|
یورپ: سرحدوں سے آگے۔۔۔

22-12-07, 07:24 PM
یورپ میں چوبیس ممالک کے درمیان سرحدی پابندیاں ختم ہو نے کے بعد یورپ کے باشندوں ميں ڈر کے ساتھ ساتھ امید پیدا ہوگئی ہے۔
پولینڈ کے زگورزیلخ علاقے کے انگو گئیرز اور انیتا مریس اس وقت صرف اپنی شادی کے بارے میں سوچ رہے ہيں۔ انگو ایک جرمن ہیں جبکہ انیتا پولینڈ کی شہری ہیں۔
ان کی ملاقات تین برس قبل یوروپا نامی ایک مقامی رستراں میں ہوئی تھی۔گیئرز بتاتے ہيں کہ ہم دونوں کا تعلق ایک ایسے شہر سے ہے جو ایک دریا اور ایک سرحد کے سبب دو حصّوں میں تقسیم ہے۔’ اب سرحد پر پابندی کے خاتمے کے بعد ہم نے سوچا کہ شادی کے لیے ہم جرمنی کے رجسٹری کے دفتر میں جائيں جب کہ شادی کا جشن منانے کے لیے پیدل پولینڈ کے ریستوراں جائیں‘ ۔
بچپن میں ایک کمیونسٹ ملک (پولینڈ) ميں بڑی ہونے والی انیتا مریس نے ہمیشہ سے زگورزیلک سے گوئرلٹز جانے کے خواب دیکھا کرتی تھیں۔ لیکن اب اصلیت میں ان کی محبت کے درمیان کوئی سرحد نہیں ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی شادی کی رات میونسپل کارکنان نے اس پل کو توڑ دیا جو کبھی شہر کو دو حصّوں میں تقسیم کرتا تھا۔
انیتا اور انگو کے علاوہ اگر پولینڈ کے باسکٹ بال کھیل کے شائقین کی بات کریں تو ان کی بھی خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہے۔ پولینڈ کے زگورزیلک علاقے کے باسکٹ بال کے شائقین ہمیشہ یوروپيئن لیگ کے میچوں کے دوران چیک رپبلک جاتے ہیں کیوں ان کے یہاں کا سپورٹس ہال کافی چھوٹا ہے۔
انہيں خوش ہونے کا ایک اور موقع مل گیا ہے۔سرحدوں کے کھلنے پر ٹیم کے مینیجر ارکا ڈیوز کريئجئر کا کہنا تھا’ اب کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے آسانی ہو جائے گی‘۔
انہوں نے مزید کہا’میں اپنے آپ کو اب پورے طور پر یوروپی محسوس کرتاہوں۔ میرے ذہن میں اب کوئی سرحدیں نہیں ہیں۔ اس لیے مجھے بہت اچھا لگاتا ہے جب ہماری ٹیم اور شائقین میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہوتے ہیں‘۔
ایک مقامی صحافی الیکزینڈر پٹیورا بھی کافی خوش نظر آئے۔ وہ اپنے کام کے لیے ایک دن میں تقریباً پانچ سے چھ مرتبہ سرحد پار کرتے ہیں۔’ اب مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑتا اور اس طرح یہ میرے لیے ایک بڑی سہولت ہے‘۔
لیکن اس فیصلے سے جرمنی کی پولیس کو تبادلوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے سبب پولیس کی یونئین نے اجتجاج بھی شروع کر دیا ہے۔
یونیئن کے رہنما جؤرگین سٹارک کا کہنا ہے کہ یورپی کا منصوبہ اچھا تو بہت ہے لیکن مجرموں کے لیے نہیں۔’ جرمنی کے لیے اب نئے حالات پیدا ہو گئے ہیں ہمیں دیکھنا ہے کہ اگے کیا ہوتا ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ پولینڈ میں غیر قانونی طور پر رہنے والے کئی افراد اب جرمنی آ جائيں‘۔
تقریباً 60 فیصد جرمن مانتے ہیں کہ سرحد کھلنے سے جرائم میں اضافہ ہو گا۔ سکیورٹی کے ماہر پیٹر ہاف مین کا کہنا ہے الارم اور تالوں کی خریداری میں 25 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔ لیکن ان کا مزید کہنا ہے’ لوگوں کے اندر یہ ڈر پیدا نہيں ہونا چاہیے کیونکہ مجرم سرحدی پابندیوں کا خیال نہیں رکھتے ہیں‘۔
__________________
----------

|
محمدعدنان
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|