واپس چلیں   پاکستان کی آواز > سائنس اور ٹیکنالوجی > دیگر تحقیقات



دیگر تحقیقات دیگر تحقیقات


گمشدہ بر اعظم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-09-11, 09:19 AM   #1
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,140
شکریہ: 52,552
11,191 مراسلہ میں 35,291 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default گمشدہ بر اعظم

گمشدہ بر اعظم

• 9 ہزار اور 12 ہزار قبل مسیح کے دوران بحر اوقاانوس میں واقع وہ کرہ ارض کا آٹھواں بر اعظم تھا۔
• سائنس اور ٹیکنالوجی میں وہ کافی ترقی یافتہ تھا۔اس کا رقبہ ڈیڑھ لاکھ مربع کلومیٹر تھا
• اس کی آبادی خوبصورت نقش و نگار اور لمبے قد کے دو کروڑ افراد پر مشتمل تھی۔
• ایک دن اور ایک رات کے دوران ہی وہ حسین براعظم صفحہ ہستی سے غائب ہو گیا۔

12000 اور 9000 قبل مسیح میں یورپ کے مغرب میں تقریبا 750 میل کے فاصلے پر بحر اوقیانوس میں ڈیڑھ لاکھ مربع میل رقبے اور 2 کروڑ افراد پر مشتمل زندگی سے بھرپور ہنستا کھیلتا دنیا کا آٹھواں بر اعظم ‘‘ایٹلانٹس’’واقع تھا جو ایک آفاقی واقعہ کا شکار ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ بہت سے لوگوں نے اسے ایسا افسانوی رنگ دینے کی کوشش کی کہ الف لیلہ کی کتابوں کو بھی مات دے دی۔اس سلسلہ میں متعدد انگریزی فلمیں بھی بنائی جا چُکی ہیں۔ جس میں حقیقت کم اور تصورات زیادہ نظر آتے ہیں۔ کسی نے بتایا کہ کسی سیارے کی مخلوق کرہ ارض پر اُتری تو یہی بر اعظم اس کے ہتھے چڑھ گیا۔ زبردست جنگ ہوئی جس کے نتیجہ میں یہ بر اعظم جو سرخ و سفید رنگت کے خوبصورت نقش و نگار والے مرد و خواتین پر مشتل تھا اور سائنس و ٹیکنالوجی میں کافی ترقی یافتہ تھا ، صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔کسی نے بتایا کہ یہ بر اعظم سمندر کی عمیق گہرایوں میں مفقود ہے۔ اس میں بسنے والے انسان اس دور سے بھی زیادہ ترقی یافتہ ہیں اور یہ کہ ہماری کئی آبدازوں نے ان کے پراسرار جہازوں کو سمندر کے نیچے رواں دواں دیکھا ہے جس کے باسیوں نے لیزر بیم اور دیگر انجانے ہتھیاروں سے ہماری آبدوزوں پر حملہ کیا جن کی رہنمائی ان کے بنائے ہوئے سپر کمپیوٹرز اور مصنوعی انسان کر رہے تھے ۔سوال یہ ہے کہ زیر آب ترقی یافتہ مخلوق انسانی اوپر آ کر اپنے بہن بھائیوں سے مل کیوں نہیں جاتی اور ان سے جنگ و جدل پر کیوں آمادہ ہے؟کیا وہ ہمیں وہی آفاقی مخلوق تو تصور نہیں کرتی جو انکے ااباواجداد اور انکے بر اعمی کی تباہی کا سبب بنی تھی۔

آئیے افسانوی دنیا سے نکل کر جدید سائنسی تحقیقات اور تاریخ کے آئینے میں اس پراسرار بر اعظم کا مشاہدہ کریں اور اس کے پراسرار حالات سے پردہ اُٹھائیں جو ہمارے لیے صرف دلچسپ ہی نہیں قابل عبرت بھی ہیں۔ کیونکہ کرہ ارض کا کوئی اور بر اعظم بھی انہی حالات کا شکار ہو سکتا ہے۔ ۔خدا نہ کرے کہ ایسا ہو لیکن قدرت کا اپنا سزا و جزا کا نظام اپنی جگہ برقرار ہے۔

سب سے پہلے 350 قبل مسیح میں ‘‘پلیٹو’’ نامی ایک شخص نے بر اعظم ایٹلانٹس کے بارے میں لکھا کہ ایال نٹس نامی بر اعظم اس دنیا میں موجود تھا۔ اس کا مجموعی رقبہ 154000 مربع کلومیٹر اور آبادی تقربا 2 کروڑ کے لگ بھگ تھی۔اس پر ایک شاندار حکومت قائم تھی۔ اس کو ایک پہاڑی سلسلہ اپنے حلقے میں لئے ہوئے تھا۔یہاں کے باشندوں کا عقیدہ تھا کہ یہاں کے سب سے بلند پہاڑ پر ان کا خدا مسکن پذیر ہے۔ جگہ جگہ پانی کے چشمے موجود تھے۔ جنگلوں میں ہاتھی اور دیگر نسلوں کے جانور دندناتے پھرتے تھے۔کھیتی باڑی اور نقل و حمل کے لیےنہروں کا جال بچھا ہوا تھا۔ دالسلطنت کے گرد چار دیواری تھی جس پر کانسی چڑھا ہوا تھا۔ محلوں اور عبادت گاہوں پر سونا چمکتے نظر آتا تھا۔ ۔اُس دور میں نصف کرہ ارض پر ایٹلانٹس کی تہذیب کا دور دورہ تھا۔ وہ بحیرہ روم کی ایک عظیم سلطنت پر حکومت کرتے تھے جو مصر اور اٹلی کی سرحدوں تک پہنچتی تھی۔ ابتدا میں اہل ایلا نٹس نے خود کو ایسی قوم کے طور پر پیش کیا جو اخوت اور اخلاقیات کو ہر چیز پر فوقیت دیتی تھی۔لیکن آگے چل کر ان لوگوں نے ان اعلیٰ اقدار کو بھلا دیا اور قوت اور مادی حصول نے انکو غلط راہ پر ڈال دیا اور وہ پوری دنیا کو فتح کرنے کے خواب دیکھنے لگے۔ لیکن پھر یونانیوں کے ہاتھوں ان کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اور پھر صرف ایک دن اور ایک رات کے اندر اندر اس براعظم کو سمندر نے نگل لیا۔
‘‘پلیوا’’ کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کو من گھڑت کہانی کہہ کر رد کر دیا لیکن تاریخ دانوں اور رازوں کے شوقین حضرات نے اس پر تحقیق و تفتیش کا دروازہ کھلا رکھا۔ چناچہ اس موضوع پر اب تک دس ہزار سے زائد کتابیں لکھی جا چُکی ہیں ۔ان میں سب سے زیادہ دلچسپ ‘‘ اوتو ہنرچ’’ کی تصنیف ‘‘دی سیکرٹس آف ایلا نٹک ’’ ہیں۔ اوٹو اعلیٰ درجے کا انجینر اور سائنس دان تھا۔اس کی یہ کتاب اس کی موت کے بعد 1976 میں جرمنی میں شائع ہوئی جو اُس وقت کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب شمار کی جاتی ہے۔ اگرچہ بہت سے ماہرین اس سے متفق نہیں ہیں تاہم وہ اس کو سنسنی خیز مقالہ ضرور قرار دیتے ہیں۔
اوٹو نے اپنی تصنیف میں جو حقائق پیش کیے اور جو سوالات اُٹھائے ، اُس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور محقق سنجیدگی سے ایلائنٹس کے وجود پر تحقیق کرنے میں مصروف ہو گئے۔اوٹو کا استدلال تھا کہ ایٹلانٹس کہاں غائب ہو گیا؟ اگر سمندر میں غرق ہو گیا تو اس کو سمندر کی تہہ میں تلاش کیوں نہیں کیا جاتاَ؟اوٹو کی زندگی میں تو اس سوال کا جواب نہ مل سکا۔ لیکن اوشنو گرافی نے ہمیں بحر اوقیانوس کی تہہ کی مکمل تصاویر فراہم کر دی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بحر اوقیانوس کو 9000 فیٹ بلند ایک پہاڑی سلسلہ دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس میں شمال میں آتش فشاں پہاڑ بھی ہیں اور ان پہاڑوں کی کُچھ چوٹیاں سمندر میں باہر کو نکلی ہوئی ہیں ۔جن کو ہم جزائر اوزورس کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ امر حیرت انگیز ہے کہ سمندر کے اندر اس سطح مرتفع کا سائز اور شکل 350 قبل مسیح کے مصنف ‘‘ پلیٹو’’ کے اُس بیان سے بالکل ملتی جُلتی ہیں جو اس نے ایٹلانٹس کے بارے میں بیان کیا تھا۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے جنوب مشرقی ریاست کیرولینا کے ساحل پر گول اور بیضوی شکل کے 3000 سے زائد گڑھے نظر آتے ہیں۔ اور سب سے اہم چیز وہ تشکیل شدہ دیوار ہے جو ان عجیب و غریب گڑھوں کے جنوب مشرق میں پائی گئی۔ اس دیوار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کسی انتہائی شدید جھٹکے کی وجہ سے وجود میں آئی ہیں۔ لیکن کیرولینا کے عجیب و غریب گڑھے اُن دو عظیم گڑھو ں کے مقابل کُچھ بھی نہیں جو ساحل سے پرے واقع ہیں جن کو ‘‘پورٹیکو’’ کی خندقوں کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ خندقیں 30000 فیٹ گہری اور 277000 مربع میل کی وسعت پر محیط ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ عظیم گڑھے اور دیگر عجیب و غریب گڑھے سطح سمندر سے نیچے کس طرح وقوع پذیر ہوئے۔350 قبل مسیح کے مصنف پلیٹو نے عظیم آتشزدگی کو اس دور کی مخلوق کی مکمل تباہی کا حوالہ بھی دیا ہے۔

اوٹو ہنرچ کا خیال ہے کہ اُس آتش زدگی کا ذمہ داو وہ چھوٹا سا محر ف سیارہ تھا جو سورج کے گرد خطرناک منحرف المرکز مداروں میں گردش کرتے رہتے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ سیارہ آسمان سے ایک دیو قامت راکٹ کی مانند کرہ ارض پر حملہ آور ہوا ۔ زیر بحر گڑھوں کی پیمائش کو مد نظر رکھتے ہوئے اُس سیارے کا قطر چھ میل کہا جاتا ہے۔
جب یہ سیارہ کرہ ارض سے 250 میل کی بلندی تک رہ گیا تو اس نے جلتی ہوئی ہائیڈروجن گیس کے شعلے خارج کرنا شروع کر دیے۔ اس کے پیچھے بیس یا تیس میل لمبی جلتی ہوئی گیسوں کی دُم شعلہ فشاں تھی۔ دو منٹ کے اندر اندر یہ سیارہ ہماری فضا کے سب سے ضخیم حصہ میں داخل ہو گیا اور پھٹ گیا۔ اس کے دو دیوقامت حصے جو کروڑوں ٹن وزنی تھی وہ پورٹیکو کے سمندر میں جا گرے جن سے موجودہ پورٹیکو کی خندقیں وجود میں آئیں۔ چھوٹے ٹکڑے کیرولینا میں جا کرے جو 3000 سے زائد گڑھوں کا سبب بنے ۔ اس سیارے کے دو اور بڑے ٹکڑے اس سلسلہ کوہ پر جا گرے جو بحر اوقیانوس کے وسط مین واقع ہے اور سطح زمین کے نازک ترین حصوں میں سے ایک ہے۔ انیع کی وجہ سے اس سلسلہ کوہ میں موجود تمام آتش فشاں پھٹ پڑے اور زلزلوں نے اس علاقے کو اپنی گرفت میں لے لیا اور اُس دور کا خوبصورت بر اعطم ایٹلانٹس جو اسی علاقے میں واقع تھا اس خوفناک ترین حادثے کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس کی تمام عمارات پتھروں کا ڈھیر بن گئیں۔ ہر طرف آگ کے شعلے بھڑک اُٹھے۔ ہر جانب قیامت کا سماں تھا۔ زمین نے نیچے گہرائیوں سے سُرخ گرم لاوا اُبل پڑا جو بحر اوقیانوس کی سطح پر بکھر گیا۔جس نے پانی کو اتنا گرم کر دیا کہ اس کے باعث سطح سمندر سے بیحد گرم بھاپ نہایت تیز رفتاری سے فضا کی جانب روانہ ہو گئی۔ ۔ تیز آندھیوں کے طوفان جن کے اپور سفید بادلوں جیسی چھتری تھی، فضا میں 15 کلومیٹر تک بلند ہو گئے، اس علاقے پر دھول اور گرم بھاپ کے ایسے عیم بادل چھا گئے جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

ایٹلانٹس کو سمندر نے نگل لیا: زمین نے نیچے سے اوپر خارج ہونے والے لاوہ کی بنا پر جو زیر زمین دباو پیدا ہوا اس کی وجہ سے ایٹلانٹس نیچے دھنسنا شروع ہو گیا۔ اوٹو ہنرچ کے تخمینے مطابق پورا بر اعظم ایٹلانٹس صرف 24 گھنٹوں میں سمندر کی تہہ میں روپوش ہو گیا۔ اور صرف پہاڑوں کی بلند ترین چوٹیاں سطح آب سے باہر رہ گئیں۔ جن کو ہم جزائر اوزورس سے موسوم کرتے ہیں۔ اس طرح 350 قبل مسیح کے مصنف پلیٹو کے مطابق بر اعظم ایٹلانٹس صرف ایک دہشت ناک دن اور ایک دہشت ناک رات میں صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔

اس سیارے کے زمین سے ٹکرانے کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے گئے۔ تمام بر اعظموں میں زلزلے رونما ہوئے۔ جنوبی امریکہ کا شمال مشرقی کونا بحر اوقیانوس کی طرف جھک گیا اور شمال مغربی کونا اوپر اُٹھ گیا۔ اس آفاقی حادثے کے نتیجے میں فضا میں ایک زبردست سیاہ بادل جو زہریلی گیسوں سے بھرا ہوا تھا، ہوا کے ساتھ پھسلتا ہوا، کرہ ارض کے جس جس حصے سے گزرتا گیا ،وہاں کو نیست و نابود کرتا گیا۔ اس عظیم خوفناک سیاہ بادل کے ثبوت میں اوٹو ہنرچ سائبیرا کی مثال پیش کرتا ہے جہاں اُس زمانے میں برف نہیں تھی۔ وہاں ڈائنو سارز جیسے عظیم الجثہ جانوروں کا بسیرا تھا۔ وہ سب آنا فانا اس کی گرفت میں آ کر ہلاک ہو گئے۔
اس عظیم حادثہ کی بنا پر کرہ ارض اپنے گردشی مدار میں ڈگمگا گیا۔ جس کی بنا پر قطب شمالی ایک جانب جھک گیا ، موسم میں یک لخت تبدیلی آ گئی اور سائبیریا برف سے ڈھک گیا۔

اوٹو ہنرچ اس سلسلے میں مزید دلائل پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ان خوفناک بادلوں میں کئی مکعب میل پانی بھی موجود تھا جو اُن عظیم سیلابوں کا موجب بنا جس کا ذکر بائیبل میں موجود ہے (غالبا طوفان نوح کا تذکرہ ہے)
350 قبل مسیح کی عظیم شخصیت پلیٹو نے اس حادثے کی بنا پر کیچڑ کے ایک سمندر کا تذکرہ کیا ہے جس کی بنا پر طویل عرصہ تک آبنائے جبرالڑ سے پرے جہاز رانی نا ممکن ہو گئی تھی۔ سیارے سے ٹکرانے کے باعث تباہی اس قدر شدید تھی کہ لوگ ایٹلانٹس کو بھلا بیٹھے ۔اوٹو ہنرچ کے تخمینے کے مطابق بنی نوع انسان کو اس حادثے سے سنبھلنے میں لگ بھگ تین ہزار سال لگے۔اس طویل مدت تک شمالی یورپ کے اوپر آتش فشانی راکھ کا ایک بہت بڑا سیاہ بادل چھایا رہا۔ وہ لوگ جو سیلاب وغیرہ سے بچ گئے تھےاس سیاہ بادل کے نیچے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے ۔ وہ آفتاب کو مدھم سُرخ رنگ میں ہی دیکھ سکتے تھے۔

400 قبل مسیح کے لگ بھگ جب انسان نے اپنی تہذیب کا دوبارہ آغاز کیا تو ایٹلانٹس اس کے لیے محض نام کے علاوہ کُچھ اور نہ تھا۔ زندگی سے بھرپور، میٹھے چشموں اور باغات سے لبریز، ہنستے کھیلتے خوبصورت چہروں سے آراستہ بحر اوقیا نوس کا یہ جگمگاتا ہیرا ‘‘ایٹلانٹس’’کہاں غائب ہو گیا ؟ کیا واقعی وہ بحر اوقیانوس کی تہہ میں محو خواب ہے؟

سو رہا ہے بحر کی آغوش میں
وہ جسے ایٹلانٹس کہتے تھے ہم

بشکریہ:مقبول ایچ خان: پاکستان کی آواز میگزین
Attached Images
  
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (16-09-11), skjatala (16-09-11), فیصل ناصر (16-09-11), پاکستانی (16-09-11), ھارون اعظم (16-09-11), نورالدین (16-09-11), ننھا بچہ (16-09-11), محمد یاسرعلی (16-09-11), محمد عویدص (17-09-11), مرزا عامر (16-09-11), ام احمد (23-09-11), بلال الراعی (16-09-11), حیدر Rehan (16-09-11), رضی (20-09-11)
پرانا 16-09-11, 10:21 AM   #2
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,969
شکریہ: 9,774
1,376 مراسلہ میں 4,253 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پورا مضمون پڑھنے کے بعد ہی شکریہ کا بٹن دبایا ہے۔اور یہی میری عادت ہے۔
skjatala آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
محمد یاسرعلی (16-09-11), حیدر (16-09-11)
پرانا 16-09-11, 10:35 AM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,140
شکریہ: 52,552
11,191 مراسلہ میں 35,291 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

چلیں جی۔۔۔تبدیل کر دوں گا۔۔۔کہ "شاید" سمجھ نہیں پائے
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-09-11, 10:49 AM   #4
Member
اجنبی
 
sonojesus's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مقام: faisalabad pakistan
عمر: 25
مراسلات: 69
کمائي: 1,103
شکریہ: 36
52 مراسلہ میں 105 بارشکریہ ادا کیا گیا
sonojesus کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہیں!!!!!!!!!!!!!!
sonojesus آف لائن ہے   Reply With Quote
sonojesus کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (16-09-11)
پرانا 16-09-11, 10:50 AM   #5
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,885
کمائي: 51,280
شکریہ: 7,968
2,143 مراسلہ میں 4,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

رستم و سہراب کے قصے
رومیو اور جولییٹ کی داستانیں
فرضی ہیں مگر حقیقت کا گمان ہوتا ہے ۔ ۔ ۔

کسی بھی قصہ کا زبان زد عام ہوجانا
یا
کسی بھی داستان پر ہزاروں کتابوں کا چھپ جانا اس کی حقیقت اور اس کے ہونے کی دلیل نہی بن سکتا
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
محمد یاسرعلی (16-09-11), ام احمد (23-09-11), حیدر (16-09-11)
پرانا 16-09-11, 10:57 AM   #6
Member
اجنبی
 
sonojesus's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مقام: faisalabad pakistan
عمر: 25
مراسلات: 69
کمائي: 1,103
شکریہ: 36
52 مراسلہ میں 105 بارشکریہ ادا کیا گیا
sonojesus کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ تو ہے
sonojesus آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sonojesus کا شکریہ ادا کیا
حیدر (16-09-11), حیدر Rehan (16-09-11)
پرانا 16-09-11, 10:59 AM   #7
Member
اجنبی
 
sonojesus's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مقام: faisalabad pakistan
عمر: 25
مراسلات: 69
کمائي: 1,103
شکریہ: 36
52 مراسلہ میں 105 بارشکریہ ادا کیا گیا
sonojesus کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اگر آپ اس کے کوئی اتھینٹک حوالہ بھی پیش کردیں‌تو بہت موضوع ہوگا
کیونکہ اس کے بغیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
sonojesus آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sonojesus کا شکریہ ادا کیا
محمد یاسرعلی (16-09-11), حیدر (16-09-11)
پرانا 16-09-11, 11:11 AM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,140
شکریہ: 52,552
11,191 مراسلہ میں 35,291 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس میں تفصیلی طور پر بتایا گیا ہے کہ یہ ایک سائنٹفک ریسرچ ہی ہے جو اُردو میں ذرا آسان زبان میں بیان کر دی گئی ہے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (16-09-11), حیدر Rehan (16-09-11), رضی (20-09-11)
پرانا 16-09-11, 11:29 AM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,140
شکریہ: 52,552
11,191 مراسلہ میں 35,291 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

امریکن یونیورسٹی آف ہارٹ فورڈ کے پروفیسر Freund کی سربراہی ایک ٹیم اٹلانٹس کی اصل جگہ کی کھوج کرنےمیں کامیاب ہو گئی ہے جو ایک بہت بڑے سونامی کی وجہ سے غرقاب ہو گیا تھا۔ اس ٹیم نے سیٹلائیٹ، گہرے پانیوں کے ریڈارز، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور زیر سمندر دیگر آلات کی مدد سے تحقیق کی۔اس ٹیم کی تحقیقات کی مکمل تفصیل نیشنل جیو گرافک چینل کے خصوصی پروگرام "ایٹلانٹس کی تلاش" میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

Lost city of Atlantis believed found off Spain - Technology & science - Science - msnbc.com
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (16-09-11), محمد یاسرعلی (16-09-11), رضی (20-09-11)
پرانا 16-09-11, 11:49 AM   #10
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,667
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جی بدر بھإئی اس بارے میں ایک جامع تحقیق اکتوبر، نومبر، دسمبر 2002 کے گلوبل سائنس میں بھی مل جإے گی میرے پاس صرف نومبر کا شمارہ ہے اس کے بعدہم نے بھی اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کی لیکن انگلش سے نا واقفیت ہم کو برمودا ٹرائی اینگل میں‌لے ڈوبی ۔
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب
https://www.facebook.com/groups/pak.net

دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا
حیدر (16-09-11), حیدر Rehan (16-09-11)
پرانا 16-09-11, 11:55 AM   #11
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,667
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ارضیاتی مطالعات کی روشنی میں سانتوس یہ کہتے ہیں کے اٹلانٹس یا اس کی قدیم شکل لیموریا آج سے 20 یا 30 ہزار سال پہلے اس جگہ آباد تھی جہاں آج بحیرہ شمالی چین ٹھاٹھیں مار رہا ہے ۔
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا
حیدر (16-09-11), رضی (20-09-11)
پرانا 16-09-11, 12:11 PM   #12
Senior Member
 
حسنین ایوب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 1,064
کمائي: 19,020
شکریہ: 1,708
625 مراسلہ میں 1,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
حسنین ایوب کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
حسنین ایوب آف لائن ہے   Reply With Quote
حسنین ایوب کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (16-09-11)
پرانا 16-09-11, 02:49 PM   #13
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,510
کمائي: 52,546
شکریہ: 5,871
3,229 مراسلہ میں 6,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ کسی تحریر کا ترجمہ ہے یا کسی بھائی کی اپنی تحریر ہے
میں اس کو کسی اور جگہ بھی شیئر کرنا چاہتا ہوں
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (16-09-11)
پرانا 16-09-11, 02:56 PM   #14
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,140
شکریہ: 52,552
11,191 مراسلہ میں 35,291 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نیچے ریفرنس دیا گیا ہے۔ انکا نام ہے مقبول ایچ خان۔ یہ حضرت۔۔۔پاکستان کے سب سے پُرانے سائنسی جریدے "عملی سائنس" میں لکھا کرتے ہیں۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 16-09-11, 03:06 PM   #15
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,510
کمائي: 52,546
شکریہ: 5,871
3,229 مراسلہ میں 6,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

چلیں صحیح ان کے ریفرنس کے ساتھ کر دیتا ہوں شیئر
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (16-09-11)
جواب

Tags
فروخت, کتابوں, پاکستان, نظر, مکمل, موت, موجودہ, ممکن, انسان, امریکہ, اعلیٰ, تلاش, تصاویر, جواب, حضرات, خواتین, خان, رات, زندگی, سیارے, سال, شاندار, شخص, عبادت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:20 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger