واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان > دیس ہوئے پردیس



دیس ہوئے پردیس دیس ہوئے پردیس


شکوہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-10-10, 02:09 PM   #1
شکوہ
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 15-10-10, 02:09 PM

السلام علیکم،

کہتے ہیں کہ تصویر سے باہر نکل کر تصویر کو ٹھیک طرح سے دیکھ سکتے ہیں۔ بندہ جب تک خود مسئلے کا حصہ ہو، اس وقت تک مسئلے کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتا۔ یہ بات پوری طرح ٹھیک ہے یا نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن اسی مفروضے سے ملتے جلتے کچھ مشاہدات آپ کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں۔ ویسے جہاں تک میں نے دیکھا، کچھ حد تک مجھے اس مفروضے میں سچائی نظر آئی۔

میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ 2006ء میں جب پاکستان سے متحدہ عرب امارات آیا تو بہت ساری ایسی باتیں معلوم ہوگئیں۔حیرت اس بات کی ہورہی تھی کہ یہ ساری باتیں پہلے میری نظروں سے کیوں اوجھل تھیں۔ اس بات کی گتھی اب تک سلجھا نہیں پایا کہ ایسا کیوں کر ہوتا ہے؟ جو باتیں پاکستان میں میرے مشاہدے میں تھیں، لیکن میں نے ان کو اہمیت نہیں دی، ان باتوں‌کی اہمیت پاکستان سے باہر آکر کیوں محسوس ہونے لگی ہے؟

میں اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتا ہوں۔ زبان اور علاقے کی تقسیم در تقسیم میں کبھی نہیں پڑتا۔ کوشش کرتا ہوں کہ دوستوں میں گھل مل کے رہوں، اور ہم اپنی پہچان پٹھان، پنجابی، سندھی اور بلوچی کے طور پر نہ کریں، بلکہ مسلمان اور پاکستانی کے طور پر کریں۔ نیز اردو صاف بولنے کی وجہ سے اکثر لوگ مجھے کراچی کا سمجھتے ہیں۔ وہ تو جب بعد میں بات آگے بڑھتی ہے اور میں اپنا تعلق خیبر پختونخواہ سے بتاتاہوں تو ایک ذومعنی مسکراہٹ کا سامنا ہوتا ہے، “اچھا! تو آپ ہمارے پٹھان بھائی ہیں!!!” (زور لفظ پٹھان پر)۔

مجھے پاکستان میں کبھی اس بات کا شدت سے احساس نہیں ہوا کہ میری شناخت میری مادری زبان سے کی جارہی ہے، حالانکہ میں اپنے علاقے سے باہر رہا ہوں، میرے بہت سارے دوست کراچی اور پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ تو پھر یو اے ای میں ہی کیوں مجھے یہ بات محسوس ہورہی ہے؟ اور اس بات کا احساس دلانے والا کوئی اور نہیں، اپنے پاکستانی ہیں۔ شروع شروع میں میرے سامنے پٹھانوں کی 'عزت افزائی' کی جاتی۔ میں کسی بحث میں نہ پڑنے کی خاطر بات کو سنی ان سنی کردیتا۔ بات عموماً کسی پختون بھائی کی کسی حرکت سے شروع ہوتی۔ مثلاً، ایک بار اپنے ایک جاننے والے کے ساتھ جارہا تھا۔ سامنے شلوار قمیض میں ملبوس دو افراد جارہے تھے۔ وہ لوگ فٹ پاتھ کو چھوڑ کر سڑک پر جارہے تھے۔ میرا دوست کہنے لگا، 'دیکھو، جاہل پٹھان جارہے ہیں۔ فٹ پاتھ کس لئے بنے ہیں؟؟ جو یہ لوگ اپنی جہالت دکھا رہے ہیں؟' مزے کی بات یہ ہے کہ ہم دونوں خود روزانہ اسی راستے پر فٹ پاتھ چھوڑ کر سڑک پر چل کر جاتے۔  

2007ء میں لال مسجد کا واقعہ ہوا۔ جامعہ حفصہ میں زیرِ تعلیم بچیوں کی اکثریت کا تعلق خیبر پختونخواہ سے تھا۔ ٹی وی پر ان والدین کو دکھایا جارہا تھا، جو اپنے بچوں کی تلاش میں لال مسجد سے کچھ فاصلے پر انتظار کر رہے تھے، کچھ رو رہے تھے، کچھ کے چہرے فکر و یاس کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ میرا دوست ان کو روتے ہوئے دیکھ کر ہنسنے لگا اور کہا، ' ان لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیئے۔' اب یہ بات واضح نہیں کہ میرے دوست کی نفرت کی وجہ وہ شلوار قمیض تھی، جو ان لوگوں نے پہن رکھی تھی، یا لال مسجد کے واقعات کا ردعمل۔

اس کے علاوہ بھی بہت سارے مواقع پر پٹھانوں کو اپنی نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میں ایسے موقع پر خاموش رہنا بہتر سمجھتا ہوں۔ ایک بار تو حد ہوگئی۔ دوپہر کے کھانے پر ہم تین پاکستانی اور ایک انڈین ایک ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ پاکستان کے حالات پر بات ہورہی تھی۔ اپنے ایک کولیگ، جن کا تعلق حیدرآباد سے ہے، کہنے لگے، 'جب تک ایک بھی پٹھان زندہ ہے، پاکستان میں امن نہیں آسکتا۔ ان لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہیئے جو کراچی کے لوگ کرتے ہیں۔ ' یہ باتیں سن کر ہمارے انڈین کولیگ نے میری طرف دیکھا، جیسے میری طرف سے جوابی حملے کا منتظر ہو۔ میں نے اگنور کرنا ہی مناسب سمجھا۔

اب ایسا بھی نہیں، کہ باقی لوگ مل کر پٹھانوں کی تضحیک کرتے ہیں، اور پٹھان سارے کے سارے شریف ہیں۔ میں خود اپنے پختون بھائیوں کی غلطیاں دیکھتا ہوں۔ تعلیم کی کمی ایسے حرکات کی بہت بڑی وجہ ہے۔ یہاں پر زیادہ تر ٹیکسی ڈرائیور پختون ہیں۔ جن کی احمقانہ حرکتیں زبان زد عام ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان کی اگلی نسل بھی ٹیکسی ڈرائیور بن کر آرہی ہے۔ میں ان لوگوں کی حرکات کو کسی بھی طرح درست نہیں سمجھتا۔ لیکن اس بات کو بھی غلط سمجھتا ہوں کہ چند افراد کی حرکتوں کی وجہ سے پوری کمیونٹی کو برا بھلا کہا جائے۔ ملک میں بندہ کیسے بھی رہے، کم از کم ملک سے باہر تو اپنے ملک کی عزت کا خیال رکھے۔ یہ بات ہر فرد کے لئے ہے، چاہے وہ کسی بھی کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہو۔

اللٰہ تعالیٰ ہمیں اتحاد و اتفاق نصیب فرمائے۔ آمین
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 284
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (15-10-10), مرزا عامر (15-10-10), wajee (15-10-10), حیدر (15-10-10)
پرانا 15-10-10, 04:17 PM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,139
شکریہ: 52,552
11,191 مراسلہ میں 35,291 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یعنی معاملہ ایس ایم ایس سے آگے "دلوں" میں موجود ہے اور لوگ محض مزے لینے کے لیے نہیں بلکہ دل کا عناد نکالنے کے لیے اس میدان کار میں بہت کُچھ کر رہے ہیں۔ مجھے دُکھ ہوا یہ جان کر کہ آپ کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے اور مزید دُکھ اس بات پر ہوا کہ ہم نا معقولوں کو ملک سے باہر جا کر بھی عقل نہ آئی۔

باوجود اس کے کہ میں بلوچ ہوں (اور بلوچستان میں آغاز پاکستان سے ہی بغاوت بھی جاری ہے جس کا سب سے بڑا نشانہ پنجاب ہے) اور بلوچستان سے باہر۔۔پنجاب میں رہتا ہوں۔۔۔مجھے اس سلسلے میں عناد یا تعصب اس کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہم کو بلوچستان چھوڑے عرصہ بیت گیا۔ میری پیدائش پنجاب میں ہوئی اور تو اور مجھے اپنی مادری زبان تک نہیں آتی۔ لیکن پنجاب میں ہماری شناخت بلوچ کی ہی ہے۔ اتفاق سے میں بھی اُردو اور پنجابی کسی اہل زبان کی طرح ہی بولتا ہوں۔
تاہم ایک واقعہ ہوا تھا کہ جب ہماری لڑائی ہمارے محلے کی ایک طاقتور کمیونٹی سے ہو گئی تھی۔ہمارے پورے محلے میں صرف ہمارا گھر بلوچ تھا باقی سب پنجابی یا لوکل تھے۔ اگلوں نے شاید اسی زعم میں ہمارے گھر آ کر مجھ کو دھمکیاں دیں کہ ہم نے پہلے بھی بلوچوں کی ٹانگیں توڑی ہیں اور اب بھی یہی کریں گے۔ اب یہ اُن کی قسمت خراب تھی یا ہماری اچھی ۔۔۔کہ ہمارا ساتھ دینے والوں کی اکثریت پنجابیوں کی تھی اور انہوں نے ہمیں کہا کہ ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔چناچہ یہ ایک مثبت واقعہ یاد ہے

ایک منفی واقعہ بھی بیان کرتا چلوں۔۔۔2001 میں ۔۔۔میں کراچی سے بذریعہ ٹرین رحیم یار خان آ رہا تھا۔ سلیپر میں صرف دو افراد تھے ۔ایک میں جبکہ ایک کراچی میں کوئی سرکاری افسر تھا تعلق پنجاب سے تھا۔ دوران سفر گپ شپ کے دوران بات بلوچستان بغاوت کی طرف چلی گئی۔ اُن صاحب نے مجھے بھی پنجابی سمجھ کر (کیونکہ میں پنجابی بول رہا تھا اور پینٹ شرٹ میں تھا) بلوچوں کو بے نقط سُنانا شروع کر دیں۔میں کافی دیر سُنا تھا اور جی جی کرتا رہا مُسکرا مُسکرا کر۔ حتیٰ کہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ اُ س نے باقاعدہ بلوچوں کی عزت پر منفی جُملے کسے۔ جب اپنے منہ اپنی ہی بے عزتی کا معاملہ حد سے پار ہونے لگا تو میں نے پھر بھی مسکراتے ہوئے کہا کہ بھائی کُچھ ہاتھ ہلکا رکھیں ۔۔۔میں بھی بلوچ ہوں۔
یار ہارون بھائی اُس بندے کا ری ایکشن دیکھنے والا تھا۔اُس کی کئی گھنٹوں سے چلتی زبان کو ایمرجنسی بریک لگ گئی۔۔۔آنکھیں باہر نکلنے کو آ گئیں (اتنا بُرا بھلا جو کہا تھا اُس نے) اور ہکلاتے ہوئے بولا کہ نہیں یار تم مذاق کر رہے ہو۔ تم بلوچ لگتے تو نہیں ہو۔
میں نے رُونی صورت بنا کر کہا "کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔(وہ گالی جو اُس نے بلوچوں کو دی تھی)۔۔۔۔۔۔ہوں نا۔۔۔۔اس لیے لگتا نہیں ہوں۔"

اس کے بعد اگلا سارا سفر سکون سے گزرا۔۔۔کیونکہ اُس نے برتھ پر چڑھ کر چادر پہن کر سونے کا ایسا ناٹک کیا کہ رحیمیار خان آنے تک اُس کی شکل دیکھنا نصیب نہیں ہوئی۔

ہر کسی میں خامیاں ہوتی ہیں اور کوئی نا کوئی خوبی بھی ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ لمبا نباہ کرنے کے لیے خامیوں سے صرف نظر کرنا پڑتا ہے اور خوبیوں کو اُجالنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی تمام قوموں میں اس وقت یہی المیہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کی خامیوں کو اُچھالتے ہیں اور خوبیوں سے صرف نظر کرتے ہیں۔

پٹھانوں کے حساب سے بات کی جائے تو اب تک مجھے پنجاب میں جتنا بھی واسطہ پڑا ہے ۔۔اُس میں سے 99 فیصد لوگ پٹھانوں کی عزت کرتے ہیں کہ دلیر اور جفا کش قوم ہے۔یا تو مجھے اتفاق سے لوگ اچھے ملتے گئے ہیں یا کُچھ اور معاملہ ہے۔۔۔میں نے اب تک پنجاب کو تعصب کے معاملے میں دیگر صوبوں سے بہت بہتر پایا ہے(موجودہ صورت حال کی بات کر رہا ہوں)
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (15-10-10), wajee (15-10-10)
پرانا 15-10-10, 04:23 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,139
شکریہ: 52,552
11,191 مراسلہ میں 35,291 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یعنی معاملہ ایس ایم ایس سے آگے "دلوں" میں موجود ہے اور لوگ محض مزے لینے کے لیے نہیں بلکہ دل کا عناد نکالنے کے لیے اس میدان کار میں بہت کُچھ کر رہے ہیں۔ مجھے دُکھ ہوا یہ جان کر کہ آپ کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے اور مزید دُکھ اس بات پر ہوا کہ ہم نا معقولوں کو ملک سے باہر جا کر بھی عقل نہ آئی۔

باوجود اس کے کہ میں بلوچ ہوں (اور بلوچستان میں آغاز پاکستان سے ہی بغاوت بھی جاری ہے جس کا سب سے بڑا نشانہ پنجاب ہے) اور بلوچستان سے باہر۔۔پنجاب میں رہتا ہوں۔۔۔مجھے اس سلسلے میں عناد یا تعصب اس کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہم کو بلوچستان چھوڑے عرصہ بیت گیا۔ میری پیدائش پنجاب میں ہوئی اور تو اور مجھے اپنی مادری زبان تک نہیں آتی۔ لیکن پنجاب میں ہماری شناخت بلوچ کی ہی ہے۔ اتفاق سے میں بھی اُردو اور پنجابی کسی اہل زبان کی طرح ہی بولتا ہوں۔
تاہم ایک واقعہ ہوا تھا کہ جب ہماری لڑائی ہمارے محلے کی ایک طاقتور کمیونٹی سے ہو گئی تھی۔ہمارے پورے محلے میں صرف ہمارا گھر بلوچ تھا باقی سب پنجابی یا لوکل تھے۔ اگلوں نے شاید اسی زعم میں ہمارے گھر آ کر مجھ کو دھمکیاں دیں کہ ہم نے پہلے بھی بلوچوں کی ٹانگیں توڑی ہیں اور اب بھی یہی کریں گے۔ اب یہ اُن کی قسمت خراب تھی یا ہماری اچھی ۔۔۔کہ ہمارا ساتھ دینے والوں کی اکثریت پنجابیوں کی تھی اور انہوں نے ہمیں کہا کہ ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔چناچہ یہ ایک مثبت واقعہ یاد ہے

ایک منفی واقعہ بھی بیان کرتا چلوں۔۔۔2001 میں ۔۔۔میں کراچی سے بذریعہ ٹرین رحیم یار خان آ رہا تھا۔ سلیپر میں صرف دو افراد تھے ۔ایک میں جبکہ ایک کراچی میں کوئی سرکاری افسر تھا تعلق پنجاب سے تھا۔ دوران سفر گپ شپ کے دوران بات بلوچستان بغاوت کی طرف چلی گئی۔ اُن صاحب نے مجھے بھی پنجابی سمجھ کر (کیونکہ میں پنجابی بول رہا تھا اور پینٹ شرٹ میں تھا) بلوچوں کو بے نقط سُنانا شروع کر دیں۔میں کافی دیر سُنا تھا اور جی جی کرتا رہا مُسکرا مُسکرا کر۔ حتیٰ کہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ اُ س نے باقاعدہ بلوچوں کی عزت پر منفی جُملے کسے۔ جب اپنے منہ اپنی ہی بے عزتی کا معاملہ حد سے پار ہونے لگا تو میں نے پھر بھی مسکراتے ہوئے کہا کہ بھائی کُچھ ہاتھ ہلکا رکھیں ۔۔۔میں بھی بلوچ ہوں۔
یار ہارون بھائی اُس بندے کا ری ایکشن دیکھنے والا تھا۔اُس کی کئی گھنٹوں سے چلتی زبان کو ایمرجنسی بریک لگ گئی۔۔۔آنکھیں باہر نکلنے کو آ گئیں (اتنا بُرا بھلا جو کہا تھا اُس نے) اور ہکلاتے ہوئے بولا کہ نہیں یار تم مذاق کر رہے ہو۔ تم بلوچ لگتے تو نہیں ہو۔
میں نے رُونی صورت بنا کر کہا "کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔(وہ گالی جو اُس نے بلوچوں کو دی تھی)۔۔۔۔۔۔ہوں نا۔۔۔۔اس لیے لگتا نہیں ہوں۔"

اس کے بعد اگلا سارا سفر سکون سے گزرا۔۔۔کیونکہ اُس نے برتھ پر چڑھ کر چادر پہن کر سونے کا ایسا ناٹک کیا کہ رحیمیار خان آنے تک اُس کی شکل دیکھنا نصیب نہیں ہوئی۔

ہر کسی میں خامیاں ہوتی ہیں اور کوئی نا کوئی خوبی بھی ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ لمبا نباہ کرنے کے لیے خامیوں سے صرف نظر کرنا پڑتا ہے اور خوبیوں کو اُجالنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی تمام قوموں میں اس وقت یہی المیہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کی خامیوں کو اُچھالتے ہیں اور خوبیوں سے صرف نظر کرتے ہیں۔

پٹھانوں کے حساب سے بات کی جائے تو اب تک مجھے پنجاب میں جتنا بھی واسطہ پڑا ہے ۔۔اُس میں سے 99 فیصد لوگ پٹھانوں کی عزت کرتے ہیں کہ دلیر اور جفا کش قوم ہے۔یا تو مجھے اتفاق سے لوگ اچھے ملتے گئے ہیں یا کُچھ اور معاملہ ہے۔۔۔میں نے اب تک پنجاب کو تعصب کے معاملے میں دیگر صوبوں سے بہت بہتر پایا ہے(موجودہ صورت حال کی بات کر رہا ہوں)
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (21-04-11), ھارون اعظم (15-10-10), مرزا عامر (15-10-10)
پرانا 15-10-10, 04:47 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,537
کمائي: 88,200
شکریہ: 5,212
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پاکستان میں ہر قوم ایک دوسرے کو اپنے سے کم تر تصور کرتی ہے اور ہم میں اتفاق نام کو بھی نہیں ہے زبان کو دیکھا کونسی ہے اور شروع رہی بات کراچی اور حیدرآباد کی تو ۱۰ فیصد لوگ ہے جنکی شوچ ایسی ہے ورنہ ہمارے ساتھ خود کہی گھر ہیں پٹھانوں کے اور وہ اتنے سکون سے رہتے ہیں جتنے سکون سے پشاور میں
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (15-10-10), مرزا عامر (15-10-10), حیدر (15-10-10)
پرانا 15-10-10, 06:06 PM   #5
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

زبان کی بنیاد پر گروہ بندی بھی فرقہ واریت کہلاتی ہیں گو کہ مذہبی رسومات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ ہر قوم میں اچھائیاں اور برائیاں ہوتی ہیں ۔ اور ہر ایک کے پاس اپنا مخصوص ہنر اور فن ہوتا ہے ۔ اللہ تعالٰی کی کتنی بڑی نعمت ہے کہ اس نے اس ملک کو مختلف قوموں سے نوازہ لیکن ہم ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی بجائے تفرقہ میں پڑ گئے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (15-10-10), wajee (15-10-10)
جواب

Tags
کوشش, کراچی, پہچان, پاکستان, پاکستانی, واقعات, لوگ, نفرت, نظر, موقع, مسجد, معلوم, اردو, بھائی, بچوں, تلاش, تعلیم, تصویر, جاہل, شناخت, علاقے, عرب, عزت, غلطیاں, صاف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:05 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger