واپس چلیں   پاکستان کی آواز > سائنس اور ٹیکنالوجی > دیگر تحقیقات



دیگر تحقیقات دیگر تحقیقات


گیارہ ستمبر اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-09-08, 12:50 PM   #1
Senior Member
 
وجدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 30
مراسلات: 1,284
کمائي: 25,150
شکریہ: 919
594 مراسلہ میں 1,518 بارشکریہ ادا کیا گیا
وجدان کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں وجدان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post گیارہ ستمبر اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر

گیارہ ستمبر اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر

کائنات میں رونما ہو نے والے بعض واقعات انسانی تاریخ پر ایسے اثرات مرتب کرتے ہیں جو ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔ امریکا میں رونما ہونے والا نائین الیون کا واقعہ بھی اس حوالے سے انسانی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا کہ اس واقعہ کے بعد اس کے ردعمل نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دہشت گردی کے خلاف ایک نہ ختم ہو نے والی جنگ کا آغاز کردیا گیا ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ نے جہاں افغانستان اور عراق کو جنگ کے کھلے میدان میں تبدیل کیا وہیں ایران اور دیگر ممالک بھی اس آگ کی لپٹیں محسوس کرنے لگے۔ آج اس واقعہ کو گزرے ہوئے سات سال ہو چکے ہیں لیکن اس کے ردعمل کی باز گشت آج بھی دنیا بھر میں گونج رہی ہے ۔

ورلڈ ٹریڈ سنٹر
امریکا کے کچھ بڑے تاجروں کی خوا ہش تھی کہ نیویارک میں ایک عالی شان عمارت تعمیر کی جائے۔ اس کے لئے انہوں نے یاماسا کی نامی ماہر تعمیرات کا انتخاب کیا۔ انہوں نے 16 ایکڑ رقبے پر 1.20 کروڑ مربع فٹ کا فلور بنانے کا منفرد نمونہ پیش کیا تھا۔ کم رقبے پر زیادہ سے زیادہ دفاتر اور شاپنگ سینٹر بنانے کے لئے عمارت کی اونچائی زیادہ کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

یاماساکی نے پراجیکٹ ملنے کے بعد نیو یارک کی فرم ایمرے راتھ اینڈ سنز کے ساتھ مل کر ایک ڈیزائن مرتب کیا۔ اس پر 50کروڑ ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ اس عمارت کو زیر زمین راستوں سے ملانے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی۔ یا ما ساکی نے جس ڈیزائن کو حتمی شکل دی، اس میں دو ٹاورزمیں دفاتر کے لئے 90لاکھ مربع فٹ کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ ایک ٹاور کا سائز کچھ غیر منطقی لگ رہا تھا جبکہ اگر زیادہ ٹاور بنائے جاتے تو پھر وہ ایک ہاؤسنگ اسکیم کی طرح نظر آتے ۔

یا ما سا کی نے اس سلسلے میں 100سے زائد نقشوں کا جائزہ لیامگر وہ پھر بھی مطمئن نہ تھے چنانچہ انہوں نے دو ٹاورزکا حتمی نمونہ تیار کیا جس میں دونوں فلور پر مناسب جگہ میسر آجاتی تھی۔ انہوں نے ایسا ڈیزائن تیار کیا جس سے دل فریب نظارہ بھی کیا جا سکتا تھا چنانچہ 110منزلہ ان ٹاورز کی اونچائی 1313فٹ تجویز کی گئی اور یہ اس وقت دنیا میں سب سے اونچی عمارت تھی۔ دونوں ٹاورز کی آخری منزل پر دور بینیں نصب تھیں جن کی مدد سے ہر سمت میں45میل تک دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ اس عمارت کی سب سے منفرد بات تھی۔

اس عمارت کا ڈھانچا انتہائی سادہ رکھا گیا تھا۔ جو سیٹل میں آئی بی ایم کی بلڈنگ کے نقشے سے ملتا جلتا ہے۔ اس میں 208فٹ چوڑی اسٹیل کی چادر استعمال کی گئی تھی۔ یہ "چادر" کپڑے کی طرح تیار کی گئی تھی۔ اس کے کالم بنائے گئے تھے تاکہ ہوا اور آندھی کا باآسانی مقابلہ کر سکے۔ درمیان میں لوہے کی چوڑائی 39انچ تھی تاکہ عمارت کو کشش ثقل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت دے سکے۔

ان ٹاورز کا نقشہ اتنی مہارت سے بنایا گیا تھا کہ وہ سستا بھی ہو، آندھیوں کا مقابلہ بھی کر سکتا ہو اور ہلکا بھی ہو کیوں کہ بھاری ہونے کی صورت میں یہ اپنے ہی بوجھ سے گر سکتی تھی۔ اونچی منزلوں پر ہر منزل پر کم و بیش 40ہزاررمربع فٹ جگہ دفاتر کے لئے تھی۔ چھت اور فرش اسٹیل کی خصوصی طور پر تیار کی گئی چادروں کی مدد سے بنائے گئے تھے۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی لفٹ بنانے کے لئے بھی یا ما سا کی نے اپنی ذہنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا۔ اس میں دو طرح کی لفٹس بنائی گئی تھیں۔ ایک ایکسپریس اور دوسری لوکل سسٹم کہلاتی تھی۔ ان دونوں کو "اسکائی لابی سسٹم"بھی کہا جاتا ہے۔ ایکسپریس لفٹ زمین سے 41ویں اور 74ویں منزل پر رکتی تھی جب کہ یہاں سے مسافروں کو اونچی اور نیچی منزلوں تک پہنچانے کے لئے "لوکل ایلی ویٹر سسٹم"موجود تھا۔

ورلڈ ٹریڈ ٹاور کے ہر ایک ٹاور میں اکیس ہزار شیشوں والی کھڑکیاں اور پچانوے لفٹس نصب تھیں۔ ورلڈٹریڈ ٹاور میں روز انہ تقریبا نوے ہزار افراد آتے تھے۔ ورلڈ ٹریڈ ٹاور کے دو مر کزی ہال اس قدر بڑے تھے کہ ان میں پندرہ فٹبال کے اسٹیڈیم سما سکتے تھے۔ اس عظیم الشان عمارت کا پہلا ٹاور انیس سو بہتر میں اور دوسرا انیس سو تہتر میں مکمل ہوا تھا ۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹرکے یہ ٹاورز ایک عرصے سے امریکا کا معاشی مرکز سمجھے جاتے تھے مگر گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کی صبح، نیو یارک کی تاریخ کا ایک سچ تھی جب افق سے باتیں کرنے والے یہ دونوں ٹاورز منظر سے غائب تھے۔ سورج کی ابھرتی کرنوں میں تمام عمارتیں نظر آرہی تھیں مگر ان ٹاورز کو اب صرف ملبے کے ڈھیر میں تلاش کیا جا سکتا تھا۔

نائن الیون
گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو امریکا اس وقت اپنی تاریخ کی بد ترین دہشت گردی کا شکار ہوا جب واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی عمارت اور نیو یارک میں تجارتی مرکز ورلڈٹریڈ سینٹر سے ہائی جیک کئے جانے والے تین طیارے ٹکرا دیئے گئے اور محکمہ خارجہ (اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ) کے باہر کار بم دھماکاہوا ۔ امریکا میں ہو نے والے ان خود کش حملوں کے باعث ہزاروں افراد ہلاک اور اتنی ہی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے جب کہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ۔ملک کے تمام ہوائی اڈے بند کرد یئے گئے اور وائٹ ہاؤس سمیت اہم سرکاری عمارتیں خالی کرا لی گئیں ۔

گیارہ ستمبر بروز منگل کی صبح نیو یارک میں جس وقت ہزاروں لوگ دفاتر جانے کے لئے اپنے گھروں سے نکل رہے تھے کہ ایک بوئنگ 767طیارہ ورلڈٹریڈ ٹاور کی 110منزلہ عمارت کے پہلے ٹاور سے ٹکرا یا جس سے ٹاور میں زبردست تباہی پھیلی۔ آگ نے اس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔

اس حادثے کے ٹھیک اٹھارہ منٹ بعد بوئنگ 757طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے 110منزلہ دوسرے ٹاور سے ٹکرا یا جس سے یہ ٹاور بھی مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ ان دونوں حادثات کے ٹھیک ایک گھنٹے بعدیو نائیٹڈ ائیر لائنز کا ایک اور بوئنگ 757طیارہ واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی عمارت پر گر گیا جس سے پینٹا گون کا صدر دفتر جزوی طور پر تباہ ہو گیا جب کہ عمارت کے دوسرے حصے میں آگ لگ گئی۔

ان حملوں کے بعد واشنگٹن میں ہی کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل کے نزدیک طاقتور بم دھماکا ہوا اور فوراً ہی واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے قریب ہی ایک اورطا قتور بم دھماکا ہوا۔ ان حملوں کے بعد ریاست پنسلوانیا میں ہی ایک بوئنگ 757 طیارہ بھی گر کر تباہ ہو گیا جس سے اس میں سوار 145افراد ہلاک ہو گئے ۔

نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرانے والے دونوں طیارے ہائی جیک کئے گئے تھے ۔بوئنگ767طیارے کو بوسٹن سے لاس اینجلس جاتے ہوئے جب کہ دوسرے طیارے کو ڈلاس سے لاس اینجلس جاتے ہوئے اغوا کیا گیا ۔ ان دونوں طیاروں میں کل 156افراد سوار تھے جو اس حادثے میں ہلاک ہوگئے ۔ان دونوں طیا روں کا تعلق امریکی ائیر لائنز نامی ایجنسی سے تھا جب کہ پینٹاگون پر گرنے والے طیارے میں 47افراد سوارتھے جو تمام ہلاک ہو گئے ۔اس طیارے کا تعلق بھی یو نائیٹڈ ائیر لائن نامی کمپنی سے تھا ۔یہ دونوں طیارے بھی راستے سے ہی ہائی جیک کر لئے گئے تھے ۔ورلڈٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاور ز ان حملوں کے بعد زمیں بوس ہو گئے ۔

“حملے کے بعد“
ان حملوں کے بعد امریکا میں زبردست خوف وہراس پھیل گیا ۔نیو یارک اور واشنگٹن سے لوگ پناہ کی تلاش میں فرار ہو نے لگے اور امریکا میں آنے والی تمام پروازوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ کینیڈا میں اتریں ۔ امریکا میں ٹرین سروس بھی معطل کردی گئی ۔نیو یارک کے مئیر نے کہا کہ ان حملوں میں بے شمار افراد ہلاک ہو ئے تاہم وہ اس وقت درست تعداد نہیں بتا سکے تھے ۔
ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد متعدد افراد نے اپنی جانیں بچانے کے لئے 70ویں منزل سے چھلا نگیں لگائیں اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دونوں ٹاور کچھ وقفے کے دوران منہدم ہو گئ

دہشت گرد حملوں کے فوری بعد سب سے پہلے وائٹ ہاؤس کو بند کردیا گیا اور مسلح فوجیوں نے اس کو اپنے نرغے میں لے لیا۔ اس حملے کے بعد امریکا میں تمام ائیر پورٹس بھی بند کر دیئے گئے اور ملک کی تمام اہم سر کاری عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا اور فوج نے ان کا کنٹرول سنبھال لیا ۔

نیو یارک اور واشنگٹن میں بد ترین صورتحال کے بعد سپریم کورٹ بند کردی گئی اور تمام وفاقی عمارتوں کو خالی کراکے تالے ڈال دیئے گئے ۔ جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن نے ہدایات جاری کیں کہ ورجینا ،ڈیلا وائز،میری لینڈ ،پنسلونیا اور مغربی ورجینا میں تمام عدالتیں اور دفاتر تا حکم ثانی بند رہیں ۔کا نگریس کی عمارت خالی کرا لی گئی۔ ایسی انیس عمارتیں جو دارالحکومت پولیس کے کنٹرول میں تھیں بند کردی گئیں ۔تمام ضلعی حکومتوں کے دفاتر بند کر دیئے گئے ۔منٹگمری کونسل ایگزیکٹو آفس کونسلوں کے دفاتر اور روک ویل کے عدالتی دفاتر کوبند کرنے کی ہدایا ت جاری کردی گئیں ۔

ریگن نیشنل ائیر پورٹ اور ڈویلس انٹر نیشنل ائیر پورٹ کم از کم چوبیس گھنٹے کے لئے بند رکھنے کا حکم جاری کیاگیا۔ورجینا ریلوے ایکسپریس معطل کر دی گئی ۔یونین اسٹیشن سے تمام ٹرینوں کی آمد ورفت معطل کردی گئی۔بسوں کی بڑی تعداد بند کردی گئیں ۔میری لینڈ کے تمام اسکولوں میں چھٹی اور جارج ٹاؤن یو نیورسٹی کی کلا سیں معطل کردی گئیں ۔وال اسٹریٹ اور واشنگٹن کا قومی چرچ بند کردیا گیا ۔لیگ بیس بال کے مقابلے منسوخ کردیئے گئے ،واشنگٹن کے تمام میو زیم اور یاد گاریں بند رکھنے کا حکم جاری کیا گیا۔امریکن یو نیورسٹی کی تمام کلاسیں اور سیاسی سر گرمیاں معطل کردی گئیں ۔شکاگو کی تمام بلند عمارتیں اور اسٹاک ایکسچینج کوخالی کرا لیا گیا ۔

امریکا میں تمام پلوں اور سرنگوں کی بھی ناکہ بندی کردی گئی اور ایف بی آئی نے معاملے کی تحقیقات شروع کردیں۔ امریکی حکام نے ورلڈٹریڈسینٹر پر دہشت گردی کے واقعہ میں چھ حملہ آور وں کے ہلاک ہو نے کا دعوی کیا تاہم ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں نہ ہی ان کی شناخت بتائی گئی ۔

حملہ کس نے کیا؟
امریکی ٹی وی سی ،این، این نے با وثوق ذرائع کے حوالے بتایا کہ ان حملوں میں ان لو گوں کا ہاتھ ہے جن کا تعلق اسامہ بن لادن کی تنظیم سے ہے ۔دنیا میں ایسی دہشت گرد تنظیمیں بہت کم ہیں جن کے پاس اتنے مالی وسائل اور جدید نیٹ ورک ہے جو اس طرح کے بڑے اور مربوط حملے کر سکتی ہیں ۔

ایک مبصر کا کہنا تھا کہ اس دہشت گردی کے اگرچہ مٹھی بھر لوگ ذمہ دار ہیں جنہوں نے طیارے اغوا کئے یا چلا کر عمارتوں سے ٹکرا دیئے مگر ان کے پیچھے ایک ماسٹر مائنڈبھی موجود ہے ۔اب تک تو صرف دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہی زیر بحث رہے مگر یہ بلند عمارتیں بھی بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن گئیں جن سے صرف طیارے ہی ٹکرائے اب لوگوں کی توجہ ضرور اس جانب بھی جائے گی ۔

وائس آف امریکا کے مطابق حملوں کے باعث امریکا کو عشروں میں بد ترین بحران کا سامنا کرنا پڑا ۔لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ یہ سب کچھ کس نے کیا ہے ۔بعض حلقے اس کا الزام اسامہ بن لادن پر عائد کرتے ہیں اور اس کی کڑیاں چند ماہ بعد ملنے والے اس ویڈیو بیان سے ملاتے ہیں جو حادثاتی طور پر ظاہر ہوئے تھے جن میں امریکی تنصیبات پر حملوں کے لئے کہا گیا تھا۔

ایشیا سے ایک مبصر نے کہا کہ حملے کے لئے جس پیمانے پر منصوبہ بندی کی گئی ہے یہ اسا مہ بن لادن کے بس کی بات نہیں ہے ۔اسامہ ان دنوں افغانستان میں مقیم تھے اور ان کی تمام تر سر گرمیوں پر پا بندی عائد تھی اور بیرونی دنیا سے ان کا کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں تھا ۔جتنے بڑے پیمانے پر یہ کام ہوا ہے اس سے ظاہر ہے کہ یہ اسامہ بن لادن کا کام نہیں ہے ۔
مشرق وسطی کے ایک مبصر کا کہنا تھاکہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ حملے میں کون ملوث ہے ۔اوکلو ہو ما بم دھماکے میں پہلے مسلمانوں کو ذمہ دارٹھہرایاا گیا تھا مگر بعد میں امریکی ہی اس کے ذمہ دار پائے گئے تھے تاہم توقع ہے کہ اس بار ایسا نہیں ہو گا ۔مسلمان تنظیموں کو ذمہ دار نہیں ٹھرایا جائے گا ۔

ایک فلسطینی مبصر نے کہا کہ حملے اور دھماکے کی ذمہ داری عرب دنیا پر عائد ہو گی ۔ایک امریکی مبصر کا کہنا تھا اس سلسلے میں اسامہ پر شک کیا جا سکتا ہے ۔

عینی شاہدین کے مطابق نیو یارک میں ٹریڈ ٹاور کی تباہی کے ساتھ ہی مو بائل فون کا نظام بھی نا کارہ ہوگیا اور وال اسٹریٹ سے اقوام متحدہ کی عمارت تک لوگوں کا انخلاء شروع ہو گیا ۔نیو یارک کے میئر نے لوئر مین ہٹن کا علاقہ بند کردیا تاکہ صرف ہنگامی خدمات کے استعمال میں آنے والی گاڑیاں آجا سکیں ۔اس صورتحال کے باعث ہزاروں افراد برو کلین برج کے ادھر ادھر پیدل چلنے پر مجبور ہو گئے۔ خوف اور دہشت کے اس ماحول میں مین ہٹن کے تمام دفاتر بند کردیئے گئے اور بچوں کو اسکول میں قید ہو جا نا پڑاکیو نکہ ان کے والدین انہیں لینے کے لئے نہیں پہنچ سکے تھے ۔

واقعہ کے ایک گھنٹے بعد زخمیوں کی نیو یارک سٹی اسپتال آمد شروع ہو گئی ۔گرین وچ ویلیج کے سینٹ ونسیٹ اسپتال میں بے شمار زخمی لائے گئے۔ میئر نیو یارک نے لو گوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے گھروں یا دفاتر میں رہیں تاہم کنال اسٹریٹ کے جنوب والے علاقوں میں اس قسم کی پابندیاں بہت نرم رہیں ۔ڈازن ٹاؤن میں لوگوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ سڑکیں خالی کرکے شمال کی طرف چلے جائیں ۔واقعے کے زخمیوں کی ایک بڑی تعدادنیو یارک یو نیورسٹی کے ڈازن ٹاؤن اسپتال بھیجی گئی ۔

واقعے کے بعد مین ہٹن کا جنو بی حصہ دھوئیں اور اڑتے ہوئے پتھروں کے باعث بری طرح متاثر ہوا ۔لوئر مین ہٹن پر نصف انچ گرد کی تہہ جم گئی ۔ مین ہٹن کے مغرب میں ویسٹ سائیڈ ہائی وے واقع ہے جبکہ ایسٹ میں کورٹ لینڈ اسٹریٹ اور اس کے سامنے سنچری 21اسٹور ہے جہاں صورتحال کا بہت اثر ہوا ۔عینی شاہدین کا کہناتھا کہ ٹریڈ ٹاور ز سے اٹھنے والا دھواں لانگ آئی لینڈ ایکسپریس سے بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ طیارے کے ٹکرانے کی آواز سے براڈ وے اپارٹمنٹ کے مکین بھی گھبرا کر گھروں سے نکل آئے ۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر اورپنٹاگون میں دہشت گردی کے گیارہ ستمبر کے واقعات پر امریکا کے سرکاری اداروں میں بڑی لے دے ہو ئی ۔ دنیا کی منظم ترین اور ترقی یافتہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہر جگہ موضوع بحث بنی رہی ۔ان حملوں کے دو دن بعد ایف بی آئی نے 19مشتبہ افراد کی فہرست جاری کی جن کا تعلق اسامہ بن لادن اور اس کی تنظیم القاعدہ سے جوڑا گیا۔ ان مشتبہ افراد کی فہرست اور تصویروں کی اشاعت کے بعد یہ حقائق بھی منظر عام پر آگئے کہ ان میں سے بیشتر افراد حادثے کے وقت امریکا سے ہزاروں میل دور تھے ۔ جس سے ایف بی آئی کے لئے مزید جگ ہنسائی کا اہتمام ہو۔

1۔محمد عطا
تیتنس سالہ محمد عطا کا تعلق مصر سے ہے۔ مصر کے دیہی علاقے کفر الشیخ میں اس کی پیدائش ہوئی ۔ بعد ازاں اس کے والد نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ قاہرہ میں سکونت اختیار کر لی۔ محمد عطا کی تین بہنیں ہیں۔ 1985 میں اس نے قائرہ یونیورسٹی میں سول انجینئر نگ کی تعلیم حاصل کی ۔ 90ء میں ایک سول انجینئر نگ کمپنی کے ساتھ وابستہ ہو گیا۔پھر جرمنی کی ایک کمپنی میں ملازمت کر لی جس کے بعد ہیمبرگ یانیورسٹی میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے وہ جرمنی چلا گیا۔ 99ء میں اس نے اعلیٰ تعلیمی سند حاصل کی ۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ جاب بھی کرتا رہا جہاں اسے ماہانہ 850ڈالر ملتے تھے۔ دفتر کے ساتھیوں نے محمد عطا کے بارے میں بتایا کہ وہ کمپنی کے دفتر میں باقاعدگی سے نماز پڑھتا تھا اور دینی تعلیمات کا پابند تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 97ء کے وسط میں وہ انسٹی ٹیوٹ سے پندرہ ماہ کیلئے غائب ہو گیا۔ اکتوبر 98ء میں واپس آیا تو گھنی ڈارھی رکھی ہوئی تھی۔ انسٹی ٹیوٹ میں اس نے ایک جماعت بنائی ۔وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرتا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 99ء کے بعد محمد عطا اور اس کے دیگر دو ساتھی کوئی منصوبہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے ہیمبرگ کے سرکاری اداروں کو اپنے پاسپورٹ کی گمشدگی کی اطلاع دی۔ تفتیشی اداروں کا گمان ہے کہ وہ پرانے پاسپورٹ چھپانا چاہتے تھے جن میں عراق اور افغانستان کے ویزے لگے ہوئے تھے۔

نیا پاسپورٹ نکال کر وہ 2000ء میں امریکا کا ویزہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ ویزہ ملنے کے بعد عطا نے ڈاڑھی منڈوالی اور امریکا روانگی کے لئے تیار ہو گیا۔ اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ جس دن وہ امریکا جا رہا تھا اس کے پاس غیر معمولی رقم تھی۔ تعلیم کے دوران وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شام گیا جہاں اسے ایک پڑھی لکھی فلسطین لڑکی ملی۔

عطا کے ساتھی نے کہا کہ پہلی بار اس نے کسی لڑکی میں دلچسپی لی۔ چند دن بعد اس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ وہ لڑکی میرے لئے مناسب نہیں کیونکہ وہ ضرورت سے زیادہ آزاد خیال ہے۔

امریکا میں وہ نیو یارک میں رہنے لگا اور ایک سال کے اندر اندر اس نے ہوا بازی کی ٹرننگ حاصل کر لی۔ گیارہ ستمبر سے دو دن پہلے وہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ "ان میں سے ایک مرون الشیحی، جو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی دوسری عمارت سے ٹکرانے والے جہاز پر سوار تھا۔"ایک فٹنس کلب میں دیکھا گیا جہاں انہوں نے تین گھنٹے گزارے اور وڈیو گیم سے لطف اندوز ہوئے۔ تفتیشی اداروں کا گمان ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور سے ٹکرانے والے جہاز کے پائلٹ کو سیٹ سے ہٹا کر محمد عطا نے پائلٹ کی سیٹ سنبھال لی تھی۔

عربی اخبار الشرق الاوسط کے نمائندے نے محمد عطا کے والد سے ملاقات کی تو اس کا دعوی تھا کہ ورلڈ ٹریڈسینٹر کے دھماکے کے بعد محمد عطا نے اسے فون کیا اور اس سے مختصر گفتگو کی۔ والد کا کہنا ہے کہ گفتگو کے دوران محمد عطا کی آواز نارمل نہیں تھی اور اسے اندیشہ ہے کہ اس کے بیٹے کو کسی نے اغوا کر لیا ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ محمد عطا ہوا بازی کی الف ب سے بھی نابلد ہے۔ اسے ہوائی سفر سے چکر آتے ہیں۔ اسرائیل کی انٹیلی جنس "موساد"نے محمد عطا کو اغوا کر کے اسے قتل کیا ہو گا اور اس کے پاسپورٹ کو اس غرض کے لئے استعمال کیا ہو گا۔

مروان الشیحی
امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی نے جو مبینہ ہاکی جیکرز کی فہرست جاری کی تھی اس میں دوسراے ہاکی جیکرکا نام مروان الشیحی بتایا گیا ہے۔ تیئس سالہ مروان یوسف الشیخی کا تعلق متحدہ عرب امارات سے ہے۔ تفتیشی اداروں کا خیال ہے کہ ٹریڈ سینٹر پر دوسرے طیارے کو ٹکرانے کے لئے مروان الشیحی اسے کنٹرول کر رہا تھا۔ مروان جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں مقیم تھا جہاں وہ اعلی تعلیم حاصل کرنے گیا تھا۔ اس نے تعلیم میں دلچسپی چھوڑ دی اور فلوریڈا روانہ ہو گیا۔ گمان کیا جاتا ہے کہ مروان کی محمد عطا سے گہری دوستی تھی۔

گیارہ ستمبر سے قبل وہ اور اس کے دو ساتھی فلوریڈا کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ہوٹل کے بیرے نے بتایا کہ مروان اور اس کے ساتھیوں نے جو کمرہ لیا تھا اس کی دیوار پر ایک لڑکی کی تصویر تھی جس کی بانہیں اور کندھے ننگے تھے۔ انہوں نے اس تصویر کو ایک چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔ جس دن انہوں نے کمرہ چھوڑا تو صفائی کے دوران ہوٹل کے ملازموں نے کراٹے سیکھنے کی کتاب، انگلش، جرمن ڈکشنری، امریکا کے شہروں کے مابین ہوائی پروازوں کے نقشے اور بوئنگ طیارہ چلانے کی ہدایت پر مشتمل ایک کتاب ملی۔

مروان نے امریکا میں بوئنگ طیارے اڑانے کی ٹریننگ حاصل کی تھی۔ جرمنی میں جس یونیورسٹی سے وہ تعلیم حاصل کر رہا تھااس کے پروفیسرزکا کہنا تھا کہ اس کے انتہا پسند تنظیموں سے تعلقات تھے۔

ہائی اسکول کے بعد 1998ء میں مروان متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج میں شامل ہو گیا۔ 1999ء میں مسلح افواج نے اسے تعلیم کے لئے جرمنی بھیجا جہاں مختصر قیام کے بعد وہ امارات واپس آگیااور شادی کی۔ امارات میں 25دن گزارنے کے بعد واپس جرمن چلا گیا جہاں اس نے اپنے پاسپورٹ کی گمشدگی ظاہر کی اور نیا پاسپورٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ تفتیشی اداروں کے مطابق پرانے پاسپورٹ میں افغانستان کا ویزہ تھا جہاں وہ جہاد میں شرکت کرنے گیا تھا۔ نیا پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد وہ امریکا روانہ ہو گیا ۔ امریکا جانے کے بعد اس کی کوئی خبر نہ ملی۔ ہیمبرگ میں وہ اپنی مصری والدہ کے رشتہ دار محمد عطا کے ساتھ رہتا تھا۔

مروان کے اچانک لاپتہ ہونے پر اس کے گھر والے پریشان ہو گئے تھے۔ اس کے بڑے بھائی نے امارات میں سرکاری اداروں سے رجوع کیا جنہوں نے جرمنی میں اسے تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔ اس کا بھائی خود جرمنی گیا جہاں اسے معلوم ہوا کہ وہ امریکا گیا ہوا ہے۔ بعد میں مروان نے امارات میں اپنے گھر والوں سے فون پر رابطہ کر کے اپنی خیریت کی اطلاع دی لیکن اس نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ وہ کہاں ہے۔

زیاد سمیر الضراح
زیاد سمیر الضراح کا تعلق بیروت سے 75کلومیٹر دور ایک گاؤں المرج سے ہے۔ امریکا کے تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ پنسلوانیا کے قریب گرنے والے جہاز کے ہائی جیکروں میں شامل تھا۔ یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ جہاز کے پائلٹ کی سیٹ زیاد نے ہی سنبھالی تھی۔ شہری ہوابازی کی اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے وہ پانچ سال پہلے ہیمبرگ گیا تھا۔اس دوران وہ ہر سال اپنے گھر والوں سے ملنے بیروت آتا رہا۔ آٹھ ماہ قبل اس کے والد کا بائی پاس آپریشن ہوا تو وہ اسے دیکھنے آیا تھا۔

زیاد کا والد اپنے بیٹے کو 1500ڈلر ماہانہ روانہ کرتا تھاجس سے وہ اپنی تعلیم اور ضروریات کا خرچہ چلاتا۔زیاد کے والد کا کہنا ہے کہ مذکورہ حملوں سے چار گھنٹے پہلے اسے زیاد کا فون آیا ۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اسے یونیورسٹی کی طرف سے بوئنگ767کی تربیت کی لئے اسکالرشپ مل گیاہے اور وہ فلوریڈا جا رہا ہے۔

زیاد کے چچا جمال الجراح نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ زیاد خوش مزاج نوجوان تھا اور وہ انتہا پسند تھا اور نہ اسلامی تعلیمات کا پابند۔ جرمنی میں وہ اپنی ترک گرل فرینڈ کے ساتھ رہتا تھا۔ واضح رہے کہ زیاد کی فیملی نے اس کی وہ تصویر بھی اخبارات کو جاری کی ہے جس میں زیاد کسی تقریب میں لڑکی کے ساتھ ڈانس کر رہا ہے۔

زیاد کے والد نے کہا ہے کہ اس کے بیٹے کی تعلیم مسیحی مدارس میں ہوئی تھی۔ وہ اسلامی شعائر کا پابند نہیں تھا۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ زیاد اس جہاز میں دوسرے عام مسافروں کی طرح سوار تھا۔

ہیمبرگ پولیس نے زیاد کے گھر کی تلاشی لی اور وہاں سے شہری ہوا بازی کی کئی کتابیں برآمد کیں۔ زیاد کے والد کا کہنا ہے کہ ہوا بازی کے طالب علم کے گھر سے ایسی کتابیں ہی برآمد ہو سکتی ہیں۔ اس میں حیرت کی کیا بات ہے۔ زیاد کے اچانک غائب ہوجانے پر اس کی ترک گرل فرینڈ نے پولیس کو اطلاع دی جس نے زیاد کو ہائی جیکروں میں شامل کر لیا ۔

ترک گرل فرینڈ نے اخباری نمائندون سے بات چیت کرنے ہوئے کہا کہ زیاد کا مذکورہ دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ہی ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرانے والے محمد عطا نامی مشتبہ شخص سے اس کا کوئی تعلق رہا ہے۔

عبدالعزیز العمری
ایف بی آئی کی فہرست میں مبینہ ایک اور ہاکی جیکر کا نام عبدالعزیز العمری بتایا گیا ہے۔ وہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاورسے ٹکرائے جانے والے طیارے میں سوار تھا ۔گمان ہے کہ وہ خود بھی پائلٹ تھا ۔وہ ریاض میں 24دسمبر 1972کو پیدا ہوا۔ ایف بی آئی کے مطابق عبدالعزیز العمری فلوریڈا میں مقیم تھا۔مشتبہ افراد کی فہرست میں عبدالعزیز العمری کا نام بھی شامل ہے لیکن اس نے دھماکے کے تیسرے دن ریاض میں اخباری نمائندوں سے ملاقات میں کہا کہ دھماکے کے دوران وہ ریاض میں ڈیوٹی پر تھا۔

وہ 1993ء میں وہ انجینئرنگ کی تعلیم کے حصول کے لئے امریکا کے شہر کو لوراڈو گیا جہاں قیام کے دوران (1995ء) میں اس کے فلیٹ میں چوری ہو گئی جس میں اس کا پاسپورٹ اور دیگر ضروری کاغذات بھی غائب ہو گئے۔ چوری کے واقعے کی اس نے پولیس کے اطلاع دے دی۔

31دسمبر 1995ء میں اس نے نیا پاسپورٹ بنوایا ۔ 11 جنوری 1996ء کو وہ نئے پاسپورٹ پر دوبارہ امریکا گیا اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپریل 2000ء کو وطن واپس آگیا۔ عبد العزیز نے کہا کہ وہ شہری ہوا بازی سے قطعی واقف نہیں اور نہ ہی کسی انتہا پسند تنظیم سے اس کی وابستگی ہے۔

پنسلوانیا کے قریب گر کر تباہ ہونے والے طیارے میں مشتبہ احمد النعمی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فلوریڈا میں مقیم تھا اور وہیں ہوا بازی کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ احمد النعمی نامی یہ 23سالہ نوجوان سعودی عرب کے شہر عسیر میں مقیم تھاجہاں سے پندرہ ماہ پہلے وہ عمرہ کی ادائیگی کے لئے روانہ ہوا اور واپس نہیں آیا۔

احمد النعمی
امریکا کے تفتیشی اداروں کو ریاض میں مقیم احمد النعمی ایک پائلٹ کا بھی پتہ چلا ہے۔ مذکورہ جہاز میں سوار احمد النعمی فلوریڈا میں مقیم تھا۔ ایف بی آئی نے احمد النعمی کی تصویر بھی میڈیا کو جاری کی جسے دیکھنے کے بعد احمد حیدر النعمی نامی سعودی ائیر لائن کا کارکن مقامی اخبار کے دفتر گیا اور مذکورہ حملوں سے اپنی لا تعلقی کا اظہار کیا۔

33سالہ احمد النعمی نے بتایا کہ وہ ایئر لائن میں ہوائی جہاز کے عملے کا نگران ہے۔ وہ سعودی عرب کے شہر جیران میں پیدا ہوا۔ 1998ء میں وہ پہلی بار امریکا گیا۔ گزشتہ اکتوبر میں دوسری بار اور جولائی میں وہ آخری بار امریکا گیا تھا۔ اس نے کہا کہ تینوں بار اس نے اپنا کوئی سرکاری کاغذنہیں کھویا۔ انہوں نے اعلی تعلیم بھی جدہ میں حاصل کی ۔ احمد النعمی گزشتہ 14سال سے سعودی ایئر لائن سے وابستہ ہے۔ امریکا میں مختص قیام کے دوران اس نے ہوٹل کے سواء کہیں اور اپنا پاسپورٹ نہیں دکھایا نہ ہی امریکا میں اس نے کرائے پر گاڑی لی۔

احمد النعمی نے کہا کہ ایف بی آئی کی جاری کردہ فہرست میں مشتبہ افراد کی کثیر تعداد سعودی ایئر لائنز سے وابستہ ہے جن کی اکثریت 11ستمبر کے حملوں کے دوران امریکا میں نہیں تھی۔ ان کا نام مشتبہ افراد میں شامل کر کے ہمیں صدمہ پہنچا یا گیاہے۔
وجدان آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے وجدان کا شکریہ ادا کیا
Arabian (23-06-09), پیاسا (13-09-08), پرنس آف ڈھمپ (02-10-08), ابن جلال (23-09-08), خرم شہزاد خرم (23-09-08)
پرانا 23-09-08, 12:41 AM   #2
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: گیارہ ستمبر اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر

اچھی رپورٹ ہے ۔ِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِ ِِِِِِِِِِ
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ابن جلال کا شکریہ ادا کیا
پیاسا (23-09-08), وجدان (23-09-08)
پرانا 23-09-08, 01:36 PM   #3
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,346
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: گیارہ ستمبر اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر

بہت خوب وجدان بھائی بہت اچھا لگا پڑھ کر بہت شکریہ
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
وجدان (24-09-08)
جواب

Tags
کورٹ, گمان, پولیس, پسند, واقعات, واشنگٹن, قید, لوگ, لڑکی, نماز, نظر, مکمل, مقابلہ, منصوبہ, آپریشن, آج, ایران, اقوام متحدہ, اسکیم, اغوا, بھائی, بچوں, تلاش, تعلیم, صدمہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ایم کیو ایم آہستہ آہستہ حکومت سے علیحدگی کے لئے پر تول رہی ہے گلاب خان خبریں 0 26-12-10 06:22 AM
ہم میڈیا سے پرانے تعلق کو نبھائیں گے، آصف زرداری ڈاکٹر سومرو کے ہاتھ گلدستہ بھیجا، جیو سے اظہار یکجہتی عبدالقدوس خبریں 2 27-05-10 11:30 PM
جیو کی بندش کے خلاف کوئٹہ میں تحریک استقلال کا مظاہرہ خرم شہزاد خرم خبریں 7 07-12-07 01:38 PM
پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے عدلیہ اور میڈیا کی آزادی لازمی ہے،جیو نیٹ ورک کی نشر یات فوری بحال کی جائیں ،امر یکی ارکان کا نگر یس عبدالقدوس خبریں 0 07-12-07 08:16 AM
جیو او رجنگ کے گرفتارکارکنوں کا رہائی کے بعد دفتر پہنچنے پر شاندار استقبال خرم شہزاد خرم خبریں 0 21-11-07 08:34 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:21 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger