|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 284
|
||||
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,139
شکریہ: 52,552
11,191 مراسلہ میں 35,291 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یعنی معاملہ ایس ایم ایس سے آگے "دلوں" میں موجود ہے اور لوگ محض مزے لینے کے لیے نہیں بلکہ دل کا عناد نکالنے کے لیے اس میدان کار میں بہت کُچھ کر رہے ہیں۔ مجھے دُکھ ہوا یہ جان کر کہ آپ کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے اور مزید دُکھ اس بات پر ہوا کہ ہم نا معقولوں کو ملک سے باہر جا کر بھی عقل نہ آئی۔
باوجود اس کے کہ میں بلوچ ہوں (اور بلوچستان میں آغاز پاکستان سے ہی بغاوت بھی جاری ہے جس کا سب سے بڑا نشانہ پنجاب ہے) اور بلوچستان سے باہر۔۔پنجاب میں رہتا ہوں۔۔۔مجھے اس سلسلے میں عناد یا تعصب اس کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہم کو بلوچستان چھوڑے عرصہ بیت گیا۔ میری پیدائش پنجاب میں ہوئی اور تو اور مجھے اپنی مادری زبان تک نہیں آتی۔ لیکن پنجاب میں ہماری شناخت بلوچ کی ہی ہے۔ اتفاق سے میں بھی اُردو اور پنجابی کسی اہل زبان کی طرح ہی بولتا ہوں۔ تاہم ایک واقعہ ہوا تھا کہ جب ہماری لڑائی ہمارے محلے کی ایک طاقتور کمیونٹی سے ہو گئی تھی۔ہمارے پورے محلے میں صرف ہمارا گھر بلوچ تھا باقی سب پنجابی یا لوکل تھے۔ اگلوں نے شاید اسی زعم میں ہمارے گھر آ کر مجھ کو دھمکیاں دیں کہ ہم نے پہلے بھی بلوچوں کی ٹانگیں توڑی ہیں اور اب بھی یہی کریں گے۔ اب یہ اُن کی قسمت خراب تھی یا ہماری اچھی ۔۔۔کہ ہمارا ساتھ دینے والوں کی اکثریت پنجابیوں کی تھی اور انہوں نے ہمیں کہا کہ ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔چناچہ یہ ایک مثبت واقعہ یاد ہے ایک منفی واقعہ بھی بیان کرتا چلوں۔۔۔2001 میں ۔۔۔میں کراچی سے بذریعہ ٹرین رحیم یار خان آ رہا تھا۔ سلیپر میں صرف دو افراد تھے ۔ایک میں جبکہ ایک کراچی میں کوئی سرکاری افسر تھا تعلق پنجاب سے تھا۔ دوران سفر گپ شپ کے دوران بات بلوچستان بغاوت کی طرف چلی گئی۔ اُن صاحب نے مجھے بھی پنجابی سمجھ کر (کیونکہ میں پنجابی بول رہا تھا اور پینٹ شرٹ میں تھا) بلوچوں کو بے نقط سُنانا شروع کر دیں۔میں کافی دیر سُنا تھا اور جی جی کرتا رہا مُسکرا مُسکرا کر۔ حتیٰ کہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ اُ س نے باقاعدہ بلوچوں کی عزت پر منفی جُملے کسے۔ جب اپنے منہ اپنی ہی بے عزتی کا معاملہ حد سے پار ہونے لگا تو میں نے پھر بھی مسکراتے ہوئے کہا کہ بھائی کُچھ ہاتھ ہلکا رکھیں ۔۔۔میں بھی بلوچ ہوں۔ یار ہارون بھائی اُس بندے کا ری ایکشن دیکھنے والا تھا۔اُس کی کئی گھنٹوں سے چلتی زبان کو ایمرجنسی بریک لگ گئی۔۔۔آنکھیں باہر نکلنے کو آ گئیں (اتنا بُرا بھلا جو کہا تھا اُس نے) اور ہکلاتے ہوئے بولا کہ نہیں یار تم مذاق کر رہے ہو۔ تم بلوچ لگتے تو نہیں ہو۔ میں نے رُونی صورت بنا کر کہا "کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔(وہ گالی جو اُس نے بلوچوں کو دی تھی)۔۔۔۔۔۔ہوں نا۔۔۔۔اس لیے لگتا نہیں ہوں۔" اس کے بعد اگلا سارا سفر سکون سے گزرا۔۔۔کیونکہ اُس نے برتھ پر چڑھ کر چادر پہن کر سونے کا ایسا ناٹک کیا کہ رحیمیار خان آنے تک اُس کی شکل دیکھنا نصیب نہیں ہوئی۔ ہر کسی میں خامیاں ہوتی ہیں اور کوئی نا کوئی خوبی بھی ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ لمبا نباہ کرنے کے لیے خامیوں سے صرف نظر کرنا پڑتا ہے اور خوبیوں کو اُجالنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی تمام قوموں میں اس وقت یہی المیہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کی خامیوں کو اُچھالتے ہیں اور خوبیوں سے صرف نظر کرتے ہیں۔ پٹھانوں کے حساب سے بات کی جائے تو اب تک مجھے پنجاب میں جتنا بھی واسطہ پڑا ہے ۔۔اُس میں سے 99 فیصد لوگ پٹھانوں کی عزت کرتے ہیں کہ دلیر اور جفا کش قوم ہے۔یا تو مجھے اتفاق سے لوگ اچھے ملتے گئے ہیں یا کُچھ اور معاملہ ہے۔۔۔میں نے اب تک پنجاب کو تعصب کے معاملے میں دیگر صوبوں سے بہت بہتر پایا ہے(موجودہ صورت حال کی بات کر رہا ہوں) |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,139
شکریہ: 52,552
11,191 مراسلہ میں 35,291 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یعنی معاملہ ایس ایم ایس سے آگے "دلوں" میں موجود ہے اور لوگ محض مزے لینے کے لیے نہیں بلکہ دل کا عناد نکالنے کے لیے اس میدان کار میں بہت کُچھ کر رہے ہیں۔ مجھے دُکھ ہوا یہ جان کر کہ آپ کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے اور مزید دُکھ اس بات پر ہوا کہ ہم نا معقولوں کو ملک سے باہر جا کر بھی عقل نہ آئی۔
باوجود اس کے کہ میں بلوچ ہوں (اور بلوچستان میں آغاز پاکستان سے ہی بغاوت بھی جاری ہے جس کا سب سے بڑا نشانہ پنجاب ہے) اور بلوچستان سے باہر۔۔پنجاب میں رہتا ہوں۔۔۔مجھے اس سلسلے میں عناد یا تعصب اس کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہم کو بلوچستان چھوڑے عرصہ بیت گیا۔ میری پیدائش پنجاب میں ہوئی اور تو اور مجھے اپنی مادری زبان تک نہیں آتی۔ لیکن پنجاب میں ہماری شناخت بلوچ کی ہی ہے۔ اتفاق سے میں بھی اُردو اور پنجابی کسی اہل زبان کی طرح ہی بولتا ہوں۔ تاہم ایک واقعہ ہوا تھا کہ جب ہماری لڑائی ہمارے محلے کی ایک طاقتور کمیونٹی سے ہو گئی تھی۔ہمارے پورے محلے میں صرف ہمارا گھر بلوچ تھا باقی سب پنجابی یا لوکل تھے۔ اگلوں نے شاید اسی زعم میں ہمارے گھر آ کر مجھ کو دھمکیاں دیں کہ ہم نے پہلے بھی بلوچوں کی ٹانگیں توڑی ہیں اور اب بھی یہی کریں گے۔ اب یہ اُن کی قسمت خراب تھی یا ہماری اچھی ۔۔۔کہ ہمارا ساتھ دینے والوں کی اکثریت پنجابیوں کی تھی اور انہوں نے ہمیں کہا کہ ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔چناچہ یہ ایک مثبت واقعہ یاد ہے ایک منفی واقعہ بھی بیان کرتا چلوں۔۔۔2001 میں ۔۔۔میں کراچی سے بذریعہ ٹرین رحیم یار خان آ رہا تھا۔ سلیپر میں صرف دو افراد تھے ۔ایک میں جبکہ ایک کراچی میں کوئی سرکاری افسر تھا تعلق پنجاب سے تھا۔ دوران سفر گپ شپ کے دوران بات بلوچستان بغاوت کی طرف چلی گئی۔ اُن صاحب نے مجھے بھی پنجابی سمجھ کر (کیونکہ میں پنجابی بول رہا تھا اور پینٹ شرٹ میں تھا) بلوچوں کو بے نقط سُنانا شروع کر دیں۔میں کافی دیر سُنا تھا اور جی جی کرتا رہا مُسکرا مُسکرا کر۔ حتیٰ کہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ اُ س نے باقاعدہ بلوچوں کی عزت پر منفی جُملے کسے۔ جب اپنے منہ اپنی ہی بے عزتی کا معاملہ حد سے پار ہونے لگا تو میں نے پھر بھی مسکراتے ہوئے کہا کہ بھائی کُچھ ہاتھ ہلکا رکھیں ۔۔۔میں بھی بلوچ ہوں۔ یار ہارون بھائی اُس بندے کا ری ایکشن دیکھنے والا تھا۔اُس کی کئی گھنٹوں سے چلتی زبان کو ایمرجنسی بریک لگ گئی۔۔۔آنکھیں باہر نکلنے کو آ گئیں (اتنا بُرا بھلا جو کہا تھا اُس نے) اور ہکلاتے ہوئے بولا کہ نہیں یار تم مذاق کر رہے ہو۔ تم بلوچ لگتے تو نہیں ہو۔ میں نے رُونی صورت بنا کر کہا "کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔(وہ گالی جو اُس نے بلوچوں کو دی تھی)۔۔۔۔۔۔ہوں نا۔۔۔۔اس لیے لگتا نہیں ہوں۔" اس کے بعد اگلا سارا سفر سکون سے گزرا۔۔۔کیونکہ اُس نے برتھ پر چڑھ کر چادر پہن کر سونے کا ایسا ناٹک کیا کہ رحیمیار خان آنے تک اُس کی شکل دیکھنا نصیب نہیں ہوئی۔ ہر کسی میں خامیاں ہوتی ہیں اور کوئی نا کوئی خوبی بھی ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ لمبا نباہ کرنے کے لیے خامیوں سے صرف نظر کرنا پڑتا ہے اور خوبیوں کو اُجالنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی تمام قوموں میں اس وقت یہی المیہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کی خامیوں کو اُچھالتے ہیں اور خوبیوں سے صرف نظر کرتے ہیں۔ پٹھانوں کے حساب سے بات کی جائے تو اب تک مجھے پنجاب میں جتنا بھی واسطہ پڑا ہے ۔۔اُس میں سے 99 فیصد لوگ پٹھانوں کی عزت کرتے ہیں کہ دلیر اور جفا کش قوم ہے۔یا تو مجھے اتفاق سے لوگ اچھے ملتے گئے ہیں یا کُچھ اور معاملہ ہے۔۔۔میں نے اب تک پنجاب کو تعصب کے معاملے میں دیگر صوبوں سے بہت بہتر پایا ہے(موجودہ صورت حال کی بات کر رہا ہوں) |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,537
کمائي: 88,200
شکریہ: 5,212
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستان میں ہر قوم ایک دوسرے کو اپنے سے کم تر تصور کرتی ہے اور ہم میں اتفاق نام کو بھی نہیں ہے زبان کو دیکھا کونسی ہے اور شروع رہی بات کراچی اور حیدرآباد کی تو ۱۰ فیصد لوگ ہے جنکی شوچ ایسی ہے ورنہ ہمارے ساتھ خود کہی گھر ہیں پٹھانوں کے اور وہ اتنے سکون سے رہتے ہیں جتنے سکون سے پشاور میں
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زبان کی بنیاد پر گروہ بندی بھی فرقہ واریت کہلاتی ہیں گو کہ مذہبی رسومات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ ہر قوم میں اچھائیاں اور برائیاں ہوتی ہیں ۔ اور ہر ایک کے پاس اپنا مخصوص ہنر اور فن ہوتا ہے ۔ اللہ تعالٰی کی کتنی بڑی نعمت ہے کہ اس نے اس ملک کو مختلف قوموں سے نوازہ لیکن ہم ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی بجائے تفرقہ میں پڑ گئے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (15-10-10), wajee (15-10-10) |
![]() |
| Tags |
| کوشش, کراچی, پہچان, پاکستان, پاکستانی, واقعات, لوگ, نفرت, نظر, موقع, مسجد, معلوم, اردو, بھائی, بچوں, تلاش, تعلیم, تصویر, جاہل, شناخت, علاقے, عرب, عزت, غلطیاں, صاف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|