| دلچسپ اور عجیب کوئی بھی ایسی چیز جو دلچسپ اور عجیب ہو یہاں پوسٹ کریں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
ہندوستان میں محکمۂ آثار قدیمہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک حالیہ کھدائي میں بعض ایسے آثار دریافت کیے ہيں جن سے پچیس سو برس قبل آباد ایک شہر کا پتہ چلتا ہے۔
یہ باقیات مشرقی ہندوستان کی ریاست اڑیسہ کے دارالحکومت بھونیشور کے نزدیک شیشوپال گڑھ میں ملے ہيں۔ ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ شیشیوپال گڑھ میں کھدائی سے دریافت آثار یہاں پر ایک ترقی یافتہ شہر کے بسے ہونے کا اشارہ کر رہے ہيں۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کا دعوٰی ہے کہ اس شہر کی آبادی ممکنہ طور پر بیس سے پچیس ہزار تک کے درمیان رہی ہوگی۔ کھدائی میں پتھر کے اٹھارہ ستون، مٹی کے برتن، زیورات، چوڑیاں، انگوٹھیاں، کانوں کی بالیاں اور گلے کے ہار وغیرہ ملے ہيں۔ تاہم اڑیسہ کے بعض مورخ اور ماہرین آثار قدیمہ نے محققین کے دعوٰی پر محتاط رہنے کے لیے کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے کی آبادی اور زمانہ کے بارے میں موزوں طور پر کچھ بھی کہنا جلد بازی ہوگی۔ کھدائي کے کام میں شامل ڈکن کالج پونے کے شعبہ آثار قدیمہ کے پروفیسر ڈاکٹر آر کے موہنتی کا کہنا ہے کہ’اس قدیم شہر کی اہمیت تب واضح ہوگی جب ہم اس حقیقت کے بارے میں بتائیں گے کہ جب یہ شہر اپنے عروج پر تھا اس وقت ایتھنز کی آبادی محض دس ہزار کے قریب رہی ہوگی‘۔ واضح رہے کہ موہنتی اور کیلفورنیا یونیورسٹی کے کوٹسن انسٹی ٹیوٹ آف آرکیالوجی کی مونیکا اسمتھ 2005 سے اس علاقے میں رفتہ رفتہ کھدائی کروا رہے ہيں۔ تازہ کھدائي پیر کو ختم ہوئی ہے اس کھدائي میں ملے باقیات کو محفوظ کر لیا گيا ہے۔ اس علاقے میں سب سے پہلی کھدائی پروفیسر بی بی لال نے 1948 میں کروائي تھی۔ پروفیسر لال نے آثار قدیمہ کے اندازوں کے مطابق اس شہر کی موجودگی تین سے چار صدی قبل مسیح بتائي تھی۔ لیکن پروفیسر اسمتھ اور موہنتی کے مطابق یہ شہر پانچ صدی قبل مسیح پوری طرح بس چکا تھا اور شاید چوتھی صدی قبل مسیح میں ختم ہوگیا تھا۔ ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کے اعلی اہلکار بی آر منی کہتے ہيں کہ ہم اس مقام کو غیر قانونی قبضے سے بچانے اور اسے سیاحتی مقام بنانے پر غور کررہے ہيں۔ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ نے آڑیسہ حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس زمین کو خالی کرائے اور اپنے قبضے میں لے لے۔ مورخ ارون ساگر بیہرا کا کہنا ہے’ یہ بہت شرم کی بات ہےکہ یہاں 1948 میں پہلی کھدائی میں ملنے والے سونے کے سکے اور برتن غائب ہوگیے ہيں‘۔ انہوں نے مزید کہا ’یہاں ملے باقیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بعض اقدام کیے جانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ہونے والی تحقیقات میں اس سے استفادہ حاصل کیا جا سکے‘۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 1,847
کمائي: 16,138
شکریہ: 1,281
866 مراسلہ میں 1,528 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستان زندہ باد
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کالج, پاکستان, آبادی, جلد, دریافت, زمانہ, شہر, صدی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| برج خلیفہ کے اوپر | یاسر عمران مرزا | دیس ہوئے پردیس | 15 | 29-06-10 01:03 AM |
| سقوط ڈھاکہ کے چند سر بستہ راز: امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی تحریروں میں | حیدر | 1971 اور مشرقی پاکستان | 23 | 14-02-10 05:10 AM |
| تا گور کے اوپر وہ گل اندام نہ آیا | خرم شہزاد خرم | میر تقی میر | 1 | 08-09-09 07:13 PM |
| ورڈپریس ڈاٹ کوم / ورڈپریس ڈاٹ آرجی / ورڈپریس ڈاٹ پی کے ؟ ان تینوں میں کیافرق ہے | عبیداللہ عبید | اردو پریس (http://wordpress.pk) | 10 | 14-06-09 07:44 PM |
| ڈھائی لاکھ کا لباس | محمدعدنان | فلمی دنیا | 0 | 14-12-07 03:05 AM |