|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
سچ کے معنی ہیں ظاہر وباطن میں موافقت ہو نا'قول وعمل میں موافقت ہونا اور خبر کا واقعہ کے مطابق ہونا ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:'' اے مومنو ! اللہ تعالیٰ سے ڈر اور سچوں کے ساتھی بن جاؤں ۔''( سورۃ التوبۃ: ١١٩)اور فرمایا:'' سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں ۔''( سورۃالاحزاب:٣٥) اور فرمایا:'' اگر وہ اللہ تعالیٰ سے سچ بولتے تو یہ ان کے لیے بہتر ہو تا۔''( سورۃمحمد:٢١) |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر چَون(٥٤)
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا : ''یقینا سچائی نیکی کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے ۔ ' آدمی سچ بو لتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاںب ہت سچا لکھ دیا جا تا ہے ۔ اور یقینا جھوٹ بد کاری کی طر ف رہنمائی کر تا ہے اور بد کاری جہنم کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی یقینا جھوٹ بولتا رہتا ہے ۔ حتیٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت جھوٹا لکھ دیا جا تا ہے ۔ ''( متفق علیہ) توثیق الحدیث: أخرجہ البخاری (١٠/٥٠٧۔فتح)'ومسلم (٢٦٠٦) |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ۤحدیث نمبر پچپن(٥٥)
ابومحمد حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ الفاظ یاد کیے :'' وہ چیز چھوڑ دے جو تجھے شک میں ڈال دے اور اس چیز کو اختیار کر جو تجھے شک وشبہ میں نہ ڈالے کیونکہ سچ اطمینا ن ہے اور جھوٹ شک اور بے چینی ہے ۔'' ( ترمذی ۔ حدیث صحیح ہے ) توثیق ا لحدیث : أخرجہ الترمذی (٢٥١٨)' والسنائی (٨/٣٢٧۔٣٢٨)'واحمد (١/٢٠٠) |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر چَھپن(٥٦)
ابو سفیا ن صخر بن حرب رضی اللہ عنہ کی وہ طویل حدیث جس میں ہر قل کا واقعہ ہے ۔ ہر قل نے( ابوسفیان ) سے کہا: وہ ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )تمہیں کس چیز کاحکم دیتا ہے ؟ ابوسفیان کہنے لگے کہ میں نے کہا ،وہ فر ماتے ہیں :'' تم صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبا دت کرو ،اس کےساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرو اور تمہارے آباؤ اجداد جو کہتے ہیں اسے چھوڑ دو،وہ ہمیں نما ز پڑھنے ، سچ بولنے پاک دامنی اورصلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں ۔''( متفق علیہ) توثیق الحدیث :أخرجہ البخاری (١/٣١۔٣٢۔فتح)'ومسلم (١٧٧٣) |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر ستاون (٥٧)
ابو ثابت ،بعض نے کہاا بوسعید اور بعض کے نزدیک ابو ولید سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی ہیں (یعنی غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے)' ان سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا :'' جس شخص نے صدق دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگی تو اللہ تعالیٰ اسے شہدا ء کے مقام تک پہنچا دے گا ، اگر چہ اسے اپنے بستر پر موت آئے ۔'' ( مسلم ) توثیق الحدیث :أخدجہ مسلم (١٩٠٩) |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر اٹھا ون (٥٨)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر مایا :'' انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی نے جہاد کرنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے اپنی قوم سے فر مایا کہ وہ شخص میرے سا تھ جہا د پر نہ جائے جس نے کسی عورت سے نئی نئی شادی کی ہو اور وہ اس سے جماع کرنا چاہتاہولیکن ابھی اس نے کیا نہ ہو ' اور وہ شخص بھی میرے سا تھ نہ جائے جس نے گھر بنا یا ہو اورابھی اسکی چھت نہ ڈالی ہو اور وہ شخص بھی میرے ساتھ نہ جائے جس نے بکریاںیا اونٹنیاں خریدی ہوں وہ انکے بچے جننے کا منتظر ہو ۔پس اس پیغمبر نے جہاد کے لیے سفر شروع کیا ' تو وہ بستی کے قریب نماز عصر کے وقت ' یا اس کے قریب پہنچے تو سو رج سے مخاطب ہو کر کہا : تو بھی ما مور ہے اور میں بھی ما مور ہوں ،اے اللہ!اسے ہمارے لیے روک لے! پس اسے روک لیا گیا' حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح نصیب فر مائی ۔ پس اس نبی نے غنیمتیں جمع کیں تو آگ آئی تا کہ انہیں کھا لے لیکن اس نے انہیں نہ کھا یا ۔ پس انھوں نے فر ما یا : یقینا تم میں خیا نت ہے ۔ لہٰذا تم میں سے ہر قبیلے کا ایک ایک آدمی آئے اور میری بیعت کرے ۔ چنانچہ ایک آدمی کا ہا تھ ان کے ہا تھ سے چمٹ گیا ۔ پس انھوں نے کہا:تمہارے قبیلے میں خیانت ہے ' تمہارے قبیلے کا ہر شخص میری بیعت کرے گا ( یعنی میر ے سا تھ ہا تھ ملائے گا ) پس دو یا تین آدمیوں کا ہا تھ انکے ہا تھ سے چمٹ گیا ' فر ما یا : تم میں خیا نت ہے ۔ چنانچہ وہ گائے کے سر جیسا سو نے کا ایک سر لائے ۔ اسے لاکر رکھ دیا ۔ ' آگ آئی اور اسے کھا گئی ۔ آپ نے فر ما یا :'' ہم سے پہلے کسی قوم کے لیے غنیمتیں حلال نہیں تھیں ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے ہما ری کمزوری اور عا جزی کو دیکھا تو اسے ہمارے لیے حلا ل کر دیا ۔'' ( متفق علیہ) توثیق الحدیث :أخرجہ البخاری (٦/٢٢٠۔فتح) 'ومسلم (ئ١٧٤٧) |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ۤحدیث نمبر انسٹھ (٥٩)
ابو خالد حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا :'' دونوں سو دا کرنے والوں کواختیا ر حاصل ہے ۔ جب تک وہ دونوں جد ا نہ ہوں' پس اگر وہ دونوں سچ بو لیں اور حقیقت بیان کر دیں تو پھر ان کے سو دے میں برکت ڈال دی جا تی ہے۔اور اگر وہ جھوٹ بو لیں او ر کسی چیزکو چھپا ئیں ۔ تو پھر انکے سودے سے برکت مٹادی جا تی ہے ۔ '' ( متفق علیہ) توثیق الحدیث :أخرجہ البخاری (٤/٣٠٩۔فتح )' ومسلم(١٥٣٢) |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاک, نماز, موت, آدمی, اللہ, جھوٹ, حدیث, حسن, خبر, دل, سہل, سفر, شخص, عورت, علی, غزوہ بدر, صحیح, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|