واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان > دیس ہوئے پردیس



دیس ہوئے پردیس دیس ہوئے پردیس


میرے پیارے وطن کے اپنے ثقافت کے رنگ اور ہم پردیسی،!!!!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-04-11, 08:19 PM   #1
میرے پیارے وطن کے اپنے ثقافت کے رنگ اور ہم پردیسی،!!!!
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید آف لائن ہے 20-04-11, 08:19 PM

میرے پیارے وطن کے اپنے ثقافت کے رنگ اور ہم پردیسی،!!!!

میرے وطن کی ہر چیز ہر جگہ مجھے دل و جان سے عزیز ہے، وہاں کا کلچر پردیس میں کہاں دیکھنے کو ملتا ہے ہم تو ترس جاتے ہیں، اپنے وطن میں گزری ہوئی پرانی خوشگوار یادوں کو یاد کرکے تازہ کرتے رہتے کہ کبھی بالکونی سے جھانک کر تو دیکھیں کہ کیا بیچنے والا جارہا ہے، کھڑکیاں جو کھلی ہیں تازہ تازہ ہوا آرہی ہے، مجھے اپنے بچپن میں ٹھیلے والوں کے پاس جاکر آلو چھولے، فروٹ چاٹ کھانا بہت پسند تھا، اس کی آواز میرے کانوں کو بھلی لگتی تھی، جب وہ آواز لگاتا ہے، آلو چھولے، بارہ مصالے،!!!! گول گپے کی ریڑی والا تو بغیر ہمارے دروازے سے کچھ لئے دیئے تو گزر ہی نہیں سکتا،!! جہاں مزید گلی کے بچوں کا رش بھی لگ جاتا ہے،!!!! گول گپے والا آیا گول گپے والا اس کے علاؤہ ٹھنڈی کھوئے ملائی والی قلفی اور رنگ برنگے گولا گنڈے،والا !!!!، تو بس کیا بتاؤں کیا ہم چسکیاں لے کر خوب مزے سے کھاتے تھے، وہاں کا کیا عالم ہے کہ سبزی بیچنے والے بھی اپنی ہری بھری سبزیاں ٹھیلوں پر سجائے، ان پر پانی چھڑکتے ہوئے آوازیں لگاتے جب گزرتے ہیں تو تقریباً ہر گھر پر اپنے اپنے گیٹ کے پاس عورتیں اپنے بچوں کے ساتھ اپنی من پسند کی سبزیاں خریدتی ہوئی نظر آتی ہیں،!!!!! تازی لوکی لے لو پالک لے لو، گوبھی لے لو، کراری تازہ بھنڈیاں دیکھو، پیاز آلو ٹماٹر لے لو،!!!!
مچھلی والوں کو بھی دیکھا اپنی سائکلوں پر پیچھے مچھلی کا ٹوکرا لٹکائے گلی گلی آوازیں لگائے پھرتے ہیں، تازہ میٹھے پانی کی روو، پلا، مچھلی تازہ پاپلیٹ مچھی لے لو،!!!! ہاں مگر میں نے کبھی گوشت یا مرغی والوں یا گھر کے راشن والوں کو پگلیوں کا پھیرا لگاتے ہوئے نہیں دیکھا، اس کے لئے تو بازار ہی جانا پڑتا ہے، مگر مٹی کا تیل اور پکانے کے تیل والوں کو سائکل کے پیچھے چھوٹا ٹینکر لگائے گلی گلی گھومتے ضرور دیکھا ہے،!!!! ہاں ایک اور آواز برتنوں کو چمکانے کے لئے بھی سنی پھانڈے قلعی کرالو،!!!!!

ابھی بھی وہی ماحول ہے، اپنی گلی میں دیکھو تو بندر والا اپنی ڈگڈگی بجائے چلا آرہا ہے اور ہم بچوں سمیت ہی اپنی بالکونی سے جھانکنے لگیں تو بندر والے نے وہیں اپنا ڈیرہ جمالیا اور لگا بندر کا تماشہ دکھانے، اور بار بار ہماری طرف دیکھ کر بندر کو کہتا بھی جائے کہ دیکھو بابو صاحب کو ایک سلام مارو، آج بابو جی تو تمہیں کھانا بھی کھلائے گا، اپنا پیٹ دکھا، دو دن سے کچھ کھایا جو نہیں، اب کیا اپنی جیبیں ٹتولتے یا پھر بیگم کو آواز دیتے کہ اگر کچھ گھر میں کھانے کو کچھ ہے تو بندر والے کو باہر بھجوادو،!!!!

ہمارے یہاں میں تو بچپن سے ڈاکیہ کو دیکھ رہا ہوں جو اپنی سائیکل روزانہ ہر گھر میں خط پہنچا رہا ہے، اور وہ اپنے اس پیشے سے اس مہنگائی کے دور میں بھی خوش ہے، کبھی کبھی کوئی بھلے گھر سے اسے کچھ عیدی کے طور پر پیسے مل جاتے ہیں تو اس کی عید اچھی گزر جاتی ہے، مگر کوئی کچھ دے یا نہ دے وہ ڈاکیہ اپنا فرض بخوبی نبھاتا ہے، ہر گھر میں ان کے پیاروں کا پیغام پہنچانا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، بلکہ کئی گھروں میں تو وہ خط پڑھ کر بھی سناتا ہے اور لوگ اس سے اپنا دکھ درد بھی شئیر کرنے میں کوئی برائی نہیں سمجھتے، آج کل تو موبائل کی سہولتوں کی وجہ سے خط و کتابت میں کمی آگئی ہے، لیکن اب بھی کچھ لوگ اپنی پرانی روائتوں کو نہیں بھولے ہیں، پیغامات کا سلسلہ اب بھی ویسے ہی قائم کئے ہوئے ہیں،!!!!

بچے بھی گلی میں کھیل رہے ہیں، خوب شور و غل مچا ہوا ہے، دھول مٹی بھی ساتھ ساتھ اڑ رہی ہے کمروں میں صحن میں جب ہی تو کہوں کہ بیگم روز صفائی کرتی ہیں اور کافی مٹی اور کچرا باہر پھینکتی ہیں،!!! یہاں پردیس میں بہت کم ہی کمروں میں مٹی دیکھی کیونکہ یہاں تو کھڑکی دروازے تو ہمیشہ بند ہی رہتے ہیں، ائرکنڈیشنڈ ضرور چل رہے ہوتے ہیں، مگر ایسا لگتا ہے کہ بند کمروں کی ٹھنڈی جیل ہو، یہاں شروع شروع میں تو کمروں میں دم گھٹتا تھا لیکن اب تو عادت سی ہوگئی ہے،!!!!

مجھے تو بچپن سے ہی ٹرین میں سفر کرنے کا بہت شوق ہے، لیکن اب کہاں موقعہ ملتا ہے، شروع شروع میں اپنے وطن میں بچپن سے جوانی کے عروج تک خوب ٹرین کا سفر کیا، میں تو سفر کے دوران سونے کا عادی ویسے بھی نہیں ہوں، مجھے لمبے لمبے سفر بہت ہی زیادہ پسند تھے، چاہے وہ بس کا ہو یا ٹرین کا سفر، مجھے بہت لطف آتا تھا، ہر بس اسٹاپ پر یا ہر ریلوئے اسٹیشن پر جیسے ہی ٹرین رکنے لگتی میں تو فوراً ہی کھڑکی سے باہر جھانکنے لگتا تھا، وہاں کے حاکروں کی ملی جلی آوازیں تو کبھی قلیوں اور مسافروں کا شور کوئی مسافر فیملیوں کے ساتھ کچھ اکیلے اپنے اپنے سامان کے ساتھ اتر رہیں ہیں اور کوئی چڑھ رہے ہیں ایک افرا تفری کا عالم ہوتا ہے، لیکن جو آوازیں آتی ہیں، اس کا اپنا ایک الگ ہی مزا ہوتا ہے، آپ کو چند آوازیں تو خیر ہر اسٹیشن پر سنائی دیں گی، جیسے چائے گرم ہے بھئی، کباب پراٹھے،!!!! کچھ تو سفید یا خاکی وردی پہنے بوگیوں میں دس بارہ ٹرے کھانوں کی ایک ہتھیلی پرسجائے ہوئے آواز لگا رہے ہیں، گرم کھانے ڈائینگ کار کے کھانے بھئی،!!!! کوئی تو کھڑکی کے باہر سے ہی آواز لگا رہے ہیں کہ اسٹیشن کے گرم کھانے رات کا مزیدار کھانا اگلے اسٹیشن پر،!!!!!! صبح صبح ہی آوازیں لگاتے پہنچ جاتے ہیں، ڈائینگ کار کا ناشتہ بھئی،!!!!!

کچھ حاکروں کی آوازیں ہر اسٹیشن پر وہاں کی مشہور چیزوں کی ہوتی ہیں، مجھے تو یہ آوازیں بہت ہی اچھی لگتی ہیں، ملتان خانیوال کے اسٹیشنوں پر خاص کر حافظ جی کا ملتانی سوہن حلوہ لے لو،!!!! وزیرآباد میں چھری چاقو قینچی لے لو،!!!!! حیدرآباد اور کوٹری میں چوڑیاں حیدرآباد کی لے لو،!!!!! بعض تو ڈبوں میں اپنی رنگ برنگی چوڑیوں کی دکان سر پر سجائے چلے آتے ہیں،!!!!!! ایک بالکل اپنے سروں میں مخصوص آوازوں کے ساتھ،!!!!

یہ آوازیں ہمارے ملک کی ثقافت کا حصہ ہیں ہمارا یہ سب کچھ لوک ورثہ ہیں، گلی محلہ ہو یا چھوٹی بڑی شاہراہ ہر طرف ایک ٹریفک کا ہجوم، موٹر سائیکل، موٹر رکشہ بسوں کا ایک شور کنڈکٹروں کی آوازوں کے ساتھ ملا جلا شور جس میں ہمارے وطن کی مہک بسی ہوئی ہے، راہ چلتے آپس کے جھگڑے، محلے میں بچوں کی ایک چیخ و پکار ہمیں یہاں پردیسیوں کو بہت یاد آتی ہے، اور یہی ہمارے ملک کا حسن ہیں علاقائی لوک گیت، جو ہم سنتے ہیں اس میں ہمارے وطن کی ایک خوشو رچی ہوئی ہے، راستے بھر لہلاتے کھیتوں کے بیچوں بیچ چکی کی ایک مخصوص آوازوں کے ساتھ، باغات سے ہوتی ہوئی دریاؤں کے پلوں پر سے دوڑتی ہوئی اپنی مخصوص سیٹیوں کی دھن میں جب ٹرین چھک چھکا چھک کرتی ہوئی گزرتی ہے تو ایک الگ خوبصورت سماں بندھا ہوا ہوتا ہے،!!!!!

ہمارے خانہ بدوشوں کی اپنی الگ روایت ہے، وہ اپنے کھیل تماشوں کے ساز و سامان کے ساتھ شہر شہر، گاؤں گاؤں اپنے تمام کنبے کے ساتھ پھرتے رہتے ہیں، جہاں ڈیرہ جما لیا وہی ان کا محلہ ہوگیا، ان کو اگر دنیا کی دولت بھی مل جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنا یہ پیشہ کبھی نہ چھوڑیں گے، وہ اپنے انہی کرتب اور کمالات دکھا کر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں اور لوگوں، بوڑھوں، عورتوں، جوانوں اور بچوں کو سستی تفریح فراہم کرتے ہیں، کوئی بندر کا تماشہ ریچھ کو ساتھ لئے دکھا رہا ہے تو کسی نے بچوں کے لئے کسی میلے کی طرح چکری جھولا ہی لگا دیا ہے، اور دو آدمی خوب زور زور سے اپنے ہی ہاتھوں سے چلارہے ہیں، کبھی کبھی تو بچوں کو بغیر پیسے لئے بھی بٹھا دیتے ہیں، کوئی چھوٹی سی میدان میں سرکس لگائے ہوئے ہے، رسوں پر چلنے کا تماشا تو کبھی منہ سے آگ نکال رہے ہیں تو کوئی تو پوری تلوار ہی منہ میں ڈال کر لوگوں کو حیرت زدہ کررہا ہے، مفت شو کررہے ہیں میدان میں،!!! آخر میں وہ سب سے ہاتھ پر اپنی جھولی پھیلائے اپنی محنت کا پھل مانگتے ہیں، اگر کسی نے کچھ انہیں دے دیا اور کسی نے نہ بھی دیا تو وہ پھر بھی خوش، مجھے اب بھی بڑے بڑے شہروں کے میلوں نمائش سے یہ دیسی کرتب دکھانے والے اچھے لگتے ہیں،!!!!!!

اور خاص کر ہمارے شادی بیاہ کے مختلف رسم و رواج، نکاح سے زیادہ مہندی، اور مایوں کی رسومات میں خوب ھلا گلہ ہوتا ہے، عورتوں اور لڑکیوں کے لئے تو ان کے پسندیدہ شوق پورے کرنے کا جو موقعہ ملتا ہے اسے وہ ان تقریبات میں پورا کرتی ہیں، میک اپ، رنگ برنگے بھڑکیلے ملبوسات، زیورات سجائے ان شادیوں میں ایک دوسرے کو دکھا کر خوش ہوتیں ہیں، اور ان دنوں شادی بیاہ کے گیتوں کو ڈھولک کی تاپ پر گاتی ہیں اور گھر کی رونقوں میں اضافہ کرتی ہیں، دولہا میاں گھوڑے پر یا بڑے شہروں میں کار میں، بینڈ باجے کے ساتھ بارات کا آنا، نکاح کی تیاری کے فوراً بعد کھانے پر لوگوں کا رش اور پھر دلہن کی رخصتی کے وقت رونے دھونے کا دل ہلا دینے والا منظر،!!!!!!

ایسا ملا جلا ماحول میں نے اور کسی باہر کے ملکوں میں نہیں دیکھا، مجھے میرے وطن کے اسی شور و غل سے پیار ہے، جس کے لئے ہم ترستے ہیں، جب ہم چھٹیاں گزارنے جاتے ہیں تو ہمیں اپنے پیارے وطن کی اسی کلچر کی یادوں کو اپنے سینے سے لگائے آنکھوں میں بسائے واپس جب واپس لوٹتے ہیں تو ہماری آنکھوں میں آنسو بھرے ہوتے ہیں،!!!!
__________________
اپنے حصے کی خوشیاں دوسروں میں بانٹنے سے دیکھیں کتنا سکون ملتا ہے،!!!!

 
عبدالرحمن سید's Avatar
عبدالرحمن سید
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 680
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-04-11), فیاض انصاری (05-02-12), محمد یاسرعلی (20-06-11), عبداللہ آدم (21-04-11), عروج (09-06-11)
پرانا 20-04-11, 08:55 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,381
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب لکھا بھائی مزہ آگیا لگتا ہے گھر بیٹھے ہی ہر جگہ گھوم لیئے
M A Ansari آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-04-11), عبدالرحمن سید (21-04-11)
پرانا 20-04-11, 08:56 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,651
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-04-11), عبداللہ آدم (21-04-11), عبدالرحمن سید (21-04-11), عروج (09-06-11)
پرانا 21-04-11, 01:18 PM   #4
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,575
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default میرا اپنا پاکستان،!!!! جس کے ہر رنگ میں اپنی ایک پہچان ہے،!!!!!

آپ سب مخلص دوستوں کا بہت بہت شکریہ،!!!!!!!

مجھے یقین ہے ہر پاکستانی بھی اسی طرح ہی محسوس کرتا ہوگا،!!!!! میرا اپنا پاکستان،!!!! جس کے ہر رنگ میں اپنی ایک پہچان ہے،!!!!!

میرا دل ہمیشہ سے یہی کہتا ہے کہ ہر پاکستانی کے دل کے گوشہ میں کہیں نہ کہیں ایک اپنے وطن کے لئے کچھ تو محبت بھرا جذبہ ہوگا، چاہے ہم کہیں بھی ہوں ایک ہمارا اپنا ملک ہی ہے جو ہمیں ہر وقت اپنی باہیں پھیلائے ہمیں پکار رہا ہوتا ہے، اگر ہم پردیسیوں کو کہیں بھی جگہ نہ ملی تو ایک جگہ ہے میرا وطن،!!!! جو لاکھ نفرتوں کے باوجود بھی اپنی ماں کی طرح اپنے آغوش میں لینے کیلئے ہمیشہ تیار ہے،!!!

وہ میرے وطن کا محنت کش کسان اپنے ہل کو اپنے کاندھے پر اٹھائے ہمیں ہمیشہ آواز دیتا رہتا ہے، کہ کہاں بھٹک رہے ہو پریشانیوں کے حل کے لئے، آپ کا سکون تو آپ کے اپنے ملک میں آپ کو آواز دے رہا ہے، میں تو یہاں آپ کے لئے انتھک محنت کرتا ہوں، آپ کے لئے اس اللٌہ کی زمین پر غلہ اگاتا ہوں، دن بھر تپتی دھوپ میں اپنے ساتھی بیلوں بھینسوں کے ساتھ کبھی مشینوں کے ساتھ مل کر تمھارے لئے ہی ہل چلاتا ہوں، اور اللٌہ اس کا پھل دیتا ہے، اس ثمر کے لئے میں تمھارا منتظر ہوں، میں تمھارا ساتھ چاہتا ہوں، اس مٹی نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے، میں اسے ضایع نہیں کرنا چاہتا، میری فصل کو سنبھالو، اس کو اپنی ضرورت کے لئے استعمال کرو، ورنہ اسے تو کوئی اور آکر اٹھا لے جائے گا، نہ میری ضرورت پوری ہوگی اور نہ ہی آپکی خواہش !!!!

آج میں یہاں پردیس میں یہی سوچ رہا ہوں کہ اپنی ساری عمر تو یہیں گزار دی اپنے وطن کے لئے ہم نے کیا کیا،؟؟؟ بس اپنی کمائی میں سے چند گنے چنے سکے اپنے وطن بھیج کر ہم سمجھتے ہیں کہ اپنا فرض پورا ہوگیا، ہم تو مورکھ ہیں کبھی یہ نہیں سوچا کہ ہم نے بہت کچھ کھو دیا، ہمیں تو اپنے وطن کی مٹی کی وہ سوندھی سوندھی خوشبو کی بہت زیادہ کمی محسوس ہوتی ہے جو اکثر برسات کے موسم میں دل کو خوب بھاتی ہے، جس میں ہم ایک جنت کا سا سحر محسوس کرتے ہیں،!!!

دولت روپیہ پیسہ ایک طرف اور دل کا سکون اور اطمنان قلب ایک طرف،!!!!! جو کچھ کمایا وہ ایک نہ ایک دن ختم ہوجائے گا، اور دوسرے ہاتھوں میں پہنچ جائے گا، مگر دل کا سکون جس سے جو خوشی حاصل ہوگی وہ تو ہمارے اندر ہمیشہ رہے گی، اور کہاں کہاں بانٹتے پھرو گے، مگر پھر بھی یہ قدرت کا خزانہ ہے یہ کبھی ختم نہ ہوگا، یہ اس چراغ کی مانند ہے جس سے مزید کتنے اور چراغ سے چراغ روشن کرتے چلے جاؤ گے،!!!!

Last edited by عبدالرحمن سید; 21-04-11 at 01:23 PM.
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (09-06-11)
پرانا 09-06-11, 11:58 AM   #5
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,575
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

منتظمین صاحب نے سرورق پر اپلائی کیلئے درخواست کی تھی،!!! اگر ھو جائے تو مجھے بھی اطلاع دے دیجئیے گا،!!!! بہت شکریہ،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (09-06-11)
پرانا 09-06-11, 01:05 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی جان ۔ بہت دیر بعد ھی سہی مگر وھی مزہ لیے آپکی تحریر سامنے ھے۔ باریکی اپنے اندر سموئے وھی آپکا جداگانہ انداز۔ واہ سبحان ا للہ۔ جلدی جلدی اپنی تحاریر سے مستفید ھونے کا موقع آپ کیوں نہیں دیتے۔ اسکا جواب ضرور عطا کیجیے۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 20-06-11, 02:51 PM   #7
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,575
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عروج مراسلہ دیکھیں
بھائی جان ۔ بہت دیر بعد ھی سہی مگر وھی مزہ لیے آپکی تحریر سامنے ھے۔ باریکی اپنے اندر سموئے وھی آپکا جداگانہ انداز۔ واہ سبحان ا للہ۔ جلدی جلدی اپنی تحاریر سے مستفید ھونے کا موقع آپ کیوں نہیں دیتے۔ اسکا جواب ضرور عطا کیجیے۔


بہت شکریہ، عروج جی،!!!! کچھ کام کی مصروفیت اور دوسرے نیٹ پر ابھی اردو ادب کے ماھرین سے گپ شپ کرکے بھی کچھ مزید سیکھنے کی کوشش کررھا ہوں، ان کو پڑھ کر لگتا ہے کہ ابھی مجھ میں بہت سی کمزوریاں ہیں،!!!! میرے پاس اب کچھ زیادہ وقت بھی نہیں ہے، کہ میں زیادہ لکھائی پر توجہ دے سکوں،!!!!! اور اب مجھے کچھ لکھتے ھوئے بھی جھجک محسوس ہوتی ہے،!!!! کہ کہیں کوئی غلطی نہ سرزد ھوجائے،!!!!

بہرحال میں اپنی کوشش جاری رکھوں گا،!!!!

خوش رہیں،!!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (14-10-11)
پرانا 20-06-11, 04:56 PM   #8
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,651
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
!!!! میرے پاس اب کچھ زیادہ وقت بھی نہیں ہے، کہ میں زیادہ لکھائی پر توجہ دے سکوں،!!!!!
کیوں کوئی اللہ سے معاہدہ کر لیا ہے؟ ایسا کہنا کفران نعمت میں شمار ہوتا ہے۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-06-11, 04:57 PM   #9
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,651
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
!!!! میرے پاس اب کچھ زیادہ وقت بھی نہیں ہے، کہ میں زیادہ لکھائی پر توجہ دے سکوں،!!!!!
کیوں کوئی اللہ سے معاہدہ کر لیا ہے؟ ایسا کہنا کفران نعمت میں شمار ہوتا ہے۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-06-11, 05:22 PM   #10
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,575
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
کیوں کوئی اللہ سے معاہدہ کر لیا ہے؟ ایسا کہنا کفران نعمت میں شمار ہوتا ہے۔
میرا کہنے کا مقصد یہ نہیں تھا، جو آپ سمجھ رہے ہیں، زندگی اور موت تو اللہ تعالیٰ کے ھاتھ میں ہے،!!!! جب انسان اپنی عمر کے اس حصے میں ھوتا ھے جب اس سے زیادہ مشقت اور ذمھ داریوں کے بوجھ کو سنبھالنا بہت مشکل ھوجاتا ہے تو اسے پہلے وھاں دھیان دینا پڑتا ہے جو بہت ہی خاص اور اہم ہوتے ہیں،!!!! اس لئے اس کے لئے بہت ہی وقت کی تنگی محسوس ہوتی ہے، کیونکھ ھر کام کی اپنی الگ الگ ضرورتیں اسکی اہمیت کے پیش نظر ہوتیں ہیں،!!!! یقینا جب آپ میری اس عمر کو پہنچیں گے تو شاید آپ کو احساس ھوگا،!!!

میں ایک اسی بارے میں ایک مضمون لکھ رہا ہوں جو جاری ہے،، شاید آپ نے ابھی پڑھا ہو جس کا عنوان ہے، " میں نے اپنی زندگی سے کیا سیکھا،" اس موضوع پر لکھنے کا مقصد ھی یہی تھا، کہ انسان کی زندگی کے ھر دور کے مطابق اسکی اپنی کچھ اھم ذمھ داریاں اس وقت کے لحاظ سے ھوتی ہیں کہ اگر وہ وقت نکل گیا تو پھر نہ ھاتھ آئے گا اور نھ ہی وہ کام دوبارہ ھوسکے گا،!!!!!

جو کچھ میں نے اپنی زندگی سے سیکھا ہے، اس کے کچھ پہلو سامنے لانے کی کوشش کروں گا، ہوسکتا ہے کہ میری باتون سے لوگوں کا کچھ اختلاف بھی ہو،!!!!

وقت کے ساتھ ساتھ اگرھم اپنی ذمہ داریوں جس میں ھمارے مذھبی حقوق و فرائض بھی شامل ہیں، پورا نہ کرسکیں تو ہم ہی خسارے میں رہیں گے،!!!!

ٹھیک ہے آپ سب بھی اس موضوع پر بحث کرسکتے ہیں، تاکہ سب اپنی اپنی سمجھ اور لیاقت سے ھم سب کی معلومات میں اضافہ کریں جس سے ھم سب سبق بھی حاصل کرسکیں گے،!!!

بہت شکریہ،!!!!

Last edited by عبدالرحمن سید; 20-06-11 at 05:46 PM.
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, کباب, ٹریفک, پیاروں, پیارے, پسند, پسندیدہ, قلفی, لوگ, نظر, مہنگائی, مفت, موبائل, آج, آدمی, بچپن, بچوں, جیل, حسن, دل, رات, سفر, شہر, شور, عالم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مغربی ممالک خیراتی کاموں میں پیش پیش۔ ابن جمال متفرقات 0 07-02-11 01:42 PM
عالمی ایٹمی ایجنسی کی دہری پالیسی، اسرائیل کیخلاف عرب ممالک کی قرارداد مسترد کردی محمد عاصم خبریں 9 26-09-10 11:49 PM
لڑکیو ں‌ کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز جان جی گپ شپ 1 20-08-08 08:56 PM
’ایران پالیسی، نظرِ ثانی کی ضرورت‘ چاچا کمال خبریں 0 04-12-07 11:37 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:06 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger