واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > مطالعہ حدیث > ریاض الصالحین




اطاعت کے کاموں میں میانہ روی کی ترغیب (ریاض الصالحین14(

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-07-08, 03:00 AM   #1
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,485
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default اطاعت کے کاموں میں میانہ روی کی ترغیب (ریاض الصالحین14(

اطاعت کے کاموں میں میانہ روی کی ترغیب (ریاض الصالحین14(

آدمی کو چاہیے کہ ادائے عبا دت میں میانہ روی اختیار کرے تاکہ وہ نفس پر گراں نہ گزرے اوروہ اکتا ہٹ کا شکار نہ ہو ' جب کسی کام میں بے جاسختی ' تشدد اور تکلف ہو تو وہ کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتا بلکہ ادھورا رہتاہے ' اسی طرح سستی وکاہلی سے بھی مقصد حاصل نہیں ہوتا ۔ پس بہترین کام وہ ہے جس میں میانہ روی اور تسلسل ودوام ہو اس سے منز ل آسان ہو جاتی ہے ۔
شیخ اسلام رحمتہ اللہ علیہ نے فر ما یا :'' اللہ کا دین افراط و تفریط کے درمیان متعدل اور متو سط ہے ۔ ''
اللہ تعالیٰ نے فر مایا :'' ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لیے نہیں اتار کہ آپ مشقت میں پڑجائیں ۔''
(سورۃ طحہ:١)
اور فرمایا :'' اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتاہے ' وہ تمہارے ساتھ تنگی ارادہ میں نہیں کرتا ۔''
(سورۃ البقرۃ:١٨٥ )
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (02-07-08)
پرانا 02-07-08, 03:01 AM   #2
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,485
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اطاعت کے کاموں میں میانہ روی کی ترغیب (ریاض الصالحین14(

حدیث نمبر(١٤٢)
عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ا نکے پاس تشریف لائے تو اس وقت ایک عورت ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھی ' آپ نے فر مایا :'' یہ کون ہے ؟'' انھوں نے بتایا کہ یہ فلاں عورت ہے جو نفلی نمازیں کثرت سے پڑھتی ہے ' آپ نے فر مایا : '' ٹھہرو ' تم پر وہی لازم ہے جس کی تمہیں طاقت ہے ' پس اللہ تعالیٰ کی قسم ! اللہ تعالیٰ(ثواب دیتے ہوئے )نہیں اُکتاتاحتیٰ کہ تم خود اُکتا جاؤ۔''اور اللہ تعالیٰ کو وہ دین پسند ہے جس پر اس کواختیار کرنے والا ہمیشگی اختیار کرے ۔(متفق علیہ)
توثیق الحدیثــ:أخرجہ البخاری
(٣/٣٦۔فتح )'و مسلم(٧٨٤)(٢٢١)
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (02-07-08)
پرانا 02-07-08, 03:01 AM   #3
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,485
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اطاعت کے کاموں میں میانہ روی کی ترغیب (ریاض الصالحین14(

حدیث نمبر (١٤٣)
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ تین آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں میں آئے ۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عبادت کے متعلق پوچھ رہے تھے ' پس جب انہیں بتا یا گیا ۔تو گویا انھوں نے اسے کم سمجھا اورکہا : ہمارا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کیا موازنہ ' ان کے تو اگلے پچھلے تمام گناہ معادف کردیے گئے ہیں ۔ ان میں سے ایک نے کہا : میں تو ہمیشہ ساری رات نماز پڑھونگا۔ دوسر ے نے کہا : میں زمانہ بھر کے روزے رکھوں گا اور کبھی افطا رنہیں کرونگا ۔ تیسرے نے کہا ۔ میں عورتوںسے دور رہونگا ۔ اور کبھی شادی نہیں کرونگا ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فر مایا ؛'' تم نے ایسے ایسے کہا ہے ؟پھر آپ نے فر مایا :'' اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اس کا تقویٰ رکھنے والا ہوںلیکن
(اس کے باوجود )میں (نفلی )روزے رکھتا بھی ہوں اورچھوڑبھی دیتاہوں اوررات کی نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوںاورعورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں پس جس شخص نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ میں سے نہیں ۔''(متفق علیہ)
توثیق الحدیث: أخرجہ البخاری ( ٩/١٠٤۔فتح)' ومسلم ( ١٤٠١)
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (02-07-08)
پرانا 02-07-08, 03:01 AM   #4
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,485
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اطاعت کے کاموں میں میانہ روی کی ترغیب (ریاض الصالحین14(

حدیث نمبر ١٤٤۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا :'' دین کے بارے میں اپنی طرف سے سختی کرنے والے ہلاک ہوگئے ۔'' آپ نے یہ تین بار فر مایا ۔( مسلم )
توثیق الحدیث:أخرجہ مسلم (٢٦٨٠)
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (02-07-08)
پرانا 02-07-08, 03:01 AM   #5
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,485
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اطاعت کے کاموں میں میانہ روی کی ترغیب (ریاض الصالحین14(

دیث نمبر ١٤٥۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا:'' یقینا دین آسان ہے 'جو شخص دین میں بے جاسختی کرتا ہے تو دین اس پر غالب آجا تا ہے ' پس تم راہ اعتدال پر رہو اور ( اصل مسئلے کے) قریب قریب رہو اور( ملنے والے اجر پر ) خوش ہوجاؤ اور صبح' شام اور رات کے کچھ حصے ( کی عبادت ) سے مدد طلب کرو'' ۔ (بخاری )
اور بخاری کی ایک اور روایت میں ہے :'' تم راہ اعتدال پر رہو اور (اصل مسئلے کے ) قریب رہو اور صبح 'شا م اور رات کے کچھ حصے کو چلو ' میانہ روی اختیار کرو'میانہ روی اختیار کرو ' تم منزل مقصود تک پہنچ جاؤ گے ۔''
توثیق الحدیث :أخرجہ البخاری (١/٩٣۔فتح)'الراویۃ الثانیۃعندہ(١١/٢٩٤،فتح)
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (02-07-08)
پرانا 02-07-08, 03:02 AM   #6
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,485
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اطاعت کے کاموں میں میانہ روی کی ترغیب (ریاض الصالحین14(

حدیث نمبر ١٤٦۔
انس رضی اللہ عنہبیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو وہاںدوستونوںکے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی دیکھی تو فر مایا :''یہ رسی کیسی ہے ؟''صحابہ کرام نے بتایا کہ یہ ام المومنین زینب رضی اللہ عنہکی رسی ہے 'جب وہ (نماز پڑھتے پڑھتے )تھک جاتی ہیں تو ا سکے ساتھ لٹک جاتی ہیں (یعنی اس رسی سے سہارا لیتی تاکہ بیدار رہ سکیں)تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا:''اسے کھول دو ۔، تم میں ہر ایک شخص کو چاہیے کہ جب تک وہ فر حت ونشاط محسوس کرے تو نماز پڑھتا رہے ۔ اور جب تھک جائے اور سست پڑجائے توسو جائے ۔''
(متفق علیہ)
توثیق الحدیث :أخرجہ البخاری (٣/٣٦۔فتح )'و مسلم(٧٨٤)
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (02-07-08)
پرانا 02-07-08, 03:02 AM   #7
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,485
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اطاعت کے کاموں میں میانہ روی کی ترغیب (ریاض الصالحین14(

دیث نمبر ٤٧ ١ ،
عائشہ رضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :''جب تم میںسے کسی کونماز پڑھتے ہوئے اونگھ آئے تو اسے سو جا نا چاہیے حتیٰ کہ اسکی نیند دور ہو جائے ' اس لیے کہ جب کوئی ایک اونگھتے ہوئے نماز پڑھے گا تو وہ نہیں جا نتا کہ شاید وہ اپنے طور پرتو مغفر ت طلب کررہاہو جبکہ( فی الحقیقت )وہ اپنے خلاف بد دعا مانگ رہا ہو۔'' ( متفق علیہ)
توثیق الحدیث:أخرجہ البخاری (١/٣١٣ ۔فتح)' ومسلم (٧٨٦)
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (02-07-08)
پرانا 02-07-08, 03:02 AM   #8
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,485
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اطاعت کے کاموں میں میانہ روی کی ترغیب (ریاض الصالحین14(

دیث نمبر ١٤٨،
ابو عبد اللہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھا کرتا تھا ۔ پس آپ کی نماز درمیانی ہوتی تھی اور آپ کا خطبہ بھی در میا نہ ہوتاتھا ۔''(مسلم)
توثیق الحدیث:أخرجہ مسلم(٨٦٦)
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (02-07-08)
پرانا 02-07-08, 03:02 AM   #9
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,485
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اطاعت کے کاموں میں میانہ روی کی ترغیب (ریاض الصالحین14(

دیث نمبر١٤٩،
ابوجحیفہ و ہب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلمان اور ابودرداء رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہکے در میان بھائی چارہ قائم کیا تھا پس سلمان رضی اللہ عنہ اور ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لئے گئے ۔ تو انھوں نے ام درداء رضی اللہ عنہ جو میلے کچیلے کپڑوں میں دیکھا تو انھوں نے کہا : تمہاری یہ حا لت کیوں ہے ؟ ام درداء نے کہا :تمہارے بھائی ابودرداء کو دنیا کی کوئی حاجت ہی نہیں ۔پس انتے میں ابودرداء تشریف لائے اور انھوںنے سلمان کےلئے کھانا تیار کیا ۔ اورانہیں کہا کہ کھاؤ میرا تو روزہ ہے ۔ سلمان نے کہا :میں تو نہیں کھاؤں گا حتیٰ کہ تم بھی کھاؤں۔ پس انھوں نے بھی کھا یا ۔ جب رات ہوئی تو ابودرداء تہجد کی نماز پڑھنے لگے تو سلمان نے انہیںکہا کہ ابھی سو جاؤ ۔ پس وہ سو گئے 'وہ پھر نماز پڑھنے لگے تو انھوں نے کہا کہ ابھی سو ئے رہو جب رات کا آخری پہر ہوا تو سلمان رضی اللہ عنہنے کہا اب اُٹھ کر نماز پڑھو ۔ پس ان دونوںنے نماز تہجد اداکی ۔ پھر سلما ن نے انہیں کہا : بلا شبہ تمہارے رب کا تم پر حق ہے ۔ تیرے اپنے نفس کا تجھ پر حق ہے ۔ اور تیرے گھر والوں کا بھی تجھ پر حق ہے۔ پس ہر صاحب حق کو اس کا حق دو ۔ پھر وہ
( ابودرداء ) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے ۔ تو آپ نے سا ر ا قصہ بتا یا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا :'' سلمان نے سچ کہا ۔ ''(بخاری )
ؔتوثیق الحدیث: أخرجہ البخاری(٤/٢٠٩۔فتح)
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (02-07-08)
پرانا 02-07-08, 03:03 AM   #10
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,485
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اطاعت کے کاموں میں میانہ روی کی ترغیب (ریاض الصالحین14(

حدیث نمبر ١٥٠۔
ابومحمد عبد اللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (میرے متعلق )بتایا گیا کہ میں کہتا ہوں: اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں جب تک رندہ رہوںگا میں روزہ رکھوںگا ۔ اور رات کو قیام کرو ںگا ۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا :'' تم نے یہ یہ باتیں کی ہیں ؟'' میں نے آپؐ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم !میرے ماں آپ پر قربان ہوں میں نے یہ باتیں کی ہیں ۔ آپ نے فر مایا :'' تم یقینا اس کی طاقت نہیں رکھو گے ۔ اس لیے تم کبھی روزہ رکھ لو اور کبھی نہ رکھو ۔ رات کو سو یا بھی کرو اور قیام بھی کیا کرو ۔ ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو۔ کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گناہ ہے ۔ اس طر ح تمہارا یہ عمل زمانے بھر کے لیے روزے رکھنے کے مثل ہوجائے گا ۔ '' میں نے عرض کیا ۔ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فر مایا :'' ایک دن روزہ رکھو او ر دو دن روزہ نہ رکھو۔ میں نے عر ض کیا میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتاہوں ۔ آپ نے فر مایا :'' پھر ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن روزہ نہ رکھو ۔ یہ داؤد علیہ السلا م کا روزہ ہے ۔ یہ روزوں میں سے سب سے متعدل اور راست طریقہ ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ تمام روزوںمیں سے افضل روزہ ہے ۔ میں نے پھر عر ض کیا میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا:'' اس سے افضل اور بہتر کوئی طریقہ نہیں ۔ '' راوی حدیث عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ کہ میں اگر (مہینے میں )تین روزے قبول کیے ہوتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (شروع میں) فرمائے تھے ۔ تو مجھے اپنے اہل وعیال اور اپنے مال سے زیادہ محبو ب ہوتے ۔
ایک اور روایت میں ہے کہ ا ۤ پ ؐ نے فرمایا:''کیا مجھے نہیں بتا یا گیا کہ تم دن میں روزہ رکھتے ہواور رات میں قیام کرتے ہو۔ ؟'' میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول !با لکل ایسے ہی ہے ۔ آپؐ نے فر مایا :''ایسا نہ کیا کرو کبھی روزہ رکھ لیا کرو اور کبھی روزہ چھوڑدیا کرو۔ رات کو سو یا بھی کرو اور قیام بھی کیا کرو۔ اس لیے کہ تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے ۔ تیری آنکھ کا تجھ پر حق ہے تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے ۔ تیرے آنے والے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے ۔ تمہارے لیے بس یہی کافی ہے ۔ کہ ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو ۔ اس لیے کہ ہر نیکی کا ثواب دس گناہ ہے ۔ اور اس طرح تمہار ایہ عمل ہمیشہ کے روزے رکھنے کی طرح ہوجائے گا ۔ لیکن میں نے سختی کو پسند کیا تو مجھ پر سختی کر دی گئی ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میںاپنے اندر قوت پاتا ہوں ۔ آپ ؐ نے فر مایا :'' پھر تم اللہ تعالیٰ کے نبی داؤد علیہ السلا م جیسے روزے رکھ لو ۔ اور اس پر اضافہ کرو ۔ '' میں نے عر ض کیا : داؤد علیہ السلام کے روزے کس طرح تھے ؟آپ ؐ نے فر مایا :'' نصف زمانہ ( یعنی ایک دن روزہ اورایک دن ناغہ ) ۔'' راوی حدیث عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ جب بوڑھے ہو گئے تو فر مایا کرتے تھے ۔ کہ ہائے کا ش! میںنے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عطاکی ہوئی رخصت قبول کی ہوتی ۔
ایک اور روایت میں ہے :'' کیا مجھے یہ نہیں بتا یا گیا کہ تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور پوری رات قرآن پاک پڑھتے رہتے ہو ؟'' میں نے عر ض کیا ؛ اللہ کے رسول !ایسے ہی ہے ۔ لیکن میں یہ سب کچھ نیکی اور بھلائی کے ارادے ہی سے کرتا ہوں آپ ؐ نے فر مایا:'' اللہ تعالیٰ کے نبی داؤ د علیہ السلا م جیسا روزہ رکھو 'کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے ۔ اور ہر مہینے میں قرآن کی تلاوت مکمل کرو ۔ '' مےں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتاہوں ۔ آپ ؐنے فر مایا :''پھر بیس دن میں پڑھ لیا کرو ۔ '' میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپؐ نے فر مایا :'' پھر دس دنوں میں پڑ ھ لیا کرو۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی!میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ ؐ نے
فر مایا:'' پھر تم اسے سات دنوں میں مکمل کرو۔ اور اس سے زیادہ نہ کرو ۔ پس میں نے سختی کی تو مجھ پر بھی سختی کر دی گئی ۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا :'' تمہیں نہیں معلوم کہ شاید تمہاری عمر دراز ہو '' ۔ انھوں ( عبداللہ بن عمر) نے کہا: کہ میں اس حالت کو پہنچ گیا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لیے ( درازی عمر کے بارے میں )فرمایا تھا ۔جب میں بڑھاپے کو پہنچ گیا تو میں نے کہا: کاش میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عطا کردہ رخصت کو قبول کر لیتا ۔ایک اور روایت میں ہے کہ تمہاری اولا د کا بھی تم پر حق ہے ۔ ''ایک اور روایت میں ہے :'' اس کا روزہ نہیں جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ''۔آپ ؐ نے یہ تین مرتبہ فر مایا :'' ایک اور روایت میں ہے :'' اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب روزہ داؤد علیہ السلا م کا روزہ ہے ۔ اور سب سے زیادہ محبو ب نماز داؤد علیہ السلام کی نماز ہے ۔ وہ آدھی رات سو تے تھے ۔ اور اس کا تہائی حصہ نماز پڑھتے تھے ۔ او ر پھر اس کے چھٹے حصے میں سو جاتے تھے ۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے تھے ۔ اور ایک دن افطار کرتے تھے اور جب دشمن سے سامنا ہوجا تا تو بھاگتے نہیں تھے ۔
ایک اور روایت میں ہے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ میرے والد نے ایک خاندانی عورت سے میری شادی کردی ' وہ اپنی بہوکا بہت خیا ل رکھتے تھے ۔ ' وہ اس سے اس کے خاوند کے متعلق پوچھتے تووہ یہی جواب دیتی کہ وہ ویسے تو اچھے آدمی ہیں۔ لیکن جب سے ہم ان کے پاس آئے ہیں ۔ کبھی ہمار ابستر روندا ہے ۔ اور نہ ہماری پر دے والی چیز کو ٹٹولا ہے ۔ ( یعنی وہ میرے سا تھ لیٹے ہیں ۔ اور نہ وظیفہ زوجیت ادا کیا ہے ۔) پھر جب اسی طرح کئی دن گزر گے تو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسکے بارے میں بتایا آپ نے فر ما یا :''اسے میرے پا س لاؤ ۔ '' پس اس کے بعد میں آ پ ؐ سے ملا تو آ پ ؐ نے فر مایا:'' تم روزہ کیسے رکھتے ہو؟'' میں نے کیا: ہر روز ۔ آپ ؐ نے فر مایا :'' تم قرآن کتنی مدت میں ختم کرتے ہو ؟''میں نے کہا :ہر رات ایسے ہی بیان کیا جو پہلے گز رچکا ۔ وہ ( عبداللہ بن عمرو) اپنے گھر کے کسی فر د کو قرآن مجید کا وہ حصہ سناتے ۔ جو وہ رات کو پڑھتے تھے او ر صبح کو اس حصے کادور کیا کرتے تھے تا کہ رات کو پڑ ھنے میں آسان رہے ۔ اور جب وہ قو ت حاصل کرنا چاہتے تھے توکچھ دن روزے چھوڑ دیتے تھے اور ان کو گن لیتے تھے اور اتنے روزے بعد میں رکھ لیتے تھے ۔ وہ کسی ایسی چیز کو چھوڑ نا نا پسند کرتے جو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں کرتے تھے ۔
یہ مذکورہ تمام راویا ت صحیح ہیں ' ان کا زیادہ حصہ بخاری ومسلم دونوںمیں سے ہے اور تھوڑا ساحصہ ایسا ہے جو اِن دونوں میں سے کسی ایک ہی میں ہے ۔
توثیق الحدیث:أخرجہ البخاری(٤/٢١٨و٢٢٠و٢٤'٦/٤٥٣۔٤٥٤'٩/٩٤۔٩٥۔
فتح)'ومسلم(١١٥٩)
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (02-07-08)
پرانا 02-07-08, 03:04 AM   #11
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,485
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اطاعت کے کاموں میں میانہ روی کی ترغیب (ریاض الصالحین14(

حدیث نمبر ١٥٠۔
ابومحمد عبد اللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (میرے متعلق )بتایا گیا کہ میں کہتا ہوں: اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں جب تک رندہ رہوںگا میں روزہ رکھوںگا ۔ اور رات کو قیام کرو ںگا ۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا :'' تم نے یہ یہ باتیں کی ہیں ؟'' میں نے آپؐ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم !میرے ماں آپ پر قربان ہوں میں نے یہ باتیں کی ہیں ۔ آپ نے فر مایا :'' تم یقینا اس کی طاقت نہیں رکھو گے ۔ اس لیے تم کبھی روزہ رکھ لو اور کبھی نہ رکھو ۔ رات کو سو یا بھی کرو اور قیام بھی کیا کرو ۔ ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو۔ کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گناہ ہے ۔ اس طر ح تمہارا یہ عمل زمانے بھر کے لیے روزے رکھنے کے مثل ہوجائے گا ۔ '' میں نے عرض کیا ۔ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فر مایا :'' ایک دن روزہ رکھو او ر دو دن روزہ نہ رکھو۔ میں نے عر ض کیا میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتاہوں ۔ آپ نے فر مایا :'' پھر ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن روزہ نہ رکھو ۔ یہ داؤد علیہ السلا م کا روزہ ہے ۔ یہ روزوں میں سے سب سے متعدل اور راست طریقہ ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ تمام روزوںمیں سے افضل روزہ ہے ۔ میں نے پھر عر ض کیا میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا:'' اس سے افضل اور بہتر کوئی طریقہ نہیں ۔ '' راوی حدیث عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ کہ میں اگر (مہینے میں )تین روزے قبول کیے ہوتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (شروع میں) فرمائے تھے ۔ تو مجھے اپنے اہل وعیال اور اپنے مال سے زیادہ محبو ب ہوتے ۔
ایک اور روایت میں ہے کہ ا ۤ پ ؐ نے فرمایا:''کیا مجھے نہیں بتا یا گیا کہ تم دن میں روزہ رکھتے ہواور رات میں قیام کرتے ہو۔ ؟'' میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول !با لکل ایسے ہی ہے ۔ آپؐ نے فر مایا :''ایسا نہ کیا کرو کبھی روزہ رکھ لیا کرو اور کبھی روزہ چھوڑدیا کرو۔ رات کو سو یا بھی کرو اور قیام بھی کیا کرو۔ اس لیے کہ تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے ۔ تیری آنکھ کا تجھ پر حق ہے تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے ۔ تیرے آنے والے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے ۔ تمہارے لیے بس یہی کافی ہے ۔ کہ ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو ۔ اس لیے کہ ہر نیکی کا ثواب دس گناہ ہے ۔ اور اس طرح تمہار ایہ عمل ہمیشہ کے روزے رکھنے کی طرح ہوجائے گا ۔ لیکن میں نے سختی کو پسند کیا تو مجھ پر سختی کر دی گئی ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میںاپنے اندر قوت پاتا ہوں ۔ آپ ؐ نے فر مایا :'' پھر تم اللہ تعالیٰ کے نبی داؤد علیہ السلا م جیسے روزے رکھ لو ۔ اور اس پر اضافہ کرو ۔ '' میں نے عر ض کیا : داؤد علیہ السلام کے روزے کس طرح تھے ؟آپ ؐ نے فر مایا :'' نصف زمانہ ( یعنی ایک دن روزہ اورایک دن ناغہ ) ۔'' راوی حدیث عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ جب بوڑھے ہو گئے تو فر مایا کرتے تھے ۔ کہ ہائے کا ش! میںنے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عطاکی ہوئی رخصت قبول کی ہوتی ۔
ایک اور روایت میں ہے :'' کیا مجھے یہ نہیں بتا یا گیا کہ تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور پوری رات قرآن پاک پڑھتے رہتے ہو ؟'' میں نے عر ض کیا ؛ اللہ کے رسول !ایسے ہی ہے ۔ لیکن میں یہ سب کچھ نیکی اور بھلائی کے ارادے ہی سے کرتا ہوں آپ ؐ نے فر مایا:'' اللہ تعالیٰ کے نبی داؤ د علیہ السلام جیسا روزہ رکھو 'کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے ۔ اور ہر مہینے میں قرآن کی تلاوت مکمل کرو ۔ '' مےں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتاہوں ۔ آپ ؐنے فر مایا :''پھر بیس دن میں پڑھ لیا کرو ۔ '' میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپؐ نے فر مایا :'' پھر دس دنوں میں پڑ ھ لیا کرو۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی!میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ ؐ نے
فر مایا:'' پھر تم اسے سات دنوں میں مکمل کرو۔ اور اس سے زیادہ نہ کرو ۔ پس میں نے سختی کی تو مجھ پر بھی سختی کر دی گئی ۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا :'' تمہیں نہیں معلوم کہ شاید تمہاری عمر دراز ہو '' ۔ انھوں ( عبداللہ بن عمر) نے کہا: کہ میں اس حالت کو پہنچ گیا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لیے ( درازی عمر کے بارے میں )فرمایا تھا ۔جب میں بڑھاپے کو پہنچ گیا تو میں نے کہا: کاش میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عطا کردہ رخصت کو قبول کر لیتا ۔ایک اور روایت میں ہے کہ تمہاری اولا د کا بھی تم پر حق ہے ۔ ''ایک اور روایت میں ہے :'' اس کا روزہ نہیں جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ''۔آپ ؐ نے یہ تین مرتبہ فر مایا :'' ایک اور روایت میں ہے :'' اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب روزہ داؤد علیہ السلا م کا روزہ ہے ۔ اور سب سے زیادہ محبو ب نماز داؤد علیہ السلام کی نماز ہے ۔ وہ آدھی رات سو تے تھے ۔ اور اس کا تہائی حصہ نماز پڑھتے تھے ۔ او ر پھر اس کے چھٹے حصے میں سو جاتے تھے ۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے تھے ۔ اور ایک دن افطار کرتے تھے اور جب دشمن سے سامنا ہوجا تا تو بھاگتے نہیں تھے ۔
ایک اور روایت میں ہے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ میرے والد نے ایک خاندانی عورت سے میری شادی کردی ' وہ اپنی بہوکا بہت خیا ل رکھتے تھے ۔ ' وہ اس سے اس کے خاوند کے متعلق پوچھتے تووہ یہی جواب دیتی کہ وہ ویسے تو اچھے آدمی ہیں۔ لیکن جب سے ہم ان کے پاس آئے ہیں ۔ کبھی ہمار ابستر روندا ہے ۔ اور نہ ہماری پر دے والی چیز کو ٹٹولا ہے ۔ ( یعنی وہ میرے سا تھ لیٹے ہیں ۔ اور نہ وظیفہ زوجیت ادا کیا ہے ۔) پھر جب اسی طرح کئی دن گزر گے تو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسکے بارے میں بتایا آپ نے فر ما یا :''اسے میرے پا س لاؤ ۔ '' پس اس کے بعد میں آ پ ؐ سے ملا تو آ پ ؐ نے فر مایا:'' تم روزہ کیسے رکھتے ہو؟'' میں نے کیا: ہر روز ۔ آپ ؐ نے فر مایا :'' تم قرآن کتنی مدت میں ختم کرتے ہو ؟''میں نے کہا :ہر رات ایسے ہی بیان کیا جو پہلے گز رچکا ۔ وہ ( عبداللہ بن عمرو) اپنے گھر کے کسی فر د کو قرآن مجید کا وہ حصہ سناتے ۔ جو وہ رات کو پڑھتے تھے او ر صبح کو اس حصے کادور کیا کرتے تھے تا کہ رات کو پڑ ھنے میں آسان رہے ۔ اور جب وہ قو ت حاصل کرنا چاہتے تھے توکچھ دن روزے چھوڑ دیتے تھے اور ان کو گن لیتے تھے اور اتنے روزے بعد میں رکھ لیتے تھے ۔ وہ کسی ایسی چیز کو چھوڑ نا نا پسند کرتے جو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں کرتے تھے ۔
یہ مذکورہ تمام راویا ت صحیح ہیں ' ان کا زیادہ حصہ بخاری ومسلم دونوںمیں سے ہے اور تھوڑا ساحصہ ایسا ہے جو اِن دونوں میں سے کسی ایک ہی میں ہے ۔
توثیق الحدیث:أخرجہ البخاری(٤/٢١٨و٢٢٠و٢٤'٦/٤٥٣۔٤٥٤'٩/٩٤۔٩٥۔
فتح)'ومسلم(١١٥٩)

Last edited by عبداللہ حیدر; 03-07-08 at 12:52 AM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (02-07-08)
پرانا 02-07-08, 03:04 AM   #12
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,485
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اطاعت کے کاموں میں میانہ روی کی ترغیب (ریاض الصالحین14(

حدیث نمبر ١٥١،
حضر ت ابوربعی حنظلہ بن ربیع اُسیدی جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کاتبوں میں سے ہیں ،سے روایت ہے ۔ کہ انھوں نے فر مایا :'' ابو بکر رضی اللہ عنہ مجھے ملے تو مجھ سے پوچھا : اے حنظلہ !تم کیسے ہو؟میں نے کہا: حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے ۔ انھوں نے فرمایا :سبحان اللہ ! تم کےا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پا س ہوتے ہیں ۔ وہ ہمارے سامنے اورجنت اوردوزخ کاذکر فرماتے ہیں ۔ تو ایسے لگتا ہے کہ ہم انہیں دیکھ رہے ہیں ، اور جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے اُ ٹھ کر آجاتے ہیں ۔ اوراپنے بیوی بچوں نیز دنیاوی کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔ تو ہم بھول جاتے ہیں ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہنے یہ سن کر فرمایا : اللہ کی قسم ! ہماری بھی تو ایسی ہی صورت حال ہے ۔ پس میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ چل پڑے حتیٰ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے ۔ پس میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! حنظلہ تو منافق ہوگیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا :'' یہ کیسے ؟'' میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ۔ تو آپ جنت اور دوزخ کا تذکرہ اس طرح فرماتے ہیں ۔ کہ گو یا کہ ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ او ر جب ہم آپ کے پاس سے اُٹھ کر اپنے بیوی بچوں اور دنیا وی کاموں میں مشغول ہوجاتے ہیں ۔ تو ہم بہت سی باتیں بھول جاتے ہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا :'' اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے !اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہوجس میں میرے پاس ہوتے ہو۔ او ر ہر وقت ذکر الٰہی میں مصروف رہو تو فر شتے تمہارے بستروںاور تمہارے راستوں پر تم سے مصافہ کریں ۔ لیکن اے حنظلہ! وقت وقت کی بات ہے ۔ '' آپ نے یہ تین بار فرمایا :'' (مسلم)
توثیق الحدیث:أخرجہ مسلم(٢٧٥٠)ۤ
حدیث نمبر ١٥٢،
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (02-07-08)
پرانا 02-07-08, 03:05 AM   #13
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,485
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اطاعت کے کاموں میں میانہ روی کی ترغیب (ریاض الصالحین14(

بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ ارشاد فر مارہے تھے کہ دیکھا کہ ایک آدمی
( دھوپ میں)کھڑاہے َ آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو صحابہ اکرا م رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ۔ کہ یہ ابو اسرائیل ہے 'اس نے نذر مانی ہے کہ وہ دھوپ میں کھڑا رہے گا ۔ بیٹھے گا نہیں ۔ سائے والی جگہ نہیں جائے گا 'نہ کلام کرے گا او ر روزہ رکھے گا ۔ پس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا :'' اسے کہو کہ وہ گفتگوکرے ۔ سائے میں جابیٹھے اور اپنے روزے کوپور اکرے ۔''( بخاری )
توثیق الحدیث:أخرجہ البخاری(١١/٥٨٦۔فتح)
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (02-07-08)
پرانا 02-07-08, 09:19 AM   #14
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,198
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اطاعت کے کاموں میں میانہ روی کی ترغیب (ریاض الصالحین14(

ماشا اللہ

جزاک اللہ
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پسند, قرآن, قصہ, نیند, نماز, ماں, مسجد, آدمی, اللہ, اسلام, بہترین, بھائی, حدیث, خوش, خلاف, دعا, روزہ, رات, زمانہ, شام, شخص, عورت, عبادت, صبح, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
امریکی اب بغیر پاس ورڈ کے انٹرنیٹ آئی ڈی استعمال کریں گے محمدعمر خبریں 4 12-01-11 12:46 AM
برطانوی مسلمانوں کی ’غیرقانونی شادیاں‘ کنعان عمومی بحث 0 04-02-10 12:59 AM
اشاعت دین کیلئے ابن حسن رضوی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، مولانا عون نقوی عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 10:41 AM
بے نظیر نے مرتضیٰ بھٹوقتل کی تحقیقات غیر ملکی ماہرین سے کیوں نہیں کرائی،شجاعت عبدالقدوس خبریں 0 27-10-07 09:45 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:36 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger