واپس چلیں   پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز > سائنس اور ٹیکنالوجی > دیگر تحقیقات



دیگر تحقیقات دیگر تحقیقات


صحت مند مسوڑے صحت مند دانت

اس موضوع کے 0 جوابات دیےگئے ہیں اور اسے 234 مرتبہ دیکھا گیا ہے
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-07-08, 05:01 PM   #1
Senior Member
 
راجہ صاحب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,701
کمائي: 34,604
ميرا موڈ:
شکریہ: 162
705 مراسلہ میں 1,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
Post صحت مند مسوڑے صحت مند دانت

صحت مند مسوڑے صحت مند دانت

عموماً والدین بچّوں کے دودھ کے دانتوں کی طرف سے لاپروائی برتتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ یہی دانت بعد ازاں اس وقت زندگی میں دانتوں کو مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، جب کہ بچپن میں ان کی حفاظت کی گئی ہو۔
دودھ کے دانت کیوں اہم ہوتے ہیں؟
یہ جبڑوں اور مسوڑھوں کی نشوونما میں مدد دیتے ہیں اور مستقل دانتوں کی صحیح جگہ نکلنے میں رہ نمائی کرتے ہیں۔ دانتوں کی حفاظت نہ کرنے کے باعث چہرے کی بناوٹ بھی متاثر ہوتی ہے۔ ان دانتوں کی جڑیں نہیں ہوتیں۔ یہ مستقل دانت نکلنے کے وقت ان ہی دانتوں کے کام آتی ہیں اور مستقبل میں دانتوں کے نکلنے کی جگہ کی نشان دہی کرتی ہیں۔
وقت سے پہلے دودھ کے دانت ضائع ہونے کا نقصان
اگر وقت سے پہلے دودھ کے دانت ضائع ہو جائیں تو مستقل دانت دیر سے آنے کا امکان بڑھ جاتا ہے یا یہ دانت اپنے وقت سے بہت پہلے ہی نکل آتے ہیں۔ اس لئے دانت بہت ہی سے نکلتے ہیں، ان کی صفائی سر درد بنی رہتی ہے۔ ان میں بیماری کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
دودھ کے دانت کس ترتیب سے نکلتے ہیں
اوپر کے جبڑے میں سات سے نو ماہ کی عمر میں، سامنے اوپر کے دو دانت، نو سے دس ماہ کی عمر میں، ان دانتوں کے اطراف میں دو دانت، ایک سال کی عمر میں پہلی دو داڑھیں، ڈیڑھ سال کی عمر میں، دو کیلیں یعنی چاروں دانتوں کے اطراف میں دو نوکیلے دانت، دو سال کی عمر میں، پہلی دو داڑھوں کے برابر کی دو داڑھیں، چھ سال کی عمر میں پہلی دو داڑھوں کے برابر داڑھیں۔نیچے کے جبڑے میں چھ ماہ کی عمر میں سامنے کے دو دانت، دس ماہ کی عمر میں ان کے اطراف میں وہ دانت، بارہ ماہ کی عمر میں پہلی دو داڑھیں۔ اٹھارہ ماہ کی عمر میں چار دانتوں کے اطراف میں دو نوکیلے دانت۔ چوبیس ماہ کی عمر میں دو دوسری دو داڑھیں اور چھ سال کی عمر میں تیسری دو داڑھیں۔
دودھ کے دانتوں کی حفاظت،کیسے کی جائے؟
ڈھائی سال کی عمر میں بچّوں کے دانتوں کا کسی مستند دانتوں کے ڈاکٹر سے معائنہ کرائیں اور اس کے مشوروں پر سختی سے عمل کریں۔ اگر آپ کے قرب و جوار میں دانتوں کا کوئی اچھا ڈاکٹر نہ ہو تو کھانے میں خمیر کیلئے استعمال کیا جانیوالا میٹھا سوڈا اور کھانے کا نمک برابر مقدار میں لے کر اس کا باریک ترین پائوڈر تیار کر لیں اور نرم ترین بالوں والے برش پر تھوڑی مقدار ڈال کے بچّے کو دانت صاف کرنا اس طرح سکھائیں کہ 90 ڈگری زاوئیے پر برش دانتوں پر اندر باہر اور نیچے سے اوپر پھیرا جائے تاکہ دانت کے کسی گوشے میں کوئی چیز لگی نہ رہ جائے۔ دوسال کی عمر میں اٹھ کر سونے سے پہلے اور ہر کھانے کے بعد بچّے کو اسی طرح دانت صاف کرنے کی عادت ڈلوائیں۔ انشاء اللہ تعالٰی پائوڈر کی تاثیر، دانت صاف کرنے کی اس عادت کے سبب بچّے مستقبل میں دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماریوں سے محفوظ رہیں گے۔ دانتوں کی حفاظت کے سلسلے میں ضروری ہے کہ دانتوں کے نکلنے سے پہلے یعنی ان کے بننے کے دوران اور بعد میں بھی بچّوں کو متوازن غذا کھلائی جائے، جس میں دودھ یا دودھ کے علاوہ اناج، دالوں، سبزیوں، دودھ سے بنائی جانیوالی غذا اور قلیل سی چکنائی سے تیار کردہ غذائیں بچّوں کو کھلانے کی کوشش کریں۔ خشک اور تازہ پھل بھی تھوڑی سی مقدار میں کھلائیں۔ متوازن غذا سے دانت مضبوط بنتے ہیں اور مستقل روزانہ دانتوں کی صفائی سے انہیں بیماریاں لگنے کا خدشہ کم سے کم تر ہو جاتا ہے۔
دانتوں کے وراثت میں ملے پیدائشی نقائص کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
بچّوں کی خراب عادات
مختلف وجوہ کی بنا پر بچّوں کو یہ خراب عادت پڑ جاتی ہے کہ وہ اپنا انگوٹھا، انگلیاں یا ہاتھ چوستے رہتے ہیں یا مستقلاً منہ میں رکھتے ہیں، اس کے نتیجے میں ان کے دانت باہر کے رخ ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض بچّے اپنے اوپر یا نیچے کے جبڑوں، مسوڑھوں کو باہر سے اندر کے رخ دباتے رہتے ہیں۔ اس عادت کے باعث بھی دانت اپنا رخ بدل لیتے ہیں۔
والدین کی لاپروائی
بعض والدین بچّوں کے دودھ کے دانتوں کی حفاظت نہیں کر پاتے، جس کے نتیجے میں ان کے دودھ کے دانت وقت سے کافی پہلے ہی گر جاتے ہیں اور بعض اوقات دودھ کے دانت وقت پر نہیں اکھڑتے اور والدین یہ سمجھتے ہیں کہ جب مستقل دانت نکلیں گے تو دودھ کے دانت خود بخود گر جائیں گے اور مستقل دانت ان کی جگہ لے لیں گے لیکن اس بے توجہی کی بدولت مستقل دانت اپنی صحیح جگہ نہ پا کر ٹیڑھے نکلتے ہیں اور دودھ کے دانت تب بہت تکلیف کے ساتھ دیر سے اکھڑتے ہیں۔ اس سے دانتوں کی صفائی میں بھی بہت دشواری پیش آتی ہے۔
پیدائشی نقائص
کبھی کبھار پیدائشی طور پر اوپر یا نیچے کے جبڑے کی ہڈی دوسرے جبڑے کی ہڈی سے کافی بڑی ہوتی ہے، اس لئے دانت ایک دوسرے کے اوپر نہیں آتے یا دونوں جبڑوں کی ہڈی اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ جب دانت نکلتے ہیں تو وہ جگہ نہ پا کر ٹیڑھے میڑے ہو جاتے ہیں۔ کبھی کبھار کچھ دانت بہت بڑے اور کچھ بہت ہی چھوٹے ہوتے ہیں۔
صحیح جگہ پر نہ ہونے کا علاج
بچّوں کے چہرے کو بدنمائی سے بچانے اور ان کے دانتوں اور مسوڑھوں کو صحت مند رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ والدین ایسے بچّوں کو ، جن کے دانت صحیح جگہ یا صحیح انداز میں نہ نکلے ہوں، فوری کسی مستند دانتوں کے ڈاکٹر کو دکھائیں۔ دانت کو اپنی جگہ لانے کا کام کٹھن، صبر آزما اور طویل عرصے میں مکمل ہوتا ہے۔ دانت بہت آہستہ آہستہ سے اپنی جگہ سے ہٹائے جاتے ہیں تاکہ ان کے ہلائے جانے کے باعث دانتوں کی جڑوں میں جو خلا ہو، اس نئی جگہ پر گوشت آ سکے۔ اس جگہ گوشت بڑھنے میں بھی کچھ وقت لگتا ہے۔ ہاں اگر دانتوں کو کافی دور لے جانا مقصود ہو یا بہت سے دانتوں کو اپنے اصل رخ لانا ہو تو اس کام کیلئے کچھ ماہ بھی درکار ہو سکتے ہیں۔ اس علاج میں مریض کو ذرا سی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔ کبھی کبھار دانتوں کو درست کرنے کیلئے لگائی جانیوالی تار سے معمولی سا درد ہو سکتا ہے یا درد کی شدت سے بے چین ہو کر بچّہ تار نکالنے کی کوشش کرتا ہے، اس سے تار اپنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے اور درد شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ایسی حالت میں بچّے کو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہئے۔ تار یا پلیٹ لگائے رکھنے کے دوران ان کے گرد ذرات جمنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، اس لئے اس علاج کے دوران دانتوں کی صفائی پر زیادہ توجہ دینی چاہئے، ہومیوپیتھک ٹوتھ پیسٹ سے دانت صاف کرانا زیادہ سود مند رہتا ہے۔ اگر بچّے کو تار لگانے کے علاوہ اسے پلیٹ بھی رکھنے کیلئے دی گئی ہو تو والدین کو چاہئے کہ بچّے کے دانت صاف کراتے وقت اس کی پلیٹ نکال کر خود دھوئیں۔ اس پلیٹ کو کبھی بھی گرم پانی یا جراثیم کش ادویات سے نہیں دھونا چاہئے کیونکہ اس کے مسالے کی بناوٹ میں کیمیائی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے۔ اس لئے پلیٹ کو ابال کر ٹھنڈے کئے گئے پانی سے دھونا یا دھلوانا چاہئے۔ اگر کسی وجہ سے اس پلیٹ کا کوئی حصہ یا تار کا کچھ حصہ ٹوٹ جائے تو فوری طور پر والدین کو مستند ڈینٹل سرجن یعنی دانتوں کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔
چھ سال کی عمر میں نکلنے والی مولر داڑھیں
دانتوں کی نگہداشت، دیکھ بھال اور صفائی ہر ایک کے لئے بہت ضروری ہے لیکن بچّوں کے سلسلے میں اس امر کی ایک خاص اہمیت ہے۔ کم عمری میں انہیں دانت صاف کرنے کے سلسلے میں مستقبل میں ہونیوالی تکلیف کا احساس دلانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس وقت لاپرواہی بعد میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ بچّہ جب چھ سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو دانتوں کی صفائی کے سلسلے میں ایک اہم موڑ آتا ہے یعنی اس کے دونوں جبڑوں میں دس دانتوں کے علاوہ دو اور دانتوں کا اضافہ ہوتا ہے، یہ دانت مولر داڑھیں کہلاتے ہیں۔ اگر ان کی حفاظت کی جائے تو بڑھاپے تک مستقل رہتے ہیں۔ اگر والدین ان کی طرف سے بے توجہی برتیں تو سب سے پہلے دانتوں میں یہی گلنا شروع ہوتی ہیں۔ لاپروائی اور لاعلمی کے باعث ان کی نگہداشت نہیں کی جاتی۔ ایک معالج کو چاہئے کہ وہ بچّوں کے والدین کو مسوڑھوں، مولر داڑھوں اور باقی دانتوں کی حفاظت کیلئے ضروری باتیں بتائے تاکہ والدین بچّوں کو شروع ہی سے درج ذیل باتوں کی اہمیت کا احساس دلائیں اور ان کا انہیں عادی بنائیں۔
1۔ والدین کو چاہئے کہ وہ روزانہ دیکھیں کہ بچّے نے نیند سے اٹھ کر سوتے وقت اور ہر کھانے کے بعد مسواک یا برش سے اپنے دانت صاف کئے ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو انہیں اس سستی سے پیدا ہونیوالی مستقبل کی تکالیف کا احساس دلائیں۔ اگر والدین ٹوتھ پیسٹ خریدنے کے متحمل نہ ہوں تو بچّوں کو برابر مقدار میں خمیر پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جانیوالا میٹھا سوڈا اور لاہوری نمک باریک ترین پسوا کر اس آمیزے کی قلیل سی مقدار سے برش یا مسواک کی مدد سے دانت صاف کرنا سکھائیں۔
2۔ بچّے خود بخود صحیح انداز میں دانت صاف کرنا نہیں سیکھ پاتے۔ اس کام کیلئے والدین کو ان کی مدد کرنی چاہئے۔
3۔ بچّوں کو تینوں کھانوں کے درمیانی وقفوں میں اور سوتے وقت میٹھی گولیاں، مٹھائیاں یا کسی قسم کے کولا یا دیگر مشروبات نہ دیں۔
4۔ بچّہ مسوڑھوں یا دانت میں ذرا سی تکلیف بھی بتائے تو والدین اسے معمولی جان کر نظر انداز نہ کریں بلکہ پہلی فرصت میں کسی مستند ڈاکٹر سے اس کا معائنہ کرا کے مشورہ حاصل کریں۔
مسوڑھوں کی بیماریاں
مسوڑھے نہ صرف دانتوں کو سہارا دیتے ہیں بلکہ ان کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ یہ تین طرح سے دانتوں کی حفاظت کے کام آتے ہیں۔ اول ان کے تندرست ہونے کی بدولت میل ان کے اور دانتوں کے ملاپ کی جگہ سے ہوتا ہوا دانتوں کی جڑوں تک نہیں پہنچ پاتا۔ دوئم یہ سیمنٹم اور لیگامنٹس سے مل کر جبڑے کی ہڈی سے دانتوں کو مضبوطی کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہنے میں مدد دیتے ہیں۔سوئم غذا چبانے کے دوران یہ شاک آبزربر کے طور پر کام کرتے ہیں۔
مسوڑھوں کی حفاظت
اگر بچپن ہی میں بچّوں کو مسوڑھوں کی حفاظت کی اہمیت کا احساس نہ دلایا جائے تو 35 سال کی عمر کے بعد دانتوں کے ضائع ہونے کے اسباب میں یہ سب سے اہم سبب ہوتا ہے۔ 1999ء کے ایک سروے کے مطابق 15 سال تک کی عمر کے 1200 بچّوں کے معائنہ کی بنیاد پر 924 کے دانت گلنے سے پہلے خراب پائے گئے یعنی 77 فیصد بچّے مکمل طور پر حفظان صحت کے اصولوں کے پابند نہیں تھے۔ ان میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کم تھی یا کسی اور مرض کی وجہ سے ان میں زخم کے بھرنے کی صلاحیت کم ہو گئی تھی۔
مسوڑھوں کی بیماری
مسوڑھوں کا ورم Ginggivitis کی پہچان یہ ہے کہ مسوڑھوں سے دانتوں کے باہر نکلنے کی جگہ مسوڑھے پہلے سرخ یا نیلاہٹ مائل سرخ ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد مسواک یا برش کرنے یا انگلی لگانے سے بھی ان سے خون جاری ہو جاتا ہے، جب تکلیف بڑھ جاتی ہے تو مسوڑھے زیادہ پھول کر دانتوں سے جدا ہونے لگتے ہیں اور دانتوں کی جڑیں دکھائی دینے لگتی ہیں۔ منہ سے بو آنے لگتی ہے اور منہ کا ذائقہ بھی درست نہیں رہتا۔
مسوڑھوں کی بیماریوں کے نمایاں اسباب
میٹھی چیزوں کا زیادہ استعمال، دانتوں کو باقاعدگی سے صاف نہ کرنا، غلط عادات کے باعث دانتوں کو بے ڈھب اور بے ترتیب کر دینا یا ان کا پیدائشی طور پر ایسا ہونا اور انہیں درست نہ کروانا، مسوڑھوں پر چوٹ لگنے کی طرف سے لاپروائی برتنا، کسی اور بیماری کے باعث بھی مسوڑے متاثر ہو سکتے ہیں مثلاً ذیابیطس، دل یا خون سے متعلق امراض یا بچّے میں کسی بھی وجہ سے ہیجانی کیفیت یا ذہنی اضطراب کا رہنا، ایڈز، یہ چند وہ بیماریاں ہیں، جن سے مسوڑھوں میں جراثیم کے خلاف قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے۔
مسوڑھوں کی بیماریوں سے بچائو
بچّوں کو متوازن غذا کھلائیں یعنی روزانہ بدل بدل کر مختلف قسم کا گوشت کبھی مچھلی، کبھی مرغی کبھی چھوٹے کا اور کبھی بڑے کا گوشت۔مختلف طرح کی موسمی سبزیاں، مختلف قسم کی دالیں موسم کے مطابق کبھی کبھار تازہ یا خشک پھل اور ہفتے میں دو بار متفرق غذائیں۔ موسم کے مطابق وقفے وقفے سے ایسی غذائیں بھی ضرور دیتے رہیں جن سے دانتوں اور مسوڑھوں کی ورزش ہو مثلاً گنڈیریاں، گاجر، مولی یا سیب وغیرہ۔
انہیں کھانے کے بعد صبح اٹھتے ہی اور رات سوتے وقت دانت صاف کرنے کا عادی بنائیں۔ اگر بچّے کے مسوڑھے پھولے دیکھیں تو تین دن تک پھول کتھے کا پیسٹ بنا کر بچّے کے سونے کے وقت اس کے مسوڑھوں پر لیپ کریں۔ اس سے شروع میں کچھ پانی خارج ہو گا اسے نکلنے دیں۔ اس عمل سے بھی مرض جاتا رہتا ہے یا اس میں خاطر خواہ کمی ہو جاتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
راجہ صاحب آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Bookmarks

Tags
پہچان, پھول, ورزش, چین, نیند, نظر, مکمل, اللہ, بچپن, خون, خلاف, زندگی, سال, صلاحیت, صاف, صبح, صبر, صحیح, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
خوب صورت صحت مند بال راجہ صاحب فیشن اور بیوٹی ٹپس 15 30-05-09 09:59 PM
ہڈیاں صحت مند تو جسم صحت مند راجہ صاحب دیگر تحقیقات 2 31-07-08 05:15 PM
ایک حوصلہ مند جوان میاں شاہد دلچسپ اور عجیب 13 19-07-08 10:16 AM
صحت مند افراد کو پیاس محسوس ہونے پر پانی پینا چاہیئے وجدان دلچسپ اور عجیب 1 19-05-08 05:34 PM
عُقابی پرواز کے خواہش مند غالب چاچا کمال عمومی بحث 3 20-07-07 08:01 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:16 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO 3.3.0
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2010,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger