|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
صبر کا بیان اللہ تعالیٰ نے فر ما یا : '' اے مو منو ! صبر کرو اور دشمن کے مقا بلے میں ڈٹے رہو'' (سورۃ العمران :٢٠٠) اور فر مایا :'' اور ہم تمہیں ضرور آز مائیں گے خوف کے ذریعے ، بھو ک کے ذریعے ' مالوں ' جا نوں ' اور پھلوں میں کمی کرکے اور صبر کرنے والوں کو خو شخبری سنا دیجیے۔ '' ( سورۃ البقرۃ : ١٥٥) ۤاور فر ما یا : '' صبر کرنےوالوں کوان کا پورا پورا اجر دیا جائے گا بغیر حساب کے '' ( سورۃ الذمر :١٠ ) اور فر ما یا :'' اور جس شخص نے صبر کیا اور معاف کر دیا بلا شبہ یہ ہمت کے کا مو ں میں سے ہے '' ( سورۃ الشوریٰ:٤٣) ۤاور فر ما یا : ''( اے مومنو ! ) صبر اور نما ز کے ذریعے سے مددما نگو' بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے سا تھ ہے ۔''( سورۃ البقرۃ : ١٥٣) اور فر ما یا : ''اور ہم تمہیں آزمائیںگے یہاں تک کہ ہم جا ن لیں کہ تم میں سے جہا د کرنے والے اور صبر کرنے والے کون ہیں ۔ '' (سورۃ محمد : ٣١) |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر پچیس(٢٥)
ابو مالک حارث بن عا صم اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا:''پا کیز گی نصف ایما ن ہے اَلحَمْدُ ِللَّہِ کہنا میزان کو بھر دیتا ہے اور سُبْحاَنَ اللَّہ ِ اور اَلْحَمْدُلِلَّہِ کہنا زمین و آسما ن کے درمیا نی خلا کو بھردیتے ہیں ۔ نما ز نو ر ہے ' صدقہ دلیل وبر ہان ہے ' صبر روشنی ہے اور قرآن تیرے حق میں حجت ہے یا تیرے خلا ف حجت ہے ۔ تما م لوگ صبح صبح اپنے کا م پر نکلتے ہیں اور اپنے نفس کا سودا کرتے ہیں ' پس کوئی تو اپنے نفس کو آزاد کرنے والا ہے ۔ اور کوئی اسے ہلا ک کرنے والا ہے ۔ '' ( مسلم ) توثیق الحدیث: أخرجہ مسلم ( ٢٢٣)۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر چھبیس ( ٢٦)
ابو سعید بن سنا ن خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ سوال کیا تو آپ نے انہیں عطا فر ما دیا ' انھوں نے پھر آپ سے کچھ ما نگا تو آپ نے عطا فر ما دیا ' حتیٰ کہ آپ کے پا س جو کچھ تھا وہ ختم ہو گیا ' آپ کے ہا تھ میں جو کچھ تھا جب آپ نے وہ خرچ کر دیا تو آپ نے انہیں فر مایا :'' میرے پاس جو بھی ما ل ہو تا ہے میں اسے تم سے بچا کر ذخیرہ نہیں کر تا اور جو شخص سوال سے بچنے کی کو شش کر تا ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ اسے بچا لیتا ہے' جو شخص صبر کرنے کی کو شش کر تا ہے اللہ تعالیٰ اسے صبر کی تو فیق عطا فر ما دیتا ہے ۔ اور کسی شخص کو صبر سے زیا دہ وسیع عطیہ نہیں دیا گیا ۔'' (متفق علیہ ) توثیق الحدیث : أخرجہ البخاری (٣/٣٣٥۔فتح) ' و مسلم (١٠٥٣) |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر ستائیس ( ٢٧)
ابو یحییٰ صہیب بن سنا ن رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا: '' مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے ۔ اسکے ہر کام میں اس کے لیے خیر وبھلائی ہے اور یہ مومن کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہیں ' اگر اسے آسودگی حاصل ہو تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے ' یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے ' اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے ' یہ بھی اسکے لیے بہتر ہے ۔ '' ( مسلم ) توثیق الحدیث: أخرجہ مسلم( ٢٩٩٩ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر اٹھا ئیس ( ٢٨)
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زیا دہ بیما ر ہوگئے اور اضطراب وبے چینی آپ پر چھا گئی تو سیدہ فا طمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ہا ئے ابا جان کی تکلیف اور بے چینی! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا : '' تمہارے با پ پر آج کے بعد بے چینی نہیں ہوگی ۔ '' پس جب آپ وفا ت پا گئے تو انھوں( فا طمہ رضی اللہ عنہا ) نے کہا :ہائے ابا جان ! رب نے انہیں بلایا توانھوںنے اس کی پکا ر پر لبیک کہا ' ہائے ابا جا ن ! جنت الفردوس انکا ٹھکا نا ہے۔ ' ہائے ابا جا ن ! ہم جبر یل علیہ السلام کو آپ کی وفا ت کی خبر دیتے ہیں ۔" پس جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو فا طمہ رضی اللہ عنہ نے فر ما یا : کیا تمہارے نفسوں نے یہ گو ارا کر لیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ( کے جسد اطہر ) پر مٹی ڈالو؟ ( بخاری ) توثیق الحدیث : أخرجہ البخاری (٨/١٤٩۔َفتح) ۔ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر انتیس ( ٢٩)
ابوزید اسامہ بن زید بن حا رثہ رضی اللہ عنہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کر دہ غلا م ) آپ کے محبوب اور آپ کے محبوب کے بیٹے سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی نے پیغام بھیجا کہ میرے بیٹے کا آخری وقت آپہنچا ہے لہٰذا آپ تشریف لائیں ' آپ نے پیغام بھیجا کہ وہ سلا م کہتے ہیں او ر فرما تے ہیں :'' یقینا اللہ تعالیٰ کےلئے ہے جو وہ لے اور اسی کا ہے جو وہ عطا فر مائے ' ہر چیز کا اس کے ہاں وقت مقررہے پس انہیں صبر کرنا چا ہیے اور ثواب کی اُ میدرکھیں ۔'' انھوں ( آپکی بیٹی ) نے دوبا رہ پیغام بھیجا اور قسم دے کر کہا کہ آپ ضرور تشریف لائیں ۔ پس آپ کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ ' معذبن جبل ' ابی بن کعب ' زید بن ثابت اور کچھ اور صحابہ رضی اللہ عنہ آپ کے سا تھ وہاں تشریف لے گئے ۔تو بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ تو آپ نے اپنی گو دمیں بیٹھا لیا ،اس وقت اس کی سانس ا کھڑ رہی تھی ۔ پس آپ کی آنکھوں سے آنسو جا ری ہوپڑے تو سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ کیا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : یہ تو رحمت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا فر ما یا ہے ۔ '' اور ایک روایت میں ہے :'' اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہا اور اللہ تعالیٰ اپنے انہی بندوں پر رحم فر ما تا ہے جو خود بھی مہر بان ہوتے ہیں '' ( متفق علیہ ) توثیق الحدیث : أخرجہ البخاری (٣/١٥١۔فتح)،'ومسلم (٩٢٣) |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ۤحدیث نمبر تیس ( ٣٠)
صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک با د شاہ تھا اور اس کا ( مشیر ' وزیر ) ایک جا دوگر تھا ' جب وہ بو ڑھا ہو گیا تو اس نے با دشاہ سے کہا 'میں تو اب بوڑھا ہو گیا ہوں لہٰذا تم ایک لڑکا میرے سپر د کر دو تا کہ میں اسے جا دو سکھا دوں ۔ پس اس نے ایک لڑکا اس کے سپرد کر دیا وہ اسے جا دوسکھا تا اس لڑکے کے راستے میں ایک راہب ( پا دری) بھی تھا ' وہ اس کے پا س بیٹھتا ' اسکی باتیں سنتا تو وہ اسے اچھی لگتیں 'اب وہ جب بھی جا دوگر کے پا س جا تاتو پا دری سے ہو کر گزرتا اور کچھ دیر اس کے پا س بیٹھتا ' پس جب وہ جا دوگر کے پا س جا تا ' تو وہ اسے (تاخیر پر ) ما رتا ' اس لڑکے نے پادری سے ا س جادوگر کی شکایت کی تو اس نے کہا : جب تمہیں جا دوگر کا ڈر ہو تو کہہ دیا کروکہ میرے گھر والوں نے مجھے روک لیا تھا اور جب تجھے اپنے گھر والوں کا ڈ ر ہو تو کہہ دیا کروں کہ مجھے جا دوگر نے روک لیا تھا ۔ پس اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا کہ ایک روز اس نے راستے میں ایک بہت بڑاجا نور دیکھا ' جس نے لوگوں کو روک رکھا تھا ' اس ( لڑکے) نے کہا : آج پتا چل جا ئے گا کہ آیا جا دوگر افضل ہے یا پادری افضل ہے ؟ اس نے ایک پتھر پکڑا اور کہا : اے اللہ ! اگر ر اہب کا معاملہ تیرے نزدیک جا دوگر کے معا ملے سے زیاہ محبو ب ہے تو پھر اس جا نور کو مار دے تا کہ لوگ گز ر جائیں ۔ پس اس نے وہ پتھر اس جا نور کو ما ر اجس سے وہ ہلا ک ہو گیا اور لوگ گزر گئے۔ پس وہ را ہب کے پا س آیاسے یہ واقعہ بتا یا تو راہب نے اسے کہا : اے بیٹے ! آج سے تم مجھ سے افضل ہو ' تمہارا معاملہ وہاں تک پہنچ گیا ہے ۔ میں اسے دیکھ رہا ہو ں ۔ اور تم عنقریب آزمائے جا ؤ گے ۔ اور جب تمہاری آزمائش ہو تو میرے متعلق نہ بتا نا ۔ اب وہ لڑکا مادر زاد اندھے اور کو ڑھی کو ٹھیک کر دیتا تھا ۔ اور باقی تما م بیما ریوں کا بھی علا ج کر تا تھا 'با دشاہ کے ایک ہم نشین نے جب سنا جو اندھا ہو چکا تھا ۔ ' تو وہ بہت سے تحا ئف لے کر اسکے پا س آیا اور کہا : اگر تم مجھے شفا دے دو تو میں یہ جتنے تحایف یہا ں لےکر آیا ہو ں وہ سب تمہارے ہوں گے ۔ اس لڑکے نے کہا :میں تو کسی کو بھی شفا نہیں دیتا ' شفا تو اللہ تعالیٰ عطا کر تا ہے ۔ ' اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایما ن لے آؤ تو میں اللہ تعا لیٰ سے دُعا کرونگا َ۔ تو تجھے شفا عطا فر ما دے گا ۔ پس وہ اللہ پر ایما ن لے آیا تو اللہ نے اسے شفا عطا فر ما دی ۔ پس وہ با دشاہ کے پاس آیا اور اس کے پا س بیٹھ گیا ۔ جیسے وہ پہلے بیٹھا کر تا تھا۔ با دشاہ نے اس سے پو چھا تیری بینا ئی کس نے لو ٹادی ؟ اس نے کہا : میرے رب نے ۔ اس نے کہا : کہا میرے علا وہ بھی تمہارا کوئی رب ہے ؟ اس نے کہا : میرا اور تمہا را رب اللہ ہے ۔ با دشا ہ نے اسے گر فتا ر کر لیا اور اسے مسلسل سزا دیتا رہا حتیٰ کہ اس نے لڑکے کے بارے میںبتا دیا ۔ پس لڑکے کو لایاگیا تو با دشاہ نے اس سے کہا : بیٹے ! تیرا جا دو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ توما در زاداندھے اورکوٹھی کو ٹھیک کر دیتا ہے ۔ اور تو فلاں فلاںکام بھی کر تا ہے ۔ لڑکے نے کہا:میں تو کسی کوبھی شفا ء نہیں دیتا شفاء تو اللہ تعالیٰ عطاکرتا ہے ۔ پس اس نے اسے بھی گر فتا رکر لیا اور اسے مسلسل سزادیتا رہا حتیٰ کہ اس نے را ہب کے با رے میں بتا دیا ' را ہب کو بھی پیش کیا گیا تو اسے کہا گیا کہ تم اپنے دین سے پھر جا ؤ ۔ اس نے انکار کر دیا ' بادشاہ نے آرامنگوایا اور آرے کو اسکے سر کے در میا ن یعنی ما نگ والے مقام پر رکھ دیا اور اس کے سر کو دو حصوںمیں چیر دیا ' پھر با دشاہ کے ہم نشین کو بلا یا گیا ۔اور اسے بھی کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جاؤ اس نے بھی انکا رکر دیا' اس کے سر کے وسط میں بھی آرا رکھا گیا اور اسے دوحصوں میں چیر دیا گیا ۔ پھر لڑکے کو لایا گیا اسے بھی کہا گیا ۔ کہ اپنے دین سے پھر جا ؤ ۔ اس نے بھی انکار کر دیا اس نے اسے اپنے ( فو جی )سا تھےوں میں سے چند افر اد کے سپر د کر دیا ۔ اور کہا اسے فلا ں فلا ں پہا ڑپر لے جاؤ او ر اسے پہا ڑ پر چڑھا ؤ ' جب تم اس کی چوٹی پر پہنچ جاؤ تو وہا ں اگر یہ اپنے دین سے پھر جا ئے تو ٹھیک ورنہ اسے وہاں سے نیچے پھینک دو۔ پس وہ اسے لے گئے ۔ اسے لے کر پہا ڑپر چڑھ گئے ۔ اس لڑکے نے کہا : اے اللہ ! تو انکے مقابلے میں جیسے تو چاہے مجھے کا فی ہو جا ۔ چنانچہ پہا ڑنے جنبش کی ' جس سے وہ سب نیچے گر گئے او وہ لڑکا با دشاہ کے پاس پہنچ گیا ۔ تو با دشاہ نے اس سے پو چھا : تیرے سا تھیوں کو کیا ہوا؟ تو اس نے کہا :اللہ تعالیٰ ان کے مقابلے میںمجھے کا فی ہو گیا ۔ پھر با دشاہ نے اسے اپنے ( فوجی ) ساتھیوں میں سے چند افر اد کے حوالے کیا اور کہا : اسے لے جا ؤاور اسے کشتی میں سوار کر لو'جب سمندر کے درمیان میں پہنچ جاؤ تو ا س سے پو چھو ' اگر یہ اپنے دین سے پھر جا ئیں تو ٹھیک 'ور نہ اسے سمندر میں پھینک دو ' پس وہ اسے لے گئے ' تو اس نے کہا : اے اللہ ! انکے مقابلے میں جیسے تو چاہے مجھے کا فی ہوجا ' پس کشتی الٹ گئی ' وہ سب غرق ہو گئے اور وہ لڑکا با دشاہ کے پا س آگیا ۔ با دشاہ نے اسے کہا : تیرے سا تھیوں کا کیا بنا َ؟تو اس نے کہا : اللہ تعالیٰ ان کے مقابلے میں مجھے کا فی ہوگیا ' پھر لڑکے نے با دشاہ سے کہا :تم مجھے قتل نہیں کر سکتے حتیٰ کہ میرے بتا ئے ہو ئے طریقے کے مطا بق عمل کرو۔ َ با د شاہ نے کہا : وہ طر یقہ کیاہے؟ اس نے کہا : تم کسی کھلے میدا ن میں لوگوں کو جمع کرو اور مجھے کسی تنے پر سولی دینے کےلئے چڑھا دو ' پھر میرے ترکش سے تیر لے کر اسے کما نکے در میا ن رکھ ' پھر یوں کہہ کر اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے ۔ پھر وہ تیر مجھ پر چلا پس جب تم یوں کروں گے تو مجھے قتل کرنے میں کا میاب ہوجا ؤ گے ۔ پس اس نے ایک کھلے میدا ن میں لوگو ں کو جمع کیا ' اسے ایک تنے پر سولی چڑھا یا ' پھر اس کے ترکش سے ایک تیر نکا لا ' پھر اسے کما ن کے چلے تا نت پررکھا اور کہا : اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے ' پھر ا س نے تیر پھینکا اور تیر اسکی کنپٹی پر لگا ' اس نے اپنا ہا تھ کنپٹی پر رکھا اور فو ت ہو گیا ۔ لوگوں نے کہا : ہم ا س لڑکے کے رب پر ایما ن لے آئے ۔ ( حکومت کے ) لوگ با دشاہ کے پا س آئے اور اسے کہا : دیکھا تم جس چیز سے ڈرتے تھے ' اللہ کی قسم ! وہی ہو ا او رتمہارا ڈر تمہا رے سا منے آگیا ' ( عوام ) لوگ تو سارے ایما ن لے آ ئے ۔ با دشاہ نے حکم دیا کہ سڑکوں کے کنا رے خند قیں کھودی جا ئیں ' پس وہ کھو دی گئیں ۔ اور ان میں آگ جلا دی گئی ' تو با دشاہ نے کہا : جو شخص اپنے دین سے نہ پھر ے اسے اس میں جھو نک دو یا اسے کہا جا ئے کہ آگ میں داخل ہو جا ۔ انھوںنے ایسے ہی کیا ' حتیٰ کہ ایک عورت آئی جس کے سا تھ اس کا ایک بچہ بھی تھا 'اس عورت نے آگ میں دا خل ہو نے سے جھجک محسوس کی تو بچے نے اسے کہا !اما ں ! صبر کرو! یقینا تم حق پر ہو۔'' (مسلم ) ّ( ذروۃ الجبل ) '' پہا ڑکی چوٹی۔ '' ذال پر زیر اور پیش دونوں طرح جا ئز ہے ( قرقور ) دونوں قافوں پر پیش کشتیوںکی ایک قسم ۔( الصعید ) یہا ں کھلی جگہ کے معنی میں ہے ۔ (الأخدود) '' کھائیاں '' جیسے چھوٹی نہر ۔ ( اضرم )'' جلائی گئی '' (انکفأت )'' الٹ گئی ۔'' ( تقا عست )تو قف کیا ، کمزوری دکھائی ۔'' توثیق الحدیث :أخرجہ مسلم (٣٠٠٥)ََ۔ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر اکتیس (٣١)
انس رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں ۔کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک عورت کے پا س سے گزرے ' جو ایک قبر کے پا س رورہی تھی ' آپ نے فر ما یا: '' اللہ سے ڈر اور صبر کر ۔''اس نے عورت نے کہا : مجھ سے دور رہو ' اس لیے کہ تمہیں وہ مصیبت نہیں پہنچی جو مجھے پہنچی ہے ۔ اس نے آپ کو پہنچانا نہیں تھا ' اسے بتایا گیا کہ وہ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے ' تووہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دروازے پر آئی اور اس نے وہا ں در بانوںکو نہ پا یا ' اس نے آکر عرض کیا : میں نے آپ کو پہچا نا نہیں تھا ۔ آپ نے اسے فر ما یا : '' صبر تو وہی ہے ۔ جو صدمے کے آغا ز میں کیا جائے ۔'' (متفق علیہ) توثیق الحدیث : أ خرجہ البخاری (٣/١٤٨۔فتح)'ومسلم (٩٢٦)(١٥)۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر بتیس (٣٢)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا : '' اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے : '' میرے پاس میرے اس مومن بندے کے لیے جنت کے سوا کوئی جزا نہیں ' جس کی میں محبوب ترین چیز واپس لے لوں تو وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرے ۔'' ( بخاری ) توثیق الحدیث : أخرجہ البخاری(١١/٢٤١۔٢٤٢۔فتح ) |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ۤحدیث نمبر تیتس ( ٣٣)
عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے طاعون کے بارے میں پو چھا تو آپ نے انہیں بتا یا ـ:'' یہ ایک عذاب تھا جسے اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا نازل فرماتا مگر اب اللہ تعالیٰ نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنادیا ہے ' اب جو بندہ طاعون کے مرض میں مبتلا ہو جا ئے اور ہو اپنے شہر ہی میںصبر کرتے ہوئے ثواب کی امید سے ٹھہرارہے اور اسے یقین ہوکہ اسے وہی کچھ پہنچے گا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے مقدر میں لکھ دیا ہے ۔ تو اس کے لیے شہید جتنا اجر ہے ۔'' ( بخاری ) توثیق الحدیث : أخرجہ البخاری (٦/٥١٣۔فتح) |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر چونتیس ( ٣٤)
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ' آپ نے فرما یا :'' اللہ تعالیٰ فر ما تا ہے کہ جب میں اپنے بندے کو اسکی دو محبوب چیزوں ( آنکھو ں ) کے ذریعے آزما ؤں اور وہ صبر کرے ' تو میں ان کے عو ض اسے جنت عطا کردوں گا ۔ '' ( بخاری ) توثیق الحدیث : أخرجہ البخاری (١٠/١١٦۔فتح) |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ۤآبت نمبر پنیتس ( ٣٥)
عطا بن ابی ربا ح بیان کرتے ہیں۔ کہ ابن عبا س رضی اللہ عنہ نے مجھے فر ما یا :'' کیا میں تمہیں جنتی عورت نہ دکھا ؤں ؟میں نے کہا کیوں نہیںانھوں نے فر ما یا : یہ سیا ہ فام عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آئی تو اس نے عر ض کیا : مجھے مر گی کا دورہ پڑتا ہے اوراس دوران میں ننگی ہو جا تی ہوں۔آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا فر مائیں ' آپ نے فرما یا : '' اگر تم چاہوتو صبرکرو' اس کے بدلے میں تمہا رے لیے جنت ہے۔ اور اگر چا ہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں ۔ کہ وہ تمہیں عافیت دے دے ۔'' ا س نے کہا : میں صبر کروں گی ' پھر اس نے کہا : میں( دورے کے وقت ) ننگی ہو جاتی ہوں لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فر ما ئیں کہ میں ننگی نہ ہو اکروں ۔ پس آپ نے اسکے لیے دعا فر مائی۔'' ( متفق علیہ ) توثیق الحدیث :أخرجہ البخاری (١٠/١١٤۔فتح)'ومسلم (٢٥٧٦)َ۔ |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر چھتیس ( ٣٦)
ابو عبد الرحمن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ : گو یا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سابقہ انبیا ء علیہ السلام میں سے کسی نبی کا واقعہ بیا ن کرتے ہو ئے دیکھ رہا ہوں ' جنہیں انکی قوم نے ما ر ما رکر لہو لہا ن کر دیا ہو اور وہ نبی اپنے چہرے سے خون صاف کر رہے ہوں اور یوں کہتے ہوں ۔'' اے اللہ ! میری قوم کو بخش دے اس لیے کہ وہ جا نتے نہیں ۔ '' ( متفق علیہ) توثیق الحدیث :أخرجہ البخاری (٦/٥١٤۔ فتح )' ومسلم ( ١٧٩٢) |
|
|
|
|
|
#14 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر سینتیس ( ٣٧)
ابو سعید اور حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا : '' مسلما ن کو جو بھی تھکا وٹ ،بیما ری ،ہم وحزن، تکلیف یا غم پہنچتا ہے ۔ حتیٰ کہ اسے جو کا نٹا بھی چھبتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسکی خطائیں معاف فر ما دیتا ہے۔ '' ( متفق علیہ ) ( الوصب) کا معنی ہے بیما ر۔ توثیق الحدیث : أخرجہ البخاری (١٠/١٠٣َ۔فتح)' ومسلم (٢٥٧٣)َ |
|
|
|
|
|
#15 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر اٹھتیس ( ٣٨)
ابن مسعو د رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ کو بخار تھا ' میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ کو تو بہت شدید بخار ہو تا ہے ۔آپ نے فر ما یا : '' ہا ں مجھے اتنا بخار ہو تا ہے جتنا تمہارے دو آمیوں کو ہو تا ہے۔ '' میں نے کہا :کیا یہ اس لیے کہ آپ کےلئے دُگنا اجر ہے ؟ آپ نے فر ما یا :'' ہا ں ! یہ ایسے ہی ہے ' اسی طرح جو بھی مسلما ن کہ اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔' کا نٹا چبھتا ہے ۔ یا اس سے کوئی بڑی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسکی بر ائیاں مٹا دیتا ہے ۔ اور اس کے گنا ہ ا س سے اس طرح گر تے ہیں ۔ جس طرح درخت ( مو سم خزاں میں ) اپنے پتے گر ا دیتا ہے ۔ '' ( متفق علیہ) ّ ( الوعک ) معنی بخار ہے ۔ توثیق الحدیث :أخرجہ البخاری (١٠/١١٠فتح) 'ومسلم (٢٥٧١)َ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| وفا, وزیر, قرآن, لوگ, مکمل, موت, آج, اللہ, حکم, حدیث, خون, خبر, دُعا, دعا, زندگی, سودا, شہر, شخص, عورت, غم, صاف, صبح, صبر, صحابہ, صدقہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|