|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
باب نمبر۔٢ توبہ کا بیا ن
علما ء نے کہا ہے کہ توبہ گنا ہ سے واجب ہے' اگر گنا ہ کا معاملہ اللہ تعا لیٰ اوربندے ہی کے در میان ہے ' کسی دوسرے بندے کے متعلق نہیں تو ایسے گنا ہ کےلئے تو بہ کی تین شرطیں ہیں : ( ١) ۔گنا ہ سے کنا رہ کشی کرے ۔ ( ٢) ۔اس پر نا دم ہو۔ ( ٣) ۔ پختہ عزم وارادہ کرے کہ آئندہ یہ گنا ہ کبھی نہیں کرے گا ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی کم ہوئی تو توبہ صحیح نہیں ہو گئی ۔ اور اگرگنا ہ کا تعلق کسی دوسرے آدمی سے ہو تو پھر اسکی تو بہ کے لیے چار شرطیں ہیں ' تین تو پہلی جو بیان کی گئی ہیں ۔ اور چوتھی یہ کہ صاحب حق کا حق ادا کرے ' اگر کسی کا ما ل وغیرہ ہو تو اسے ادا کرے ' اگر کسی پر تہمت لگا ئی ہو تو پھر اسکی حد اپنے اوپر لگوائے یا پھر اس سے معافی مانگے اور اگر غیبت کی ہو تو اسے اس سے معاف کرائے ۔ اور یہ ضروری ہے۔ کہ وہ تمام گناہوں سے توبہ کرے ' اگر وہ شخص بعض گنا ہوں سے توبہ کرے تو اہل حق کے نزدیک اس گناہ کے متعلق اسکی توبہ صحیح ہو گی اور جن سے توبہ نہیں کی ہوگی وہ گنا ہ اس کے ذمے با قی ہوں گا۔ وجوب توبہ پر کتاب وسنت کے بے شما ر دلا ئل اور امت کا اجما ع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرما یا : '' اے مومنو ! تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو تاکہ تم کامیا ب ہوجا ؤ'' اور فرما یا : '' اور یہ کہ تم اپنے رب کی طرف استغفار کر و ' پھر اسکی طرف رجوع کرو'' (سورۃ النور :٣١) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : '' اے مومنو ! اللہ تعالیٰ کی طرف خا لص توبہ کر و۔ '' (سورۃ التحریم :٨) "پس ایسے لوگوں کی خطائیں نیکیوں میںتبدیل کر دے گا اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہر با ن ہے۔'' سورۃ الفرقان: (٧٠) '' پس آدم (علیہ السلام )نے اپنے رب سے چند کلما ت سیکھ لیے اور اللہ تعالیٰ نے انکی تو بہ قبول فر ما ئی ' بے شک وہی توبہ قبول کرنے والا ر حم کرنے والا ہے '' ۔( سورۃ البقرہ : ٣٧) جد ِ انبیا ء ابراہیم علیہ السلام نے بھی اس سلسلے کو جا ری رکھا اور فر ما یا : '' اے ہمارے رب ! ہمیں اپنا فر ما نبر دار بنالے اور ہما ری اولا د میں سے بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ اور ہمیں اپنی عبا دتیں سکھا اور ہما ری توبہ قبول فرما ' تو توبہ قبول فرما نے والا رحم وکرم کرنے والا ہے'' ( سورۃ البقرۃ : ١٢٨) موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے : [COLOR="Red"]'' پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا : بے شک آپکی ذات منزہ ہے ' میں آپ کی جنا ب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے آپ پرا یما ن لانے والا ہوں ۔'' ( سورۃ الا عراف : ١٤٣ ) [/ COLOR] ۤ''اور اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے آگے توبہ کرو ( تو بہترہے کیونکہ ) تمہا رے دل کج ہوگئے ہیں '' (سورۃالتحریم :ـ ٤ ) '' اے مومنو ! تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کروتا کہ تم کا میا ب ہو سکو '' ( سورۃ النور : ٣١) '' وہ جنہوں نے تو بہ کی اور اپنی حالت کو در ست کیا اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑااور خاص اللہ کے فر ما نبر دار ہو گئے تو ایسے لوگ مو منو ں کے زمرے میں ہو ںگے اور عنقریب اللہ تعالیٰ مومنوں کو بڑاثواب دے گا ۔'' ( سورۃ النساء:١٤٦) |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
احادیث
توبہ کے بارے میں احادیث درج ذیل ہیں۔ ۤحدیث نمبر1 ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں ۔ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرما تے ہوئے سنا : '' اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں دن میں ستر سے زائد مرتبہ اللہ تعالیٰ سے گنا ہوں کی بخشش ما نگتا اور اسکی طرف توبہ کرتا ہوں ' '(بخا ری ) توثیق الحدیث : أخرجہ البخاری ( ١١/١٠١۔ فتح) ۔ |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | طارق افضل (21-06-08) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر 3
١٥۔ــ ابو حمزہ انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خادم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرما یا : '' اللہ تعا لیٰ اپنے بندے کی تو بہ سے اس شخص سے کہیں زیا دہ خوش ہو تا ہے جس نے کسی جنگل میں اپنا اونٹ گم کر دیا ہو او ر پھر اس نے اسے پا لیا ہو۔ '' ( متفق علیہ ) اور مسلم کی ایک روایت کے الفاظ اس طرح ہیں :'' اللہ تعا لیٰ اپنے بندے کی تو بہ سے جب وہ اس کیطرف توبہ کر تا ہے ' اس آدمی سے بھی زیا دہ خوش ہو تا ہے جو کسی جنگل میں اپنی سوا ری پر سوار ہو کہ اچانک وہ سوا ر ی اس سے چھوٹ جا ئے اور اس پر اس کے کھا نے پینے کا ساما ن ہو' وہ اس سے ما یوس ہو کر کسی در خت کے سا ئے تلے آ کرلیٹ جا ئے جبکہ وہ اپنی سواری سے ( مکمل طور پر) ما یوس ہو چکا ہو کہ اتنے میں اچانک سواری اس کے سا منے آکھڑی ہو ا ور وہ اس کی مہا رتھا م کر خوشی کی شدت میں کہہ دے : اے اللہ ! تو میرا بندہ ہے او رمیں تیرارب ہوں ۔ شدت فر حت کی وجہ سے اس سے غلطی ہو جا ئے ۔''( مسلم ) توثیق الحدیث : أخرجہ البخاری ( ١١/١٠٢۔فتح) ' و مسلم( ٢٧٤٧)(٨)۔والروایۃالثانیۃ عند مسلم ( ٢٧٤٧)(٧) |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | طارق افضل (21-06-08) |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر 4
ابو موسی عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : '' بے شک اللہ تعالیٰ رات کے وقت اپنا ہا تھ پھیلا تا ہے ۔ تاکہ دن کے وقت برا ئی کرنے والا تو بہ کر لے اور وہ دن کے وقت اپنا ہاتھ پھیلا تا ہے تا کہ را ت کے وقت بر ائی کرنے وا لا تو بہ کرلے ( یہ سلسلہ جا ری رہتا ہے ) حتٰی کہ سور ج مغر ب سے طلو ع ہو جائے ۔'' ( مسلم ) توثیق الحدیث : أخرجہ مسلم (٢٧٥٩) ۔ |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | طارق افضل (21-06-08) |
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر 4
ابو موسی عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : '' بے شک اللہ تعالیٰ رات کے وقت اپنا ہا تھ پھیلا تا ہے ۔ تاکہ دن کے وقت برا ئی کرنے والا تو بہ کر لے اور وہ دن کے وقت اپنا ہاتھ پھیلا تا ہے تا کہ را ت کے وقت بر ائی کرنے وا لا تو بہ کرلے ( یہ سلسلہ جا ری رہتا ہے ) حتٰی کہ سور ج مغر ب سے طلو ع ہو جائے ۔'' ( مسلم ) توثیق الحدیث : أخرجہ مسلم (٢٧٥٩) ۔ |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | طارق افضل (21-06-08) |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر 5
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا : '' جو شخص سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کرلے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی تو بہ قبول فرما لے گا ۔ '' ( مسلم ) توثیق الحدیث: أخرجہ مسلم (٢٧٠٣)۔' |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | طارق افضل (21-06-08) |
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
'جس روز آپ کے رب کی کوئی بڑی نشانی آپہنچے گی تو کسی ایسے شخص کا ایما ن اس کے کا م نہیں آئے گا جو پہلے سے ایما ن نہیں رکھتا یا اس نے اپنے ایما ن میں کوئی نیک عمل نہ کیاہو۔ '' ( سورۃ الا انعام : ١٥٨)
|
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | طارق افضل (21-06-08) |
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر 6
ابو عبد الرحمن بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : '' یقینا اللہ عزوجل بندے کی تو بہ اس وقت تک قبول فر ما لیتا ہے جب تک وہ حالت نزع کو نہ پہنچ جا ئے '' ۔ ( تر مذ ی حدیث حسن ہے ) توثیق الحدیث : صحیح بشواھدہ ۔ ا خرجہ الترمذی ( ٣٥٣٧)'وابن ما جہ ( ٤٢٥٢)'وا حمد( ٦١٦٠ و٦٤٠٨)' والبغوی فی ((شرح السنۃ)) ( ١٣٠٦) ' وابن حبان (٢٤٤٩) ' والحا کم ( ٤/٢٥٧)۔ عبدالرحمن بن ثابت کے علاوہ اس حدیث کے تمام راوثقہ ہیں اور وہ صدوق ہے اورکبھی غلطی کرتاہے ، اور اس کی حدیث احسن درجے کی ہے ۔حضرت ابو ذر اور بشیر بن کعب کی حدیث اس کے شواہد میں سے ہے ، گویا امام نووی رحمہ اللہ نے اسی لیے شرح مسلم( ١٧/٢٥)میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ اس حدیث کا مضمون قرآن کریم میں یوں بیان کیا گیا ہے: '' اللہ تعالیٰ صرف انہی لوگوں کی تو بہ قبول فر ما تا ہے۔ جو بوجہ نا دا نی کوئی بر ائی کر گزریں پھر جلد اس سے باز آجائیں اور تو بہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کی تو بہ قبول کرتا ہے' اللہ تعا لیٰ بڑے علم والا حکمت والا ہے۔ '' ( سورہ النسا ء:١٧ ) پس جس نے موت سے پہلے توبہ کر لی تو گو یا اس نے جلد تو بہ کر لی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : '' انکی تو بہ نہیں جو بر ائیاں کرتے چلے جا ئیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پا س مو ت آجائے توکہہ دے کہ میں نے اب تو بہ کی اور ان کی بھی تو بہ قبول نہیں جو کفر ہی پر مر جا ئیں ' یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے المنا ک عذاب تیا ر کر رکھا ہے ۔''( سورۃ النساء :١٨) موت کو سامنے دیکھ کر تو فرعون بھی توبہ پکار اٹھا تھا ترجمہ :'' اور ہم نے نبی اسرائیل کو دریا سے پا ر کر دیا پھر ان کے پیچھے پیچھے فر عون اپنے لشکر کے سا تھ ظلم وزیا دتی کے ارا دے سے چلا یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایما ن لا تا ہوں اس پر جس پر بنی اسرا ئیل ایما ن لا ئے ہیں ،اس کے سوا کو ئی معبو د نہیں اور میں مسلما نوں میں سے ہوں ( جواب دیا گیا ) اب ایما ن لا تا ہے؟ پہلے سر کشی کر تااور مفسدوں میں دا خل رہا َ ؟ سو آج ہم تیری لا ش کو بچا ئیں گے تا کہ تو ان کے لیے نشان عبرت ہو جو تیر ے بعد ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے آدمی ہما ری نشانیوںسے غافل ہیں۔''( سورۃیو نس : ٩٠۔٩٢) |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | طارق افضل (21-06-08) |
|
|
#11 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر 8 (مسلسل ترقیم20)
ابو سعید سعد بن مالک بن سنا ن خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرما یا : تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا ۔ جس نے ننا نوے قتل کیے تھے ‘ پس اس نے زمین پر مو جود سب سے بڑے عالم کے بارے میں در یا فت کیا تو اسے ایک ر اہب ( پا دری ) کے با رے بتا یا گیا ‘ پس وہ اس کے پا س آیا اور بتا یا کہ اس ( میں ) نے ننا نوے آدمی قتل کیے ہیں ۔ کیا اسکی تو بہ قبول ہو سکتی ہے ؟ اس ( را ہب ) نے کہا : نہیں ‘ پس اس نے اسے بھی قتل کر دیا اور اس طرح اس نے سو آدمیوں کے قتل کی تعداد کو مکمل کیا َ ۔ اس نے پھر کسی بڑے عالم کے با رے میں دریا فت کیا تو اسے ایک عالم کے بارے میں بتا یا گیا ‘ وہ اس کے پا س گیا اور اسے بتایا کہ اس نے سو آدمی قتل کیے ہیں ‘ کیا اس کی تو بہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس ( عالم ) نے کہا : ہا ں ! اور کون ہے جو اس کے اور اسکی تو بہ کے در میان حائل ہو؟ ایسے کرو تم فلا ں جگہ چلے جا ؤ کیو نکہ وہا ں کے لوگ خالص اللہ تعالیٰ کی عبا دت کرتے ہیں۔ ‘ پس تم بھی ان کے سا تھ مل کر اللہ کی عبادت کرو او ر سنو اپنی زمین کی طرف وا پس نہ آنا ‘ کیو نکہ وہ بر ائی کی زمین ہے ۔ پس وہ اس ( بستی ) کی طر ف روانہ ہو پڑا ‘ ابھی آدھا سفر ہی طے کیا تھا کہ اسے موت آگئی ( اب اس کی روح قبض کرنے کیلئے ) رحمت اورعذاب کے فر شتے آگئے اور دونوں کے در میا ن جھگڑا شروع ہو گیا ۔ رحمت کے فر شتوں نے کہا : وہ تا ئب ہو کر آیا تھا اور اللہ کی طرف دل کی توجہ سے آیا تھا ( ہم اسکی روح قبض کریں گے ۔) عذاب کے فر شتوں نے کہا : اس نے کبھی نیکی وبھلا ئی کا کام کیا ہی نہیں( لہٰذا یہ جہنمی ہے ) ۔ پس ایک فر شتہ آدمی کی شکل میں ا ن کے پا س آیا تو انہوں نے اسے اپنے در میان حکم ( فیصلہ کرنے والا ) بنا لیا‘ اس نے کہا : دونوں زمینوں کی در میانی مسا فت کی پیما ئش کرو ‘ وہ ان دونوں میں سے جس کے قر یب ہو گا وہی اس کا حکم ہو گا ۔ پس انھو ں نے اسے ناپا تو ‘ اس کو اس زمین کے زیادہ قریب پا یا جس طرف جا نے کا اس نے ارا دہ کیا تھا ۔ لہٰذا رحمت کے فرشتوں نے اس کی روح کو قبض کر لیا ۔ “ ( متفق علیہ ) نیز صحیح ہی کی ایک روایت ہے ۔ ” وہ نیک لوگوں کی بستی کی طرف ایک با لشت قریب تھا ۔ لہٰذا اسے ا س بستی کے نیک لوگوں میں سے کر دیا گیا ۔ “ صحیح ہی کی ایک روا یت میں سے ہے :” اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو ( جہا ں سے وہ آرہاتھا ) کہا کہ دور ہو جا اور اس زمین کو ( جس طرف جا رہاتھا ) کہاکہ قریب ہو جا اور پھر فر ما یا کہ ان دونوں زمینوں کی درمیانی مسافت کو ناپو ‘ ( جب انھوں نے نا پا ) تو انھوں نے اسے نیک لوگوں کی بستی کی طرف ایک با لشت قریب پایا تو اسے بخش دیا گیا “ اور ایک روایت میں ہے : ” وہ اپنے سینے کے سہارے سَرک کردوسری طرف ہو گیا ۔ “ توثیق الحدث : أخرجہ البخاری (۶/۵۱۲۔فتح)ومسلم (۲۷۶۶)۔ |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر اکیس (۲۱)
عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے اور یہ ( عبداللہ ) کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یٹے تھے اور ان کی رہنما ئی کرتے تھے جب وہ (کعب ) نا بینا ہو گئے تھے ۔ عبداللہ کہتے ہیں ۔ میں نے کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا وا قعہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے جب وہ غزو ئہ تبوک میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے ۔ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو بھی جہا د کیا میں آپ سے پیچھے نہیں رہا سوائے غزؤہ تبوک کے اگرچہ میں غزؤ ہ بدر میں بھی پیچھے ر ہاتھا لیکن اس میں پیچھے رہ جا نے والے کسی ایک پر بھی نا راضی کا اظہار نہیں کیا گیا تھا ‘ اس لیے کہ اس وقت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام قریش کے ایک قافلے کے تعا قب میں نکلے تھے حتٰی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے دشمنوں کو کسی وعدے کے بغیر ہی ایک دو سرے سے ملا دیا ۔ میں عقبہ کی را ت( منیٰ میں ) رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سا تھ تھا جب ہم نے اسلا م پر عہد وفا با ندھا تھا ۔ اور میں یہ پسند نہیں کر تا کہ میرے لیے اس (عقبہ کی را ت ) کی جگہ بدر کی حاضری ہو ۔ اگر چہ بدر کا چر چا لوگوں میں اس ( عقبہ ) سے زیادہ ہے ۔ جب میں غزؤ ہ تبوک کے مو قع پررسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پیچھے رہا تھا ۔ وہ وا قعہ اس طر ح ہے کہ میں اتنا قوی اور خوش حال کبھی نہیں تھا جتنا میں اس غزوے سے پیچھے رہ جا نے کے وقت تھا ‘ اللہ کی قسم ! میرے پا س اس سے پہلے کبھی بھی دو سواریاں اکٹھی نہیں تھیں حتیٰ کہ اس غزوہ میں میرے پا س دو سوا ریاں تھیں اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی کسی غزوے کا ارادہ فر ما تے تو اس میں کسی اور سمت کا تو ریہ فر ماتے تھے ( یعنی اصل سمت چھپا تے تھے ) حتٰی کہ یہ غز وہ تبوک ہو ا ۔ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ غز وہ شدید گرمی میں کیا ‘ سفر دور دراز اور ایسے بیا با ن کا تھا جہا ں پا نی بھی کم تھا ۔اور مدمقابل بہت بڑ الشکر تھا ‘ اس لیے آپ نے مسلما نوں کے معاملے کو ان کے سا منے وا ضح کر دیا تا کہ وہ اس کے مطا بق خوب تیاری کر لیں ۔ آپ نے سمت کا بھی تعین فر ما دیا تھا ۔ جہاں آپ جا نا چا ہتے تھے ۔ مسلما ن رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سا تھ کثیر تعداد میں تھے اور کوئی ایسی کتاب یعنی رجسٹر نہیں تھا جس میں ان کے نا م لکھ کر محفو ظ کیے ہوتے ۔ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیا ن کرتے ہیں۔ کہ اگر کو ئی آدمی غزوے سے غائب رہتا تو وہ یہی گمان کر تا کہ وہ آپ سے مخفی رہے گا جب تک اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نا زل نہیں ہوتی ۔ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ غز وہ اس وقت فر مایا جب پھل پک چکے تھے اور ان کا سا یہ بھی خو شگوا ر تھا اور مجھے یہ چیزیں بڑی مر غوب تھیں ۔ پس رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اور آپ کے سا تھ مسلمانوں نے تیا ری کی ‘ میں بھی صبح کو آتا تا کہ آپ کے سا تھ تیا ری کروں لیکن میں کچھ کیے بغیر ہی وا پس چلا جا تا اور اپنے دل میں کہتا : میں اس پر پوری طرح قادر ہوں جب چا ہوں گا تیاری کر لوں گا ۔ پس میری یہی صور ت حا ل رہی حتیٰ کہ با قی لو گ اپنی تیا ری میں مصروف رہے۔ پس ایک روز ایسا ہو اکہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اورمسلما ن آپ کے سا تھ جہا د کے لئے روا نہ ہوگئے اور میں نے اپنی تیا ری کے با رے میں کچھ بھی نہ کیا تھا ۔میں پھر صبح کو آیا اور واپس چلا گیا لیکن کو ئی فیصلہ نہ کر پا یا ۔ پس یہ کیفیت دراز ہو تی گئی اور صحابہ کرام تیزی سے آگے بڑھتے گئے اور جہا د کا معاملہ بھی آگے بڑھتا گیا ۔ میں نے ارادہ کیا کہ میں بھی سفر کا آغاز کردوں گا اور انہیں جا ملوں گا ‘ کا ش ! میں ایسا کر لیتا لیکن یہ میرے مقدر میں نہ ہوا ۔ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چلے جا نے کے بعد جب میں لوگوں کی طرف آتا تو مجھے بس وہی لو گ نظر آتے جو اپنے نفاق کی وجہ سے مطعون تھے ۔ یا وہ لوگ نظر آتے جو لوگ ضعیف تھے اور اللہ تعالیٰ کے ہا ں معذور تھے ۔ پس یہ صورت حال مجھے محزون ومغموم کر دیتی ۔ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے یا د نہیں فر ما یا حتٰی کہ آپ تبوک پہنچ گئے ‘ آپ تبوک میں صحابہ کرام کے سا تھ تشریف فر ما تھے تو آپنے فر ما یا : کعب بن مالک نے کیا کیا ؟ “ بنو سلمہ کے ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اسکی دو چا دروں اور اپنے دونوں پہلوؤں کو دیکھنے نے اسے روک لیا ہے تو معاذبن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے جواب دیا تم نے برا کہا ‘ اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول ! ہم نے تو اس میں خیر کے علا وہ کچھ نہیں دیکھا ۔رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے ۔ اتنے میں آپ نے ایک سفید پو ش شخص کو ریگستان سے آتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فر ما یا : ” ابو خیشمہ ہو۔ “ پس وہ ابو خشمہ انصاری ہی تھے ‘جنھوں نے ایک صاع کھجو ر صدقہ کیا تو منا فقوں نے انہیں طعنہ دیا تھا ۔ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیا ن کرتے ہیں : جب مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تبوک سے واپس تشریف لا رہے ہیں تو مجھ پر غم طاری ہونے لگا اور میں جھوٹ کے با رے میں سوچ بچار کرنے لگا اور میں کہتا کہ میں کل آپ کی نا راضگی سے کیسے بچوں گا ؟میں نے اس با رے میں اپنے گھر کے ہر عقلمند شخص سے مددکی در خواست کی ۔ اور جب یہ کہا گیا کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اب تشریف لانے والے ہیں تو تما م با طل خیالا ت مجھ سے زائل ہو گئے حتٰی کہ میں سمجھ گیا کہ میں آ پ سے اس طر ح کی کسی چیز کے ذریعے بچ نہیں سکوں گا تو پھر میں نے سچ بو لنے کا پختہ ارا دہ کر لیا ۔ صبح کو رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے ۔ آپکا یہ معمول تھا کہ جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں جا تے اور وہاں دو رکعتیں ادا فر ما تے اور پھر لوگوں کیلئے تشریف رکھتے ۔ پس جب آپ نے ایسے کر لیا تو منا فق لوگ آپ کے سامنے عذر پیش کرنے لگے اور حلف اٹھا نے لگے۔ یہ لوگ اسی (۸۰) سے کچھ زائد تھے ۔ پس آپ نے ان کے ظاہری عذر کو قبول فر ما یا اور ان سے بیعت لی ‘ ان کے لیے مغفر ت طلب کی او رانکی اندرونی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا ‘ حتٰی کہ میں بھی حاضر خدمت ہو ا ۔ جب میں نے سلام کیا تو آپ مسکر ائے جس طرح کوئی نا راض آدمی مسکر اتا ہے‘ پھر آپ نے فر ما یا : ” آگے آجاؤ ۔“ میں آگے بڑھا حتٰی کہ آپ کے سامنے بیٹھ گیا ۔ آپ نے مجھ سے فر مایا ؛ ” تجھے کس چیز نے پیچھے رکھا؟ کیاتم نے اپنی سواری نہیں خریدلی تھی ؟ وہ ( کعب ) بیا ن کرتے ہیں ۔ ‘ میں نے عر ض کیا : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ کی قسم !اگر میں آپ کے علاوہ کسی اہل دنیا کی مجلس میں ہو تا تو میں کسی عذر کے ذریعے اسکی نا راضی سے بچ نکلتا ‘ کیونکہ مجھے فصاحت وبلا غت کا بڑ ا ملکہ حاصل ہے۔ لیکن اللہ کی قسم ! مجھے خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر میں آج کسی جھوٹی بات کے ذریعے سے آپکو را ضی کر لوں تو ممکن ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو ( صحیح صور ت حال بتاکر ) مجھ سے نا ر اض کردے اور اگر آپ سے سچی با ت کر دوں تو اس وجہ سے آپ مجھ سے ناراض تو ہو ں گے لیکن مجھے اس میں اللہ تعالیٰ کے اچھے انجام کی امید ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی قسم ! میرے پا س کو ئی عذر نہیں تھا ‘ اللہ تعا لیٰ کی قسم !میں کبھی اتنا طا قتور اور خوشحا ل نہیں تھا ۔ جتنا اس وقت تھا ۔جب میں آ پ سے پیچھے رہا۔ وہ ( کعب ) بیا ن کرتے ہیں ۔ تب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا اس شخص نے سچ کہا ہے ۔ پس تم یہا ں سے کھڑے ہو جاؤ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ تمہا رے با رے میں فیصلہ فر ما دے ۔ ( میں اٹھ کر چلا گیا تو ) بنو سلمہ کے کچھ لوگ میرے پیچھے پیچھے آئے اور انھوں نے مجھے کہا : اللہ کی قسم ! ہمیں معلوم نہیں کہ آ پ نے اس سے پہلے کو ئی گناہ کیا ہو ‘ تم اس چیز سے عاجز تھے کہ تم بھی غزوے سے پیچھے رہ جانے والوں کی طرح کوئی عذ ر پیش کر دیتے اور تمہا رے گنا ہ کی معافی کے لیے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا استغفا ر کا فی تھا ۔وہ ( کعب ) بیا ن کرتے ہیں ۔ کہ ان لوگوں نے مجھے اس قدر شدید ملامت کی کہ میں نے ارادہ کر لیا کہ میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں دربا رہ حاضر ہو کر اپنے پہلے بیا ن کی تکذیب کر دوں ۔پھر میں نے اس سے پو چھا : کہ میرے جیسا معاملہ کسی او ر کے سا تھ بھی پیش آیا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں اسی طرح کے معاملہ میں تمہا رے سا تھ دو آدمی اور بھی ہیں ‘ انھوں نے بھی ایسے ہی کہا جیسے تم نے کہا اور انہیں بھی وہی کچھ کہا گیا ہے جو تمہیں کہا گیا ہے ۔ میں نے کہا وہ دو کون ہیں ؟انھوں نے کہا : مرارہ بن ربیع العمری او ہلا ل بن امیہ الواقفی ۔ انھوں نے میرے سا منے جن دو آدمیوں کا ذکر کیا وہ نیک تھے ‘ دونوں بدر میں شریک ہو ئے تھے اور ان دونوں میں میرے لیے نمو نہ تھا ‘ پس جب انھو ں نے میرے سا منے ان دو نوں کا ذکر کیا تو میں اپنے سا بقہ مو قف پر قا ئم رہا ۔ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگو ں کو پیچھے رہ جا نے وا لوں میں سے خصوصا ہم تینو ں سے کلا م کرنے سے منع کر دیا ۔ وہ (کعب) بیان کرتے ہیں کہ لوگ ہم سے کنا رہ کش ہو گئے یا یوں فر ما یا کہ لوگ ہمارے لیے بیگانے سے ہو گئے حتٰی کہ مجھے تو زمین بھی غیر مانو س سی معلوم ہونے لگی او رمیرے لیے یہ زمین بھی وہ نہیں رہی تھی ۔ جسے میں پہچا نتا تھا ۔ پس ہم نے اسی کیفیت میں پچا س راتیں گزاریں ۔ میرے جو دوسرے ساتھی تھے وہ تو ہمت ہا ر بیٹھے اور گھر وں میں بیٹھے روتے رہے جبکہ میں ان سے جوان اور قوی تھا ۔ پس میں گھر سے با ہر نکلتا ‘ مسلما نوں کے سا تھ نما ز میں شریک ہو تا با زار وں میں چکرلگا تا لیکن صور ت حال یہ ہے کہ مجھ سے کوئی بھی کلا م نہ کر تا ۔ میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حا ضر ہو تا جب آپ نما ز کے بعد تشریف فر ما ہو تے تو آپ کو سلا م کر تااور اپنے دل میں سوچتا کیا آپ سلام کے جواب میں اپنے مبا رک لبو ں کوحرکت دیتے ہیں یا نہیں ؟ پھر میں آپ کے قریب ہی نما ز پڑھتا اور دُ زدیدہ نظر وں سے آ پ کو دیکھتا ‘ پس جب میں اپنی نما ز میں متوجہ ہو تا تو آپ میری طرف دیکھتے اور جب میں آپ کی طرف التفا ت کرتا تو آپ مجھ سے اعراض فر ما لیتے حتیٰ کہ جب مسلما نوں کی بے رخی میرے سا تھ لمبی ہو تی گئی ۔ تو میں ایک روز ابو قتا دہ کے با غ کی دیوا رپھا ند کر اند ر چلا گیا ‘ وہ میرے چچا زاد اور تمام لوگوں سے مجھے زیادہمحبوب تھے ‘میں نے انہیں سلا م کیالیکن اللہ کی قسم ! انھو ں نے میرے سلا م کا جوا ب نہیں دیا میں نے کہا : اے ابو قتا دہ ! میں تجھے اللہ کی قسم دے کر پو چھتا ہوں ‘ کیا تم میرے با رے میں نہیں جا نتے ” کہ میں اللہ تعالیٰ او راس کے رسو صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کر تا ہوں ؟ وہ خامو ش رہا ‘ میں نے دوبا رہ قسم دے کر پو چھا تو وہ پھر بھی خامو ش رہا ‘میں نے تیسری با ر پھر قسم دے کر پو چھا تو اس نے صرف اتنا کہا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی بہتر جا نتے ہیں ۔ پس میری آنکھو ں سے آنسو جا ری ہو پڑے ‘ میں واپس مڑا اور دیوا ر پھا ند کر با ہر چلا آیا ‘ میں مدینے کے با زار میں جا رہا تھاکہ میں نے اہل شام کے نبطیوں میں سے ایک نبطی کو جو مدینے میں غلہ بیچنے کے لیے آیا تھا‘ یہ کہتے ہوے سنا کہ کعب بن ما لک کے با رے میں مجھے کو ن بتا ئے گا ؟لوگ میری طرف اشارہ کرنے لگے ‘ حتیٰ کہ وہ میرے پا س آگیا اور شا ہ ِ غسان کا ایک خط مجھے دیا ‘ میں چونکہ پڑھا لکھا تھا اور اس لیے اسے فورًا پڑھا۔اس میں لکھا ہوا تھا: اما بعد !ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ تمہارے سا تھی نے تم پر ظلم کیا ہے ۔ حالانکہ اللہ نے تمہیں ذلت او رحق تلفی والے گھر میں رہنے کے لیے نہیں بنا یا ‘ پس تم ہما رے پا س آجا ؤ ‘ ہم تم سے پو ری ہمدر دی کریں گے ۔میں نے جس وقت اسے پڑ ھا تو میں نے کہا یہ ایک اور آ زمائش ہے ۔ میں نے فو راََ اسے تنور میں جھو نک کر جلا دیا حتیٰ کہ جب پچا س میں سے چالیس دن گزر گئے اور ( میرے با رے میں ) کوئی وحی بھی نہ آئی تو میرے پاس رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک قاصد آیا ‘ اس نے کہا : رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں اپنی بیوی سے علیحدگی اختیارکرنے کا حکم فر ما تے ہیں ۔ میں نے کہا : اسے طلا ق دے دوں یا کیاکر وں ؟ اس نے کہا : نہیں ! بلکہ اس سے علیحدگی اختیا ر کر لو اور اس کے قریب نہ جا ؤ ۔ میرے ان دونوں سا تھیوں کو بھی آپ نے یہی پیغام بھجوایا ۔ پس میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم اپنے میکے چلی جا ؤ اور وہیں رہو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کا فیصلہ فر ما دے ۔ ہلا ل بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پا س آئی تو آپ سے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہلا ل توبہت بو ڑھا آدمی ہے ‘ اس کا کوئی خادم بھی نہیں ‘ اگر میں ان کی خدمت کر وں تو کیا آپ نا پسندفر ما ئیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا : ” نہیں ‘ لیکن وہ تم سے قربت( جما ع) نہ کرے ۔ “ اسکی بیوی نے کہا : اللہ کی قسم ! اس میں تو کسی چیز کی طرف حرکت کرنیکی طاقت ہی نہیں ۔ اور اللہ کی قسم ! جس دن سے یہ واقعہ ہو ا ہے ‘ اس دن سے لے کر آج کے دن تک وہ تو رو رہا ہے ۔پس میرے بعض گھر والوں نے مجھ سے کہا ۔ کہ تم بھی اپنی بیوی کے با رے میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمسے اجا زت طلب کر لو جیسا کہ آپ نے ہلا ل بن امیہ کی بیوی کو انکی خدمت کرنے کی اجا زت عطافر ما دی ہے ۔ میں نے کہا : میں اس بارے میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمسے اجازت طلب نہیں کروں گا معلوم نہیں جب میں آپ سے اجا زت طلب کروں تو آ پ کیا جواب دیں گے ‘ کیونکہ میں تو نو جوان آدمی ہوں ۔ پس اس طرح دس را تیں ( مزید ) گزر گئیں اور جب سے لوگوں کو ہم سے کلام کرنے سے روکا ہو ا تھا اب تک ہماری پچا س راتیں مکمل ہو گئیں َ پھر میں نے پچا سویں رات کو صبح کے وقت اپنے ایک گھر کی چھت پر نما ز فجر ادا کی ‘ پس ابھی میں اس حال میں بیٹھا تھا جس کا ذکر اللہ نے ہما رے با رے میں فر ما یا ہے کہ میرا دل گھٹنے لگا اور زمین فراخی کے با وجود مجھ پر تنگ ہو چکی تھی ۔ کہ میں نے ایک پکا ر نے والے کی آواز سنی جو سلع پہا ڑی پر چڑھا ہو ابا ٓواز بلند کہہ رہا تھا ۔ : اے کعب بن ما لک ! خو ش ہوجاؤ ! اور میں اسی وقت سجدے میں گر پڑا اور میں سمجھ گیا ۔ کہ آزما ئش کا وقت ختم ہوگیا اور تکلیف دور ہو گئی ۔ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب نما ز فجر پڑھ لی تو لوگوں کو بتا یا کہ اللہ عزوجل نے ہما ری تو بہ قبول فر مالی‘ پس لو گ ہمیں خوشخبر ی دینے کیلئے آنا شروع ہوگئے ۔خوشخبری دینے والے میرے ان دو سا تھیوں کی طرف بھی گئے اور ایک شخص تیزی سے گھو ڑا دوڑاتا ہو امیری طرف آیا‘ اور اسلم قبیلے کا ایک شخص دوڑ تا ہو ا میری طرف آیا او ر پہا ڑکے اوپر چڑھ گیا ‘ اسکی آواز گھو ڑے سے بھی زیادہ تیز تھی ۔ پس جب وہ شخص میرے پا س آیا جس کی زبا ن سے میں نے خوشخبری سنی تھی تو میں نے خوشخبری سنانے کے بدلے میں اپنے دونوں کپڑے اتارکر اسے پہنا دیے ‘ اللہ کی قسم ! اس روز میرے پا س انکے علا وہ اور کو ئی چیز نہیں تھی ‘ میں نے دوکپڑے اُدھار لیے اور پہن کر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملا قات کا قصد کر کے روانہ ہو ا۔ لو گ مجھے جو ق در جوق ملے اور میرے تو بہ کی قبولیت پر مجھے مبا رکبا د دیتے اور مجھے کہتے مبارک ہو ‘ اللہ تعالیٰ نے تمہا ری توبہ قبول فر مالی حتٰی کہ میں مسجد میں دا خل ہو گیا ۔ رسو ل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہا ں تشریف فر ما تھے اور صحابہ کرام آپ کے اردگر د بیٹھے ہو ئے تھے‘ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلدی سے لپکے ‘ مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبا رکبا د دی ‘ اللہ کی قسم ! مہا جرین میں سے انکےعلا وہ کو ئی اور کھڑا نہ ہوا ۔ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس بات کو کبھی نہیں بھولتے تھے ۔ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیا ن کرتے ہیں ۔ کہ جب میں نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے فر ما یا اور آپ کا چہرہ مبا رک اس وقت خوشی سے دمک رہا تھا : ” تمہیں یہ دن مبا رک ہو جو تمہا ری زندگی کا بہترین دن ہے ‘ جب سے تمہا ری ما ں نے تجھے جنم دیا ہے “ میں نے عر ض کیا : اے اللہ کے رسول ! یہ خوشخبر ی آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے ؟ آپ نے فر ما یا : ” نہیں ‘ بلکہ اللہ عزوجل کی طرف سے ہے “ ۔ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بہت زیا دہ خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ مبا رک اس طرح چمکتا جیسے چاند کا ایک ٹکڑا ہے اور اس کیفیت سے ہم آپکی خوشی { XE "" } پہچا ن لیتے تھے ۔ جب میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا تو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! قبو لیت توبہ کی وجہ سے میں چاہتا ہوں ۔کہ میں اپنا سا را مال اللہ اور اسکے رسول کے لیے صدقہ کر دوں۔رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا : ” اپنے ما ل میں سے کچھ اپنے پا س رکھ لے یہ تیرے لیے بہتر ہے ۔ “میں نے عر ض کیا : میں اپنا خیبر والا حصہ رکھ لیتا ہوں اور میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے مجھے صرف سچا ئی کی بدولت نجات عطا فرما ئی ہے اور یہ بھی میری تو بہ کا حصہ ہے کہ ( عہد کر تا ہوں ) جب تک زندگی با قی ہے میں ہمیشہ سچ بو لوں گا ۔ پس اللہ قسم ! جب سے میں نے رسو ل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس عہد صدق کا ذکر کیا ہے ۔ میں نہیں جا نتا کہ مسلما نوں میں سے کسی پر اللہ تعالیٰ نے سچ بو لنے کے صلے میں وہ بہتر انعام فر ما یا ہو جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا‘اللہ کی قسم ! جب سے میں نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمسے عہد صدیق کیا ہے آج تک میں نے جھوٹ نہیں بولا او ر مجھے امید ہے ۔کہ اللہ تعالیٰ با قی زندگی میں بھی مجھے جھوٹ سے محفوظ رکھے گا ۔ وہ بیا ن کرتے ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ّ( اس موقع پر ) یہ آیا ت نا زل فر مائیں : "یقینا اللہ اتعالیٰ نے نبی پر اور ان مہا جرین و انصارپر رجوع فر ما یا ۔ جنھو ں نے تنگی کے وقت میں اس ( نبی ) کی پیروی کی ‘ بعد اس کے کہ قریب تھا ۔ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل پھر جا ئیں ۔ پھر رجوع کیا اللہ تعا لیٰ نے ان پر ‘ بے شک وہ بہت شفیق اور نہا یت مہربا ن ہے ۔ اور ان تین شخصوں پر بھی رجوع فر ما یا ۔ جو پیچھے رہ گئے تھے ۔ یہا ں تک کہ جب ان پر زمین با و جود فرا خی کے تنگ ہو گئی اور خود ان کے اپنے نفس بھی ان پر تنگ ہو گئے اور انہیں یقین ہو گیاکہ ان کواللہ تعالیٰ سے بچانے والا اللہ کے سواء کوئی نہیں پھر اللہ نے ان پر رجوع فر ما یا تا کہ وہ تو بہ کریں ۔ یقینا اللہ بہت رجوع کرنے والا نہا یت مہر با ن ہے ‘ اے ایمان والوں ! اللہ سے ڈرواور سچوں کے سا تھ ہوجاووٴ۔“ حضر ت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے مجھے جب سے اسلام کی نعمت سے نوازا ہے ۔ اسکے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جتنے بھی انعا مات کیے ہیں ان میں سے سب سے بڑا انعام میرے نزدیک یہ ہے کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سچ بولا ‘ جھو ٹ نہیں بولا ‘ اگر میں بھی جھو ٹ بول دیتا تو میں بھی ہلا ک ہو جا تا۔ جس طر ح جھوٹ بو لنے والے ہلا ک ہوئے ۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے وحی نا زل فر ما ئی تو جس طرح جھوٹ بولنے والوں کا ذکرِ شرکیا ویسے کسی کا بھی نہیں کیا ‘ اللہ تعالیٰ نے فر ما یا ؛ جب تم انکی طرف لوٹ کر آوٴگے تو یہ تمہا رے لیے قسمیں کھائیں گے تا کہ تم ان سے اعراض کر لو‘ پس ان سے اعراض فر ماؤ یہ پلید ہیں اور ان کا ٹھکا نہ جہنم ہے بہ سبب اس کے جو یہ کما ئی کرتے رہے ۔ یہ تمہا رے لیے قسمیں کھائیں گے تا کہ تم ان سے را ضی ہو جا ؤ پس اگر تم ان سے راضی بھی ہو گئے تو بے شک اللہ تعالیٰ نا فر ما نوں سے کبھی راضی نہیں ہو گا ۔ “ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم تینوں ان لوگوں کے معاملے سے مئو خر کر دیے گئے تھے جن کی قسموں کو رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبول فر ما لیا تھا ‘ ان سے بیعت لے لی اور ان کے لیے مغفرت کی دعا فر ما ئی تھی اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہما رے معا ملے کو مئو خر فر ما دیا حتیٰ کہ اللہ تعا لیٰ نے اس با رے میں فیصلہ فر ما یا : اللہ تعا لیٰ نے فرما یا : ” اور ان تین شخصوں پر ( بھی رجوع فر مایا ) جو پیچھے رہ گئے تھے ۔“ اور یہ جو ہما رے پیچھے رہ جا نے کا ذکر ہے ‘ یہ ہما را غزوے سے پیچھے رہ جا نے کے با رے میں نہیں بلکہ یہ تو ہما رے اس معاملے کو اس لوگوں سے مئوخر کرنے کے بارے میں ہے جنھوں نے قسمیں اٹھا ئیں اور آپ کے سا منے عذ ر پیش کیے ‘ جنہیں آپ نے قبول فر ما لیا تھا ۔ ( متفق علیہ ) اور ایک دوسر ی روایت میں ہے ۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے جمعرات کے روز روانہ ہو ئے تھے اور آپ جمعرات کے روز ہی روانہ ہو نا پسند فر ماتے تھے۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ سفر سے چاشت کے وقت واپس تشریف لا تے تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لے جا تے ‘ وہا ں دورکعتیں پڑھتے اور پھر وہاں بیٹھ جا تے “ ۔ توثیق الحدیث : أخرجہ البخاری ( ۸/۱۱۳۔۱۱۶۔فتح)‘ و مسلم ( ۲۷۸۹)۔ |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر بائیس (٢٢)
ابو نجید ( نون پر پیش اور جیم پر زبر ) عمران بن حصین خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جہینہ قبلے کی ایک عورت رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ زنا کی وجہ سے حاملہ تھی ' اس نے کہا : اے اللہ کے رسو ل ! مجھ سے ایساگنا ہ سر زد ہو گیا ہے جس سے حد ( سزا) واجب ہوجا تی ہے ' لہٰذا آپ اسے مجھ پر قائم فر ما دیجیے ۔ پس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے ولی کو بلا یا اور اسے فر ما یا : '' اس سے اچھی طرح سلوک کر نا اور جب بچے کو جنم دے لے تو پھر اسے لے آنا '' ۔ اس نے ایسے ہی کیا ( یعنی وہ اسے لے آیا ) پس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے با رے میں حکم فر ما یا تو اس کے کپڑے اس پر مضبو طی سے با ندھ دیے گئے اور آپ کے حکم پر اسے رجم کر دیا گیا ' پھر آپ نے اس کی نما ز جنا زہ پڑھا ئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: اے اللہ کے رسو ل !آپ اس کی نما ز جنازہ پڑھتے ہیں حالا نکہ اس نے تو زنا کیا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : '' یقینا اس عو رت نے تو ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے اہل مدینہ کے سترآدمیوں پر تقسیم کر دیا جائے تو ان کو بھی کا فی ہو جا ئے ۔ کیا تم نے اس سے بھی کو ئی افضل چیز دیکھی ہے کہ اس نے تو اللہ عزوجل کی رضا کے لیے اپنی جا ن تک قر با ن کر دی ؟ '' ( مسلم ) توثیق الحدیث : أخرجہ مسلم ( ١٦٩٦) |
|
|
|
|
|
#14 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ایت نمبر تئیس (٢٣)
ابن عبا س رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا : ''اگر ابن آدم کے پاس سو نے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پا س دو وادیاں ہوں ۔ اس کے منہ کو ( قبر ) مٹی ہی بھر ے گی اور اللہ تعالیٰ اس پر رجوع فر ما تا ہے جو اس کی طرف رجوع کر تا ہے '' ۔ ( متفق علیہ ) توثیق الحدیث: أخرجہ البخاری (١١/٢٥٣۔فتح) ' و مسلم (١٠٤٩) |
|
|
|
|
|
#15 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ح نمبر تئیس (٢٣)
ابن عبا س رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا : ''اگر ابن آدم کے پاس سو نے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پا س دو وادیاں ہوں ۔ اس کے منہ کو ( قبر ) مٹی ہی بھر ے گی اور اللہ تعالیٰ اس پر رجوع فر ما تا ہے جو اس کی طرف رجوع کر تا ہے '' ۔ ( متفق علیہ ) توثیق الحدیث: أخرجہ البخاری (١١/٢٥٣۔فتح) ' و مسلم (١٠٤٩) |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, قیس, قرآن, نیند, مکمل, موت, محبت, آدمی, اللہ, انعام, جواب, جلد, حکم, حدیث, حسن, خوش, دل, رات, سفر, شام, شخص, عبادت, صحیح, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تابوت۔ ۔ ۔ ۔ توبہ توبہ توبہ۔ ۔ ۔ ۔ | پیاسا | دلچسپ اور عجیب | 7 | 10-05-11 05:49 PM |
| شمشی توانائی سے چلنے والا پہلا طیارہ | جاویداسد | سیاسی تصاویر اور ویڈیوز | 7 | 09-07-10 04:16 PM |
| توبہ کا تکلف کون کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ | *Hala* | شاعری اور مصوری | 5 | 01-06-09 07:30 PM |