| دیوان غالب کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا مرزہ اسد اللہ خان غالب صاحب کی شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,346
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گر نہ ‘اندوہِ شبِ فرقت ‘بیاں ہو جائے گا
بے تکلف، داغِ مہ مُہرِ دہاں ہوجائے گا زہرہ گر ایسا ہی شامِ ہجر میں ہوتا ہے آب پر توِ مہتاب سیلِ خانماں ہوجائے گا لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ، مگر ایسی باتوں سے وہ کافر بدگماں ہوجائے گا دل کو ہم صرفِ وفا سمجھے تھے، کیا معلوم تھا یعنی یہ پہلے ہی نذرِ امتحاں ہوجائے گا سب کے دل میں ہے جگہ تیری، جو تو راضی ہوا مجھ پہ گویا، اک زمانہ مہرباں ہوجائے گا گر نگاہِ گرم فرماتی رہی تعلیمِ ضبط شعلہ خس میں، جیسے خوں رگ میں، نہاں ہوجائے گا باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر ہر گلِ تر ایک "چشمِ خوں فشاں" ہوجائے گا واۓ گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہوجائے گا فائدہ کیا؟ سوچ، آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ دوستی ناداں کی ہے، جی کا زیاں ہوجائے گا |
|
|
|