفتار اور ہم سے آسان اسلوب کی طلب
الحمد للہ ، پردہ اٹھ گیا ، طلحہ بھائی اب مجھے کافی حوصلہ ہو گیا ہے کہ آپ میرے موجودہ اسلوبء بیان کو خوب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں ان شاء اللہ ،
بلکہ شاید وہ آپ کے لیے بچگانہ اندازء کلام ہو ، لہذا اب اگر صرف آپ سے بات کرنا ہو گی تو اِن شاء اللہ ایسے ضمائر اور کنایوں میں کرنے کی کوشش کروں گا جن کے ادارک کی سعیء تمام آپ کے فہم کی استطاعت سے ناپید نہ ہو اور آپ کے دل ودماغ ہویدا نہ ہونے پائے ،والسلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (26-05-10), ضِرار Derar (26-05-10), طلحہ (27-05-10)
جواب

Tags
فوج, کھانے, کیسے, لیکن, لوگ, مکہ, موت, مثالی خاتون, معاف, آدمی, اللہ, السلام, اتنا, بلکہ, جیسے, جواب, خواتین, خوش, دینا, رہو, طاقتور, طرح, عادل, عادل سہیل, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
شام تھی اور برگ و گُل شَل تھے مگر صبا بھی تھی جون ایلیاء Real_Light جون ایلیا 3 02-04-12 12:17 AM
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے۔۔۔۔ ایک نمازی کی سجدے کی حالت میں موت(ویڈیو) ایکسٹو متفرقات 2 09-03-11 01:54 PM
جس کی خلوت کا ساتھی قرآن ہو … حرب بن شداد اسلامی عقیدہ 2 14-02-10 11:13 PM
وہ اس کالج کی شہزادی تھی وہ شاہانہ پڑھتی تھی The Great مزاحیہ شاعری 1 13-09-09 10:20 AM
تیرے دامن کی تھی ۔ یا مست ہوا کس کی تھی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 1 27-01-09 08:23 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:57 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger