| دیس ہوئے پردیس دیس ہوئے پردیس |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 646
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
کمائي: 29,827
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں اپنے دوست کے ساتھ اپنے خیمے میں بیٹھا تھا اچانک جنگل میں زبردست آگ بھڑک اٹھی، ہم پریشان ہو گئے کہ یہ کیا ماجرا ہے…؟ فوراً اپنے ایک ساتھی کو روانہ کیا کہ پتہ کرو کہ کیا ہوا…؟ تھوڑی دیر بعد پتہ چلا کہ مقامی لوگ خوراک کے حصول کے لئے خرگوش کا شکار کر رہے ہیں اور خرگوش کو پکڑنے کے لئے انہوں نے سارے جنگل کو آگ لگا دی ہے کیونکہ اس طرح خرگوش جنگل سے ضرور نکل کر باہر آئے گا اور شکار ہو جائے گا۔ ہم یہاں کے لوگوں کی اس جہالت پر تو شروع میں حیران تھے لیکن بعد میں یہ حیرانی دور ہوتی گئی کیونکہ یہاں کا تو سارا نظام زندگی ہی ایسے ہی چلتا ہے۔ کھانے کے لئے گوشت، جنگلی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال ہوتا ہے لیکن ان لوگوں کو ہمارے ہاں کی طرح کھانے پکانے کی کوئی تمیز نہیں، یہاں کے کھانے نے تو ہماری پریشانی دوچند کر رکھی تھی کیونکہ یہاں جو کچھ بھی ہے اسے پانی میں ڈالو، ابالو اور نمک مرچ مل گیا تو ٹھیک وگرنہ ویسے ہی کھائو اور وقت گزارو۔ یہاں نہ روٹی کا تصور ہے نہ دیگر عمومی کھانوں کا… جنگلوں میں سے یہ لوگ ناریل قسم کا ایک پھل کھود کر نکالتے ہیں۔ اسے توڑتے ہیں پھر اس میں آٹے جیسا برادہ نکال کر اسے بھونتے ہیں پھر بھگو کر اس کی گولیاں بناتے ہیں اور پھر سالن نما شوربا بنا کر اس میں بھگو بھگو کر اسے کھاتے ہیں۔ اسے یہاں ''کساوہ'' کہا جاتا ہے۔ ہماری تو مجبوری تھی یہ سو کھانے پڑے۔ پھر صورتحال یہ تھی کہ سفر پر سفر اور وہ بھی جیپوں میں… اور بغیر سڑکوں کے… کیا حال ہوتا ہو گا آپ خود سوچ سکتے ہیں۔ چند روز میں سینکڑوں میل کے سفر کئے لیکن کسی جگہ کوئی سکول، ہسپتال یا کوئی اور ضرورت زندگی کی بنیادی چیز دیکھنے کو نہ ملی تو حیرانی اور بھی بڑھ گئی کہ ریفرنڈم کیسے منعقد ہو کر ''کامیاب'' بھی ہو گیا۔ ہم اس کے تجسس میں پڑ گئے اور پھر سارے معاملات کا گہرائی سے جائزہ لینا شروع کیا۔
جنوبی سوڈان میں اس وقت سلواکیر میرا دت کی حکمرانی ہے۔ سلواکیر سے پہلے یہاں کا صدر ڈاکٹر جان گرانگ تھا جو یہاں کی باغی تحریک سوڈان پیپلز لبریشن آرمی SPLA کا بانی بھی تھا۔ ان دونوں کا تعلق جنوبی سوڈان کے سب سے طاقتور قبیلے ''ڈنکا'' Dinka سے ہے۔ اول روز سے جنوبی سوڈان میں مکمل اثرورسوخ اور اختیارات اسی قبیلے کے پاس ہیں۔ سوڈان کے خلاف سازشوں کا آغاز تو اس وقت سے ہی ہو گیا تھا جب 1956ء میں سوڈان نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی لیکن مغرب اور امریکہ کی سازشوں کا اصل سلسلہ 1978ء میں اس وقت شروع ہوا جب جنوبی سوڈان کے علاقہ بنتیو سے تیل کے وسیع ذخائر کی دریافت ہوئی۔ تیل کے ذخائر اتنے زیادہ تھے کہ مغربی ممالک کی رال ٹپکنے لگی انہوں نے اسے ہتھیانے کے لئے طرح طرح کی ترکیبیں سوچنا شروع کیں اور پھر مغربی اداروں، این جی اوز اور مشنریز نے سوڈان کے پڑوسی ممالک یوگنڈا اور کینیا میں پڑائو ڈال کر باقاعدہ کام شروع کیا۔ یوگنڈا عیسائی ملک ہے یہاں سے باقاعدہ مشنری لوگوں نے جنوبی سوڈان کا رخ کیا اور وہاں کے لوگوں کو بہلانا پھسلانا شروع کیا۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ یوگنڈا اور سوڈان کی باقاعدہ سرحد ہی نہیں بلکہ اس خطے کے تمام ممالک کی سرحدیں صرف نقشوں پر ہیں اور عملاً ان کا کوئی وجود نہیں کیونکہ آبادی نہ ہونے کے برابر اور رقبے انتہائی وسیع ہیں۔ ایک صحرا، سطح مرتفع یا جنگل سینکڑوں کلو میٹر تک طویل ہے اور بیچ میں کوئی آبادی نہیں تو سرحد کا تعین ممکن ہی نہیں اور دوسرا ان ممالک کی آبادی یا تو صرف مخصوص علاقوں میں ہے باقی سب جنگلی مخلوق ہے جدھر آیا ادھر کو چل دیئے۔ سوڈان کے مختلف علاقوں کے سفر میں ہم نے اس سب کا خود بغور مشاہدہ کیا کہ آبادی اور تنازعہ نہ ہونے کی وجہ سے سرحدوں کا کوئی عملاً وجود ہی نہیں۔ اس لئے یوگنڈا اور کینیا سے لوگوں کو سوڈان میں داخلے کا کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ مشنریز کو اندازہ ہوا کہ یہاں کا سب سے طاقتور قبیلہ ''ڈنکا'' ہی ہے تھا اسے دام میں لایا جائے لیکن وہ تو عیسائی نہیں تھے کیونکہ یہاں عیسائیت کا تو نام و نشان بھی نہیں تھا لیکن اس کا حل یوں نکالا گیا کہ ان لوگوں کو چند چرچ تو بنا کر دیئے گئے لیکن مذہب چھوڑنے کی پابندی لگانے کی بجائے ان کو اپنے بچوں کے نام عیسائیوں کے ناموں پر رکھنے کی ترغیب دی گئی۔ پھر انہیں سوڈان کے خلاف ابھارا گیا۔ روپیہ پیسہ دیا گیا۔ اسلحہ کے انبار لگائے گئے اور ڈنکا قبیلہ اور دیگر جنگلی لوگوں کو معاوضہ دے دیکر کینیا اور یوگنڈا میں قائم جنگی تربیتی مراکز میں لایا گیا اور پھر میدان میں اتارنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ جس زمانے میں یہ سازش روبہ عمل تھی اس وقت سوڈان کی حکومت انتہائی کمزور تھی اور جنوبی علاقوں میں تو صورتحال مختلف تھی۔ سرحدوں کی حفاظت، آنے جانے والوں کی چیکنگ تو آج بھی ممکن نہیں اس وقت کہاں ہو سکتی تھی۔ سو یہ کھیل بڑی آسانی سے جاری رہا۔ اس سارے کھیل کا سب سے اہم کردار جنوبی سوڈان کا اولین باغی رہنما جان گرانگ تھا جس نے افریقہ کے کئی ممالک کے علاوہ امریکہ میں بھی تعلیم حاصل کی اور پھر اس کا ذہن وہیں سے سوڈان کے خلاف تیار ہوتا گیا۔ اس نے امریکہ سے واپسی پر فوج میں شمولیت اختیار کی اور ترقی کرتا ہوا لیفٹیننٹ کرنل بن گیا۔ اسے فوج کی تربیت پر مامور کیا گیا۔ فوج میں چونکہ جنوبی سوڈان کے بھی ہزاروں نوجوان شامل تھے۔ دوران تربیت جان گرانگ انہیں ''مخصوص سبق'' پڑھاتا تھا اور پھر 1983ء میں ''عدیس ابابا'' کے ایک معمولی معاہدے (جو خرطوم اور جنوبی سوڈان کے ایک لیڈر جوزف لاگو کے درمیان ہو رہا تھا) کی ناکامی کا بہانا بنا کر اچانک علم بغاوت بلند کر دیا۔ جان گرانگ نے اس سب سے پہلے جنوبی سوڈان سے تعلق رکھنے والے کئی فوجی افسران کو ساتھ ملایا ہوا تھا جن میں سے ایک موجودہ صدر سلواکیر میرا دت بھی تھا جو اس وقت کیپٹن تھا۔ جان گرانگ اور اس کے حامی افسران کی افواج جنوبی سوڈان کے علاقوں ''بور''، پاشیدا اور ایود میں متعین تھیں انہوں نے وہیں سے باغیانہ کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا جن کی بیخ کنی کے لئے خرطوم کی افواج نے پیش قدمی شروع کی۔ سوڈان کی افواج تو تنہا تھیں جبکہ جان گرانگ کی تنظیم سوڈان پیپلز لبریشن آرمی SPLA کو دنیا بھر سے حمایت مل رہی تھی حتیٰ کہ لیبیا کا معمر قذافی بھی اس کا حامی تھا سو یہاں جنگ طویل سے طویل تر ہوتی چلی گئی۔ یوگنڈا کینیا اور ایتھوپیا سے تو باغیوں کو ہر طرح کی مدد مل رہی تھی ان کے مظالم کے خلاف جنوبی سوڈان کے مسلمان بھی اٹھ کھڑے ہوئے کیونکہ وہ مسلمانوں کو بھی نہیں بخشتے تھے۔ سو قتل و غارت گری بڑھتی گئی۔ اس عرصے میں SPLA اس قدر طاقتور ہو گئی۔ اس کے پاس ٹینک اور ہوائی جہاز تک آ گئے اور یوں یہ دنیا کی واحد ایسی باغی تحریک بن گئی جس کے پاس فضائیہ بھی تھی۔ سوڈان کا المیہ دیگر مسلم ممالک کی طرح یہ رہا کہ جس طرح دوسرے مسلم ممالک کسی بھی خطے میں جاری مسلمانوں کے مسائل و پریشانیوں اور مصیبتوں پر کبھی زبان نہیں کھولتے اسی طرح انہوں نے اس مسئلے پر بھی زبان بند رکھی اور سوڈان کو تن تنہا ساری دنیا کے سامنے ڈال دیا گیا اور اب ایک طرف سوڈان تھا اور دوسری طرف ساری غیر مسلم دنیا کی حمایت سے کھڑی باغی تحریک… میڈیا تو کئی دہائیوں سے مغربی ہاتھوں میں ہے سو انہوں نے بھی قتل عام اور جلائو گھیرائو کا خوب واویلا کیا اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دنیا بھر میں اس حوالے سے ایک ہی رٹ چلائی جاتی ہے کہ یہاں 1983ء سے 2005ء تک 20 لاکھ انسان قتل ہوئے اور قتل ہونے والے تقریباً سبھی جنوبی سوڈان کے رہائشی تھے جنہیں خرطوم کی افواج قتل کر رہی تھیں ہم جنوبی سوڈان کے کئی علاقوں میں گھوم چکے تھے اور اس بات کی اصل حقیقت جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ 20 لاکھ انسان یعنی تقریباً سالانہ ایک لاکھ، ماہانہ ساڑھے 8 ہزار اور روزانہ کے حساب سے 283 سے زائد۔ انسانوں کا قتل کوئی معمولی بات تو نہیں کہ جسے اتنا عرصہ دنیا برداشت کرتی۔ اس کا تھوڑا سا موازنہ مقبوضہ کشمیر سے کریں جہاں گزشتہ 22 سال سے 10 لاکھ مسلم افواج جدید ترین کیل کانٹے سے لیس قتل عام میں مصروف ہیں لیکن 65 لاکھ آبادی رکھنے والی مقبوضہ وادی میں سے اب تک ایک لاکھ کشمیریوں کا شکار کر سکی ہیں جبکہ سوڈان کی کل فوج مقبوضہ کشمیر میں متعین بھارتی فوج کا عشر عشیر بھی نہیں تھی اور یہاں اب بھی سڑکوں اور بنیادی سہولیات کا نام و نشان نہیں تو ایسی صورتحال میں 20 لاکھ انسان کہاں قتل ہوئے۔ کیسے قتل ہو گئے…؟ یہ سب ایسا جھوٹ تھا جو آج بھی چل رہا ہے اور دنیا ''ہاں میں ہاں'' ملائے جا رہی ہے اور اس کی حقیقت پر غور کرنے کی کوشش کوئی بھی نہیں کرتا۔ دوسری طرف مغرب اور امریکہ جنوبی سوڈان کو عیسائی مشہور کرنا چاہتا تھا جس کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا لیکن اس کی حقیقت تو ساری دنیا مانتی ہے کہ جنوبی سوڈان میں سوائے آج کے حکمران ''ڈنکا'' قبیلے کے کہیں بھی عیسائیت کا کوئی وجود نہیں اور ''ڈنکا'' قبیلہ کے بھی لگ بھگ صرف 30 فیصد لوگ عیسائی ہیں اس کا ثبوت جنوبی سوڈان میںموجود چرچ بھی ہیں۔ مغربی اداروں اور مشنریز نے آج کے دارالحکومت ''جوبا'' میں ایک آدھ چرچ بنایا اور ''ڈنکا'' قبیلے کے علاقے جسے بحرالغزل کہا جاتا ہے یہیں چند چرچ تعمیر کئے لیکن کسی کو چرچوں کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ آج بھی یہاں چرچ سوائے چند مقامات کے کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ یہاں رہنے والے سبھی لوگ ہزاروں سال پہلے کی جنگلی مخلوق ہے جنہیں کسی مذہب کا کوئی علم نہیں۔ وہ بدروحوں، آگ، پتھر، بارش، جنات اور نجانے کس کس کی پوجا کرتے ہیں۔ باقی دنیا انہیں روح پرست کہتی ہے لیکن انہیں روح پرستی کا بھی کوئی علم نہیں۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے بھی کر سکتے ہیں کہ پورے جنوبی سوڈان میں اس وقت بھی صرف چند سکول تعمیر کئے جا سکے ہیں اور وہاں بھی پڑھنے والا کوئی نظر نہیں آتا جبکہ اقوام متحدہ اور مغربی این جی اوز اور مشنریز جگہ جگہ دندناتی پھرتی ہیں۔ بہرحال جنگ چلتی رہی… دنیا پراپیگنڈہ کرتی رہی اور سوڈان کی معیشت ڈانواں ڈول ہوتی رہی حتیٰ کہ سوڈان کے ایک اور علاقے دارفور میں بھی بغاوت شروع ہو گئی۔ دارفور میں لڑنے والے مسلمان ہی ہیں لیکن وہ اپنے آپ کو غیر عرب سمجھتے ہیں۔ انہیں بنیادی طور پر بھڑکانے میں لیبیا کے معمر قذافی کا بھی ہاتھ ہے جو عرب دنیا کا واحد لیڈر بننے کے لئے ہر طرح کے کھیل کھیل رہا تھا اور اس کی کوشش تھی کہ اس کی شرارتوں سے تنگ آ کر سوڈان اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دے اور پھر جب براعظم افریقہ کا یہ ملک اس کے سامنے سرنگوں ہو جائے گا تو اس کا افریقہ پر بادشاہت کا خواب پورا ہو سکے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا کیونکہ عمرالبشیر نے اس کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا تھا… دوسری طرف ملک کی صورتحال اتنی پتلی ہوئی اور سوڈان کو امریکہ نے دہشت گرد قرار دیکر اقوام متحدہ کے ذریعے پابندیاں لگوا دیں اور پھر 1998ء میں وہاں بل کلنٹن نے میزائلوں سے حملہ بھی کر دیا۔ سوڈان نے تنہا رہ کر 22 سال تک ساری دنیا کا مقابلہ کیا حتیٰ کہ کرتے کرتے 2005ء کا زمانہ آ گیا… بشکریہ ہفت روزہ ۔۔۔ جرار والسلام ۔۔۔ علی اوڈ راجپوت ali oadrajput (جاری ہے) Last edited by ALI-OAD; 11-06-11 at 08:53 PM. |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
کمائي: 29,827
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
2005ءکو تھک ہار کر سوڈان کے صدر عمر حسن البشیرنے سوڈان پیپلز لبریشن آرمی کے سربراہ جان گرانگ سے مابین پڑوسی ملک یوگنڈا میں مذاکرات کئے اور چھ سال بعد جنوبی سوڈان کے حوالے سے ریفرنڈم کے فیصلے پر اتفاق کیا۔ اس سے قبل عمر حسن البشیر نے جان گرانگ اور اس کے ساتھیوں کو راضی کرنے کے لئے ملک کا نائب صدر تک بنا دیا تھا لیکن وہ باز نہیں آ رہے تھے۔ سو عمر البشیر نے ان کا آخری مطالبہ بھی مان ہی لیا۔
معاہدہ ہوتے ہی جان گرانگ نے جنوبی سوڈان کا عملاً سارا کنٹرول سنبھال لیا اور پھر خرطوم کی فوجیں جنوبی سوڈان سے مکمل طور پر نکل گئیں۔ خرطوم کی افواج کے ملک چھوڑنے کے بعد چونکہ سارا کنٹرول جان گرانگ، اس کی تنظیم اور اس کے قبیلے کے پاس تھا اس لئے انہوں نے اب اگلے مرحلے کی تیاری شروع کی کہ وہ اس خطے کو سوڈان سے مکمل طور پر علیحدہ کر لیں لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان کے حامی تو بکھرے ہوئے تھے اور آبادی کا نہ تو کوئی حساب تھا اور نہ کوئی ترتیب۔ یہاں کے لوگوں کے پاس نہ شناختی کارڈ ہیں اور نہ کوئی دوسری شناختی دستاویزات، کیونکہ یہاں تو عمومی دنیا کی طرح زندگی کا کوئی تصور ہی نہیں۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ جنوبی سوڈان کی آبادی 70 لاکھ سے زائد ہے یہ بھی سراسر جھوٹ ہے کیونکہ یہاں آج تک کبھی تاریخ میں مردم شماری نہیں ہوئی اور نہ ہی یہ ممکن ہے۔ جان گرانگ نے ان حالات میں ریفرنڈم کو کامیاب بنانے کے لئے زبردست حکمت عملی تشکیل دی۔ اس نے صرف ان چند علاقوں میں جہاں آبادی کسی حد تک اجتماعی طور پر موجود تھی، لوگوں کے نام لکھوانا شروع کئے اور فہرستیں تیار ہونا شروع ہوئیں۔ سب سے زیادہ نام اور فہرستیں حکمران ڈنکا قبیلے کی تھیں۔ جان گرانگ ایک ”کامیاب“ ریفرنڈم کی تیاریوں میں تھا اور ”آزاد“ ملک پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہا تھا کہ 30 جولائی 2005ءکو وہ جوبا آتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔ وہ اپنے طویل مدت کے دوست اور اہم ترین اتحادی یوگنڈا کے صدر یوویری موسوینی سے اس کے ملک میں مل کر آ رہا تھا۔ وہ اس وقت یوگنڈا کے صدر کے ہی ہیلی کاپٹر میں سوار تھا، جب اس کا ہیلی کاپٹر تباہ ہو گیا۔ اگرچہ وہ ملک کا نائب صدر تھا لیکن ہمیشہ کی طرح وہ اس مرتبہ بھی صدر حسن البشیر کو یہ تک بتا کر نہیں گیا تھا کہ وہ یوگنڈا جا رہا ہے کیونکہ وہ اول روز سے اپنے آپ کو عمر حسن البشیر سے بہتر سمجھتا تھا۔ اس کے ساتھ مرنے والے اس کے 6 اہم ترین ساتھی بھی تھے۔ اس کی ہلاکت کے بعد سوڈان میں نسلی فسادات ہوئے جن میں کم از کم 86 لوگ مارے گئے۔ بھاری اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ اس کی ہلاکت کے بعد اس کے اہم ترین ساتھی اور موجودہ صدر سلواکیر لیرادت نے ملک کی کمان سنبھال لی اور سلسلہ آگے بڑھانا شروع کیا۔ سلواکیر نے بھی وہی پالیسی جاری رکھی۔ سوڈان پہنچنے سے پہلے ہم حیران تھے کہ 99.8 فیصد لوگ کس طرح ”آزادی“ کے حامی بن گئے کیونکہ یہ تو بالکل نہ سمجھ آنے والی بات تھی لیکن سوڈان پہنچ کر ہمیں پتہ چلا کہ چھ سال کے دوران سوڈان پیپلز لبریشن آرمی ریفرنڈم کی تیاری کرتی رہی ہے اور ریفرنڈم کے لئے صرف ان لوگوں کے نام لکھے گئے جن سے پہلے یہ ضمانت حاصل کر لی گئی تھی کہ وہ ہر صورت علیحدگی کے حق میں ووٹ دیں گے اور اگر کسی نے اس سے انکار کیا تو اس کا نام لکھا ہی نہ گیا۔ سارے خطے میں چونکہ حکومت اور اختیار SPLA کا تھا اس لئے انہوں نے جو چاہا وہی کیا۔ دوسرے یہ بات بھی تھی کہ ریفرنڈم تو صرف ان چند علاقوں میں ہونا تھا جہاں کچھ اجتماعی آبادیاں تھیں وگرنہ عام لوگوں کو ریفرنڈم کا سرے سے علم ہی نہیں تھا کہ یہ کیا ”بلا“ ہوتی ہے۔ آپ اس حقیقت کا یوں بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ریفرنڈم کے حوالے سے دنیا بھر میں جو بھی تصاویر، ویڈیوز یا رپورٹس نشر ہوئیں وہ صرف اور صرف دارالحکومت ”جوبا“ کی تھیں۔ جن لوگوں کو ریفرنڈم کی ”کامیابی“ کے بعد اور پہلے جشن مناتے دکھایا گیا وہ بھی صرف اور صرف جوبا کے محدود علاقے میں ہی تھے اور ان کی تعداد سینکڑوں میں بھی نہیں تھی۔ چونکہ سارے ریفرنڈم کا انعقاد بھی سوڈان پیپلز لبریشن آرمی نے خود ہی کیا تھا اس لئے انہوں نے جو آخر تک وہی کیا جو انہوں نے چاہا۔ پھر آخر میں رپورٹ بھی خود ہی جاری کر دی۔ خرطوم حکومت نے دھاندلی کا شور مچایا اور ثبوت دیئے جو آج بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں لیکن امریکی صدر باراک اوبامہ نے ایسی دھمکیاں جاری کیں کہ خرطوم حکومت کو خاموش رہنا پڑا۔ ریفرنڈم کے وقت اوبامہ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد سوڈان کا نام عالمی دہشت گرد ممالک کی فہرست سے نکالا جائے گا یعنی ان کا مشن کامیاب ہو رہا تھا۔ ساتھ ہی اوبامہ نے ”سخت نتائج“ کی بھی دھمکی جاری کر رکھی تھی۔ سوڈان کے اس عظیم سانحے پر خرطوم سمیت سارے ملک میں خاموشی تھی اور کہیں سے بھی کوئی مخالف آواز بلند نہ ہوئی اور نہ ملک کا اتنا بڑا حصہ علیحدہ ہونے کی مخالفت ہوئی ہم اس پر بھی حیران تھے کہ آخر عوام کیوں سو گئے اور سبھی کیوں خاموش ہیں۔ اس کا جواب ہمیں خرطوم گھومتے ہوئے مل گیا تھا، جب ہم نے وہاں عظیم الشان شاہرائیں، بلند و بالا عمارتیں، خوبصورت اور جدید پل، اعلیٰ ترین شاپنگ پلازے اور کاروں کی قطاریں دیکھیں۔ ہم نے چند سال پہلے کے خرطوم کی تصاویر دیکھیں اور آج کا خرطوم گھومے تو حیران ہی رہ گئے۔ مغرب اور امریکہ نے سوڈان کے عوام اور حکومت کو ملک کا اتنا بڑا حصہ علیحدہ ہونے پر خاموش رکھنے کے لئے خرطوم میں بے پناہ پیسہ بہایا۔ سوڈان جیسی عمارتیں خصوصاً شاپنگ پلازے اور وسیع و عریض اور جدید ترین شاپنگ مال آپ کو پاکستان کے کسی شہر میں نہیں ملیں گے۔ ہمارے ہاں کے جدید ترین ”میکرو“ اور ”میٹرو“ مال بھی ان کے سامنے ”بونے ہیں“۔ حالانکہ سارے سوڈان کی آبادی ساڑھے 4 کروڑ بیان کی جاتی ہے۔ اتنی ترقی کی وجہ یہ تھی کہ خرطوم کی افواج جنوبی سوڈان سے واپس آئیں تو حکومت و عوام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ جنوبی سوڈان تو ”نری مصیبت“ تھی جنوبی سوڈان کی جنگ کی وجہ سے ان کی معیشت تباہ حال تھی اور اب انہوں نے جنگ بندی کر کے فوج واپس بلائی ہے تو وہ پیسہ اب ملک کی ترقی پر خرچ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ سے ہر طرف ترقی ہی ترقی ہے۔ یہ بات سوڈان کے عوام اور مقتدر طبقے میں ایسی راسخ ہوئی کہ وہ مکمل خاموش رہنے میں ہی اپنی بہتری و بقاءسمجھتے ہیں۔ مغرب کی اور امریکہ کی ایک کے بعد دوسری چال کامیاب ہو چکی تھی۔ جنوبی سوڈان 9 جولائی کو دنیا کے نقشے پر ایک نئے ملک کی صورت میں سامنے آئے گا لیکن یہ ملک کیسے چل پائے گا یہ اب بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اقوام متحدہ نے جگہ جگہ مراکز بنا کر تعمیراتی و ترقیاتی کام تو شروع کر رکھے ہیں لیکن اس ”بیرونی آکسیجن“ پر ان کا گزارہ کب تک ہو گا یہ بات ضرور قابل غور ہے۔ اس کے علاوہ کچھ دیگر ایسے مسائل ہیں کہ جو ہم نے دیکھے۔ ایک تو یہ کہ جنوبی سوڈان کہیں سے بھی سمندر کے ساتھ نہیں لگتا، یہ اس کے لئے سب سے بڑی مصیبت ہو گی۔ اس وقت تیل و دیگر تعمیراتی و ضروری سامان کی سپلائی دریائے نیل کے ذریعے بحری جہازوں کی مدد سے ہوتی ہے۔ سوڈان نے اگر اس کی اجازت نہ دی تو پھر کیا ہو گا....؟ ملک پر اس وقت ”ڈنکا قبیلہ“ حکمران ہے۔ شروع دن سے سارا کچھ انہی کے ہاتھ میں ہے وہ کسی دوسرے کو اپنے ساتھ شریک اقتدار و اختیار نہیں کر رہے اور نہ ان کا کوئی ایسا ارادہ ہے اس سے تو یقینی طور پر بہت بڑی خانہ جنگی ہوتی نظر آ رہی ہے جس کا کوئی اختتام نہیں ہو گا کیونکہ دیگر قبائل کو اب تک صرف سوڈان سے آزادی کے نام پر ساتھ ملایا گیا تھا آزادی کے بعد تو فضا بالکل بدل کر رہ جائے گی۔ دارالحکومت ”جوبا“ میں اس وقت بھاری اکثریت ڈنکا قبیلہ کی آباد کی جارہی ہے۔ دوسرا بڑا اور ”ترقی یافتہ“ منطقہ شمالی بحرالغزال ہے۔ یہاں کا ایک ”شہر“ اویل ہے جس کا علاقہ واﺅ ہے۔ یہاں سب سے عظیم اور عالیٰ شان عمارت چرچ کی ہے جو برسوں پہلے مغربی عیسائی مشنریز نے تعمیر کی تھی۔ یہاں بھی اقوام متحدہ کے جہازوں اور دیگر این جی اوز کے جہازوں اور گاڑیوں کی قطاریں دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن یہاں بھی کوئی پختہ سڑک نہیں۔ یہ سارے علاقے حکمران ڈنکا قبیلے کے پاس ہیں۔ علاقہ یی رول میں بھی ایئرپورٹ ہے اور ایک ہسپتال بنایا جا رہا ہے۔ پورے جنوبی سوڈان میں مجموعی طور پر ملاکر چھوٹے بڑے اب بھی بمشکل پانچ ہسپتال ہونگے اور انہیں بھی ہسپتال تکلفاً ہی کہنا پڑتا ہے۔ 2005ءسے پہلے یہاں خرطوم کی جانب سے پورے خطے کے لئے ڈاکٹروں کی صرف دو پوسٹیں تھیں لیکن یہ ڈاکٹر بھی ہماری تحقیق کے مطابق ڈیوٹی پر کبھی نہیں آئے تھے کیونکہ وہاں علاج کرانے والا کوئی ہوتا ہی نہیں تھا۔ یہاں لوگ اپنے طور پر ہی اپنے کسی ”سیانے“ سے کوئی جنگلی جڑی بوٹیوں کی دوائی لے کر علاج کرتے تھے اور آج بھی وہی کچھ کرتے ہیں۔ جنوبی سوڈان میں حکومت اس لئے بھی چلانا انتہائی مشکل ہو گا کہ یہاں ہر قبیلے اور ہر قوم اور ہر علاقے کی اپنی اپنی الگ الگ زبان ہے اور سارے خطے میں کوئی ایک مشترکہ یعنی باہمی رابطے کی زبان موجود ہی نہیں۔ اس حوالے سے جو پریشانی سامنے آ رہی ہے اس کا حل کسی کے پاس نہیںہے۔ جنوبی سوڈان میں بہت گھنے ساگوان اور مہاگنی کی لکڑی کے جنگلات ہیں۔ جوبا سے ہم سفر کر کے یوگنڈا اور کینیا کے علاقوں کی طرف گئے تو ہماری حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ ان دونوں ممالک سے کچے راستوں پر بھاری ڈمپر ٹرکوں کے ذریعے ساگوان اور مہاگنی کے جنگلات کاٹ کاٹ کر یورپ اور امریکہ لے جائے جا رہے ہیں۔ ساگوان اور مہاگنی کی لکڑی دنیا میں قیمتی ترین لکڑی شمار ہوتی ہے اور یورپ و امریکہ جنوبی سوڈان کی علیحدگی سے پہلے ہی اس کے ”انڈے“ کھانا شروع ہو گئے ہیں۔ جنوبی سوڈان کے وسائل کی لوٹ مار کو روکنے والا کوئی بھی نہیں کیونکہ یوگنڈا اور کینیا کو روکا ہی نہیں جا سکتا اسی لئے کہ یہیں سے تو ”آزادی“ کی ساری تحریک چلی تھی اور اب بھی سوڈان پیپلز لبریشن آرمی کے مراکز وہی ہیں اور دوسرا اسی کو روکنے کے لئے کوئی فورس یا حکومت بھی موجود نہیں۔ ہمارا ملک (پاکستان)جنوبی سوڈان کے مقابلے میں انتہائی ترقی یافتہ اور جدید ترین ہے لیکن یہاں کے جنگلات کو بلاخوف و خطر جس طرح جنگل چور کاٹ کاٹ لے جاتے ہیں اس کا تقابل جنوبی سوڈان سے تو ممکن ہی نہیں۔ لکڑی کے علاوہ مغرب کی سب سے زیادہ دلچسپی سوڈان کے تیل میں ہے اور وہ ”ایبی“ کا علاقہ جہاں تیل کے ذخائر ہیں اور جہاں سے پائپ لائنوں کے ذریعے خرطوم حکومت تیل ساحل پر لے جا کر فروخت کرتی ہے اب جنوبی سوڈان کو دینے کے لئے کام جاری ہے۔ اقوام متحدہ سب سے زیادہ ”ایبی“ میں ہی متحرک ہے۔ ایبی میں ریفرنڈم الگ سے کروایا جانا تھا کہ وہ جنوب کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں یا شمال کے ساتھ۔ لیکن ابھی اس کا تنازعہ باقی ہے اور لگ یہی رہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اس علاقے کا مشترکہ کنٹرول اقوام متحدہ سنبھالے گی اور پھر وہ جو چاہیں گے وہی کریں گے۔ علیحدگی کے بعد یقینی طور پر مغربی کمپنیاں خرطوم سے اپنا کاروبار سمیٹ کر پیسہ نکال لیں گی اور تیل بھی چھن جائے گا تو سوڈان کے مزید حصے بخرے ہو جائیں گے۔ عالم کفر کی تین دہائیوں پر پھیلی سازش بظاہر کامیابی کی طرف بڑھ رہی ہے لیکن ان سب کو اب خوف صرف جہاد کے میدانوں میں شکست کا ہے کہ اس کے بعد وہ کس طرح دیگر ملکوں پر کنٹرول قائم رکھ سکیں گے۔مغرب کی ان سازشوں کا قلع قمع افغانستان میں ہو چکا ہے۔ اب مسلم ممالک کے پاس اپنے بچاﺅ کیلئے سوا جہاد کے کوئی راستہ نہیں۔ (ختم شد) بشکریہ ہفت روزہ جرار والسلام علی اوڈ راجپوت ali oadrajput Last edited by ALI-OAD; 19-06-11 at 11:04 AM. |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,139
شکریہ: 52,552
11,191 مراسلہ میں 35,291 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اب تک کی مزے دار تحریر پڑھ کر تو یہی تاثر قائم ہوا کہ سابقہ متحدہ سوڈان حکومت نے بھی اس علاقے کو ترقی سو کوسوں دُور رکھنے کی بھرپور کوشش کی تھی،۔
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
سنا ہے اسی علاقے میں ساری قدرتی ذخائر ہیں اور اس کو ایک سازش کے تحت علیحدہ کیا گیا ہے
__________________
اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,217
کمائي: 17,988
شکریہ: 2,337
915 مراسلہ میں 2,335 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ائرلینڈ میں میڈیکل کےشعبہ خصوصاًمیڈیسن اورگائنی میں کثیرتعدادمیں سوڈانی کام کررہےہیں۔2003مین ایک بارکسی کنسلٹینٹ کی بیگم سےاس مسئلہ پربات ہوئی تومیں نےسوال کیاکہ وہ عیسائی ہیں آپکےساتھ نہیں رہناچاہتےتوlet them goتوسوڈانی خاتون کاکہناتھاہماری تمام ترمعدنیات وہیں پرہیں ہم اسےنہیں چھوڑسکتے۔
بہت معلوماتی تحریرہے۔اگلیقسط کابیتابی سےانتظاررہےگا |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,694
کمائي: 29,827
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
Post no...2 ma mazmon ka dosra hissa b update kar dia aaj
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,651
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ظلم پر کوئی ملک قائم نہیں رہ سکتا ہے۔ محترم صرف ادھر ادھر گھوم کر ہی آ گئے یا پھر ڈارفر کا علاقہ بھی دیکھنے گئے تھے؟
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | اویسی (20-06-11) |
![]() |
| Tags |
| کمال, پاکستان, پسند, قدم, مکمل, ممکن, معلوم, آبادی, آج, اللہ, انسان, امتحان, امریکہ, اسلام, بہترین, تلاش, جلد, حال, دبئی, روزہ, رات, زندگی, سفر, علی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سوڈان میں بھی حکومت مخالف مظاہرے | ALI-OAD | خبریں | 0 | 30-01-11 08:50 PM |
| ایڈوب سیکھوں | wajee | سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست | 8 | 27-09-10 04:35 PM |
| یہ میں بھی کیا ھوں اسے بھول کر بھی اسی کا رھا | The Great | احمد فراز | 0 | 28-08-09 08:57 PM |
| یہ میں بھی کیا ھوں اسے بھول کر بھی اسی کا رھا | The Great | شعر و شاعری | 0 | 25-08-09 01:39 PM |
| ٍفاصلے ایسے بھی ھوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا | The Great | شعر و شاعری | 0 | 14-08-09 09:28 PM |