| دلچسپ اور عجیب کوئی بھی ایسی چیز جو دلچسپ اور عجیب ہو یہاں پوسٹ کریں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,381
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نا ممکنات سے ممکنات تک بہت سے میر ے دوست شاید اس کو کسی فضول ٹائپ کی شے سے تشبیہ دیں گے ،گو کہ حسن زیور کا محتاج نہیں لیکن سچائی تجربہ کی محتاج ضرور ہے لیکن میں اس کی حقانیت کے لئے صرف اتنا ہی کہوں گا کہ جتنا آپ کو اس بات پر یقین ہے کہ سورج نکلے گا تو صبح ہوگی اس سے زیادہ اس عمل یا مشق میں سچائی ہے اور یہ سچائی صرف اور صرف آپ کے یقین میں پوشیدہ ہے کہیں او ر نہیں آج ٹیلی پیتھی کا عمل کوئی نئی بات نہیں رہا اس کے مظاہر ے سر عام ہو رہے ہیں انٹر نیٹ اس سے بھرا پڑا ہے سائنس اس چیز کا اعتراف کی چکی ہے مغرب میں اسے بطور علم کے پڑھایا جا رہا ہے تو یہاں کیوں نہیں ہو سکتا وجہ یہ ہے کہ ایک حجاب ہے جو ٹوٹ کے نہیں دیتا ایک باریک سا پردہ ہے جو درمیان سے اٹھ کے نہیں دیتا وگرنہ ہمارے اسلاف کے کارمانے اس طرح کے ہزاروں واقعات سے بھرے پڑے ہیں اور یہ واقعا ت روحانیت میں گرد راہ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے ۔ بقول شاعر مشرق جو بلا توقف ایک صوفی تھے کہتے ہیں کہ ۔۔گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے اس بقدر ظرف تشریح کے بعد میں جو عمل یہاں لکھ رہا ہوں وہ کسی اعتبار سے بھی اسم اعظم سے کم نہیں ہے ۔ اس پر عمل کرنے والے حیرت انگیز نتائج پائیں گے ۔دو تین بار اس کو پڑھ کو اپنے ذہن نشین کر لیجئے پھر عمل پیرا ہوئیے ۔ بعد نماز عشاء (یا اس وقت جب آپ نے سوجانا ہو) ا۔ درود تنجینا گیارہ بار ب۔انما امرہ اذا ارادشیئا ان یقول لہ کن فیکون اکیس بار یہ سورۃ یاسین کی آخری سے پہلے آیت ہے آیت نمبر 82 ہے ، 21 بار پڑھنے کے بعد آپ التحیات کی طرح یا آلتی پالتی مار کر جس طرح آپ سہولت محسوس کریں بیٹھ جائیں ۔ جسم کو بالکل ڈھیلا چھوڑ دیں کسی قسم کا تناو نہ ہو پانچ یا سات گہری گہری سانسیں لیں اس طرح کے سانس اندر لے جاتے ہوئے بے شمار بار اللہ اللہ اللہ کہتے ہوئے سانس اندر لے جائیں اور جب سینا سانس سے بھر جائے تو سانس روک کر جتنی بار آرام سے اللہ اللہ کہ سکتے ہیں دل ہی دل میں اللہ اللہ کہئے پھر آہستہ آہستہ ھو ھو کہتے ہوئے سانس باہر نکال دیجئے اور محسوس کیجئے کہ اس اسم کی برکت اور خوشبو سے آپ کا باطن معطر ہو گیا ہے ۔ پانچ یا سات سانس لینے سے آپ کا سارا اعصابی تناو ختم ہو جانا چاہئے ۔ اب آپ اپنی آرزو کے بارے میں چند سکنڈ سوچئے یہ کوئی بھی آرزو ہو سکتی ہے ۔ مثلا ، آپ دولت مند مگر حلال ذریعے سے دولت مند بننا چاہتے ہیں ۔ آپ خوبصورت بیوی کے شوہر یا خوبصورت شوہر کی بیوی بننا چاہتی،چاہتے ہیں ۔ آپ زبر دست صحت کے مالک بننا چاہتے ہیں ۔ بیماریوں سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں ۔ آپ اپنا پیار پا نا چاہتے ہیں۔ اعلی درجے کے کر کٹر بننا چاہتے ہیں ۔ روحانی آدمی بننا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ اب اس مقام پر کھڑا کرکے میں آپ سے چند باتین شیئر کرنا چاہوں گا ۔خوب خو ب سمجھ لیجئے کہ یہ کوئی عامل والا بابا کا عمل نہیں ہے کہ ایک دن کے عمل سے اور جنات اور موکل سے ہر کام ایک گھنٹے میں اکھڑ مزاج محبوب آپ کے قدموں میں ،حسب منشا نوکری ، پسند کی شادی وغیر ہ وغیرہ ۔ یہ سب پیسے بٹور نے کے طریقے ہیں جو شخص اپنے نفس کو تابع نہ کر سکے وہ جنات اور موکل سے کیا کام لے گا جس کا اپنا پیٹ بھرنے کے لئے ہمارے جیسے کم ہمت لوگوں کی ضرورت ہو وہ جن سے اور موکل سے کام لے کر اپنے لئے کوئی عزت والا کام نہیں کروا سکتا۔ان کے پاس اگر رو پیٹ کے کچھ ہوتا بھی ہے تو اسفل طبقے کی شریر روحیں جو صرف برائی کی خوگر ہوتی ہیں اچھائی سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ یہ جو عمل میں نے اوپر لکھا ہے یہ بزرگوں کا ورثہ ہے اور اسم اعظم کا سا اثر رکھتا ہے یہ کوئی چلہ یا عملیات نہیں ہے صرف اور صرف ایک روحانی مشق ہے اور اس کا تعلق آپ کی قوت ارادی پر ہے ۔ محنت کریں اور تماشہ دیکھیں لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ ایک دو دن میں کچھ بھی ہاتھ آتا مہینوں محنت کرنی پڑتی ہے جب کہیں جا کر آثار بنتے ہیں اور جب آثار نظر آنے شروع ہوجاتے ہیں تو کسی کو ترغیب دلانا بے معنی ٹہر تا ہے کیوں کہ اس کے آثار اور کیفیات ہی اسے متحرک رکھنے کے لئے کانی ہوتی ہیں ۔ فرض کیجئے آپ کوئی اعلی عہدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں مثلا ہمارے پاس انجینئر نگ کی ڈگری ہے ہمیں نوکری نہیں مل رہی ہمیں یہ بھی پتہ نہیں کہ ہمارے لئے کس محکمہ میں نوکری کرنا بہتر ہے اپنی چشم تصور میں یوں منظر لائیں یا بنائیں کہ ہم اپنے آپ کو نہایت اچھے اور شاندار لباس میںکرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھ رہے ہیں ہمارے آگے شایان شان ٹیبل ہے جس پر متعدد فائلیں اور ایسی ہی دوسری آفس کے استعمال کی چیزیں پڑی ہوئی ہیں ہم یعنی میں اس جگہ دلی طور پر مطمئن ہوں چہرے پر سکون ہے ،صحت و سلامتی کے مکمل آثار ہیں ۔ مختلف ماتحت میرے پاس آ رہے ہیں ۔ مختلف کاغذات پر میں دستخط کر کرہا ہوں محکمہ میں میرے ذہانت اور لگن کی شہرت ہے میرے افسران مجھ سے خوش ہیں وہ مجھے اپنے آفس میں بلاتے ہیں اور میرا احترام بھی کرتے ہیں اور پروجیکٹ مجھے سونپے جارہے ہیں اور میں کامیابی سے انہیں پورا کر رہا ہوں ۔ وغیرہ وغیرہ یہ ایک مثال ہے اسی پر دوسری مثالین قیاس کی جاسکتی ہیں ۔ ایک اور بات اس عمل میں ایک گر یاد رکھنا بہت ضروری ہے وہ گر یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں بار بار یہ بات آئے گی کہ ایسا ہوگا کیسے بس یہی آپ نے نہیں سوچنا اصل میں یہ کیسے اور کیوں کے سوالات ہی ہمارے عمل کو کھوٹا کر دیتے ہیں لیکن کیونکہ ہم انسان جس مادی معاشرے میں رہتے ہیں اس میں ہم چاروں طرف سے گھرے ہوئے ہیں اس لئے ان سوالات کا آنا لازمی امر ہے اسی لئے ہم اس عمل کی تھوڑی سے تشریح پیش کر دیتے ہیں ۔ در اصل جب ہم اوپر والا عمل کر تے ہیں تو ہم کائناتی کمپیوٹر کو یہ تصویر دے رہے ہوتے ہیں کہ وہ ہمارے زندگی میں ان مناظر کو حقیقت بنا کر لے آئے ۔ یہ کائناتی کمپیوٹر ظاہر ہے خالق و مالک کا کمپیوٹر ہے یہ پوری کائنات اس کمپیوٹر کے کنٹرول میں ہے یہ بات میں اس انداز میں اس لئے کہ رہا ہوں کہ آج کا دور کمپیوٹرائزڈ ہے اور یہ بات سمجھ سے زیادہ قریب ہے ورنہ اس کے لئے روحانی اصطلاحات بھی موجود ہیں جو ہر آدمی کی سمجھ میں نہیں آسکتیں۔ کچھ یوںسمجھ لیں کہ اللہ تعالی کا اپنا فرمان ہے (واللہ محیط بکل شیئ) اللہ ہر چیز پر قادر یا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔یہ احاطہ ایک کمپیوٹرائزڈ سسٹم ہے ۔ اس بڑ ے سسٹم کا ایک چھوٹا سسٹم ہمارے اندر بھی لگا ہوا ہے ۔ جب ہم ایک خاص انداز میں بڑے سسٹم میں اپنے چھوٹے سسٹم کو ضم کر کے اپنی خواہشات بڑے سسٹم کے سپرد کر دیتے ہیں تو اس سسٹم کے پاس بڑے زبردست اختیارات اور کچھ کرنے کی لا محدود طاقتیں ہیں ۔ ہم اپنی زندگی بیشتر چیزوں کے یا مقامات کے حصول میں صرف اس لئے ناکام رہتے ہیں کہ ہم کیوں اور کیسے کے مخمصوں میں الجھے رہتے ہیں ہمیں پھنسنا بھی پڑتا ہے کیوںکہ ہم محدود ہیں فورا ہماری حدود ہمارے سامنے آجاتی ہے اس لئے ہم سوچتے ہیں کہ ایسا کیسے ہوگا ؟ لیکن جب ہم درمیان کے استدلال کو ختم کرکے صرف وہ منظر دیکھتے ہیں جس کی ہمیں آرزو ہوتی ہے تو ہم اس لامحدود قوتوں کے حامل عالمی دماغ یا عالمی کمپیوٹر کے سپرداس منظر کو کر کے اس بات سے بے نیاز ہوجاتے ہیں کہ وہ اس نتیجے کو کیسے ہماری زندگیوں میں لائے گا ۔ اس کمپیوٹر کو وہ وہ طریقے معلوم ہیں جو ہمارے خواب و خیال میں بھی نہیں ہوتے ۔ اس بات کو بھول جائے ۔ یہ آپ کی منفی لہر ہے جو بار بار آپ کو پریشان کرے گی اور آ پ کا تمسخر اڑائے گی کہ کا مصیبت میں اپنے آپ کو ڈال رہے ہو کیا احمقانہ طریقہ اختیار کر رہے ہو اس لمحے آپ نے صر ف ایک جملہ کہنا ہے ۔۔۔ اے میرے باطن کی منفی لہر تو جھوٹی ہے فی الفور میرے اندر سے نکل جا میرا عمل درست ہے اور وہ جو اپنے تصور میں دیکھ رہا ہوں ہو کر رہے گا ۔ میں بار بار آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس منظر میں دیکھا جانے والا عمل 99% پورا ہو کر رہے گا 1% صرف وہ حصہ ہے جو آپ کے لئے خطرناک ہو تو اس کی نو عیت بدل جائے گی لیکن اور عالمی کمپیوٹر خود اس کی اصلاح کرے گا مگر رد عمل ضرور ہوگا ۔ ہر فقیر جو اک نگاہ سے آپ کی تقدیر بدل دیتا ہے اسی گر کو استعمال کرتا ہے اس کی ذات میں یقین کی منزل اس حد تک بڑھ گئی ہوتی ہے کہ وہ ایک بار آپ کے لئے اچھا سوچتا ہے یا کوئی تمنا کرتا ہے تو عالمی کمپیوٹر فی الفور اس کی سوچ کو قبول کرکے مستعد ہوجاتاہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے کام سنور جاتے ہیں اسی کو روحانی تصرف بھی کہا جاتاہے اسی کو صاحب امر ہونا بھی کہتے ہیں ۔ یہ سارے سلسلے صدیوں سے جاری و ساری ہیں ۔ ان کی توضیحات مختلف وقتوں میں بدلتی رہتی ہیں ۔وہ کمپیوٹر جسے آج انسان نے دریافت کیا ہے اور جو اس دنیا میں سب سے بڑی ایجاد ہے یہ ایجاد نہیں بلکہ صرف دریافت ہے ۔ اللہ تعالی کی شہنشاہی میں یہ ایک ادنیٰ سا سسٹم ہے ۔ جسے روحانی فضاؤں سے وابستہ لوگ صدیوں سے جانتے ہیں اور اس سے مسلسل کام لیتے رہے ہیں ۔ اس سسٹم سے کام لینے کی بہت سی کنجیاں ہیں ان میں ماسٹر کی یعنی کلید اعظم وہ ہے جو میں نے شروع میں لکھی ہے انما امرہ اذا اراد شیء ان یقول لہ کن فکیون ۔ بیشک اس کا حکم کائنات میں جاری و ساری ہے جب وہ کسی شے کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے ۔ |
|
|
|
| 12 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (22-07-11), کنعان (22-07-11), ننھا بچہ (21-07-11), محمد یاسرعلی (21-07-11), محمدمبشرعلی (25-07-11), مرزا عامر (21-07-11), اعجازلاثانی (08-02-12), حیدر (23-07-11), حسنین ایوب (22-07-11), رضی (30-07-11), سائل (25-07-11), عروج (22-07-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
کیا ایسا کرنے سے میں ایک کامیاب سیاست دان بس سکتا ہوں
یا بننے کی خواہش کر سکتا ہوں |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,233
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#4 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,233
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کیا یہ مذکورہ بالا چیزیں ناممکن ہیں؟؟ یقینا ایسا نہیں ہے ناممکن ہے تارے توڑ لانا، پرندوں کی طرح ہوا میں اڑنا وغیر وغیرہ کیا یہ سب کچھ ممکن ہو سکتا ہے اس طریقے سے؟
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (24-07-11), فاروق سرورخان (22-07-11), نبیل خان (22-07-11), مرزا عامر (22-07-11), حیدر (23-07-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی اگر سیاست دان بننے کا شوق ہے تو کامیاب سیاست دان بننے کی نہیں اچھا نیک اور مخلص سیاست دان بننے کی دعا کرنا
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب https://www.facebook.com/groups/pak.net دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔ |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,381
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,381
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر آپ اشرف المخلوقات کے درجے پہ ہیں تو یہ سب کچھ ممکن ہے کیوں کہ آپ وہی ہیں جسے فرشتوں نے سجدہ کیا تھا اور فرشتو ں کی پرواز آسمانوں سے بھی پرے ملاء اعلی تک ہے جہاں سے ستارے بہت نیچے رہ جاتے ہیں اور ملکہ بلقیس واکا واقعہ تو آپ کے علم میں ہوگا یہ کام آصف بن برخیا نے انجام دیا تھا اوروہ یقینا ایک انسان ہی تھا تو آپ کیوں نہیں ہمت مرداں مدد خدا میں یہ بات شرطیہ کہتا ہوں کہ آپ ایسا کر سکتے ہیں
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا | کنعان (22-07-11), احمد نذیر (22-07-11), اعجازلاثانی (08-02-12), حیدر (23-07-11), حسنین ایوب (22-07-11), سائل (25-07-11) |
|
|
#9 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,233
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کیوں کہ اگر سب کچھ ممکن ہے تو پھر محنت سے حاصل کیا جا سکتا ہے اس کے لیے کسی خاص عمل سے گزرنے کی شرط کیوں؟ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (24-07-11), حیدر (23-07-11) |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,381
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ہمارے یہاں ہوتا یہی رہا ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی ایسی بات کہ دے جو عام لوگوں کو ہضم نہ ہو تو اس پر تحقیق کے بجائے تنقید شروع ہوجاتی ہے یہ ہم لوگوں کو ایک عام شیوہ بن گیا ہے اول تو پاک نیت پر کوئی تحقیقی مضمون میں نے بہت ہی کم لکھا دیکھا ہے وہی روز مرہ کی باتیں ہوتی ہیں جو ہر عام آدمی کو بھی معلوم ہوتی ہیں اور اگر کوئی اس طرح کا اقدام کرے بھی تو اسے ایسی اعلی قسم کی نوازشوں سے نوازا جاتا ہے کہ الامان ولحفیظ میرے دوست مجھے آپ سے نہ کسی اور میرے دوست سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن خدارا اپنے ذہنوں کو کھولیں تنقید کے بجائے تحقیق کی راہ اپنائیں تو زیادہ اچھا ہے |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا | کنعان (22-07-11), مرزا عامر (22-07-11), احمد نذیر (22-07-11), حیدر (23-07-11), حسنین ایوب (22-07-11) |
|
|
#11 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,233
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مسئلہ ہضم کا نہیں ہے ۔۔ اس طرح کے عمل پاکستان میں اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی جا بجا ہو رہے ہیں اور بہت سے لوگ اس طرح کے عمل سے مانوس ہیں۔ جہاں تک مسئلہ ہے پاک نیٹ پر روز مرہ باتوں کا تو یہ پاکستانیوں کا فورم ہے اور وہی رنگ جھلکے گا جو ہمارے معاشرے کا ہے اس لیے اس سے پریشان نہ ہوں آپ کی تحقیق اچھی ہے ۔۔ اور اس کے نتائج کا علم اسی کو ہوگا جو اس پر عمل کر چکا ہو اور جہاں تک اس کے اثرا کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ۔ اثر تو یوگا کا بھی ہوتا ہے اور جادو کا بھی ۔۔ اور پھر یہ تو قرآن کریم کی آیات ہیں ان میں یقینا اثر ہے۔ لیکن آیات کے ورد اور عملیات کے حوالے سے ہر کسی کا اپنا طرز عمل ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس طرح کی عملیات منقول نقل متواتر یا منصوص نہیں ہیں ۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ منصوص علیہ طرق پر عمل کر کے اگر تقرب الی اللہ کی کوشش کی جائے تو بھی تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں اور تمام وسائل مہیا ہو سکتے ہیں۔ کیوں کہ وہ طریقہ یقینا زیادہ مقبول ہو گا جو محبوب خدا صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول ہوگا۔ یہ میری رائے ہے اور میں اسی کو بہتر سمجھتا ہوں ویسے درود تنجینا مٰیں نے کبھی کسی قابل سند کتاب میں نہیں پڑھا |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (24-07-11), نبیل خان (22-07-11), مرزا عامر (22-07-11), احمد نذیر (22-07-11), حیدر (23-07-11), سیفی خان (22-07-11), سائل (25-07-11), عبداللہ حیدر (22-07-11) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
یار اس میں وقت بہت لگتا ہے انٹرنیٹ کا زمانہ ہے مسئلہ سرچ کیا حل حاضر بہر حال اچھی مشق ہے روحانی سکون تو ملے گا
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
19:35 مَا كَانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
یہ اللہ کی شان نہیں کہ وہ (کسی کو اپنا) بیٹا بنائے، وہ (اس سے) پاک ہے، جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو اسے صرف یہی حکم دیتا ہے: ”ہوجا“ بس وہ ہوجاتا ہے 36:82 إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ اسکا حکم یہی ہے کہ جب کرنا چاہے کسی چیز کو تو کہے اس کو ہو وہ اسی وقت ہو جائے 16:40 إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَن نَّقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ درحقیقت ہمارا قول کسی چیز کو جب ہم اسے (خلق کرنا) چاہیں بس یہ ہوتا ہے کہ ہم حُکم دیتے ہیں اُسے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے۔ 2:17 بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ وہی آسمانوں اور زمین کو وجود میں لانے والا ہے، اور جب کسی چیز (کے ایجاد) کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو پھر اس کو صرف یہی فرماتا ہے کہ "تو ہو جا" پس وہ ہوجاتی ہے 40:68 هُوَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ فَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ وہی ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے پھر جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو صرف اسے فرما دیتا ہے: "ہو جا" پس وہ ہو جاتا ہے آیت بناء حوالے کی تھی۔ درست حوالہ ، سورت اور آیت نمبر لکھ رہا ہوں اور اسی مضمون کی چند دوسری آیات بھی۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 22-07-11 at 08:55 AM. |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
ایک کتاب ہے "دی سیکرٹ" ، کسی صاحب نے آیات کا تڑکا لگا کر اس کتاب کو شرعی پاجامہ پہنانے کی کوشش کی ہے ۔۔۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کمپیوٹر, ٹیلی پیتھی, پسند, واقعات, نوکری, نماز, نظر, مکمل, معلوم, آج, آدمی, اللہ, انسان, تصویر, حسن, دوست, دل, دریافت, زندگی, سائنس, شخص, عقل, عزت, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں؟ | زبیر | پروین شاکر | 16 | 26-12-11 02:21 PM |
| قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول | عبداللہ حیدر | ترجمہ و تفسیر | 12 | 20-06-11 08:22 AM |
| ہمارا اصول یہ ہے کہ ہمارا کوئی اصول نہیں | فیصل ناصر | عمومی بحث | 36 | 08-10-09 03:03 AM |
| پنجابی صوفی کالام(اللہ ہو اللہ) | شیراز احمد | گپ شپ | 0 | 24-08-09 11:02 AM |
| کار صوفہ | حنا | دلچسپ اور عجیب | 6 | 05-11-08 03:33 AM |