| دیگر تحقیقات دیگر تحقیقات |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ایکسرے اور ریڈیم کی دریافت
ایک روز جرمن یونیورسٹی کا ایک پروفیسر ولہم رﺅنٹیجن، خلائی نلکیوں سے تجربہ کر رہا تھا۔ وہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہا تھا، کہ ان خلائی نلکیوں کی لطیف بنائی ہوئی گیسوں میں سے جب برقی رو گزاری جاتی ہے تو پھر کیا ہوتا ہے۔اس نے خلائی نلکی کو کالے گتّے سے ڈھانپ رکھا تھا۔ تاکہ برقی رو سے نکلنے والی روشنی کو روکا جا سکے۔ پاس ہی ایک بینچ پر کاغذ کا ایک ٹکڑ پڑا تھا جس پر کیمیاوی رنگ چڑھا یا گیا تھا تاکہ جب الٹراوائلٹ شعاعیں اس سے ٹکرائیں تو ان کے عمل سے روشنی کی مخصوص خاصیت نمودار ہو سکے۔ روشنی کی یہ مخصوص خاصیت اندھیرے میں چمکنے والی شے سے مختلف ہے۔ چونکہ بعد کی یہ خاصیت جب عام روشنی کے سامنے آتی ہے توکچھ دیر کے لیے خود بخود چمکنے لگتی ہے لیکن شفاف سطح اس وقت تک چمکے گی جب تک شعاعیں اس سے ٹکراتی رہیں گی۔ جب رﺅنٹیجن نے ڈھکی ہوئی ٹیوب میں برقی شعلہ پیدا کیا تو وہ یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ رنگ چڑھا کاغذ شفاف ہو گیا ہے۔ وہ کاغذ وہاں پڑا ہوا چمک رہا تھا جب کہ کوئی بھی خفیہ روشنی ڈھکی ہوئی نلکی میں سے نہیں نکل سکتی تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ کچھ ایسی شعاعیں جو نظر نہیں آتی تھیںاُس نلکی سے نکل رہی تھیں اور اس کاغذ کو اس طرح چمکنے پر مجبور کر رہی تھیں۔ جب رﺅنٹیجن نے نلکی کے گتّے کے ڈھکن کے سوا باقی دوسری اشیا کی آزمائش کی مثلاً لکڑی، کاغذ اور کپڑے کی چھان بین کی تو اسے پتہ چلا کہ یہ چیزیں کوئی مزاحمت نہیں پیش کرتی تھیں۔ یہ چیزیں بھی اَن دیکھی شعاعوں کے سامنے شفاف ہو گئی تھیں۔ اُس نے فوٹو گرافی کی پلیٹوں کی آزمائش کی تو اُس نے دیکھا کہ وہ دھندلی ہو گئی ہیں، جیسے اُن پر بجلی گر پڑی ہو۔ البتہ دھاتوں نے مزاحمت پیش کی۔ان شعاعوں کو اشیا کی طرف سے پیش کی جانے والی مزاحمت کے فرق نے (خاص طور پر گوشت اور ہڈّیوں کے درمیان)اس بات کو ممکن بنایاکہ ایک زندہ جسم کے اندر کے ڈھانچے کو دیکھا جا سکے۔ ماہ نومبر1895میں رﺅنٹیجن نے ان نئی اور پُر اسرار شعاعوں کے متعلق جو دریافت کی تھیں اس کے مطابق اس نے ان شعاعوں کو ”ایکسرے“ کا نام دیا۔ چونکہ علمِ ریاضی میں ایکس ایک نا معلوم مقدار کی علامت ہے۔ بہر کیف ان شعاعوں کے دریافت کنندہ کے نام پر انھیں رسمی طور سے رﺅنٹیجن شعاعوں کا نام دیا گیااور وہ یورپ میں عام طور سے ابھی تک انھی شعاعوں کے نام سے مشہور ہیں۔ امریکہ میں ہم ان شعاعوں کو ایکسرے کہتے ہیں۔ بہ نام رﺅنٹیجن نے ہی انھیں دیا تھا۔ جن اشیا میں سے روشنی نہیں گزر سکتی ان سے یہ شعاعیں کیوںکر آسانی سے گزر سکتی ہیں۔ اس لیے ایکسرے صنعتی اور معالجاتی میدانوں میں بیش بہا ثابت ہوئی۔ بالخصوص موخر الذکر میدان میں جہاں بنی نوع انسان کی خاطر ان کی خدمت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ سائنسداں فوراً اِن اَن دیکھی شعاعوں کی تحقیق میں جُٹ گئے لیکن 1912تک کوئی یقین سے یہ نہ کہہ سکا، کہ یہ شعاعیں کیا ہیں۔ ایک فرانسیسی ماہر طبیعات نے جس کا نام بیکوریل تھا یہ بات دیکھی کہ ایک ایکسرے نلکی سے جب شعاعیں نکلتی ہیں، تو سبزی مائل روشنی سے چمکنے لگتی ہےں۔ وہ اس بات پر حیران ہو رہا تھا کہ کیا وہ چیزیں جو شفاف بن جاتی ہیں، وہ بھی ریڈیائی لہریں چھوڑتی ہیں کہ نہیں؟ اس نے ایک سیاہ رنگ کے کاغذ میں بہت سی شفاف چیزیں لپیٹ دیں اور انھیں فوٹو گرافی کی ایک فلم کے نیچے رکھ دیا۔ ان میں ایک چیز یورنیم کا کھار تھی۔ اس چیز کے سوا کسی چیز پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس میں سے ایک ایسی شعاع نکلی جس نے فلم کو دُھندلا کر دیا۔ اس کے بعد اس نے یہ بات دریافت کی کہ یورنیم ایسا ہی کرے گا چاہے اسے شفاف بنایا جائے یا نہ بنایا جائے۔ اس نے اعلان کیا— ”یہ مادہ کی ایک نئی خصوصیت ریڈیائی گرم تابی ہے۔“ اس نے پہلے پہل یہ لفظ گھڑا۔ ایک طویل اور تھکا دینے والے سائنسی مسئلہ کے سلسلہ میں پروفیسر اور مادام کیوری میاں بیوی پہلی ایک روشن مثال ہیں جنھوں نے مل کر یہ کام کیا۔ مادام کیوری مشہور سائنسداں پولینڈ کی رہنے والی ایک دبلی پتلی عورت تھیں۔ عمر بھر وہ مفلس اور نادار رہیں، اور حاسد ین ان سے حسد کرتے رہے۔ تا ہم اپنے کردار، اپنی ذہانت اور اپنی قوتِ ارادی سے انھوں نے کامیابی اور شہرت حاصل کی۔ وہ اس صدی کے صفِ اوّل کے سائنس دانوں میں شمار کی گئیں۔ میری سکلودرواسکا پولینڈ کی راجدھانی وارسا میں پیدا ہوئیں۔ اس ملک پر اس وقت زار کی حکمرانی تھی مشہور نغمہ نگار شوپن کی طرح ساری زندگی ان کے دل میں حب الوطنی کی شمع روشن رہی۔ ان کے والد یونیورسٹی میں علمِ طبیعات کے پروفیسر تھے۔ میری، جس کا نام اس وقت مانیا تھا اچھی تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ بالخصوص جدید زبانوں کی تعلیم۔ یہ اس کا تنہا ورثہ تھا اور اس سے اس نے سترہ برس کی عمر میں ایک اُستانی کے پیشہ سے آغاز کیا۔ وہ اپنی آدھی تنخواہ، اپنی بہن کو بھجوا دیتی تھی، جو اس وقت پیرس میں تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ میری نے سائنس میں ماسٹر ڈگری کے لیے سوربون میں اپنا نام رجسٹرڈ کروایا۔ جلد ہی اس نے اپنے بول نام مانیاکی جگہ اپنا نام میری رکھ لیا ۔ چونکہ جس سے بھی اس کی فرانس میں ملاقات ہوئی۔ اسے اس کے بول نام کے ہجے کرنے میں دقّت پیش آئی۔ لیکن اس نے اپنے نام کا آخری جز سکلودوواسکا نہ بدلا۔وہ چاہے بگاڑ کر ہی اس کے ہجے کرتے رہے۔ لا طینی شعبے میں اسے پولینڈ کے چند اور طالب علم بھی ملے۔یہاں نوجوانوں کو اجازت تھی کہ وہ آزاد پولینڈ کے متعلق جتنی بلند آواز سے چاہیں، نعرے لگا سکتے ہیں، اور انھیں سائبیریا بھیجے جانے کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ یونیورسٹی کے ایّام میں میری کی زندگی کا یہ ایک درخشاں باب تھا۔ سال کے ختم ہونے پر اس کے لیے اپنی بہن کا گھر چھوڑنا اور اپنا ایک گھر بنانا ضروری ہو گیا۔ اس کے پاس اخراجات کے لیے صرف تین فرانک روزانہ کے حساب سے روپیہ تھا۔ ان دنوں امریکی روپئے میں یہ تقریباً 60سینٹ بنتے تھے۔ اس نے ایک چھوٹا سا عقبی کمرہ کرایے پر لے لیا۔ اس کمرے میں صرف ایک کھڑکی کے ذریعے سورج کی روشنی آ سکتی تھی۔ اس کمرے میں حرارت پہنچانے کا، روشنی اور پانی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ وہ الکوحل کی انگیٹھی پر اپنا کھانا پکاتی تھی۔ اپنی دوسری انگیٹھی کو جلانے کے لیے اسے یہ انگیٹھی سیڑھیوں کے اوپر لے جانی پڑتی تھی۔ بعض اوقات اسے پانی کی بالٹی بھی سیڑھیاں چڑھ کر لانی پڑتی تھی۔ لیکن وہ سردیوں میں کئی راتیں اور دن ٹھنڈ ہی میں بسر کرتی تھی تاکہ ایندھن بچا سکے اور بہت سے دن ایسے بھی آتے تھے جب وہ روٹی اور چائے کے سوا اور کچھ نہیں کھاتی پیتی تھی۔ اس نے سوربون میں جب امتحان پاس کر لیا، تو وارسا میں اس کے ایک دوست نے ایسا انتظام کیا کہ اسے النیگزینیہ رووچ وظیفہ مل جائے، جو صرف ان ذہین طلبہ کو ملتا تھا، جو غیر ممالک میں جا کر پڑھنا چاہتے تھے۔ یہ وظیفہ چھ سو روبل سالانہ کا تھا۔ اس سے سال بھر بمشکل گزارہ ہوتا تھا۔ان دنوں ایک روبل صرف 50سینٹ کا تھا لیکن اس نے اتنے میں ہی گزارا کیا۔ بعد کے برسوں میں اس نے اپنی بچت کی رقم میں سے ایک ایک روبل لوٹا دیا، تاکہ اور کوئی طالب علم اس روپئے کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے حاصل کر سکے۔ 1895میں میری نے سائنس کے ایک نوجوان پروفیسر پیر ی کیوری سے شادی کر لی۔ یہ شخص فرانس کے بجائے غیر ممالک میں زیادہ مشہور تھا۔ اس کے بعد تحقیق و تفتیش کے کام میں ساتھیوں کی حیثیت سے میاں بیوی کی مسرّت بخش شراکت کا دور شروع ہوا۔ ان کے یہاں دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ بڑی لڑکی ایریسن کی قسمت میں خود نوبل انعام حاصل کرنا لکھا تھا لیکن ماں ہونے کا مطلب یہ تھا کہ میری گھر کا کام بھی کرے، اور بچوں کی دیکھ بھال بھی کرے۔اس کے باوجود اس نے سائنس سے متعلق اپنا کام ترک نہ کیا۔ اس کا خاوند اس کے قریب تھا اور وہ رونٹیجن اور بیکوریل کی دریافتوں سے بالخصوص موخرالذکر کے ”ریڈیائی گرم تابی“ کے متعلق نظریے سے بہت مسحور ہوئی تھی— اس ریڈیائی گرم تابی کی خصوصیت کیا تھی؟ یہ دریافت کا ایک ولولہ انگیز میدان دکھائی دیتا تھا۔ میری نے اس مسئلہ پر کام کرنا شروع کر دیا۔ اسے جلد ہی اس بات کا پتہ چل گیا کہ بعض دھاتوں اور کچھ دھاتوں کی ریڈیائی گرم تابی ان مرکبات میں پائی جانے والی یورنیم یا تھیوریم دھاتوں کی مقدار سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔یورنیم اور تھیوریم دو ایسے عناصر تھے جن میں رونٹیجن اور بیکوریل نے ریڈیائی گرم تابی دیکھی تھی۔ یہ ایک غلطی نظر آتی تھی۔ اس نے دس اور بیس مرتبہ تجربہ کیا، مگر نتائج وہی نکلتے تھے۔اسے پتہ چلا کہ پچ بلینڈ— جو یورنیم کی مصنوعات ہے، خالص یورنیم سے پانچ گنا زیادہ ریڈیائی گرم تاب ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اس کچّی دھات میں کوئی اور ریڈیائی گرم تاب چیز بھی تھی۔ مزید تجربے کرنے پر اس نے دو جوہر دریافت کیے، جو یورنیم سے زیادہ ریڈیائی گرم تاب تھے۔ جولائی 1898میں کیوری کنبہ نے یورنیم سے چار سو گنا زیادہ ایک ریڈیائی گرم تاب کیمیاوی عنصر کی موجودگی کا اعلان کیا۔اپنے وطن کے نام پر اس کو میری نے پولونیم کا نام دیا۔بار بار بہت سے تجربے کرنے کے بعد کیوری کنبہ ایک ایسے شفاف جوہر کو تشکیل دینے میں کامیاب ہو گیا، جو یورنیم سے نو سو گنا زیادہ ریڈیائی گرم تاب تھا۔ ایسا کوئی اور عنصر بھی ہوگا۔ لہٰذا اسی سال ماہ دسمبر میں کیوری کنبہ نے ایک اور اعلان کیاکہ انھوں نے ایک ریڈیائی گرم تاب کیمیاوی جوہر دریافت کیا ہے۔ اس کو انھوں نے ریڈیم کا نام دیا۔ یہ لاطینی زبان کے لفظ ریڈیر سے لیا گیا تھاجس کا مطلب ہے شعاعیں برسانے والا— چار سال کے بعد میری صرف ایک گرام ریڈیم کلورائڈ کو الگ کرنے میں کامیاب ہو سکی۔ لیکن وہ آٹھ سال کے بعد ہی آخرکار خالص ریڈیم الگ کرنے میں کامیاب ہوئی۔ یہ ایک ایسا عنصر ہے۔ جسے سائنس کے مصنفین یورنیم سے لگ بھگ دس لاکھ اور چالیس لاکھ گنا سے زیادہ ریڈیائی گرم تاب بیان کرتے ہیں۔ یہ تمام دریافتیں برسوں کی بے کیف اور کڑی محنت کا نتیجہ ہیں۔ پیرس کے علم طبیعیات سے متعلق اسکول کے ڈائرکٹر نے کیوری کنبہ کو اسکول کے احاطہ میں شیشوں والے گودام کو تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ اس کمرے کا کوئی فرش نہیں تھا۔ کوئی سہولت اور ساز و سامان بھی نہیں تھا۔ اپنے بیش بہا ریڈیم کے ٹکڑوں کے حصول کے علاوہ میری کو بھاری مقدار میں کچّی دھات سے نپٹنا اور اسے صاف کرنا پڑتا تھا، جو بوریوں میں بھر کر لائی جاتی تھی۔پیری بھی اپنی بیوی کے کام میں جوش و خروش سے حصہ لیتے تھے۔ اور اس کے پہلو بہ پہلو کڑی محنت کرتا تھالیکن ایک روز جب وہ پیرس کے ایک بازار میں سڑک کو پار کر رہے تھے، تو ٹیکسی کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ اپریل 1906کا ہے۔ اور وہ اس کام کو مکمل ہوتا ہوا بھی نہ دیکھ سکے۔ مادام کیوری کو1911میں علمِ کیمیا کا نوبل انعام دیا گیا۔یہ انعام اس نے اپنے نام پر نہیں، بلکہ اپنے خاوند کے نام پر قبول کیا۔ اس نے اپنے خاوند کے ساتھ 1903میں بھی علمِ طبیعیات میں نوبل انعام حاصل کیا تھا۔ دنیا کے دوسرے ممالک نے بھی اسے بہت سے تمغے اور اعزازات دیے۔ 1921میں مادام کیوری نے امریکہ کا دورہ کیا۔ یہاں مسز ولہم براﺅن مولو نے امریکی عورتوں کے درمیان ملکی پیمانہ پر ایک مہم جاری کی تھی، کہ اتنا چندہ جمع کیا جائے جس سے ایک گرام خالص ریڈیم خریدا جائے۔ اور اسے خراجِ تحسین کے طور پر بطور تحفہ دیا جائے۔ ایک گرام خالص ریڈیم کی قیمت 2500ڈالر تھی۔ اس وقت مادام کیوری کے پاس اپنی تجربہ گاہ میں صرف ایک گرام ریڈیم تھا۔ چندہ جمع کیا گیا اور مشہور سائنسداں میری اس تحفہ کو قبول کرنے کے لیے اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ امریکہ آئی۔ امریکہ کے صدر نے وہائٹ ہاﺅس میں یہ تحفے پیش کیے۔ اس کے علاوہ اسے امریکہ میں بے شمار دعوتیں،انٹرویوز اور اعزازی ڈگریاں دی گئیں۔ ایکسرے کی طرح سب سے پہلے ریڈیم سے علمِ ادویات کے شعبے میں بنی نوع انسان کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا۔ پیچ بلنڈے کی بہترین کچّی دھات کنیڈا کے گریٹ بیٹر علاقہ میں ملتی ہے۔ لیکن ایک گرام ریڈیم پیدا کرنے کے لیے دس ٹن یہ کچّی دھات درکار ہوتی ہے۔ دوسری کچّی دھاتیں اس خوش اسلوبی سے ریڈیم پیدا نہیں کرتیں۔ دوسری بہترین دھات افریقہ سے سپلائی ہوتی ہے۔ مگر اس بیش بہا جوہر کا ایک گرام پیدا کرنے کے لیے اس کی دگنی مقدار صرف ہوتی ہے۔ بعد کی تحقیق کی بنیاد پر اس تازہ دریافت ریڈیم کے مطالعے سے سائنس میں ایک نئے تصوّر نے جنم لیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ریڈیم ایک بھاری عنصر یورنیم سے پیداہوا ہے۔ مگر خود ریڈیم نے ایک اور عنصر ہیلیم کو جنم دیا ہے۔ یہ عنصر مادہ کی بے جان اور غیر عضویاتی زندگی میں بھی ارتقا کی ایک نئی کہانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ریڈیم کے مطالعے سے یہ دریافت ہوا ہے، کہ پر مانو اب ایک ایسا لفظ نہیںرہا جس کا مطلب ہے کہ وہ تقسیم نہیں ہو سکتا۔ پرمانو مثبت اور منفی برقی توانائی کے ذرّوں پر مشتمل ہے۔ جنھیں الیکٹرون کہا جاتا ہے یا ان ناموں پر مشتمل ہے جو ”آن“ کے حروف پر ختم ہوتے ہیں۔ اب تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پرمانو بجائے خود ایک شمسی نظام ہے۔ سائنس دانوں نے اب ایسی مشینیں تیار کر لی ہیں جو پرمانو کے ٹکڑے کر سکتی ہیں اور ہم جنگ کے دوران ایک بے پناہ قوت کا بم پہلے ہی استعمال کر چکے ہیں۔ یعنی ایٹم بم جو پرمانو کی طرف سے چھوڑی ہوئی توانائی سے تباہی پھیلاتا ہے۔
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| فوٹو, لڑکی, نظر, مکمل, ممکن, ماں, معلوم, ایکسرے ریڈیم, ایٹم بم, انسان, امتحان, امریکہ, اعلیٰ, بہترین, بچوں, ترک, تعلیم, جلد, خوش, دوست, دریافت, زندگی, شخص, عورت, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| نظام شمسی جیسا ایک اور نظام دریافت کرلیا گیا | وجدان | دلچسپ اور عجیب | 1 | 05-11-08 01:50 AM |
| بینظیر کے سر کا ایکسرے موجود ہے موت کی وجہ کا پتہ چل سکتا ہے سردار اسحق | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 09:34 AM |
| نئے جین کی دریافت | عدنان | شعبہ طب | 0 | 22-12-07 08:58 PM |
| انسانوں میں’ہائیٹ جین‘ کی دریافت | چاچا کمال | شعبہ طب | 1 | 02-11-07 07:08 PM |
| نئے جین کی دریافت | چاچا کمال | شعبہ طب | 1 | 02-11-07 07:03 PM |