| دلچسپ اور عجیب کوئی بھی ایسی چیز جو دلچسپ اور عجیب ہو یہاں پوسٹ کریں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
![]() مارچ 1991ء میں ڈنمارک اور سویڈن نے ایک معاہد ے پر دستخط کیے جس کا مقصد ڈنمارک اور سویڈن کے درمیان ایک مستقل رابطے اورسٹڈ برج( Orestad Bridge)کی تعمیر تھا۔ اس معاہدے کی توثیق بعد میں دونوں حکومتوں کی اسمبلیوں نے بھی کی اور سنڈز کون سور ٹا ئیٹ جو کہ اے ایس اور سنڈ اور سونکس ۔ ڈنسکابروفور بند لسن SVEDAB ABکا مشترکہ منصوبہ تھا ان کمپنیوں نے سویڈن اور ڈنمارک کے درمیان 12ارب ڈینش کرونا کی لاگت سے ایک پُل تعمیر کیا ۔ اس پل کی کل لمبائی 16.4کلومیٹر ہے ۔ یہ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن اور سویڈن کے علاقے مالموکو آپس میں ملاتا ہے ۔ اس پل کی تعمیر میں مشکلات مسلسل حائل رہیں ۔ اس منصوبے میں ایک پل ، ایک سرنگ اور ایک مصنوعی جزیرہ شامل ہیں ۔ یہ پل یورپ کے سب سے بڑے پلوں میں سے ایک ہے ۔ منصوبے میں شامل پل کی لمبائی 8کلو میٹر ،سرنگ کی لمبائی چار کلو میٹر اور مصنوعی جزیرے پیپار ہولمن(Pepparholmen) کی لمبائی بھی چار کلو میٹر ہے ۔ 2000ء میں ٹریفک کیلئے کھولے جانے والے اس پل کی خاصیت اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ دو ملکوں کو ملاتا ہے ۔ 14اگست 1999ء میں ا س پل کا آخری حصہ بھی تیرتی ہوئی کرین ''سوانن'' کے ذریعے اپنی جگہ پر رکھ دیا گیا۔ اس کے چھ گھنٹے بعد سویڈن کی ولی عہد شہزادی وکٹوریہ اور ڈنمارک کے ولی عہد شہزادہ فریڈرک نے پل پر ملاقات کی ۔ اس بات کے اظہار کیلئے ڈنمارک اور سویڈن ایک بار پھر 7000سال بعد برفانی دور کے بعد آپس میں مل گئے ہیں جب وہ خشکی سے گھر ے ہوئے تھے اورسٹڈ برج دنیا کا سب سے لمبا پل ہے جو بیک وقت ریل اور سڑک دونوںقسم کی خدمات فراہم کر رہا ہے ۔ پل کے ڈیزائن میں تمام حصوں کی برابر لمبائی اور چوڑائی رکھنے سے بہت سہولت ہوئی ۔ اس میں لوہے کی تاروں کی ریکارڈ ساز لمبائی 490میٹر پر محیط تھی ۔ اس سے پورے پل کی ساخت اور مضبوطی میں زبردست ہم آہنگی پیدا ہوئی ۔ تعمیراتی دورانیہ صرف اڑھائی سال پر محیط تھا جس کا سبب بڑے پیمانے پر پہلے سے تیار شدہ حصے تھے اس ضمن میں بڑے بڑے یونٹوں سے مدد لی گئی یوں اس 16.4کلو میٹر (تقریباً 10میل ) لمبے پل کی تکمیل ہوئی ۔ ![]() مئی 2003ء میں اور سنڈپل نے IABSEایوارڈ برائے غیر معمولی ساخت جیتا ۔ مصنفوں نے اس پل کی منصوبہ بندی کی جدت ، ڈیزائن،تعمیراتی انتظام اور بروقت تکمیل کو بہت سراہاجبکہ اس کے علاوہ ایک اہم بات اخراجات کے دائرے میں رہتے ہوئے ماحول کی ضروریات کو بھی مد نظر رکھا گیا۔ معاہدے کے تحت دونوں حکومتیں ہر معاملے میں نصف نصف کی حصہ دار تھیں ۔ منصوبے پر عمل درآمد اس وقت شروع ہوا جب ڈنمارک کی وزارت ِ (مواصلات ) ٹرانسپورٹ نے اپنے ملک والے حصے کے ڈیزائن ، صف بندی اور ماحولیاتی حالات پر رضا مندی کا اظہار کیا اور یوں تعمیر کا مرحلہ شروع ہوا ۔ مارچ 2000ء میں پل مکمل ہونے کے بعد کنٹریکٹر سنڈلنک نے اس کو کلائینٹ اور سنڈزبروکن سور ٹا ئیٹ کے حوالے کر دیا ۔ اپریل میں سرنگ اور مصنوعی جزیرے پر ہولم کنٹریکٹرزOTCاور OMJV نے کلائینٹ اور سنڈ ز بروکن سور ٹا ئیٹ کے حوالے کردیا ۔ جولائی 2000ء میں پل کا افتتاح ہوا۔ جنوری 1992ء میں حصہ داری کے ایک معاہدے کے تحت اور سنڈز کن سور ٹا ئیٹ کا قیام عمل میں آیا ۔ ستمبر 1993میں ابتدائی کام شروع ہوا ۔ جون 1994ء میں سویڈن کی حکومت نے اپنی حدود میں پل کی تعمیر کی اجازت دے دی ۔ جولائی تا نومبر 1995ء میں اور سنڈز کن سور ٹا ئیٹ نے تعمیر کیلئے ضروری کمپنیوں سے معاہدے کیے ۔ مارچ 1999ء میں پہلی گاڑی سرنگ میں سے گزری اور دسمبر میں مالمو اور کوپن ہیگن کے درمیان ریلوے لائن مکمل ہوئی ۔ تعمیراتی اخراجات میں سے 3.98ارب ڈینش کرونا سرنگ پر،1.4ارب ڈینش کرونا مصنوعی جزیرے پر جبکہ ہائی برج اور موٹروے بمعہ دو معاون پلوں کے اخراجات 6.3ارب ڈینش کرونا رہے ۔ پل کے اوپر والے حصے پر سے گاڑیاں اور نچلے حصے پر سے ریل گاڑی گزرتی ہے ۔ اور سنڈلنک کا مغربی حصہ مصنوعی جزیرے پیپار ہولمن اور مصنوعی جزیرہ نما ''کاسٹرپ'' کے درمیان 4کلو میٹر لمبی سرنگ ہے ۔ دنیا میں پانی کے اندر اور روڈ کے لحاظ سے یہ دنیا کی طویل ترین سرنگ ہے ۔ یہ 20اجزاء پر مشتمل ہے ۔ مصنوعی جزیرہ پیپار ہولمن سرنگ سے آنے والی ٹریفک کو ملحقہ پل پر منتقل کرنے کیلئے بنایا گیا تھا۔ یہ جزیرہ تقریباً 4کلو میٹر لمبا اور بنیادی طور پر اورسنڈ سمندرکی تہہ سے نکالے گئے میٹریل سے بنایا گیا ہے ۔ اس کی تعمیر کیلئے 1.6ملین میٹر پتھر اور 7.5ملین میٹر ریت اور کھدائی شدہ میٹریل کی ضرورت تھی ۔ جزیرہ نما ''کاسٹرپ '' تقریباً 0.9مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے ۔ یہ بھی اور سنڈ سمندر کی تہہ سے نکالے گئے میٹریل سے بنایا گیا ہے ۔ اس کی تعمیر اور سنڈ میرین جوائنٹ ونچر OMJVکے ہاتھوں ہوئی ۔ اس تمام پر اجیکٹ کی تکمیل کی ذمہ داری اور سنڈ ز کن سور ٹا ئیٹ پر تھی جس نے ذیلی کمپنیوں کی مدد سے اس پل کی تعمیر مکمل کی۔اس پل کی تعمیر سے اور سنڈ کے علاقے میں تعمیر و ترقی کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں پل اس عمل کا آغاز ہے ۔ تعمیر و ترقی کے لحاظ سے اورسنڈ ریجن کو یورپ میں نمایاں مقام حاصل ہے کیونکہ یہاں 100مربع کلو میٹر کے علاقے میں تقریباً 35لاکھ لوگ رہتے ہیں ۔ لوگ اب اس پل کو ریل یا کار کے ذریعے صرف 20منٹ میں عبور کر لیتے ہیں ۔ پل کی تعمیر کے دوران سمندر سے نکا لی جانے والی مٹی اٹھانے کیلئے50بحری جہازوں کا بیڑا تیا ر کیا گیاتھا جن کی مدد سے نکالی جانے والی مٹی مقررہ جگہ پر ڈمپ کی جاتی رہی جبکہ جن کرینوں کی مدد سے پتھر اٹھائے اور لائے جاتے رہے ان کرینوں من سے ہر ایک میں 60کٹر لگے ہوئے تھے اور ہر ایک کٹر (دانتے )کا وزن 20کلو گرام تھا۔ یہ پتھر کتنے وزنی اور سخت تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر روز 20کٹر ٹوٹتے رہے اور دوران کام مجموعی طور پر52ہزار کٹر ٹوٹے ۔ اس کے علاوہ پل کو جوڑنے کیلئے 16ہزار بڑے بولٹ استعمال کیے گئے بدقسمتی سے جن میں سے چند کو زنگ گیا جس کی وجہ سے پیدا ہونے والے اس خوفناک مسئلے سے مستقل بنیادوں پر نپٹنے کا فیصلہ کیاگیا چنانچہ تمام کے تمام 16ہزار بولٹ تبدیل کر دیے گئے وگرنہ زنگ لگنے کی صورت میں سارا پل گرسکتا تھا۔ یہ پل انجینئرز کیلئے صحیح معنوں میں ایک چیلنج تھا کیونکہ ایک کے بعد ایک نیا مسئلہ سامنے آجاتا ۔ خراب موسم بار بار کام میں رکاوٹ ڈالنے والی بپھری ہوئی موجیں ، کھدائی کا کام ، پتھر وپانی کو وہاں سے نکالنا اور چار کلو میٹر لمبی لائن تک پہنچانا ایسے مسائل تھے جن سے انجینئرز کی ٹیم بار بار نبرد آزما ہورہی تھی ۔ بات صرف ویہی پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ ماحول کے تحفظ کا خیال رکھنا بھی ترجیحات میں سر فہرست تھا۔ کام کے دوران بار بار اٹھنے والے گردو غبا ر، ملبے اور دھول کام میں رکاوٹ و سستی کا سبب بن جاتی اس کے علاوہ ملبے کو غیر متعلقہ اور غیر محفوظ جگہ پہنچانا بھی اہم مسئلہ تھا کیونکہ سمندری مخلوق کا بھی ہر ممکن خیال رکھا جارہا تھا۔ انجینئرز اور کام کرنے والی ٹیم کو اس وقت انتہائی خوفناک سے دوچار ہونا پڑ گیا جب 25نومبر 1995ء کو کام کے 30ویں دن کھدائی کرتے ہوئے مشین36کلو گرام وزنی ایک بم سے ٹکرانے والی تھی کہ اچانک ایک مزدور کی نظر اس بم پر پڑی جس کے فوراً بعد کام روک دیا گیا اس بم کا پس منظر یہ پتہ چلا کہ 60سال پہلے برٹش رائل ایئر نے یہاں پر ایئر شو کیا تھا جس کے دوران کئی بم گر گئے تھے چنانچہ کام روک کر مزید بم بھی تلاش کیے گئے ۔ اس تمام عرصے میں کام بند ہونے کی وجہ سے وقت کا بہت ضیاع ہوا ۔ یہ پل حقیقتاً انجینئرنگ کا ایک اعلیٰ ترین نمونہ اور ٹیکنالوجی کے بہترین استعمال کی شاندار مثال ہے ایک ہی وقت میں جہاں نیچے والے حصے میں دو ٹرینیں اکھٹے چل سکتی ہیں وہاں اوپر والی سٹرک پر دو دو گاڑیا ں دونوں طرف سے گزرتی ہیں۔دو الگ ملکوں جن کی زبانیں بھی ایک دوسرے سے الگ تھیں اور کام کے طریقے بھی الگ تھے ۔ انہوں نے مل کر ایک خیال کو عملی جامعہ پہنا دیا ۔ دنیا کے اس شاندار میگا برج کو پہلے پانچ سال میں چار کروڑ چار لاکھ لوگوں نے کراس کیا ۔ پل پر مجموعی طور پر 256کیمرے بھی نصب ہیں جو ٹریفک پر نظر رکھتے ہیں ۔ تین ارب امریکی ڈالر سے تعمیر ہونے والے اس پل نے دوملکوں اور قوموں کو آپس میں ملا دیا ہے ۔ ڈنمارک اور سویڈن کو ملانے والے اس شاندار پل کو دیکھ کر پاکستان میں بنائے جانے والے پلوں کی تباہی پر رونا آتا ہے ۔ جن میں کمیشن لینے والے متعلقہ لوگ اس قدر بے شرمی اور لا پرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ کراچی میں پل بننے کے چند ہفتوں بعد زمین بوس ہو جاتا ہے کئی قیمتی جانے ضائع ہو جاتی ہیں مگر ہفتوں اور مہینوں تک تحقیقات جاری رہتی ہیں مگر پھر بھی یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس حادثے کا ذمہ دار کون ہے۔ باقی دنیا سے مقابلے کی خواہش کرنے والے حکومتی ارباب و اختیار کو یہ سوچنا چاہیے کہ ترقی یافتہ قوموں نے سمندرو ں کا سینہ چیر کر طویل ترین پل بنا لئے ہیں مگر ہمارے ملک میں ابھی تک خشکی پر بھی پل بنانے کی بھی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ Last edited by وجدان; 21-05-08 at 05:24 PM. |
|
|
|
| 17 قاری/قارئین نے وجدان کا شکریہ ادا کیا | arshad khan (17-11-08), shafresha (31-07-10), فیصل ناصر (31-07-10), پاکستانی (01-08-10), ھارون اعظم (31-07-10), یاسر عمران مرزا (31-07-10), منتظمین (01-08-10), محمد عاصم (08-08-10), محمدمبشرعلی (31-07-10), محمدعدنان (21-05-08), مرزا عامر (03-08-10), معظم (01-08-10), اویسی (10-08-10), ابو عمار (22-05-08), احمد بلال (01-08-10), عمیر نعیم (22-05-08), عبدالقدوس (18-11-08) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت اچھے جناب
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Hyderabad/Karachi
عمر: 27
مراسلات: 615
کمائي: 10,802
شکریہ: 1,318
153 مراسلہ میں 212 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واقعی حیرت انگیز ھے۔
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وجدان صاحب
ماشاء اللہ بہت عمدہ معلومات آپ نے فراہم کیں۔۔۔۔ آپ نے آخر میں اپنےدکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈنمارک اور سویڈن کو ملانے والے اس شاندار پل کو دیکھ کر پاکستان میں بنائے جانے والے پلوں کی تباہی پر رونا آتا ہے ۔ جن میں کمیشن لینے والے متعلقہ لوگ اس قدر بے شرمی اور لا پرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ کراچی میں پل بننے کے چند ہفتوں بعد زمین بوس ہو جاتا ہے کئی قیمتی جانے ضائع ہو جاتی ہیں مگر ہفتوں اور مہینوں تک تحقیقات جاری رہتی ہیں مگر پھر بھی یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس حادثے کا ذمہ دار کون ہے۔ باقی دنیا سے مقابلے کی خواہش کرنے والے حکومتی ارباب و اختیار کو یہ سوچنا چاہیے کہ ترقی یافتہ قوموں نے سمندرو ں کا سینہ چیر کر طویل ترین پل بنا لئے ہیں مگر ہمارے ملک میں ابھی تک خشکی پر بھی پل بنانے کی بھی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ اور بھائی تحقیقات کو آپ روتے ہیں۔۔۔۔۔۔ سنا ہے۔۔۔۔۔۔کراچی میں گرنے والے پل جس کمپنی نے بنایا تھا اسی کمپنی کو اسلام آباد زیرو پوائنٹ برج بنانے کا ٹھیکہ بھی دے دیا گیا ہے۔۔۔۔ جو کہ 4 راب روپے میں تعمیر ہو گا۔۔۔۔۔ تعمیر شروع ہو چکی ہے۔۔۔ دیکھیں اس کی کب کیا خبر آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ اللہ رحم کرے ہم پر
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
شئیرنگ کا بہت بہت شکریہ بھائی !!!
|
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کراچی میں شیر شاہ پل گرا تھا ۔۔ جسے ٹھیکہ دیا گیا تھا اس کمپنی کو سعودیہ نے رجیکٹ کر دیا تھا ۔۔
اقتباس:
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں آؤ۔۔۔ |
|
|
|
|
| ARHAM کا شکریہ ادا کیا گیا | احمد بلال (01-08-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ۔۔ وہاں سیلاب کیوجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہوا گئی ہے ۔۔
لوگ کافی پریشانی کی حالت میں ہیں نقل مکانی کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔۔ امدادی کاموں کی رفتار بھی سست ہے ۔۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (31-07-10), احمد بلال (01-08-10) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نے ایک کتاب میں کہیں مطالعہ کیا تھا۔
جب منگلا ڈیم بن رہا تھا تو چین کے بعض سیاست دان معاینہ کرنے کے لئے آئے۔۔۔ نیا نیا کام شروع ہوا تھا جو کام کرنے والوں اور انتظامی ضرورت کے پیش نظر وہاں جو عمارتیں تعمیر کی گئی تھیں ان کا معاینہ کرتے ہوئے چینی سیاست دانوں نے دیکھا کہ چھت ٹپک رہی ہے۔۔۔۔ ہمارے پاکستانی میزبان نے شرمندگی کو چھپاتے ہوئے بہانہ کیا کہ نئی نئی تعمیر ہے۔۔ کہیں خلا رہ گیا ہے ہم جائزہ لے رہے ہیں جلد ہی ٹپکنا بند ہو جائے گی۔ ایک چینی نے اس پاکستانی کی طرف دیکھ کر مسکرا کر جواب دیا۔ جب چین نیا نیا آزاد ہوا تھا تو اس کی بھی بعض چھتیں ٹپکنا شروع ہو جاتی تھیں۔۔۔ ہم نے دو تین ٹھیکیداروں کو سر عام لٹکا دیا۔۔۔ اس کے بعد آج تک پورے چین میں کوئی چھت نہیں ٹپکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہماری حالت یہ ہے۔۔۔ کہ حالیہ بارشوں میں ا خباری اور ٹی وی اطلاعات کے مطابق پارلیمنٹ کی چھت بھی ٹپکنا شروع ہو گئی ہے۔۔۔۔۔ 2005 میں زلزلہ آیا تو پتہ چلا کہ پارلیمنٹ زلزلے کی پلیٹوں پر واقع ہے۔۔۔ حالیہ بارشوں سے پتہ چلا کہ چھت بھی ٹپک رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ نیچے اور اور اوپر کا یہ حال ہے۔۔۔ اور اندر کیا ہو رہا ہے وہ سب کو علم ہے۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,650
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہاں سر ورق پر لگنا چاہے۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
اس مضمون میں ذکر ہوا ہے کہ ٹرین اور گاڑیاں بیک وقت اس پل سے استفادہ کرتے ہیں ٹرین کہاں سے گزرتی ہے۔ کاریں تو نظر آرہی ہیں
__________________
ناراضگی ظاہر کرنا دل میں برائی رکھنے سے بہتر ہے۔ |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہو سکتا ہے بٹن دبا کے گزر جاتی ہوں اور ہمیں نظر نہ آئی ہوں اس تصویر میں۔۔
|
|
|
|
|
|
#15 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,991
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
یہ لیجے، ان تصویروں میں دیکھ لیں، اگر اب بھی نظر نہ آے کہ ٹرین کہاں سے گزرتی ہے تو پھر شاید آپکو نظر چیک کرانے کی ضرورت ہے ![]()
__________________
![]() Last edited by ناصحی; 02-08-10 at 12:46 AM. وجہ: To add an afterthougt |
||
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, images, کراچی, ٹریفک, پاکستان, ڈنمارک, لوگ, نظر, مکمل, منتقل, منصوبہ, ممکن, مسائل, اعلیٰ, بہترین, بھائی, تلاش, سال, شکریہ, شاندار, عہد, صورتحال, صلاحیت, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ممبرز درکار ہیں........ایکسٹو فرام دانش منزل | ایکسٹو | گپ شپ | 188 | 20-03-11 12:58 AM |
| فروٹ اسٹو | سیپ | باورچی خانہ | 0 | 08-01-11 12:47 PM |
| ایکسٹو | ایکسٹو | تعارف | 41 | 18-10-10 08:14 AM |
| ایکسٹو!ایکسٹو کون؟ | بھائی | عمومی بحث | 20 | 28-03-09 01:06 PM |
| 3ڈی اسٹو ڈیو میکس 8 | طارق راحیل | Ask Experts ماہرین کی رائے | 5 | 08-02-09 07:16 PM |