| دیوان غالب کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا مرزہ اسد اللہ خان غالب صاحب کی شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,346
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفائے گُل
بُلبُل کے کاروبارپہ ہیں خندہ ہائے گُل آزادئ نسـیم مبارک کہ ہـر طـرف ٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ دامِ ہوائے گُل جو تھا ، سو موجِ رنگ کے دھوکے میں مر گیا اے وائے ، نالۂ لبِ خونیں نوائے گُل ! خوش حال اُس حریفِ سیہ مست کا، کہ جو رکھتا ہو مثلِ سایۂ گُل ، سر بہ پائے گُل ایجاد کرتی ہے اُسے تیرے لیے بہار میرا رقیب ہے نَفَسِ عطر سائے گُل شرمندہ رکھتے ہیں مجھے بادِ بہار سے میناۓ بے شراب و دلِ بے ہوائے گُل سطوت سے تیرے جلوۂ حُسنِ غیور کی خوں ہے مری نگاہ میں رنگِ ادائے گُل تیرے ہی جلوے کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک بے اختیار دوڑے ہے گُل در قفائے گُل غالبؔ ! مجھے ہے اُس سے ہم آغوشی آرزو جس کا خیال ہے گُلِ جیبِ قبائے گُل |
|
|
|