| دلچسپ اور عجیب کوئی بھی ایسی چیز جو دلچسپ اور عجیب ہو یہاں پوسٹ کریں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,199
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
الســـلامُ علیــکم
سورج جو زمین سے 15کروڑ کلو میٹر دور ہے بغیر کسی کی مداخلت کے ہمیں ضرورت کے مطابق توانائی فراہم کر تاہے۔ اس جرم فلکی (Celestial body)میں بے پناہ توانائی ہے۔ہائیڈروجن کے ایٹم مسلسل ہیلیم میںتبدیل ہو رہے ہیں۔ہر ایک سیکنڈ میں 70 کروڑ ٹن ہائیڈروجن69کروڑ50لاکھ ٹن ہیلیم میں تبدیل ہو رہی ہے،جبکہ باقی 50لاکھ ہائیڈروجن انرجی (پاور)میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ ![]() ![]() زمین پر زندگی کی موجودگی کو سورج کی توانائی نے ممکن بنایا ہے جو زمین پر توازن کو مستقل بناتی ہے اور 99%توانائی جو زندگی کے لیے ضروری ہو تی ہے سورج مہیا کر تاہے۔ اس توانائی میں سے نصف روشنی کی شکل میں ہو تی ہے جو ہمیں نظر تی ہے بقیہ توانائی بالائے بنفشی شعاعوں کی شکل میں ہوتی ہے جو نظر نہیں آتیں اور حرارت کی شکل میں ہوتی ہیں۔ سورج کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ یہ وقتاً فوقتاًگھنٹی کی مانند پھیلتا رہتا ہے۔ یہ عمل ہر پانچ منٹ بعددہر ایا جاتا ہے اور سورج کی سطح زمین سے 3کلو میٹر قریب آجاتی ہے اور پھر 1080کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتا ر سے دور چلی جاتی ہے۔ (2) سورج سے جو روشنی ہمیں حاصل ہوتی ہے و ہ اس کی سطح پر ہونے والے نیو کلیائی دھماکوں کا نتیجہ ہے جو گزشتہ ساڑھے چارارب سال سے جاری ہے۔ مستقبل میں ایک وقت آئے گاکہ سورج پر یہ نیو کلیائی دھماکے ہونا بند ہو جائیں گے اور وہ مکمل طور پر بے نور ہو جائے گا جس سے اس کی کشش ثقل ختم ہو جائے گی اور پورا نظام شمسی جس میں ہماری زمین بھی شامل ہے اس کی گرفت سے آزاد ہو کر فضا میں بھٹک کر تباہ ہو جائے گا ۔ دراصل کسی ستارے کے بے نورہونے کی وجہ اس میں موجود ہائیڈروجن کا خودکار ایٹمی دھماکوں سے جل جل کر ہیلیم میں تبدیل ہوتے رہناہے ۔پھر ایک وقت آتاہے کہ ہیلیم بھی شدت حرارت کی وجہ سے جلنا شروع کردیتی ہے اورکاربن پیداکرنے لگتی ہے اور کاربن کی یہ تہہ ستارے کے مرکز میں جمع ہونا شروع ہوجاتی ہے ۔چناچہ ہائیڈروجن اور ہیلیم کے جلنے کے اس دہرے عمل کے نتیجے میں ستارے کی حرارت میں بے انتہاشدت آجاتی ہے اوراس کی سطح زورداردھماکوں سے پھول جاتی ہے ۔اس پھولے ہوئے ستارے کو سرخ ضخام (Red Giant) کہاجاتاہے ۔ سرخ ضخام بننے کے بعد ستارہ کا حجم تو بڑھ جاتاہے مگر اس کی حرارت اور چمک میں تیزی سے کمی واقع ہوجاتی ہے ۔ چناچہ اس مرتے ہوئے ستارے کی سرخ ضخام کے بعد بننے والی حالت کو سفید بونا (White Dwarf) کا نام دے دیاجاتاہے ۔اس دوران اس کی جسامت اصل ستارے کی نسبت 80 فیصد رہ جاتی ہے یہ مرتے ہوئے ستارے کی آخری حالتوں میں سے ایک ہے جس میں ستارہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا اور مدہم ہوتاچلا جاتاہے ۔ ( 3) ![]() (وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّھَا ط ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ) '' اور سورج 'وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جارہا ہے۔ یہ زبردست علیم ہستی کا باندھاہواحساب ہے'')یٰس۔ 36:38 مولانا مودوی اس آیت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ''ٹھکانے سے مراد وہ جگہ بھی ہوسکتی ہے جہاں جا کر سورج کو آخر کار ٹھہر جاناہے اوروہ وقت بھی ہو سکتاہے جب وہ ٹھہر جائے گا۔ (4) تفسیر ابن کثیرمیں ایک قول کے مطابق مستقر سے مراد اس کی چال کا خاتمہ ہے۔ قیامت کے دن اس کی حرکت باطل ہو جائے گی 'یہ بے نور ہوجائے گا 'اور یہ عالم کل ختم ہوجائے گا۔(5) مولانا عبدالرحمان کیلانی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ: '' ایک دفعہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو ذر سے پوچھا :'' جانتے ہو کہ سورج غروب ہونے کے بعد کہا ں جاتاہے ؟'' سیدنا ابو ذر کہنے لگے :'' اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ''آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '': سورج غروب ہونے پر اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے سجدہ ریز ہوتا ہے اور دوسرے دن طلوع ہونے کا اذن مانگتا ہے تو اسے اذن دے دیا جاتا ہے پھر ایک دن ایسا آئے گا کہ اس سے کہا جائے گا کہ جدھرسے آیا ہے ادھر ہی لوٹ جا۔پھر وہ مغرب سے طلوع ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی ''۔(6) مولانا عبدالرحمان کیلانی لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ سورج اور اسی طرح دوسرے سیاروں کی گردش محض کشش ثقل اور مرکز گریز قوت کا نتیجہ نہیں بلکہ اجرام فلکی اور ان کے نظام پر اللہ حکیم وخبیرکا زبردست کنٹرول ہے کہ ان میں نہ تو تصاد م و تزاحم ہو تا ہے اورنہ ہی ان کی مقررہ گردش میں کمی بیشی ہوتی ہے اور یہ سب اجرام اللہ کے حکم کے تحت گردش کر رہے ہیں دوسرے یہ کہ قیامت سے پہلے ایک وقت آنے والا ہے جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا اس کے بعد نظام کائنات بگڑ جائے گا۔آج کا مغرب زدہ طالب علم سورج کے طلوع وغروب ہونے اور عرش کے نیچے جاکر دوبارہ طلوع ہونے کی اجازت مانگنے کا مذاق اڑاتا ہے اورکہتاہے کہ سورج تو اپنی جگہ پر قائم ہے اور ہمیں جو طلوع وغروب ہوتا نظر آتاہے تو یہ محض زمین کی محوری گردش کی وجہ سے ہے حالانکہ اللہ کا عرش اتنا بڑا ہے کہ ایک سورج کی کیا بات ہے کائنات کی ایک ایک چیز اس کے عرش کے تلے ہے اورجن وانس کے سوا ہر چیز اس کے ہا ں سجدہ ریز یا اللہ کی طرف سے سپرد کردہ خدمت سر انجام دینے میں لگی ہوئی ہے۔(7) ڈاکٹر سید سعیدعابدی اسی حدیث کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ''عصر جدید کے بعض مفسرین نے عرش الہی کے نیچے سورج کے سجدہ کرنے اور اللہ تعالیٰ سے اجازت لینے کی اس خبر نبوی کا انکار کیاہے ،ان کا دعویٰ ہے کہ علم فلک کے مطابق سورج کی رفتارمیں کوئی وقفہ نہیںہوتا جبکہ سجدہ کرنا توقف کا تقاضا کرتاہے ۔یہ حدیث حضرت ابو ذر سے متعدد سندوں سے مروی ہے اور ہر سند میں امام بخاری اورامام مسلم اور حضرت ابوذر کے درمیان جتنے راوی آئے ہیں وہ سب ثقات کی اعلی صفات سے موصوف ہیں توکیا صرف اس وجہ سے اس حدیث کا انکا رقرین عقل ہے کہ عرش الہی کے نیچے سورج کے سجدہ کرنے کی بات ہماری عقل کی رسائی سے باہر ہے اورکیا سورج کا سجدہ کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ہماری طرح باقاعدہ وضو کرتاہے ،پھر کھڑا ہوتاہے اور پھر ''اللہ اکبر ''کہہ کر سجدہ میں جاتاہے یا اس کے جس فعل کو سجدہ سے تعبیر کیا گیا ہے وہ لمحوں میں وقوع پذیر ہوجاتاہے ،کیا قرآن پاک کی متعد د آیتوں میں کائنات کی ہر شی ٔ کے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے کی خبر نہیں دی گئی ؟(الرعد:15،النحل :40، الحج : 1 تو کیاہماری عقل اس سجدے کی حقیقت کا ادراک رکھتی ہے جبکہ قرآن کے منزل من اللہ ہونے میں ادنیٰ سا شک بھی دائرہ ایمان سے خارج کردیتاہے اس لۓ کہ اس کی سند: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن جبرئیل علیہ السلام،عن اللہ عزوجل کی صحت پر پوری کائنات گواہ ہے ۔ (![]() سورج کی روشنی کے ختم کردیئے جانے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة التکویر میں اس طرح ارشاد فرمایاہے: (اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ) '' جب سورج لپیٹ دیاجائے گا'' کوربمعنی کسی چیز کو عمامہ یا پگڑی کی طرح لپیٹنا اور اوپر تلے گھمانا۔ اور اس میں گولائی اور تجمع کے دونوں تصور موجود ہوتے ہیں یعنی کسی چیز کو گولائی میں لپیٹنا اور جماتے جانا۔مطلب یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں اس کی روشنی اور اس کی حرارت سب کچھ سمیٹ لیا جائے گا اور وہ بس ایک بے نور جسم رہ جائے گا۔(9) مولانا مودودی اس آیت کریمہ کی تشریح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ '' سورج کے بے نور کر دیے جانے کے لیے یہ ایک بے نظیر استعارہ ہے۔ عربی زبان میں تکویر کے معنی لپیٹنے کے ہیں۔ سرپر عمامہ باندھنے کے لیے تکویر العمامہ کے الفاظ بولے جاتے ہیں کیونکہ عمامہ پھیلا ہوا ہوتاہے اور پھر اسے سر کے گرد لپیٹا جاتاہے۔ اسی مناسبت سے اس روشنی کوجو سورج سے نکل کر سارے نظام شمسی میں پھیلتی ہے عمامہ سے تشبیہہ دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کے روز یہ پھیلا ہوا عمامہ سورج پر لپیٹ دیا جائے گا یعنی اس کی روشنی کا پھیلنا بند ہو جائے گا۔( 10) مولانا عبدالرحمان کیلانی لکھتے ہیں کہ'' سورج کی اس رجعت قہقریٰ کے بعدستاروں کے درمیان باہمی کشش اور گردش کا سارا نظام مختل ہو جائے گا ۔زمین میں شدید زلزلے اورجھٹکے شروع ہوجائیں گے ۔ ستارے بے نور ہو کر اکیلے گرنے لگ جائیں گئے جیسے جھڑ پڑے ہیں ۔سورج کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح ہوکر فضا میں منتشر ہوجائیں گے ۔ سمندروں کا پانی شدّت حرارت سے کھولنے لگے گا۔تمام مخلوقات مر جائے گی اورکائنات فنا ہوجائے گی اوریہ سب کچھ کب ہوگا اس کا جاننا انسان کے بس کا روگ نہیں ۔ سائنس دان خواہ کتنے ہی اندازے لگائیں وہ سب کچھ ظنون او ر ڈھکوسلے ہی ہوں گے ۔ا س کا حقیقی علم اسی خالقِ کائنات کو ہے جس نے اسے پیدا کیا تھا۔ بلکہ وحی ہمیں اس سے بہت بعد کی بھی خبردیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر سے ایک نئی کائنات پیدافرمائے گا جس کی زمین،جس کے سورج ،جس کے چاند ستارے اورجس کے قوانین نظم وضبط سب کچھ اس دنیا سے الگ ہوں گے اور جس کے متعلق اندازے لگانا بھی کسی انسان کے بس کا روگ نہیں البتہ اس کی بہت سی تفصیلات قرآن وحدیث میں موجودہیں''۔(11) قارئین کرام جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اس مسئلہ میں جدید سائنس اور قرآن پاک میں دی گئی معلومات میں زبردست یگانگت پائی جاتی ہے جس سے ایک معمولی غوروفکر رکھنے والا آدمی بھی اس حقیقت کو سمجھ سکتاہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے بغیر ان معلومات کوچھْی صدی عیسوی میں کسی کتاب میں ذکر کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں تھی اوریقینا یہ کام کسی مافوق الفطرت ہستی کا ہی ہے جسے ہم اللہ کے نام سے یاد کرتے ہیں اوراسی نے ہی ان معلومات وپیشنگوئیوں کو دوسری انسانی ہدایات کے ساتھ قرآن مجید کی شکل میں اپنے پیارے و آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا تھا۔اللہ تعالیٰ ہمیں حق و صداقت کو سمجھنے، اس پر ایمان رکھنے اورعمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔ تحریر: طارق اقبال سوہدروی والسلام
زارا |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
شئیرنگ کا بہت بہت شکریہ زارا!!!!!!!
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: KPK
عمر: 39
مراسلات: 81
کمائي: 1,604
شکریہ: 328
47 مراسلہ میں 111 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاءاللہ، اچھی معلومات پر مبنی تحریر ہے۔ اللہ آپکو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,381
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دراصل واقعہ کچھ یوں ہے کہ کائنات میں سورج نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں یہ جسےہم اپنا سورج کہتے ہیں یہ در اصل ہماری نظامِ شمسی کا ستارہ ہے چونکہ یہ ہمارے اتنے قریب ہے جو ستارے سے بہت بڑا دکھائی دیتا ہے اس لئے یہ ہمارا سورج کہلایا اب رہی بات سجدے والی تو کسی کا انکار یا اقرار حقیقت کو بدل نہیں سکتا چاہے کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے بعض باتیں استعارے کے طور پر بھی بیان کی گئی ہیں لیکن ان کا یہ مطلب نہیں کہ وہ باتیں نبی کو بھی نہیں معلوم تھیں اس دور کے حساب سے جو کو جس طرح سمجھانا تھا نبی نے اسی طرح سمجھایا نبوت ہمیشہ انسان کے ظرف کے مطابق بات کرتی ہے کوئی نبی ایسی بات نہیں کرتا کہ اس کی بات کو لوگ سمجھ ہی نہ پائیں لیکن بعد نے زمانے کے لوگ جو انبیاء کے علوم کے وارث ہوتے ہیں ان کی تشریح ہر دور میں کرتے چلے آئے ہیں
کیا کسی میں اتنی ہمت ہے کہ یہ دعویٰ کرسکے کہ میرے بنی کو نظام شمسی اور اس کائنات کے سوا کسی کائنات کے بارے میں پتہ نہیں تھا جو نبی جنت دوزخ عرش و کرسی کی خبر دے اسے مارس ،نیپچون ، پلوٹو وغیرہ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں تو سنو ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات جبرئیل کے ساتھ تھے تو جبرئیل جب ایک جگہ سے گزرے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اونٹوں کا ایک طویل قافلہ ہے جو چلا چلا جا رہا ہے اور ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیلِ امین سے پوچھا اے جبرئیل یہ قافلہ کہاں جا رہا ہے لا علمی کی وجہ سے نہیں بلکہ امت کو یہ راز بھی بتانا تھا جبرئیل نے عرض کی اے اللہ کے بنی صلی اللہ علیہ وسلم میں جب سے پیدا ہوا ہوں ان اونٹوں کے قافلے کو رواں دواں دیکھ رہا ہوں مجھے نہیں پتہ کہ یہ کہاں سے آرہا ہے اور کہاں جا رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جبرئیل ایک اونٹ کو روک کر دیکھو کہ اس پر کیا ہے جب اونٹ کو دیکھا گیا تو اس کے اوپر انڈے کی طرح کی گول سی کوئی چیز تھی جو سینکڑوں کی تعداد میں ایک ایک اونٹ کے کوہان پر تھی جب اس کو کھولا گیا تو جبرئیل علیہ السلام نے دیکھا کہ اس ایک انڈے کے اندر پوری کائنات موجود تھی اس سے اندازہ لگا سکتے ہو کہ کائنات کی تعداد کو کس طرح سمجھا یا ہے اور مذہب کی اکثر چیزیں کنایوں اور رموز میں بیان ہوئی ہیں جن کے رموز اب جاکے لوگوں پہ واضح ہو رہے ہیں میں آج کی ترقی یافتہ سائنس سے ایک سوال کرتا ہوں سوچ کر جواب دینا اس میں بہت سے پردے اٹھ جائیں گے بات صرف نقطہ نظر کی ہے ''جنات اور جراثیم میں کیا چیز مشترک ہے'' جنات بھی ج سے آتے ہیں اور جراثیم بھی ج سے آتے ہیں اگر سیدھی راہ میں غور کیا تو بہت سی مبہم باتیں ظاہر ہوجائیں گی اس لئے اپنی عقل کو کل کہنے والے تو یہ بھی نہیں جانتے کہ موت کیا ہے اور زندگی کیا ہے مادیت سے ماوراء بھی ایک نظام ہے جو ہم لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے لیکن ضروری نہیں کہ جو چیز نظر نہ آئے اس کا وجود بھی نہ ہو روح بھی نظر نہیں آتی لیکن کون روح کا انکار کرسکتا ہے اگر زیادہ تجربہ کا شوق ہے تو اون پلک میں انگلی ڈال کے تجربہ کر سکتے ہو یہ ساری تمہید نہ ماننے والے سائنس دانوں کے لئے ہیں جو مانتے ہیں میں ان سے مخاطب نہیں ہوں والسلام |
|
|
|
| M A Ansari کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالقدوس (02-04-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,199
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ سب کے کمنٹس کا شُکریہ
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پھول, پیارے, پاک, لمحوں, مکمل, ممکن, مجید, معلوم, آدمی, اکبر, ایمان, اللہ, انسان, بے نظیر, جرم, حکم, حدیث, خبر, زندگی, سورج گرہن, سائنس, ستارے, عقل, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 05:22 AM |
| بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ | حیدر | خبریں | 6 | 13-08-09 11:01 PM |