| دیوان غالب کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا مرزہ اسد اللہ خان غالب صاحب کی شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,346
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں
اِک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیں کس منہ سے شکر کیجئے اس لطف خاص کا پرسش ہے اور پائے سخن درمیاں نہیں ہم کو ستم عزیز، ستم گر کو ہم عزیز نا مہرباں نہیں ہے اگر مہرباں نہیں بوسہ نہیں، نہ دیجیے دشنام ہی سہی آخر زباں تو رکھتے ہو تم، گر دہاں نہیں ہر چند جاں گدازئِ قہروعتاب ہے ہر چند پشت گرمئِ تاب و تواں نہیں جاں مطربِ ترانہ ھَل مِن مَزِید ہے لب پر دہ سنجِ زمزمۂِ الاَماں نہیں خنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دو نیم دل میں چُھری چبھو مژہ گر خونچکاں نہیں ہے ننگِ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہو ہے عارِدل نفس اگر آذر فشاں نہیں نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خراب سو گز زمیں کے بدلے بیاباں گراں نہیں کہتے ہو “ کیا لکھا ہے تری سرنوشت میں“ گویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کی رُوح القُدُس اگرچہ مرا ہم زباں نہیں جاں ہے بہائے بوسہ ولے کیوں کہے ابھی غالبؔ کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاںنہیں |
|
|
|