| دلچسپ اور عجیب کوئی بھی ایسی چیز جو دلچسپ اور عجیب ہو یہاں پوسٹ کریں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ابو عمار کا شکریہ ادا کیا | J.S (12-09-09), فیصل ناصر (12-09-09), پاکستانی لڑکی (14-09-09), محمدعدنان (13-09-09), ایس اے نقوی (12-09-09) |
|
|
#4 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: کراچی
مراسلات: 15
کمائي: 436
شکریہ: 37
12 مراسلہ میں 18 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیایہ کوئی بتاسکتاہےکہ دنیامیں زیادہ کوک چلتی ہےیاپیپسی میری معلومات کےمطابق کوک زیادہ چلتی ہےاورپیپسی پاکستان میں زیادہ چلتی ہےویسےمجھےبھی کوک زیادہ پسند ہے
|
|
|
|
| ابوالعرق کا شکریہ ادا کیا گیا | ابو عمار (13-09-09) |
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
دنیا میں کوکا کولا زیادہ چلتی ہے، تاہم مجھے کوئی بھی نہیںپسند، میں نے اکثر یہودی اشیا کا بائیکاٹ کر رکھا ہے،
شیمپو، شیونگ کریمز، سافٹ ڈرنکس، کاسمیٹکس وغیرہ وغیرہ، 21 صدی میں بھی میں ان اشیا کے بغیر جیتا ہوں |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,793
شکریہ: 1,293
980 مراسلہ میں 1,851 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر کوک اور پیپسی کا موازنہ کیا جائے تودنیا کی تقریبا 70 فیصد مارکیٹ پر کوک کا قبضہ ہے اور پیپسی کا حصہ 30 فیصد ہے۔
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
ماشاءاللہ، اللہ آپ کو اس میں استقامت بخشیں۔ میری بھی یہی کوشش ہوتی ہے۔ ویسے جب فلسطین کی جنگ میں میک ڈونلڈ اور کوک نے اسرائیل کی مالی امداد کی تھی تو اس وقت سے میں نے ان کو چھوڑ دیا ہے۔
|
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بہت اچھی بات ہے جناب یہ بتائیںکہ صابن اور ٹوتھ پیسٹ بھی استعمال کرتے ہیںکہ نہیں؟ والسلام طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
|
|
|
|
|
|
#12 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
مجھے اکثر ایسی ای میلز ملی جن میں مشہور یہودی کمپنیوں کے لوگوز اور بار کوڈز دیے گئے تھے اور ساتھ فلسطینی بچوں کی تصاوریر بھی جو اسرائیل کی دہشت گردی کا نشانہ بنے, ساتھ یہ تاکید کی گی ہے کہ ان اشیا کو مت استعمال کیا جاءے لیکن اگر ان اشیا کے لوگوز کے ساتھ ان کے متبادل مسلمان ممالک کی مصنوعات کے نام بھی لکھ دیے جاتے تو بہت آسانی رہتی، کہ یہودی کمپنیوں کی اشیا چھوڑ کر یہ اشیا استعمال کریں، لیکن مسلمان ملکوں میں کوئی بھی اس قابل نہیں کہ روز مرہ ضرورت کی اشیا بنا سکے |
|
|
|
|
| یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا گیا | ابو عمار (15-09-09) |