![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() |
جو اس میں سےنہیں کےالفاظ پرغورفرمایئں توواضح ہوجایئگاکہ اگراسکےخلاف نہیں کیونکہ دوسری جگہ نیئےطریقےایجادکرنےکی ترغیب بھی دی گئی ہےاسی طرح کل بدعۃ الضلاۃمیں بھی اسی بری بدعت کاذکرہےکہ ہر بری بدعت گمراہی ہےمگرمنکرین صرف وہی احادیث پیش کرتے ہیں وہ بھی مختلف تاویلات کیساتھ اورجونئی مگر خلافِ اسلام نہ ہوایسی بدعتوں کےکرنےکےجائزوالی حدیثوں اورروایتوں کاکیاہوگااور نمازِ جمعہ میں عربی خطبہ سےبہلےاردو خطبہ کاکیاحکم ہوگا؟
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات! |
|
|
|
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() |
جناب ویرانی صاحب آپ کو یقینًا معلوم ھوگا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ جوتے پہن کر نماذ پڑھا کرتے تھے، سوال یہ ہے کہ اب ہم جوتے پہن کر نماذ کیوں ادا نہیں کرتے ؟
چلیں میں ہی جواب دے دیتا ھوں آپ کی مشکل آسان کر دیتا ھوں، اب جوتے اس لئے نہیں پہنتے کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے پہں کر نماذ پڑھنے سے روک دیا ، اور ہم رک گئے، آج ہمیں دنیا میں کوئی بھی کہیں جوتے سمیت نماذ پڑھتا ھوا نظر نہیں آتا ،سوائے جہاد میں مصروف مجاھدین کے، تو جناب اس طرح کے اور بھی کئی معاملات ہیں جن کو پہلے کرنے کا حکم بھی تھا اور اجازت بھی لیکن بعد میں انکو منع بھی کیا گیا اور سختی سے منع بھی کیا گیا یہ سنت حسن کا معاملہ بھی کچھ اسی طرح کا ھے جس کو پہلے کرنے کی ترغیب موجود ھے اور بعد میں اس کو کرنے سے منع کردیا گیا بلکہ سخت الفاظ میں منع کیا گیا، غور کریں تو واضع ھو گا کہ کسی بھی عمل یا کام کو منع بعد میں کیا جاتا ھے جب وہ ھو رہا ھو، بس بھائی بات اتنی ہی ھے ،میری کند عقل کے مطابق, اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطاء کرے، آمین
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
Last edited by sahj; 29-07-09 at 09:08 AM. |
|
|
|
|
|
#18 | ||
|
Senior Member
![]() |
السلام وعلیکم برادران
میں اس موضوع میں ایک طالب علم کی حیثیت سے مداخلت کرنا چاہوں گا ساتھ ہی ایک خلش بھی ہے جس کا اظہار ایک ذمہ دار اور فکر مند مسلمان کی حیثیت سے کرنا چاہوں گا ۔۔ عرض یہ ہے کہ میرے مطالعے کے مطابق بعض روایت دشمنان اسلام نے دین میں تفرقہ پھیلانے کے لیے مسلمانوں کے درمیان پھیلا دی تھیں اب جب تک نبی حیات تھے تو اللہ رب العالمین وحی کے ذریعےانہیں خبر کر دیتا تھا ۔۔ مگر نبی کی وفات کے بعد مسلمان آزمائش میں آ گئے قرآن کی حفاظت کا ذمہ تو اللہ جل: نے لیا ہے لیکن حدیث و روایات ۔ ۔ ! اب یہ مسلمانوں کی ذمہ داری بن گئی کہ علم حاصل کریں تحقیق کرتے رہیں اور علم کو پھیلاتے رہیں اسی دوران مسلمانوں کے ہاتھوں شکست خوردہ عجمیوں نے جب دیکھ کہ یہ قوم کسی طرح مفتوح نہیں ہو رہی تو انہوں نے دوسرے طریقے سے مسلمانوں کو تباہ کرنے کا طریقہ نکالا اور وہ تھا نبی اور صحابہ کے نام سے جھوٹی اور انتہائی خوفناک حد تک اختلافی روایات کو بنا کر ان کے درمیان پھیلا دینا تا کہ مسلمانوں کی آنے والی نسلیں ان باتوں کو سچ سمجھ کر اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لیں اور آپس میں ہی لڑتے رہیں جس کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لوگ جو فارس کو فتح کر کے غلام بنا کر لائے گئے تھے اور انہوں نےمدینے میں مسلمانوں کے درمیان رہ کر مسلمانوں کے متحد رہنے کا راز دیکھا تھا ان کی طرف سے ہر علم کی مجلس میں نبی کے نام سے اور " قال اللہ " اور " قال رسول اللہ " کی اتنی صدائیں بلند ہوتی تھیں کہ گویا وہ خود بھی نبی کے دور میں موجود تھے حالاں کہ ان کی پیدائش تو عرب سے باہر کی تھی اور ان کا دین اسلام کے علوم سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔ بعض مسلمان ان کی چالوں کو سمجھ تو گئے تھے جیسے کہ عبد اللہ بن عباس مگر وہ ان کی چرب زبانی کے آگے بے بس تھے ۔۔ اب اس معاملے میں وہ دشمنان اسلام تو قصور وار ہیں ہی مگر انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صحابہ اور تابعین کے بعد آنے والیں جنریشن میں سچ اور جھوٹ کے پرکھنے کا وہ جذبہ نہیں رہا جس کی بنیاد پر صحابہ نبی کے نام سے منسوب جھوٹ کو فوراً پکڑ لیا کرتے تھے پھر بھی اس علمی میدان میں کافی کام ہوا اور سب سے بڑی بات یہ کہ اللہ کے رسول بھی نئی بدعتوں کا دروازہ بند کر گئے تھے تا کہ مسلمان صرف قرآن و صحیح حدیث کی ہی اتبا ع کریں اور کسی تیسری چیز کے طرف سے آنے والی باتوں کو نظر انداز کر دیں جس نے ہمارے اس دین میں ( اپنی طرف سے ) کوئی نئی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ، تو وہ مردود ہے ۔ صحيح بخاري ، كتاب الصلح ، باب : اذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود ، حدیث : 2737 صحیح مسلم ، كتاب الاقضية ، باب : نقض الاحكام الباطلة ورد محدثات الامور ، حدیث : 4590 ظاہر ہے اس کے نتیجے میں دشمنان اسلام کا وار کسی حد تک ناکام ہوگیا کیوں کہ جب بھی وہ کوئی دین اسلام کے نہج سے ہٹ کر کوئی بات کہتے تو صحابہ اور تابعین سمجھ جاتے کہ یہ بات دین میں نہیں ہے اس پر سے اللہ بھلا کرے بخاری و مسلم جیسے بزرگان دین کا جنہوں نے علم الانساب اور رجال العارفین جیسے کاموں کے ذریعے جھوٹی روایات اور صحیح احادیث کا فرق واضح کیا جس کے نتیجے میں ان کی صحاح کی کتابوں کو دنیائے اسلام میں اولین درجے کی احادیث کی کتابوں کا درجہ ملا اس کے بعد بھی احادیث کی کتابیں لکھی گئیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ جھوٹی راویات بھی لکھ دی جاتی تھیں جس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ لوگوں کے علم میں رہے کہ یہ یہ حدیث جھوٹی ہے اور فلاں فلاں راوی جھوٹا ہے (واضح رہے کہ صحاح ستہ میں صحیح احادیث تو الگ کر کے لکھ دی گئی ہیں مگر جھوٹی روایات کو نظر انداز کیا گیا ہے ) مگر افسوس ہے ان لوگوں نے جنہوں نے ان روایات کے لکھنے کے مقصد کو سمجھنے کے بجائے ان کو حدیث ہی سمجھ لیا اور ان کو بھی دینی احکامات کی بنیاد بنا لیا جیسے کہ زیر بحث روایت جس میں واضح طور پر نئی بدعتوں اور گمراہی کا دروازہ نبی کے نام سے کھولا جا رہا ہے اقتباس:
اقتباس:
یہ ریاض الصالحین اور اس جیسی کتابوں کی دین اسلام میں کیا حیثیت ہے کیا یہ کتابیں ہمارے حلال اور حرام کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہیں ۔ان ہی کتابوں میں لکھی ہوئی جھوٹی روایات کا نتیجہ ہوگا کہ نئی نئی باتیں دین کا حصہ بن جائيں گی جیسے پیر پرستی ، ایک اللہ کی بندگی کو چھوڑ کر قبروں کی بندگی ہوگی ، وغیرہ پھر ان کے نتیجے میں انسانی اور عوامی اختیارات سے باطلانہ طور پر کوئی فراڈی کھیل رہا ہوگا اور انسانیت تماشہ بن رہی ہوگی اور یہ سب دین کے نام پر ہوگا اس کی مثالیں ہمارے ملک میں اکثر ہونے والے وہ واقعات ہیں جس میں کوئی اولاد کے لیے پیر صاحب کے کہنے پر اندھا عمل کرتے ہیں اور پیسہ تو ان پر لٹا کر برباد کرتے ہی ہیں اپنی عزت بھی برباد کر کے خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے دین اور دنیا سنوار لی ۔ باباؤں کے نام پر ہونے والی تقریبات جس میں انتہائی حد تک ناچ گانا بھی ہوتا ہے (واضح رہے کہ بدعت پرست علماء نے ناچ گانوں کو دین کے نام پر حلال کر رکھا ہے ) جیسے کہ طاہر القادری کی بعض ویڈیو جو میں نے خود دیکھیں ہیں اور عن قریب انہیں یو ٹیوب پر اپ لوڈ کردوں گا اور عرس کی تقریبات میں لوگوں کو اتنا پیسہ لٹاتے دیکھا ہے کہ اللہ معافی تقریب ختم ہونے کے بعد بوریاں بھر کر جی ہاں جی ہاں بوریاں بھر کر نوٹ سمیٹ رہے ہوتے ہیں یہ کام اس معاشرے میں ہو رہا ہے جہاں لوگوں کے پاس انسانی ہمدردی کے کاموں کے لیے پیسہ نہیں نکلتا مگر کوئی انہیں دین کے نام پر بے وقوف بنا کر یہی پیسہ نکلوا لے تو اس پر خوش رہتے ہیں ۔ افسوس ہے ان تمام مسائل کی جڑ ہے زیر بحث موضوع یعنی نئے کام دین کے نام پر کرنا اور انہیں جائز سمجھنا
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ Last edited by نورالدین; 10-03-10 at 12:49 PM. |
||
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فورم, پوسٹ, پسند, لوگ, نیا طریقہ, نماز, مکمل, معذرت, ایمان, اللہ, اسلام, بھائی, جھوٹ, حکم, حدیث, حضرات, درخواست, شخص, عالم, غم, صحیح, صحابہ, صدقہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|