![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
بدعت سے مراد دین میں ایجا د کردہ نیا طریقہ ہے ' جو شریعت کے مشابہ ہوتاہے اور اس کے ذریعے سے
اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ' حالانکہ اس کے صحیح ہونے پر کوئی شرعی دلیل نہیں ہوتی ۔ کتاب وسنت اور اقوال سلف کے ذریعے اسکی بہت مذمت کی گئی ہے او ر اس کے قریب جانے سے منع کیا گیا ہے ' اس لیے کہ یہ بھی شرک کی ایک شاخ اور قسم ہے ۔ اور شیطان کو یہ دوسرے تمام گناہوں سے زیادہ محبوب اور پسند ہے ' کیو نکہ گناہگا رتو کبھی نہ کبھی اپنے گنا ہ سے توبہ کر لیتا ہے ۔ جبکہ بد عتی کو توفیق کم ملتی ہے ' اس لیے کہ وہ توبد عت کو نیکی سمجھ کر تقرب الٰہی کےلئے کر رہا ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:'' پس نہیں ہے حق کے بعد مگر گمراہی۔''( سورۃ یونس:٣٢) اللہ تعالیٰ نے فرمایا:'' ہم نے کتا ب میںکسی چیزکے بیان کرنے میں کوتاہی سے کام نہیں کیا ۔'' ( سورۃ الأ نعام:٣٨) اللہ تعالیٰ نے فرمایا:'' اگر تم کسی چیز کے بارے میں آپس میں اختلا ف و نزاع کرو تو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسو ل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف لوٹادو ۔ ''(سورۃ النسائ:٥٩) یعنی کتاب و سنت کی طرف لو ٹا دو ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:''بےشک یہ ہے میرراستہ سیدھا ' پس تم اس کی پیروی کرواور دوسرے راستوں کی پیروی مت کرو ' ورنہ وہ تمہیں اس سیدھے راستے سے جد اکردیںگے''۔ (سورۃ الأنعام:١٥٣) اور فرمایا:'' ( اے پیغمبر!)فرمادیجیے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو۔ تو میری پیرو ی کرو ۔ اللہ تمہیں اپنا محبو ب بنا لے گا ۔ اورتمہارے گنا ہ معاف کردے گا ۔ ''(سورۃ آل عمران :٣١) |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر١٦٩۔
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:'' جس نے ہمارے اس امر ( دین اسلام ) میں کوئی نئی چیز ایجا د کی ' جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے ۔ '' ( متفق علیہ) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے :'' جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہمار احکم نہیں ہے تو وہ کام مردودہے ۔'' توثیق الحدیث:أخرجہ البخاری(٥/٣٠١۔فتح)'ومسلم(١٧١٨) یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جن پر اسلام کا مدار ہے'لہٰذا اسے یاد کرنا چاہیے اور اس کا پرچار کرنا چاہیے اور بدعات ومحدثات کے رد کرنے میںایک عظیم قاعدہ ہے۔اہل علم نے اس حدیث کی تفصیل میںسیر حاصل بحث کی ہے۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ۤحدیث نمبر ١٧٠۔
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے تھے ۔ تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں تھیں ۔ او ر آواز بلند ہوجاتی اور آپ کا غضب شدید ہو جاتاحتیٰ کہ ایسے معلوم ہوتا کہ آپ کسی ( حملہ آور ) لشکر سے ڈرارہے ہیں ' آپ فرماتے ہیں ۔'' وہ تم پر صبح و شام کو حملہ کرنے والا ہے ۔ '' او ر فرماتے :'' میں اورقیامت ایسے معبوث کیے گئے ہیں ۔ جیسے یہ دوانگلیاں ہیں :'' آپ اپنی ا نگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کو ملا لیتے او ر فرماتے :'' أما بعد ! یقینا بہترین بات اللہ کی بات ہے ۔ اور بہترین راستہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا راستہ ہے ۔ او ر بد ترین کام نئے پیدا کردہ کام ہیں اور دین کے بارے میں ہر نیا کام گمراہی ہے۔ '' پھر آپ نے فرماتے :''میں ہر مومن پر اس کی جان سے بھی زیادہ حق رکھتا ہوں ۔ ( یعنی اس کا سب سے زیادہ خیر خواہ ہوں )جو شخص مال چھوڑ جائے وہ اس کے ورثا کے لیے ہے اور جو شخص قرض یا بچے اور عیال چھوڑ کر مرجائے تو ( قرض کی ادائیگی ) میر ے ذمے ہے اور ( بچوں کی نگرانی کا فریضہ ) مجھ پر ہے ۔''(مسلم) توثیق الحدیث:أخرجہ مسلم( ٨٦٧) |
|
|
|
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| پسند, نیا طریقہ, محبت, معلوم, اللہ, اسلام, بہترین, بچوں, حدیث, راستہ, شام, شخص, عمران, صبح, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اللہ کے حکم کی تعمیل واجب ہے۔ ریاض الصالحین 17 | عبداللہ حیدر | ریاض الصالحین | 1 | 03-07-08 01:11 AM |
| سنت اور اسکے آداب کی حفاظت کرنے کا حکم 16 ریاض الصالحین | عبداللہ حیدر | ریاض الصالحین | 12 | 03-07-08 01:06 AM |
| نیکوں کی طرف جلدی کرنے ۔ ۔ ۔ کا بیان (ریاض الصالحین باب 10) | عبداللہ حیدر | ریاض الصالحین | 8 | 28-06-08 02:03 AM |
| مراقبے کا بیان (ریاض الصالحین باب 5) | عبداللہ حیدر | ریاض الصالحین | 9 | 28-06-08 01:23 AM |
| ریاض الصالحین سلسلہ وار مطالعہ | عبداللہ حیدر | ریاض الصالحین | 14 | 21-06-08 02:26 AM |