| دلچسپ اور عجیب کوئی بھی ایسی چیز جو دلچسپ اور عجیب ہو یہاں پوسٹ کریں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,516
کمائي: 94,357
شکریہ: 1,554
2,983 مراسلہ میں 8,242 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حاجی ملک اس بنگلے کے سب سے بزرگ ملازم ہیں۔ اس سے پہلے ان کے والد یہاں چپڑاسی تھے۔ حاجی ملک نے بتایا کہ یہ تیسری بار ہے کہ توڑی بنگلہ ڈوبا ہے۔ ’انگریزوں نے اس کی سو سال کی گارنٹی دی تھی جو ختم ہوگئی ہے۔‘
سندھ میں گزشتہ سال سیلاب کی آمد کے بعد توڑی بند نے پوری دنیا میں شہرت حاصل کی مگر اس سے پہلے یہاں کی وجہ شہرت توڑی مانیٹرنگ بنگلہ تھا، جو برطانوی دورِ حکومت کے دوران 1911 میں تعمیر کیا گیا۔ ![]() عمارت کو گرم رکھنے کے لیے آتش دان بنائے گئے جبکہ حبس کے موسم میں ہوا حاصل کرنے کے لیے چھت پر لوہے کے فریم لگے ہوئے ہیں۔ ان لوہے کے فریم کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان میں لکڑی پر چادر ڈال کر رسے کی مدد سے حرکت دی جاتی تھی، جس سے ہوا ملتی تھی۔ رات کو انگریز افسر اس کے نیچے آرام کیا کرتے تھے۔ بنگلے کی دوسری منزل پر باتھ ٹب آج بھی خستہ حال میں موجود ہے جبکہ باہر بنا ہوا سوئمنگ پول زمین میں دھنس چکا ہے۔ عمارت کو گرم رکھنے کے لیے آتش دان بنائے گئے جبکہ حبس کے موسم میں ہوا حاصل کرنے کے لیے چھت پر لوہے کے فریم لگے ہوئے ہیں ملازمین نے بتایا کہ اس بنگلے کے آس پاس باغات ہوتے تھے جن کو رہٹ کی مدد سے پانی فراہم کیا جاتا تھا جو ایک اونٹ کی مدد سے چلتا تھا۔ مگر آج باغات اور رہٹ کا کوئی نام و نشان نہیں مگر اسے چلانے والا ملازم موجود ہے۔ یہ بنگلہ دریا سے کوئی دو تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ موجودہ دور میں یہاں تک آنے کے لیے سڑک موجود ہے جو سیلاب کے باعث بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ سابق سکریٹری آبپاشی ادریس راجپوت کے مطابق ماضی میں یہاں کچی سڑکی آتی تھی اور یہ ایک دشوار راستہ ہوتا تھا۔ کندھ کوٹ شہر سے دس کلومیٹر دور موجود مغربی اور مشرقی فن تعمیر کی مثال اس بنگلے میں کچھ قدیم کتابیں بھی موجود تھیں۔ ان کتابوں میں سکھر سے پنجند تک دریاکی سروے رپورٹ بھی شامل تھی جو تمام ملازمین کے مطابق سیلاب میں بہہ گئیں۔ بنگلے کے صحن میں زمین پر دریائے سندھ کا نقشہ کھدا ہوا تھا، جس کی ملازمین مرمت کرتے رہتے تھے مگر سیلاب کے نتیجے میں یہ مٹی میں دفن ہوگیا ہے۔ اس بنگلے سے تقریباً پچیس لوگوں کا روزگار وابستہ ہے جو اکثر آس پاس کے گاؤں کے رہائشی ہیں۔ ان ملازمین کا کہنا ہے کہ سیلاب آنے کے بعد انہوں نے بنگلے اور اس کے سامان کو بچانے کے بجائے اپنے بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کو ترجیح دی۔ دوسری منزل پر باتھ ٹب آج بھی خستہ حال میں موجود ہے جبکہ باہر بنا ہوا سوئمنگ پول زمین میں دھنس چکا ہے گزشتہ سال چھ اور سات اگست کی شب توڑی کے مقام پر دریائے سندھ کو شگاف پڑا تھا جس کے پانی کے باعث لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ یہاں کے ملازم بتاتے ہیں جب شگاف پڑا اس وقت چیف انجنیئر گڈو بیراج بھی وہاں موجود تھے۔ ملازمین کے مطابق چیف انجینیئر کو شگاف سے آگاہ کیا مگر وہ بغیر احکامات کے وہاں سے چلےگئے۔ فلڈ کمیشن اور سپریم کورٹ کی رپورٹ میں بھی چیف انجنیئر پر اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ سندھ کے آبپاشی نظام میں توڑی کے مقام کو اہم اہمیت حاصل ہے۔ سندھ کے سابق سکریٹری آبپاشی ادریس راجپوت کا کہنا ہے کہ یہ توڑی مانیٹرنگ بنگلہ سکھر بیراج سے بھی قدیم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سکھر بیراج 1923 کو تعمیر ہوا جبکہ یہ بنگلہ 1911 میں بنایا گیا ہے۔’ان دنوں بھی اس علاقے کی اہمیت تھی یعنی سیلاب آتے تھے، اس لیے انگریز حکومت نے یہاں دفتر کے قیام کو اہم سمجھا۔‘ حاجی ملک اس بنگلے کے سب سے بزرگ ملازم ہیں۔ اس سے پہلے ان کے والد یہاں چپڑاسی تھے۔ حاجی ملک نے بتایا کہ یہ تیسری بار ہے کہ توڑی بنگلہ ڈوبا ہے۔ ’انگریزوں نے اس کی سو سال کی گارنٹی دی تھی جو ختم ہوگئی ہے۔‘ سیلاب نے اس بنگلے اور اس سے ملحقہ عمارت کو شدید متاثر کیا ہے جس کے بعد اس کی دیواروں کو پلاسٹر کیا گیا ہے۔ لکڑی کی دیواروں اور دروازوں کی جگہ اب ایلیومینیم کے دورازے لگائے جا رہے ہیں۔ بنگلے کی چھت پر جانے والی سیڑھی کمزور ہوگئی ہے جسے تبدیل کیا جائے گا۔ اس بنگلے کے قریب پولیس تھانہ بھی موجود تھا جو سیلاب میں بہہ گیا اور اس کے بعد سے پولیس نے ایریگیشن بنگلے میں ڈیرا ڈال دیا ہے، جہاں کھانا بھی پکایا جارہا ہے اور لکڑیاں جلائے جانے کے باعث دیواریں سیاہ ہوگئی ہیں۔ ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، توڑی کندھ کوٹ
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23) |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (22-07-11), محمد یاسرعلی (09-07-11), مرزا عامر (23-07-11), Wahid MAhmood Abdul Rehman (10-07-11), حیدر (23-07-11), سام (22-07-11), عبدالقدوس (09-07-11), عروج (22-07-11) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,258
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا مضبوط چیزیں بنائی تھیں انگریزوں نے
وہ عمارتیں، وہ پل، وہ ریلوے اسٹیشن، وہ ریلوے پٹریاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت کچھ دیا ہے اس خطے کو انگریزوں نے اگرچہ یہاں سے بہت کچھ لے کر بھی گئے ہیں۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ جو لے کر گئے ہیں وہ اگر یہاں پڑا بھی ہوتا تو گل سڑ جاتا لیکن ہم اسے کار آمد بنانے یا استعمال کرنے کی کوشش نہ کرتے جیسا کہ ہم کوئلے کے ساتھ کر رہے ہیں
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,288
کمائي: 26,537
شکریہ: 8,489
1,586 مراسلہ میں 3,509 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
[QUOTE][
-------------------------------------------------------------------------------- کیا مضبوط چیزیں بنائی تھیں انگریزوں نے وہ عمارتیں، وہ پل، وہ ریلوے اسٹیشن، وہ ریلوے پٹریاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت کچھ دیا ہے اس خطے کو انگریزوں نے اگرچہ یہاں سے بہت کچھ لے کر بھی گئے ہیں۔/QUOTE] راجہ صاحب ان عمارتوں کے علاوہ بھی ہمیں انگریز کچھ سوغاتین عطا فرما گے ہیں جو لباس اورشکل سے تو پاکستانی لگتے ہیں لیکن ان کی زبان اور ان کے کرتوت بتاتے ہیں ۔کہ یہ تو اپنوں کے لباس میں بیگانے ہیں ۔ اور یار کے روپ میں مار ہیں ۔ کھاتے پاکستان کا ہیں اور بولتے بھی پاکستان کے خاف ہیں ، ہمارے ہاں کچھ این جی اوز ہیں جن کا کام ہی یہی ہے وہ بیچارے اپنے پیارے ملک کے عیب تلاش کر کر کے خود ہی عیب بن گے ہیں ۔ اور امریکہ کی تعریف میں ایسے رطب السان ہیں کہ لگتا ہی نہیں کہ یہ پاکستانی ہیں ۔ میرا اللہ میرے پیارے ملک پہ اپنا خاص کرم نازل فرماے ۔آمین ۔ Last edited by نبیل خان; 22-07-11 at 05:26 PM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
یار بس وہی تاریخ ہے جو انگریز بنا گئے
ہمارے بھائیوں کے دادا پردادا کے گھر بھی تو بہ گئے وہ کیوں ثقافت میں نہیں |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (22-07-11), حیدر (23-07-11) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,258
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائیوں کے دادا پر دادا کے گھر 5 سال بعد بہہ گئے اور انگریز کا گھر 100 سال بعد بھی ٹھیک لگ رہا ہے۔ اس لیے قابل ذکر ہے
کیا تو انگریزوں نے اپنے ہی لیے تھا، لیکن جو کیا بڑا پائیدار کیا گھر بنائے تو پائیدار پل بنائے تو مضبوط اور اپنے بندے چھوڑے تو وہ بھی لا جواب نصف صدی گزر گئی، انہی کے پل، انہی کی بچھائی ہوئی ریل کی پٹریاں، انہی کے ریلوے اسٹیشن اور انہی کے لوگ ہم پر مسلط ہیں کمال ہے کہ نہیں ؟؟ |
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بیڑا غرق ہو اس ہٹلر کا انگریز کو نکلوا کر زرداریوں کے حوالے کر وا دیا
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
| مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا | wajee (24-07-11) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
![]() ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فن, کورٹ, کلومیٹر, کتابوں, گھر, پولیس, ڈاٹ, موجودہ, منتقل, آج, اردو, بے, بچوں, حال, دی, دنیا, رات, راستہ, سپریم, سال, شاندار, علاقے, عمارت, عائد, صحن |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سو سالہ خاتون کا شارٹ پٹ میں عالمی ریکارڈ | Real_Light | کھیل اور کھلاڑی | 0 | 11-10-09 10:43 PM |
| چھ چیزوں کو چھ چیزوں میں چھپا رکھا ہے | مسافر | عمومی بحث | 5 | 17-08-09 11:33 AM |
| اے ٹی ایم مشین سے پانچ سو روپے کا جعلی نوٹ برآمد بینک کاذمہ داری قبول کرنے سے انکار | وجدان | خبریں | 4 | 08-04-09 08:46 PM |
| پاک فوج کسو ٹی پر پوری | مسافر | عمومی بحث | 2 | 16-03-09 10:28 PM |