| دلچسپ اور عجیب کوئی بھی ایسی چیز جو دلچسپ اور عجیب ہو یہاں پوسٹ کریں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
مخدوم یوسف رضا گیلانی 9 جون 1952 کو جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان کے ایک پیرگھرانے میں پیدا ہوئے جو پچھلی کئی نسلوں سے سیاست میں مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہے۔
یوسف رضا گیلانی نے 1970 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن اور1976میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا۔ ملتان کی درگاہ حضرت موسی پاک کا گدی نشین ہونے کی بناء پر ان کا خاندان مریدوں اور روحانی پیروکاروں کا گڑھ ہے ان کے دادا سید محمد رضا شاہ گیلانی تحریک پاکستان کے رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں اور ان کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے کبھی کسی انتخاب میں شکست نہیں کھائی۔ ox یوسف رضا گیلانی کے والد سید علمدار حسین گیلانی ہیں اور معروف سیاست دان حامد رضا گیلانی ان کے چچا تھے۔ یوسف رضا گیلانی کی مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگاڑا سے بھی قریبی عزیز داری ہے اور پیرپگاڑا کی پوتی یوسف رضا گیلانی کی بہو ہیں۔ یوسف رضا گیلانی فروری 2008 کے انتخابات میں ملتان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پانچویں مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی عملی سیاست کا آغاز 1978میں اس وقت کیا جب انہیں مسلم لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا رکن چنا گیا اور 1982میں وہ وفاقی کونسل کے رکن بن گئے۔یوسف رضا گیلانی نے 1983میں ضلع کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے موجودہ رہنما سید فخر امام کو شکست دیکر چیئرمین ضلع کونسل ملتان منتخب ہوئے۔ 1985 میں انہوں نے صدر جنرل ضیاء الحق کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیااور وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر ہاوسنگ و تعمیرات اور بعد میں وزیرِ ریلوے بنائے گئے۔ 1988میں وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور اسی برس ہونے والے عام انتخابات میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور اپنے مدمقابل نواز شریف کو شکست دی جو قومی اسمبلی کی چار نشستوں پر امیدوار تھے۔ ان انتخابات میں کامیابی کے بعد یوسف رضا گیلانی ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ کے رکن بننے اور اس مرتبہ انہیں بینظیر بھٹو کی کابینہ میں سیاحت اور ہاؤسنگ و تعمیرات کی وزارت ملی۔ 1998 میں انہیں پیپلز پارٹی کا وائس چیئرمین نامزد کر دیا گیا لیکن دسمبر 2002ء میں انہوں نے اپنے بھانجے اور رکن قومی اسمبلی اسد مرتضیٰ گیلانی کی جانب سے پیپلز پارٹی میں بننے والے فارورڈ بلاک میں شامل ہونے پر پارٹی کے عہدے سے استعفی دیدیا۔یوسف رضا گیلانی 1990 کے انتخاب میں تیسری مرتبہ رکن اسمبلی بننے اور 1993میں صدر غلام اسحاق خان کی طرف سے اسمبلی کی تحلیل کے بعد نگران وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کی نگران کابینہ میں انہیں بلدیات کا قلم دان سونپاگیا۔ 1993 کے انتخابات میں یوسف رضا گیلانی چوتھی مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں قومی اسمبلی کے سپیکر کے عہدے پر فائز ہوئے تا ہم وہ فروری 1997میں ہونے والے انتخابات میں ناکام رہے۔ سیاسی کیرئر کے دوران یوسف رضا گیلانی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں نیب نے ریفرنس دائر کیا اور راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے ستمبر 2004 میں یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تین سو ملازمین غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کے الزام میں دس سال قید با مشقت کی سزا سنائی تاہم 2006میں22ماہ قید میں گزارنے کے بعد یوسف رضا گیلانی کو عدالتی حکم پر رہائی مل گئی ۔ یوسف رضا گیلانی نے اڈیالہ جیل میں اسیری کے دوران اپنی یاداشتوں پر مبنی پر ایک کتاب’چاہ یوسف سے صدا‘ تحریر کی اور اس کتاب کا عنوان الطاف حسین حالی کے اس شعر سے لیا گیا ہے: آ رہی ہے چاہِ یوسف سے صدا دوست یاں کم ہیں اور بھائی بہت یوسف رضا گیلانی خود تو شعر نہیں کہتے لیکن شعری ذوق کی بنا پر موقع کی مناسبت سے شعر کہنا ان کا خاصہ ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ پیپلز پارٹی سربراہ بے نظیر بھٹو انہیں شاعر سمجھ بیٹھیں اور یوسف رضا نے اپنی اسی کتاب میں لکھا ہے کہ اپنی وزارت عظمیٰ کے دوسرے دور میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے متحدہ عرب امارات کے حکمراں شیخ زید بن سلطان النہیان سے بے نظیر بھٹو نے سپیکر یوسف رضا گیلانی کا تعارف ایک شاعر کے طور پر کرا دیا جس پر شیخ زید نے فوری طور پر ’تازہ کلام‘ میں سے چند رومانوی اشعار سنانے کی فرمائش کردی۔ وزیر اعظم جونیجو دور میں ہونے والے 1988 کے’سانحہ اوجڑی کیمپ‘ کے بارے میں یوسف گیلانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ فوجی افسران پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے جنرل اختر عبدالرحمنٰ اور بعض دوسرے اعلیٰ فوجی افسروں کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انہیں معطل کرنے کی کی تجویز دی لیکن اسے رد کرتے ہوئے چار وفاقی وزراء پر مشتمل ایک اور کمیٹی بنا دی گئی جسکے سربراہ اسلم خٹک نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ’واقعہ کا کوئی ذمہ دار نہیں تھا، یہ اللہ کی طرف سے ہوا ہے‘۔ یاد رہے کہ ریڈ کراس کے مطابق اوجڑی کیمپ کے اسلحہ ڈپو میں ہونے والے دھماکوں سے راولپنڈی اوراسلام آبادمیں ایک ہزار کے قریب لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ 1993 میں گیلانی سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو رکن اسمبلی نواب اکبر بگٹی نے بلوچی زبان میں خیر مقدمی تقریر کی۔ جس پر ایک دوسرے رکن نے اعتراض کیا جسے نو منتخب سپیکر نے یہ کہہ کر رد کردیا کہ جذبات کی بہتر ترجمانی مادری زبان ہی میں ہوسکتی ہے۔اس واقعہ کے حوالے سے وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’جب میں اپنے چیمبر میں پہنچا تو فون کی گھنٹی بجی اور دوسری طرف سے گرجدار لہجے میں کہا گیا کہ سپیکر صاحب! آپ نے بگٹی کو بلوچی زبان میں تقریر کرنے کی اجازت کیوں دی، فوج نے اس کا برا منایا ہے‘۔ گیلانی کہتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتے فون بند ہوچکا تھا۔ اپنے دوسرے دور حکومت میں ایک مرحلے پر پنجاب کے گورنر کی تقرری کے حوالے سے بے نظیر بھٹو نے یوسف رضا گیلانی سے مشورہ کیا تو انہوں نے اعتزاز احسن کا نام دیا۔ لیکن تقرری ضیاء دور میں ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر رہنے والے جنرل راجہ سروپ خان کی ہوئی۔ Last edited by عبدالقدوس; 22-05-08 at 07:17 AM. وجہ: نازیبا الفاظ درخواست پر حذف کئے گئے |
|
|
|
| وجدان کا شکریہ ادا کیا گیا | محمدعدنان (21-05-08) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت اچھی شئیرنگ ہے جناب
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کالج, پاک, پاکستان, وزیر, وزیراعظم, قید, قدم, لوگ, نواز شریف, موجودہ, اکبر, اللہ, اشعار, اعلیٰ, بھائی, بے نظیر, تعارف, جیل, جواب, حکم, خلاف, سیاست, شعر, عدالت, صحافت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی | روشنی | گپ شپ | 3 | 30-01-11 09:21 PM |
| وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نائن زیرو میں | محمدعدنان | خبریں | 11 | 07-01-11 10:46 PM |
| یوسف کا ”حسن “ خرید لو ۔وزیراعظم نے اپنے قیمتی لباس سیلاب زدگان کی امداد کےلئے نیلامی کی پیشکش | جاویداسد | خبریں | 1 | 21-08-10 10:28 PM |
| وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا مخول | حیدر | خبریں | 4 | 15-11-09 09:04 AM |
| وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے سامنے چیلنجز کا انبار | Zullu230 | سیاست | 13 | 30-05-08 11:01 AM |