| دیوان غالب کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا مرزہ اسد اللہ خان غالب صاحب کی شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,345
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عشق تاثیر سے نومید نہیں
جاں سپاری شجرِ بید نہیں سلطنت دست بَدَست آئی ہے جامِ مے خاتمِ جمشید نہیں ہے تجلی تری سامانِ وجود ذرّہ بے پر توِ خورشید نہیں رازِ معشوق نہ رسوا ہو جائے ورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں گردشِ رنگِ طرب سے ڈر ہے غمِ محرومئ جاوید نہیں کہتے ہیں جیتے ہیں اُمّید پہ لوگ ہم کو جینے کی بھی امّید نہیں |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,228
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت زبر دست ہے خرم جی ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ !
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny. |
|
|
|