| دیگر تحقیقات دیگر تحقیقات |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,701
کمائي: 34,606
ميرا موڈ:
شکریہ: 162
705 مراسلہ میں 1,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سائنس دان کہتے ہیں کہ ایک بچّہ جب بھی کوئی سافٹ ڈرنک پیتا ہے تو وہ دراصل ہڈیوں کی خطرناک بیماری اوسٹیو پوروسس کی بنیاد رکھ رہا ہوتا ہے۔ ایسی بات نہیں ہے کہ سافٹ ڈرنک یا کولا ڈرنک اوسٹیوپوروسس کی وجہ ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر اوقات اس قسم کے مشروبات بچّے کیلئے دودھ کے گلاس کی جگہ لے رہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بچّے کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہونے لگتے ہیں جو کہ ان کی ہڈیوں کے ایک مضبوط ڈھانچے کی تعمیر کیلئے بہت ضروری ہیں۔اکثر یہ ہوتا ہے کہ اس قسم کے بچّوں کی زندگی گزارنے کا رنگ ڈھنگ یعنی لائف سٹائل بھی مصنوعی اور فیشن آمیز ہوتا ہے اور یہ بچّے ورزش وغیرہ سے دور بھاگتے ہیں جس کے باعث ان کی ہڈیاں اچھے طریقے سے تعمیر نہیں ہو پاتیں۔ اس طرح یہ نہ صرف اپنی آنیوالی زندگی میں ہڈیوں کی کمزوری اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتے ہیں بلکہ اوائل عمری میں ہی اوسٹیوپوروسس جیسی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس میں ہڈیاں کمزور اور کھوکھلی ہو کر جلد ٹوٹنے پھوٹنے لگتی ہیں اور یوں بچّوں کی زندگی کیلئے ایک روگ بن جاتی ہیں۔ Beautiful bones without hormones یعنی ''ہارمونز کے بغیر خوبصورت ہڈیاں'' جیسی کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر لیون روٹ کہتی ہیں ''یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی سب کو فکر کرنی چاہئے۔اوسٹیوپوروسس دراصل بچپن کی بیماری ہے جو اپنے رنگ زندگی کے بعد کے دور میں دکھائی ہے۔اوسٹیوپوروسس دراصل ایک ایسی بیماری ہے جس میں ہڈیوں کی حالت ایک ایسی لکڑی کی ہو جاتی ہے جس پر دیمک نے حملہ کر دیا ہو۔ آپ نے دیمک زدہ لکڑی کو دیکھا ہو گا کہ اس میں چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں اور ذرا سا دبائو ڈالنے پر وہ لکڑی ٹوٹ جاتی ہے۔ اوسٹیوپوروسس کی بیماری میں بھی ہڈیوں کی حالت بالکل ایسی ہی ہو جاتی ہے اور یوں ان کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہڈیاں کمزور ہونے سے جسم کی حالت بھی خراب ہو سکتی ہے اور شدید درد حتٰی کہ معذوری بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اوسٹیوپورسس اس سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ بیس فیصد بوڑھے افراد کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کے بعد ایک سال کے اندر وفات پا جاتے ہیں۔ اوسٹیوپوروسس صرف کسی دادی اماں کی صحت کا مسئلہ نہیں۔ صرف آسٹریلیا میں نصف فیصد سے زائد عورتیں ساٹھ سال کی عمر کے بعد اس کا شکار ہوتی ہیں جبکہ ایک تہائی مرد بھی اس کے نشانے سے نہیں بچتے۔ سڈنی میں واقع سینٹ ونسنٹ ہسپتال کے ڈیپارٹمنٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ بون ڈینسی ٹومیٹری department of nuclear medicine and bone densitometry کے پروفیسر نکولس پوکوک کہتے ہیں کہ ہڈیوں کے نقائص پچیس سال کی عمر میں بھی شروع ہو سکتے ہیں لیکن اکثر افراد اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ دراصل ایک زبردست وباء ان کے اندر پل رہی ہے۔ لہٰذا اس سلسلے میں آگاہی سب سے بہترین روک تھام ہے۔ اپنے آپ اور اپنے بچّوں کو اس عفریت سے بچانے کیلئے جدید میڈیکل سائنس اب ایک نئے نتیجے پر پہنچی ہے جو بہت سادہ ہے یعنی صرف اپنا لائف سٹائل تبدیل کر کے ہم اپنی ہڈیوں کو بچا سکتے ہیں اور اپنی زندگی کو بھی۔ اس میں نہ تو آپ کوئی جلدی کر رہے ہیں اور نہ دیر۔ آپ کبھی بھی اپنے لائف سٹائل میں تبدیلی کا آغاز کر سکتے ہیں۔
کیلشیم کا تعلق پرانے اور رائج نظریات کے برعکس ہمارا ڈھانچہ کوئی ایسی چیز نہیں جو بہت سخت یا غیر تغیّر پذیر ہو۔ ہر سال ہمارا جسم ہماری بیس فیصد ہڈیوں کے سپانجی ٹشو spongy tissue کو تبدیل کرتا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ عمر کے کسی بھی حصے میں ہماری سرگرمیاں ہماری صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ لگ بھگ 30 سال کی عمر تک ہماری ہڈیاں بڑی تیزی سے تعمیر کے عمل میں ہوتی ہیں۔ لہٰذا اس موقع پر اگر لائف سٹائل کو ٹھیک رکھا جائے اور صحت کے حوالے سے اچھے اقدامات اٹھائے جائیں مثلاً ورزش اور کیلشیم کی ان ٹیک وغیرہ تو ہمارے جسم کا ڈھانچہ اتنا مضبوط ہو جاتا ہے جس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک لمحے کیلئے تصوّر کریں کہ آپ کی ہڈیاں ریٹائرمنٹ کے فنڈ کی طرح ہیں، آپ جوانی میں جتنی زیادہ بچت کریں گے بڑھاپے میں آپ کو اتنا زیادہ فائدہ ہو گا کیونکہ اس وقت آپ کا انحصار اپنی جمع پونجی پر ہی ہو گا۔ لیکن بدقسمتی سے اکثر بچّے اتنا کیلشیم نہیں لیتے۔ آسٹریلیا میں کئے جانیوالے نیشنل نیوٹریشن سروے کے مطابق چالیس فیصد آسٹریلوی بچّے اپنی روزانہ کی خوراک میں اتنا کیلشیم نہیں لے رہے جس کی سفارش کی جاتی ہے۔ یہ بہت قابل فکر بات ہے کیونکہ ہڈیوں کی 90 فیصد پختگی اور طاقت بیس سال سے پہلے ہی پیدا ہوتی ہے۔ کیلشیم میں کمی کا مطلب ہوتا ہے کہ مستقبل میں ان کے اوسٹیوپوروسس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس غلطی کی ایک قیمت تو انہیں بہت پہلے ہی چکانی پڑ سکتی ہے۔ میوکلینک کی ایک سٹڈی کے مطابق گزشتہ تیس سالوں کے مقابلے میں اب بچوں میں اوپری بازو کی ہڈی ٹوٹنے کے واقعات میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ بچّوں کو کیلشیم کی مقررہ مقدار دئیے جانے سے اس قسم کی تکلیف دہ چوٹوں سے بچا جا سکتا ہے۔ 2005ء میں اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کی جانب سے کی جانیوالی ایک سٹڈی کے مطابق ڈاکٹروں نے سات سال سے زائد عرصے تک آٹھ سال سے تیرہ سال کی عمر کی لڑکیوں میں ان کے ڈھانچے کی نشوونما کا جائزہ لیا۔ یہ تمام لڑکیاں اوسطاً اپنی خوراک سے 800 ملی گرام کیلشیم لے رہی تھیں جو کہ اس عمر کے افراد کیلئے آرڈی اے کی سفارش کردہ مقدار 1300 ملی گرام سے کہیں کم تھا جس کے بعد ان میں سے نصف لڑکیوں کو کیلشیم کی اضافی مقدار بذریعہ سپلیمنٹ دی گئی جبکہ نصف لڑکیوں کو نہ دی گئی۔ سٹڈی کے سربراہ اور ڈائریکٹر آف اوسمک اوسٹیوپروسس پری ونشن اینڈ ٹریٹ منٹ سنٹر ڈاکٹر ویلیمیر میٹ کووک کے مطابق اضافی کیلشیم کا زبردست فائدہ دیکھنے میں آیا۔ خاص طور پر سن بلوغت کے موقع پر جب بچّوں میں نشوونما عروج پر ہوتی ہے جن بچّیوں کو اضافی کیلشیم دی گئی ان میں نہ صرف ہڈیاں مضبوط ہوئیں بلکہ ان میں سٹڈی کی دوسری لڑکیوں کے مقابلے میں ہڈی ٹوٹنے کی شرح بھی نصف ہو گئی۔ کیا سب بچّوں کو سپلیمنٹس کی ضرورت ہوتی ہے؟ مثالی طور پر تو یہ ہونا چاہئے کہ بچّے اور بالغ افراد اپنی روزانہ کی صحت مند خوراک کے ذریعے کیلشیم کا کوٹہ لیں۔ اس سلسلے میں دودھ اور ڈیری کی تمام مصنوعات فائدہ مند ہیں۔ اس کے علاوہ سارڈن اور ڈبہ ٹیک سالمن مچھلی بمعہ ہڈیاں، پتے دار ہری سبزیاں، سویابین اور کیلشیم فورٹیفائیڈ مالٹے کا جول یا سیرل وغیرہ بھی کیلشیم کاذریعہ ہیں۔ اپنے بچّوں کی خوراک میں اس قسم کی غذائوں کی روزانہ مین سرونگز شامل کرنے کی حوصلہ افزائی کریں۔ اگر آپ کے بچّے اس لئے دودھ سے انکار کرتے ہیں کہ ان کے خیال میں دودھ سے وہ موٹے ہو جائیں گے تو انہیں حال ہی میں کی جانیوالی نئی تحقیق کے بارے میں بتائیں کہ جس سے پتہ چلا ہے کہ جو بچّے زیادہ دودھ پیتے ہیں وہ ان بچوں سے زیادہ سمارٹ اور دُبلے پتلے ہوتے ہیں جو سافٹ ڈرنک یا دوسری میٹھی اشیاء کھاتے ہیں۔ آسان لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ دودھ بچّوں کو سمارٹ بھی بناتا ہے اور مضبوط بھی جبکہ سافٹ ڈرنک بچّوں کو موٹا کرتی ہیں اور ان کی ہڈیاں بھی کمزور کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ ڈاکٹر میٹ کووک کے بقول چونکہ بہت سے لوگ سفارش کردہ یا مطلوبہ مقدار میں کیلشیم نہیں لیتے اس لئے سپلیمنٹس اس کمی کو پورا کرتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں ''کیلشیم سپلیمنٹس کی مختلف اقسام ہیں اور تمام اچھے نتائج فراہم کرتے ہیں۔ذائقے دار چبا کر کھائی جانیوالی گولیوں کی شکل میں دستیاب سپلیمنٹس بچّوں کو زیادہ پسند ہوتے ہیں اور وہ اس کو بڑے آرام سے مطلوبہ مقدار سے زیادہ بھی کھا سکتے ہیں''۔ اپنی سٹڈی میں انہوں نے لڑکیوں کو ایک ہزار ملی گرام کیلشیم روزانہ دیا جس میں پانچ سو ملی گرام صبح اور پانچ سو ملی گرام شام کو، کیونکہ کیلشیم ایک وقت میں پانچ سو ملی گرام ہی اچھے طریقے سے جزو بدن بنتا ہے۔ کیلشیم کی کمی سے دوچار بالغ افراد کیلئے بھی یہی مقدار محفوظ ہے۔ سپلیمنٹس بعض ادویات سے مل کر عمل بھی کر سکتے ہیں۔ اس لئے ان کو لینے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔ وٹامن ڈی کا کردار کیا آپ کو وٹامن ڈی کی پوری مقدار مل رہی ہے؟ وٹامن ڈی کی مطلوبہ مقدار روزانہ 600 سے 1000 انٹرنیشنل یونٹ ہے۔ دوسری جانب سائنس دانوں میں اس بارے میں اتفاق بڑھ رہا ہے کہ مذکورہ مقدار بہت کم ہے۔کریگٹن یونیورسٹی اوماہا کے پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر رابرٹ بینی کے بقول یہ ہماری ہڈیوں کیلئے بری خبر ہے کیونکہ وٹامن ڈی کیلیشیم کو موثر طریقے سے پراسیس کرنے کیلئے بہت ضروری ہے۔ 2003ء میں ایک سٹڈی کے دوران انہوں نے سن یاس کے بعد عورتوں کو ایک سال وٹامن ڈی سپلیمنٹ دیا اور اس کے بعد ایک سال تک انہیں سپلیمنٹ نہ دیا تو اس کا جو نتیجہ سامنے آیا وہ یوں تھا۔ جب خواتین کے خون میں وٹامن ڈی کی مقدار زیادہ پائی گئی تو ان میں کیلشیم جذب کرنے کی شرح 65 فیصد بڑھ گئی۔ ڈاکٹر بینی اور دیگر ماہرین آر ڈی اے پر زور دے رہے ہیں کہ وٹامن ڈی کی سفارش کردہ مطلوبہ مقدار کو بڑھایا جائے۔ ڈاکٹر بینی نے بتایا کہ وٹامن ڈی کی کمی صحت کیلئے شدید مسائل پیدا کر سکتی ہے جن میں اوسٹیوپوروسس سے لیکر ٹائپ ون ذیابیطس یہاں تک کہ کینسر بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر بینی کا کہنا ہے کہ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ وٹامن ڈی کی مطلوبہ سفارش کردہ مقدار ایک ہزار انٹرنیشنل یونٹ سے بڑھا کر اٹھارہ سو انٹرنیشنل یونٹ کی جائے۔ ڈاکٹر بینی کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ بہت کم غذائوں میں پایا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اگرچہ وٹامن ڈی فطرت سے بھی لے سکتے ہیں مثلاً تیز دھوپ میں بیٹھ کر، لیکن یہ بھی تمام لوگوں کیلئے ممکن نہیں ہوتا کیونکہ کئی لوگوں کو دھوپ میں بیٹھنے سے سن برن کی شکایت ہو جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بات عام دیکھی گئی ہے کہ امریکہ کے شمالی علاقوں میں بیرونی کام کرنے والے ورکرز کو گرمیوں میں وٹامن ڈی کی خاصی مقدار مل جاتی ہے لیکن یہ سلسلہ سردیوں میں نہیں چلتا جب سورج کی روشنی اس قدر تیز نہیں ہوتی۔ سٹڈیز سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بوڑھے افراد کی جلد میں وٹامن ڈی پیدا کرنے کی صلاحیت ویسے بھی کم ہو جاتی ہے چاہے وہ سورج کی پوجا کرنیوالے ہی کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہڈیوں کو صحت مند رکھنے کیلئے سپلیمنٹ ہی واحد حل رہ جاتا ہے کہ جس سے وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ ان کو استعمال کریں یا کھودیں جوں جوں آپ بوڑھے ہوتے ہیں آپ کی ہڈیاں کمزور ہوتی جاتی ہیں اور ٹوٹ پھوٹ کے مقابلے میں ان کی افزائش کی صلاحیت کم پڑتی جاتی ہے۔ ماہواری کا سلسلہ ختم ہونے کے پانچ سے سات سال بعد ایسٹروجن کی کمی کے باعث عورتوں کی ہڈیوں کی bonemass یعنی کمیت بیس فیصد کم ہو سکتی ہے۔ اس موقع پر ہڈیوں پر اضافی توجہ دینے سے اس نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ بڑھتی ہوئی عمر مردوں میں بھی ان کے ہڈیوں کے ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے لیکن یہ اتنا شدید نہیں ہوتا جتنا عورتوں میں ہوتا ہے کیونکہ مردوں کا ڈھانچہ بڑا ہونے کے باعث ان کی ہڈیوں کی کمیت بھی زیادہ ہوتی ہے اور پچاس سال کے بعد بھی ان کے ہارمونز میں اتنی تیزی سے کمی نہیں ہوتی جتنی تیزی سے عورتوں میں ہوتی ہے۔ ہماری ہڈیوں کو مضبوط رہنے کے ہر عمر میں ورزش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے بہت سے بالغ اور بچّے کم از کم ورزش بھی نہیں کرتے جو کہ بچوں کیلئے روزانہ ایک گھنٹہ جسمانی سرگرمی اور بچوں کیلئے روزانہ آدھے گھنٹے کی جسمانی سرگرمی ہے۔ ہڈیوں کی صحت کیلئے دیگر کئی ورزشیں بھی بہت موزوں ہیں جن میں واکنگ، جاگنگ، سیڑھیاں چڑھنا اور ڈانس کے علاوہ مزاحمتی ورزشیں resistance exercise یعنی ویٹ لفٹنگ والی ورزشیں بھی شامل ہیں۔ 2003ء میں یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کی ایک سٹڈی کے مطابق جمپنگ یعنی اچھلنا بچوں کی ہڈیوں کیلئے بہترین ورزش ہے۔ محققین نے ورزش کی کلاس لینے والی سکول کی بچیوں کا موازنہ ایسی بچیوں سے کیا جو ورزش کے ساتھ ہفتے میں تین مرتبہ دس منٹ تک ہائی امپیکٹ جمپنگ ورزشیں بھی کرتی تھیں۔ سٹڈی کے دوسال کے بعد جو نتیجہ سامنے آیا وہ یہ تھا کہ ورزش کرنیوالے گروپ کی ہڈیوں کی کمیت میں پانچ فیصد اضافہ ہو گیا تھا۔ بچوں کیلئے دیگر کئی ورزشیں بھی بہت مفید ہیں جن میں رسہ کودنا، سکیٹنگ، ٹینس اور ٹیم سپورٹس مثلاً فٹ بال وغیرہ شامل ہیں۔ ٹونی سٹیبائل اوسٹیوپوروسس سنٹر نیویارک کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایتھل سریز کے مطابق جسم کو ایک خوبصورت ہیت اور صورت میں رکھنے کا فائدہ زندگی کے ہر مرحلے میں ہوتا ہے۔ بچوں کیلئے تو یہ بہت ہی فائدہ مند ہے کیونکہ ان کی ہڈیوں کی کمیت مسلسل افزائش کے عمل میں ہوتی ہے۔ اگر آپ تیس یا چالیس کے پیٹے میں ہیں تو ہڈیوں کی یہ مضبوطی آپ کو میدان عمل میں سرگرم رکھتی ہے۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ورزش عورتوں میں سن یاس کے ہڈیوں پر مضر اثرات کو زائل کرنے میں بڑی ممدومعاون ہے۔ حتٰی کہ 80 سال کی عمر میں بھی جب ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے ورزش بہت فائدہ مند ہوتی ہے کیونکہ جسمانی طور پر فٹ بوڑھے افراد کے گرنے کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے اور یوں ان کے ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ اپنی ہڈیوں کے معاملے میں لوگوں کی درست سمت میں رہنمائی کرنے کیلئے اوسٹیوپورسس کے ماہرین لوگوں سے مسلسل رابطے میں رہیں۔ لاکھوں افراد ہڈیاں ٹوٹنے کے خطرے سے دوچار ہیں اور اس تمام عمل کو روکا جا سکتا ہے۔ اوسٹیوپوروسس ایک وبا بن چکی ہے جس کو مزید پھیلنے سے روکنا ہو گا۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اجھا لکھا ھے
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,701
کمائي: 34,606
ميرا موڈ:
شکریہ: 162
705 مراسلہ میں 1,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| ٹیک, پسند, واقعات, ورزش, لوگ, موقع, ممکن, مسائل, امریکہ, بہترین, بچپن, بچوں, جلد, حل, خون, خواتین, خبر, ذیابیطس, زندگی, سافٹ, سال, سائنس, صبح, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| خوب صورت صحت مند بال | راجہ صاحب | فیشن اور بیوٹی ٹپس | 15 | 30-05-09 09:59 PM |
| ایک حوصلہ مند جوان | میاں شاہد | دلچسپ اور عجیب | 13 | 19-07-08 10:16 AM |
| صحت مند افراد کو پیاس محسوس ہونے پر پانی پینا چاہیئے | وجدان | دلچسپ اور عجیب | 1 | 19-05-08 05:34 PM |
| دعائے صحت | ابن ضیاء | آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی | 7 | 13-03-08 08:41 AM |
| عُقابی پرواز کے خواہش مند غالب | چاچا کمال | عمومی بحث | 3 | 20-07-07 08:01 AM |