| دلچسپ اور عجیب کوئی بھی ایسی چیز جو دلچسپ اور عجیب ہو یہاں پوسٹ کریں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Aug 2011
مراسلات: 6
کمائي: 471
شکریہ: 0
6 مراسلہ میں 20 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لوگ عموما 'دور تاریکی' سے واقف ہیں کہ یہ یورپ کا پسماندہ ترین دور تھا۔ میرا اپنا یہ خیال ہے کہ اسی طرح کا ایک دورمسلمانانِ برصغیر پاک ہند پر بھی گذرا ہے۔
یہ دور ہے برصغیر میں وسطی ایشیاء کے مسلمان حکمرانوں کے اقتدار کا دور جو بابر سے شروع ہوا اور بہادر شاہ ظفر پر ختم ہوا۔ کچھ لوگ اس دور کو کھینچ کر محمد بن قاسم تک لے جاتے ہیں اور کچھ صرف 1000 سال تک۔ متـفـقـہ تاریخ یہ ہے کے یہ مسلمانوں کا سنہری دور تھا۔ عسکری نکتہء نگاہ سے یہ تو درست ہے، لیکن اس دور میں فرد واحد حکمراں رہا اور فرد واحد ہی قانون سازی کرتا رہا۔ کسی مجلس شوری کے آثار تاریخ میں نہیں ملتے، بغور دیکھئے تو حالات کا تانا بانا کچھ اس طرح رہا کہ، برصغیر میں، اس دور میں کوئی علمی ترقی نہ ہوئی، کوئی ایجاد قابل ذکر نہیں ہے، کوئی قابل ذکر درسگاہ، کوئی یونیورسٹی، کوئی شفا خانوںکا نظام، سڑکوں کا نظام، فلاحی نظام، گویا علمی ترقی جو مسلمانوں کا مشرق وسطیٰ میںطرہء امتیاز رہا، معدوم ہے۔ اس کم علمی و تاریکی کی بڑی وجہ کیا ہے، میں بے بہرہ ہوں۔ اور اس کا الزام کس کے سر ہے؟ بتانا بہت مشکل ہے۔ البتہ سر سید احمد خان نے جس ادارے کی ابتداء کی اور جس نظام کی بنیاد ڈالی، اس سے اوریجنل تعلیم یعنی سیاست، معاشیت، ثقافت، شہریات، علم ھندسہ (انجینئیرنگ) و ریاضی کی تعلیم عام ہوئی اور برصغیر میں تھوڑے وقت میں ہی مسلمانوں نے جس نشاط ثانیہ کی طرف پیش رفت شروع کی، اس کی رفتار دنیا کے کسی بھی مسلم ملک میں گذشتہ 60 سال میں خصوصا اور قیام علیگڑھ کے وقت سے خصوصاَ نہیں ملتی۔ اس لئے جو طبقہ سرسید کی لائی ہوئی تبدیلی کی مخالفت سرسید کی کردار کشی اس زمانے میں کرتا رہا، اور روایتی مدرسہ کو جدید مدرسہ پر ترجیح دیتا رہا، اور جدید تعلیم کی مخالفت کرتا رہا، اس طبقہ کو میں فطری طور پر اس عصرِانحطاط کا ذمہ دار ٹہراتا ہوں۔ اور اسی وجہ سے اس دور کو 'دور مولویت' کہہ کر اس کا مقابلہ یورپ کے دور تاریکی سے کرتا ہوں۔ اس موازنہ کی وجہ علم کی روشنی کی کمی، علمی انحطاط، روایئتوں کا فروغ، توہم پرستی کا فروغ، ایجادات کی کمی اور اس کے نتیجے میں آزادی سے غلامی میں داخلہ ہے۔ اس 'تاریک دور مولویت' کو میں 'یوروپی دور تاریکی' سی بدتر کیوں قرار دیتا ہوں، اکی وجہ علم کے نام پر تاریکی کو فروغ دینا ہے۔اور اس لئے بھی کہ اس دور میں تعلیم عظیم یعنی قران سے سنگدلانہ اختراعات کا سلسلہء غیر متناہی شروع ہوا۔ کلام الہی سے جنوںکی تسخیر، جنوں کی مدد سے عورتوں کو اڑوا کر منگوانا، علم الہی کو پھونک کر علاج کرنا، بے بسوں پر ظلم، اور اسی طرح کی دوسرے توہمات کو علم قران قرار دینا، علم کی نام سے تاریکی کے فروغ کی ادنیٰ مثالیں ہیں اور کچھ لوگوں کے عقیدہ میں اب تک اس قدر راسخ ہیں کہ دل کانپ اٹھتا ہے۔ مولویت اس دور میں عروج پر رہی۔ مولویںکی کوشش تھی کہ درپردہ علم و حکومت ان کے اپنے ہاتھ رہے، چاہے بادشاہ کوئی ہو۔ درسگاہیں صرف ان لوگوں کے لئے محدود تھیں جو ان کے "اپنے" خیالات سے متفق تھے۔ مولوی کا اپنا خیال تھا کہ وہ دین و علم کی خدمت کر رہا ہے لیکن وہ تمام مسلمانوں کو پسمانڈگی کی طرف دھکیلتا رہا۔ کوئی ایسی کوشش جو کسی دوسری درسگا کی ہوئی، مولوی اس کی راہ میں رکاوٹبنا رہا، حتی کہ کسی بھی درسگاہ کی کوشش کو حکومتی زور و طاقت سے کچلتا رہا۔ یہی رکاوٹ سر سید احمد خان کو بھی پیش آئی، جب علی گڑھ یونیورسٹ کے قیام کا وقت آیا اور اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ مولویوں نے ایک نظریاتی جنگ کی ابتداء کی اور سرسید کی کردار کشی اپنے پرانے ہتھکنڈوں سے کرنی شروع کردی۔ جس میں کفر کا فتوی، تارک دین ، تارک حدیث، تارک قرآن اور تارک کے سنت کے فتاوی بہ آسانی ملتے ہیں۔ مولویت کو سب سے بڑا خطرہ کسی بھی قسم کی سند سے تھا۔ اب تک وہ خود ہی قوانین بناتے آرہے تھے، جس کے گواہ، بے تحاشا فتاوی ہیں۔ لیکن کسی دوسری قسم کی سند کا مطلب تھا کہ تعلیم یافتہ افراد اپنا حصہ قانون سازی، سیاست، اور معاشرے کے دوسرے حصوں میں مانگیں گے۔ یہی ہوا بھی اور مولویت کی اولیں شکست کے بعد ہی ایک مسلم حکومت کے آثار بر صغیر پاک و ہند میں نظر آنا شروع ہوگئے۔ مولویت کی اس استحصال کو برصغیر کی کسی قوم بشمول مسلمانوں نے معاف نہیں کیا اور نئی بننے والی حکومت میں ان مولویوں کو کوئی حصہ نہیں دیا کہ مولویت معاشرے کے لئے ایک زہر قاتل ہے۔ اور مذہب کے نام پر ایک مذموم عزائم سے بھرپور سیاسی نظام کا نام ہے۔ آسانی کے لئے تاریخ برصغیر میں نمایاں کارنامے: حرم سراء کے لئے محلوں کی تعمیر۔ مال کی حفاظت کے لئے قلعوں کی تعمیر۔ حکومت کی حفاظت کے لئے چھاونیوں کی تعمیر۔ فرد واحد کی حکومت کے نظریاتی دفاع کے لئے ایک مذہبی انـفراسٹرکچر کا قیام جو کہ حکومت کے لئے زیادہ منافع بخش اور عوام کے لئیے سخت تکلیف دہ سزاؤں پر مشتمل۔ ایکسٹرا جیوڈیشیل طریقہ سے مقدمات کی ہینڈلنگ۔ جنگوں سے بھرپور تاریخ۔ اس کے تاریخی حوالہ جات تو ہم سب کو زبانی یاد ہیں۔ کیا وجہ ہے کی ہماری تاریخ درج ذیل سے عاری ہے؟ جن خامیوں کی طرف اشارہ ہے، مسلمان قرون وسطی میں درج ذیل کار ہائے نمایاں انجام دے چکے تھے۔ ان میں سے، بابر سے ظفر تک علم کا ارتقاء اور قابل ذکر انسٹی ٹیوشنز کے قیام میں سرکاری اور حکومتی کوششوں کے بارے میں حوالہ جات سے بتائیے: مشترکہ ہندوستان میں چند بڑی یونیورسٹیوںکے نام؟ بڑے شفا خانوں کا نظام، ان کا وجود؟ ان دواؤں کی ایجاد و تعداد جو صحت و زندگی کی ضامن ہیں؟ عوامی دولت کے معاشرے میںنفوذ کے بڑے ادارے؟ نظام زکوۃ اور غرباء کی فلاح کے ادارے؟ قرآن و سنت کی ترویج کے ادارے اور مدرسے؟ سائینسی، دفاعی اور دیگر ایجادات؟ صنعت و حرفت کی ترقی کے لیے کئے گئے انتظامات؟ نقل حمل کا نظام۔ (شیر شاہ سوری کی جی ٹی روڈ کو ہٹا کر)؟ عوام الناس کو درج بالاء مدوں میں مشغول اور استعمال کرنے کے نظام؟ ملک گیر مالیاتی نظام؟ عوام کی فلاح و بہبود کی تعمیرات کے نظام کے فروغ کے ادارے؟ ملک گیر مکمل عدالتی نظام کی مثال؟ دفاعی آلات حرب اور کمیونیکشن کی ایجادات؟ یہ سب کچھ میرے لیے بھی اتنا تکلیف دہ ہے جتنا شاید آپ کےلئے کہ خود اپنی زریں تاریخ ہم پر عیاں ہے اور اس تاریکی کے نتیجے میں 200 سالہ غلامی کی سزا بھی یاد ہے۔ اس کا سدباب کیسے ہوا، یہ بھی یاد ہے اور علم حاصل کرنے کی راہ میں کون سا فلسفہ رکاوٹ بنا یہ بھی یاد ہے۔ ذہن میںرکھئے کی یہ مجموعی تنقید آزردہ دلی اور برائی کے نکتہ نظر سے نہیں بلکہ خود آگہی کے لئے ہے کہ مولویت مسلمان کو کس پسماندگی میں دھکیل دیتی ہے۔ کہ معاشرے کا ہر فرد، ہرحصہ تاریکیوں میںڈوب جاتا ہے۔ اور مزا یہ ہے کہ یہ سب اس مذہب کے نام پر ہوتا ہے جو دنیا میں نور کا گہوارہ ہے۔ -مآخوذ- |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے HANA RIAZ کا شکریہ ادا کیا | کنعان (06-08-11), ھارون اعظم (06-08-11), نیلم خان (06-08-11), ننھا بچہ (06-08-11), بلال الراعی (06-08-11), بزم خیال (07-08-11), رضی (06-08-11) |
| کمائي نے HANA RIAZ کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 06-08-11 | نیلم خان | بہترین تحریر | 100 |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,164
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,264
شکریہ: 25,210
16,396 مراسلہ میں 41,643 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہائے بیچارہ مولوی
لکھنے والا یکطرفہ سوچ کا حامل لگتا ہے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (06-08-11), سام (06-08-11) |
|
|
#6 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,264
شکریہ: 25,210
16,396 مراسلہ میں 41,643 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بابر سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک سارے حکمران مولوی تھے؟
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,651
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (06-08-11), راجہ اکرام (06-08-11) |
|
|
#12 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
برادر ابوشامل کا نکتہ ملاحظہ کیجیے؛
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مولوی کو لعن طعن آجکل فیشن بن گیا ہے
![]() ویسے اس بات سے کوئی یہ نا سمجھ لے کے میں مولوی ہوں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (06-08-11) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,192
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت دنوں بعد کوئی قابل بحث موضوع تو سامنے آیا
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, کوشش, کوششوں, کلام, کارنامے, پاک, قرآن, قران, لوگ, مکمل, مقابلہ, الزام, تعلیم, رفتار, زندگی, سوری, سال, علاج, عزائم, عسکری, عظیم, غلامی, صحت, صرف, صغیر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| برصغیر | عصمت | اپکے کالم | 1 | 15-05-11 10:54 AM |
| دورہ یورپ کی منسوخی، تبدیلی کی قیاس آرائیوں کو تقویت مل سکتی ہے | گلاب خان | خبریں | 0 | 26-09-10 04:13 AM |
| یورپ کے تاریک دور سے تاریک تر، بر صغیر کا دور مولویت | فاروق سرورخان | اپکے کالم | 34 | 15-12-09 09:45 AM |
| صغیر احمد | صغیر احمد | تعارف | 8 | 26-11-09 06:30 PM |
| بر صغیر کی آزادی | wajee | تاریخ کا آئینہ | 1 | 03-08-09 08:03 PM |