| دیوان غالب کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا مرزہ اسد اللہ خان غالب صاحب کی شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,345
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زُلف کے سر ہونے تک دامِ ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگ دیکھیں کیا گُزرے ہے قطرے پہ گُہر ہونے تک عاشقی صبر طلب ، اور تمنّا بیتاب دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونےتک ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے ، لیکن خاک ہوجائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک پرتوِ خُور سے ، ہے شبنم کو فنا کی تعلیم میں بھی ہوں ، ایک عنایت کی نظر ہونے تک یک نظر بیش نہیں فُرصتِ ہستی غافل ! گرمئِ بزم ہے اِک رقصِ شرر ہونے تک غمِ ہستی کا ، اسدؔ ! کس سے ہو جُز مرگ ، علاج شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک |
|
|
|