| دیوان غالب کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا مرزہ اسد اللہ خان غالب صاحب کی شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Member
اجنبی
|
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟
روئیں گے ہم ہزار بار ،کوئی ہمیں ستائے کیوں؟ دَیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم، غیر ہمیں اُٹھائے کیوں؟ جب وہ جمالِ دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روز آپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپائے کیوں؟ دشنۂ غمزہ جاں ستاں، ناوکِ ناز بے پناہ تیرا ہی عکس رُخ سہی، سامنے تیرے آئے کیوں؟ قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟ حسن اور اس پہ حسنِ ظن، رہ گئی بوالہوس کی شرم اپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں؟ واں وہ غرورِ عزّ و ناز، یاں یہ حجابِ پاس وضع راہ میں ہم ملیں کہاں، بزم میں وہ بلائے کیوں؟ ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہی جس کو ہوں دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟ غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں روئیے زار زار کیا؟ کیجئے ہائے ہائے کیوں؟ |
|
|
|
| sonojesus کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (22-09-11) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,139
شکریہ: 52,552
11,191 مراسلہ میں 35,291 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب۔ میری پسندیدہ۔
جگجیت سنگھ نے کیا خوب گایا ہے- |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| گے, گئی, پہ, پہلے, وفا, نجات, موت, آدمی, اپنے, بے, بلائے, بار, تیرا, جائے, حیات, حسن, خدا, دل, درد, راہ, سامنے, عکس, عزیز, غالب, غرورِ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| حکومت تو عوام کی دعائیں لگ گئ تو ---------- | Haya 786 | گپ شپ | 7 | 25-02-11 10:42 AM |
| عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی | جاویداسد | خبریں | 2 | 21-09-10 08:12 PM |
| ميں تو نفرت ہوں تو محبت کا سمندر ہے | Wahid Mahmood | شعر و شاعری | 1 | 11-03-10 11:10 PM |
| آؤ پشتو سیکھیں = راشہ پشتو ذدہ کہ | محمد کاشف حبیب | پشتو فورمز | 113 | 09-07-09 08:30 PM |
| تو نے کہا تو تیری تمنا ہی چھوڑ دی | Shani | شعر و شاعری | 3 | 19-11-08 08:22 PM |