| دلچسپ اور عجیب کوئی بھی ایسی چیز جو دلچسپ اور عجیب ہو یہاں پوسٹ کریں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Member
اجنبیتاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: khanewal
مراسلات: 91
کمائي: 688
شکریہ: 45
36 مراسلہ میں 64 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھارت اور سری لنکا کے درمیانی ساغر میں ریت اور پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کی 30 میل لمبی ایک قطار موجود ہے۔روایت ہے کہ جب حضرت آدم کوجنّت سے نکالا گیا تو وہ اسی راستے سے سری لنکا گئے تھے۔روایت کے مطابق انہوں نے سب سے پہلے سری لنکا میں ہی قیام فرمایا تھا۔۔
یہ حصہ آمدورفت کیلیئے مناسب نہیں ہے کیون کہ یہاں پانی کی گہرائی کہیں بھی 3 یا 4 فٹ سے ذیادہ نہیں ہے۔1883 میں بحری آمدورفت کیلیئے راستہ صاف کرنے کی کوشش کی گئ لیکن کامیابی نہ ملی۔ماہرین کی رائے کیمطابق اس جگہ پانی نے سری لنکا کو برّصغیر سے کاٹ کر جدا کر رکھا ہے۔اسی ریت اور پتھر کے ٹیلے کو آدم کا پل کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
بہت عمدہ معلومات ہے جناب
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
لفظ سری لنکا میں "لنکا" اس لیے شامل ہے کیونکہ اس ملک پر قدیم زمانے میں لنکیش ور کے نام سے ایک ہندو راجا کی حکمرانی تھی۔ اس ہندو راجا کو لنکا پتی یا پھر راون کے نام سے پہچانا جاتا ہے اس ہی لئے اس ملک کا نام سری لنکا جس کا حقیقی تلفظ شری لنکا ہے۔ یہ راجا بھگوان برہما کا انتہا کی حد تک پجاری تھا۔ اس کی پوجا سے خوش ہو کر برہما نے اس سے کہا کہ جو مانگنا ہے مانگو۔ اس پر راون نے برہما سے ہمیشہ زندہ رہنے کا وردان مانگا جو قدرتی نظام کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے انہوں نے نہیں دیا جس پر راون نے ان سے یہ وردان مانگا کہ اسے دنیا کے تمام چھوٹے دیوتائوں، برائیوں اور ایسی تمام چیزوں پر برتری حاصل ہو جو خطرناک کہلائے جانے کے زمرے میں آتی ہیں۔ برہما نے یہ وردان دے دیا۔ راون نے یہ سب تو مانگ لیا لیکن جو چیز نہیں مانگی وہ یہ تھی کہ ان تمام برائیوں میں سے کوئی بھی اسے چیلنج نہیں کرے گا اور یہی چیز اس کی شکست کا سبب بنی۔ ہندو مذہب میں دیوالی سے ایک یا دو دن پہلے ایک تہوار منایا جاتا ہے جسے دشیہرا کہتے ہیں جس میں راون کا پتلا بنا کر اسے جلایا جاتا ہے۔ راون کو بھگوان رام نے ہلاک کیا تھا اور دشیہرے کا تہوار اس ہی یاد میں منایا جاتا ہے۔ خیر بات آدم علیہ سلام کے پل کی چل رہی تھی۔ بھارت اور سری لنکا کے درمیان قائم اس پل کو راما سیتو یا پھر رام کا پل بھی کہا جاتا ہے جو شری رام نے اپنی بیوی سیتا کو راون / لنکا پتی کے چنگل سے چھڑانے کے لیے 17500 سال قبل قائم کیا تھا۔ یہ پل جنوب مغربی شری لنکا کے جزیرے منار اور بھارت کے جنوب مشرقی ساحلی علاقے راما سوئرم کے درمیان قائم ہے۔ اس پل کا ذکر راماین میں بھی کیا گیا ہے۔ سری لنکا اور بھارت کے درمیان موجود سمندر کو سیتھوسمندرم کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے پل کا سمندر۔ کئی تاریخی صحائف، سکوں، سفری دستاویز، ڈکشنری کے حوالہ جات اور مذہبی نقشوں میں بتایا گیا ہے کہ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ اس پل کو انتہائی قابل احترام تصور کرتے ہیں۔ راماین کے مطابق یہ پل بھگوان شری رام کے لیے بندروں کی فوج، جسے ہندی زبان میں وانر سینا کہا جاتا ہے، نے تیار کیا تھا۔ اس کی تیاری میں تھیلوں میں ریت بھر بھر کر پانی پر رکھی گئی، چونکہ پانی کی سطح پر کوئی وزنی چیز ٹھہر نہیں سکتی اسلئے ابتدائی طور پر یہ تھیلے ڈوبتے گئے جس پر وانر سینا پریشان ہوگئی۔ اس موقع پر ایک ہندو پنڈت نے کہا کہ ایک تھیلے کے اوپر زعفران / کیسر سے بھگوان شری رام کا نام لکھا جائے اور نام لکھی ہوئی سطح پانی پر رکھی جائے تو ریت سے بھرا یہ تھیلا ڈوبے گا نہیں۔ بندروں نے ایسا ہی کیا جس پر جل دیو (پانی کے دیوتا) نے بھگوان کے نام کو پانی میں ڈبونا مناسب نہ سمجھا اور یہ تھیلا تیرنے لگا جس کے بعد ایک کے بعد ایک کرکے ریت کے تھیلے رکھے گئے اور یہ پل بن گیا۔ تاہم ارضیاتی شواہد کے مطابق یہ پل ثابت کرتا ہے کہ بھارت اور سری لنکا کے درمیان کسی زمانے میں زمین ہوا کرتی تھی جو پانی کی سطح بڑھنے سے زیر آب آگئی۔
30 میل طویل یہ پل خلیج منار کو آبنائے پالک سے جدا کرتا ہے۔ پل کے حوالے سے یہ تنازع پایا جاتا ہے کہ آیا یہ قدرتی طور پر وجود میں آیا یا پھر ہاتھوں سے بنایا گیا ہے۔ مدراس ہائی کورٹ کے مطابق یہ پل ہاتھوں سے بنا ہے، تاہم سپریم کورٹ آف انڈیا کے پیش کئے گئے ایک حلف نامے میں حکومت کا کہنا ہے کہ تاریخی حوالے سے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ پل ہاتھوں (ہینڈ میڈ) سے بنایا گیا ہے۔ جہاں تک "آدم کا پل" یا ایڈمس پل کا سوال ہے تو پہلی بار یہ لفظ البیرونی اور ابوالقاسم عبیداللہ ابن خردادبہ نے 850ء میں اپنی مشترکہ کتاب بک آف روڈز اینڈ کنگڈمز بہ الفاظ دیگر "کتاب المسالک والممالک" میں استعمال کیا تھا۔ اسلامی روایت کے مطابق آدم علیہ سلام کو ممنوعہ پھل کھانے کی سزا کے طور پر جنت سے زمین پر بھیجا گیا گیا۔ آدم علیہ سلام اس پل کے ذریعے سری لنکا گئے تھے اور وہاں پچھتاوے کے عالم میں ایک جگہ ایک ہزار سال تک کھڑے رہے۔ سری لنکا میں جس چٹان پر وہ کھڑے رہے وہاں ان کے پیر کا نشان آج بھی موجود ہے اور اس ہی لیئے اس پل کو آدم کا پل اور اس چٹان کو آدم کی چٹان / ایڈمز پیک کہا جاتا ہے۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بھائی جان بہت اچھی معلومات دیں ہیں آپ نے
بہت شکریہ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 619
کمائي: 5,541
شکریہ: 1,072
222 مراسلہ میں 354 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس کی پوجا سے خوش ہو کر برہما نے اس سے کہا کہ جو مانگنا ہے مانگو۔ اس پر راون نے برہما سے ہمیشہ زندہ رہنے کا وردان مانگا جو قدرتی نظام کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے انہوں نے نہیں دیا جس پر راون نے ان سے یہ وردان مانگا کہ اسے دنیا کے تمام چھوٹے دیوتائوں، برائیوں اور ایسی تمام چیزوں پر برتری حاصل ہو جو خطرناک کہلائے جانے کے زمرے میں آتی ہیں۔ برہما نے یہ وردان دے دیا۔
وردان کا کیا مطلب ہے بھائی۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہندو, کورٹ, ڈکشنری, لوگ, موقع, آج, اسلامی, بھائی, خوش, راستہ, سپریم, سال, سری لنکا, عالم, صاف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| یہ کون ہے؟؟؟ | ام طلحہ | گپ شپ | 80 | 27-11-10 12:56 PM |
| کیا کوئی قرآن پلشنگ سافٹ وئیر ہے؟؟؟ | محمدخلیل | Ask Experts ماہرین کی رائے | 13 | 13-11-10 07:20 PM |
| کیا یہ سچ ہے ؟؟؟ | محمدعدنان | گپ شپ | 6 | 25-10-10 11:51 AM |
| یہ کیا ہو رہا ہے ؟؟؟ | فرحان دانش | خبریں | 4 | 01-12-09 06:44 PM |