![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :'' جب مومنوں نے کافروں کے لشکر دیکھے توکہا :یہ تو وہی ہے جس کا اللہ تعالیٰ او ر اس کے رسو ل نے ہم سے وعدہ کیا او رسچ کہا اللہ اور اسکے رسول نے اور اس چیز نے ان کو ایما ن وتسلیم ہی میں زیادہ کیا ۔'' ( سورۃ الاحزاب :٢٢)
اللہ تعالیٰ نے فر مایا۔'' وہ لوگ کہ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ لوگ تم سے مقابلہ کرنے کے لیے ) جمع ہوگئے ' ان سے ڈر و ' تو اس با ت نے انکے ایمان کو اور بڑھا دیا اور انہوں نے کہا : ہمیں اللہ تعالیٰ کافی ہے او وہ اچھا کا رسا ز ہے ' پس وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل کےسا تھ اس حال میں وا پس لو ٹے کہ انہیں کوئی برائی( تکلیف ) نہیں پہنچی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی اتبا ع کی اور اللہ تعالیٰ بڑا فضل والا ہے ۔'' ( سورۃ آل عمران : ١٧٣۔١٧٤) ۤ رحمہ اللہ رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ نے فر ما یا :'' اس زندہ ذات پرتو کل کرو جسے موت نہیں آئے گی۔'' ( سورۃ الفر قا ن :٥٨) اللہ تعالیٰ نے فر مایا :'' مومنوں کو اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کر نا چا ہیے۔'' ( سورۃ ابراہیم :١١) اور اللہ تعالیٰ نے فر ما یا ۔ '' جب تم پختہ اردہ کر لوتو پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرو۔''( سور ۃ آل عمر ان :١٥٩) توکل کے بارے میں بہت سی آیات ہیں ۔ اور معلوم ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فر ما یا ۔ ''جو شخص اللہ تعالیٰ پر توکل کر تا ہے ۔ تو وہ اسے کا فی ہے ۔ '' ( سور ۃ الطلاق : ٣) اللہ تعالیٰ نے مزیدفر ما یا ۔'' مومن تو وہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں ۔ او ر جب ان پر اس کی آیا ت پڑھی جا تی ہیں تو وہ ان کے ایما ن میں اضافہ کر دیتی ہیں ۔ اور وہ اپنے رب پر ہی تو کل کرتے ہیں۔ '' ( سو رۃ الانفا ل : ٢) |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر چوہتر( ٧٤)
ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا ۔'' مجھ پر امتیں پیشکی گئیں ، پس میں نے ایک نبی دیکھا کہ اس کے سا تھ چند آدمی ہیں او ر ایک دوسرا نبی دیکھا کہ اس کےسا تھ صرف ایک دوآ دمی ہیں ایک اورنبی دیکھا جس کے سا تھ کوئی آدمی بھی نہیں ۔ اتنے میں ایک بڑا گر و ہ میرے سامنے پیش کیا گیاتو میں نے سمجھا کہ یہ میری اُمت ہے ۔لیکن مجھے بتا یا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور انکی قوم ہے ' اور مجھے افق کی طر ف دیکھنے کو کہا گیا ۔ جب میں نے دیکھا تو اوپر بہت بڑی جماعت تھی ، پھر مجھے کہا گیا ۔ کہ دوسرے افق کی طر ف دیکھیں تو وہاں بھی بہت بڑی جماعت تھی ۔مجھے بتا یا گیا کہ یہ آپکی امت ہے ۔ اور ان کے سا تھ ستر ہزار ایسے لوگ ہیں جو بغیر حساب و عذاب کے بغیر جنت میںدا خل ہونگے ۔ '' پھر آپ اٹھے اور گھر تشریف لے گئے ۔ تو صحابہ کرام نے ان لوگوں کے بارے میں غور وخوض کرنا شروع کر دیا جو حساب وعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ان میںسے بعض نے کہا : شاید یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہو ا ۔ بعض نے کہا :شاید یہ وہ لوگ ہوں جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سا تھ کسی قسم کاشر ک نہیں کیا ۔ انہوں نے او ربھی قیاس آرائیاں کیںکہ اتنے میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے تو آپ نے فر ما یا :'' تم کس چیز کے بارے میں بحث و تمحیص کر رہے تھے ؟'' انھوں نے بتا یا تو آپ نے فر ما یا :''یہ وہ لوگ ہوںگے جونہ خود دم کرتے ہیں نہ دم کرواتے ہیں اور نہ بد شگونی ہی لیتے ہیں ۔بلکہ وہ تو اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں ۔ '' ( یہ سن کر ) عکا شہ بن محصن کھڑے ہوئے عرض کیا : اے اللہ کے رسو ل !اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے ۔ آپ نے فر ما یا :'' تم ان میں سے ہو ۔'' پھر کوئی دوسر اآدمی کھڑا ہو اتو اس نے کہا : ( اے اللہ کے رسو ل ! ) میرے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا فر ما ئیں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کردے ۔ آپ نے فر ما یا : '' اس میں عکا شہ تم سے سبقت لے گیا ۔ '' ( متفق علیہ) توثیق الحدیث : أخرجہ البخاری( ١٠/١٥٥۔فتح)' ومسلم (٢٢٠) |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر پجہتر
ابن عباس رضی اللہ عنہہی سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فر ما یا کرتے تھے :'' اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا ' میں تجھ پر ایما ن لا یا ، میں نے تجھ پر توکل کیا ،میں نے تیری طرف ہی رجوع کیا ،میں نے تیری وجہ سے ( تیرے دشمنوں سے ) جھگڑا کیا ، اے اللہ ! تیرے غلبے کے ذریعے سے میں پنا ہ ما نگتا ہوں ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اس بات سے (پناہ مانگتا ہوں) کہ تو مجھے سیدھے راستے سے بھٹکا دے ، تو زندہ ہے جسے موت نہیں آئے گی ، جبکہ تما م جن وانس مر جائیں گے ۔'' ( متفق علیہ۔یہ الفاظ مسلم کے ہیں ، بخاری نے اسے مختصر بیان کیا ہے) توثیق الحدیث :أخرجہ البخاری ( ١٣/٣٦٨۔فتح) ' ومسلم (٢٧١٧) |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر چھہتر( ٧٦)
ابن عبا س رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ :'' ابراہیم علیہ اسلام نے :'' حسبنااللَّہ و نعم الوکیل :''(ہمیں اللہ تعالیٰ کا فی ہے اور وہ اچھا کا ر ساز ہے ) یہ کلمات اس وقت کہے تھے ۔ جب انہیں آگ میں ڈالا گیا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ کلما ت اس وقت فر مائے جب لوگوں نے کہا کہ لوگ تمہارے خلا ف جمع ہوگئے ہیں ، ان سے ڈرو، پس اس با ت نے ان کے ایما ن میں اور اضافہ کر دیا ، پس آ پ نے فر مایا :'' حسبنا اللہ ونعم الوکیل ۔'' (بخاری ) اوربخاری ہی کی روایت میںہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو ان کے آخری کلمات یہ تھے : '' حَسْبِیَ اﷲُ و ِنعْمَ الْوَکِیْلُ'' ( مجھے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے ) توثیق الحدیث : أخرجہ البخاری ( ٨/٢٢٩۔فتح) |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر ستتر(٧٧)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا :'' جنت میں ایسے لوگ جائیں گے جن کے دل پر ندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے ۔'' ( مسلم ) بعض نے کہا :ا س کے معنی ہیں کہ وہ توکل کر نے والے ہوں گے اور بعض نے کہاکہ ان کے دل نرم ہوں گے ۔ توثیق الحدیث :أخرجہ مسلم ( ٢٨٤٠) |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر اٹھہتر ( ٧٨)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےساتھ نجدکی طرف جہاد کےلئے گئے ، پس جب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس ہو ئے تو وہ ( با بر ) بھی ان کے سا تھ ہی و اپس ہوئے تو راستے میں گھنے خاردار درختوں کی ایک وادی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ پر قیلو لے ( نیند) کا غلبہ ہو گیا ، پس رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے و ہاں پڑاؤ ڈالا اور صحابہ کرام درختوں کے سائے کی تلاش میں ادھر ادھر منتشر ہوگئے اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ایک ببو ل کے در خت کے نیچے آرام کرنے کے لیے ٹھہر گئے اور اپنی تلوار اس کےساتھ لٹکا دی ۔ ہم سب سو گئے ، پس اچانک رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بلانا شروع کر دیا :''ہم نے دیکھا کہ ایک دیہاتی آپ کے پا س ہے ، آپ نے فر ما یا :'' میں سو یا ہوا تھا کہ اس نے میری تلوار مجھ پر سونت لی ، جب میں بیدا ر ہو ا تو یہ اس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تھی ، اس نے مجھ سے کہا کہ تجھے مجھ سے کون بچا ئے گا ؟ میں نے کہا :اللہ !'' آپ نے تین مرتبہ کہا کہ اللہ بچائے گا ۔ آپ نے اس سے کو ئی بدلہ نہ لیا اور بیٹھ گئے ۔( متفق علیہ) ایک اور روایت میں ہے ، جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ ہم غزوئہ ذات الر قاع میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےسا تھ تھے پس جب ہم ایک گھنے سا ئے دار درخت کے پاس آئے تو ہم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے چھوڑ دیا ( تاکہ آپ اس کے نیچے آرام فر ما ئیں ) ، پس اتنے میں ایک مشرک آیا اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلوار درخت کے سا تھ لٹکی ہوئی تھی ۔ اس نے اسے سونت کر کہا :کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو ؟ آپ نے فر ما یا :'' نہیں '' اس نے کہا: تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ نے فر ما یا :'' اللہ ''۔ اور '' صحیح ابی بکر اسماعیلی'' کی روایت میں ہے کہ اس نے کہا : تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ نے فر ما یا :'' اللہ !'' ۔ پس تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی ، تو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تلوار اٹھا لی اور فر ما یا :'' تجھے مجھ سے کون بچا ئے گا ۔ اس نے کہا : آپ بہتر پکڑنے والے بنیں۔ آپ نے فر ما یا:'' کیا تو اس با ت کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سو ا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسو ل ہوں ؟ '' اس نے کہا :نہیں ، لیکن میں آپ سے عہد کرتا ہوں ۔ کہ میں آپ سے لڑوں گا نہ آپ سے لڑنے والی قو م کا سا تھ دونگا۔ پس آپ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا ۔ اور وہ اپنے سا تھیوں کے پاس چلا گیا ۔ اور کہا : میں تمہارے پاس ایسے شخص سے ہو کر آیا ہوں جو تما م لوگوں سے بہتر ہے ' توثیْق الحدیث : أخرجہ البخاری (٦/٩٦۔فتح)' ومسلم ( ٨٤٣) |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر اوناسی (٧٩)
عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ میںنے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فر ما تے ہوئے سنا :'' اگر تم اللہ تعالیٰ پر اس طر ح تو کل کرو جیسا کہ ا س پر تو کل کرنے کا حق ہے ۔ تو وہ تمہیں اس طرح رزق عطا فر مائے جس طرح وہ پر ندوں کو رزق عطا کرتا ہے ۔ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں ۔ اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں '' ( تر مذی ۔ حدیث حسن ہے ) اس کا معنی ہے کہ وہ پرندے دن کے آغاز میں بھو کے نکلتے ہیں اور دن کے آخر میں پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں ۔ توثیق الحد یث : صحیح 'أخرجہ التر مزی ( ٢٣٤٤)'والنسائی فی((الکبریٰ)) (٨/٧٩ تحفۃ)'وابن ما جہ (٤١٦٤) |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر اسی (٨٠)
ابوعمارہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا :'' اے فلا ں ! تو اپنے بستر کی طرف لیٹنے کے لیے آئے تو یوں کہا کہ : اے اللہ ! میں نے اپنے نفس تیرے سپرد کر دیا ہے اور اپنا چہر ہ تیری طرف متوجہ کر لیا ہے ، اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا ہے ، اپنی پشت تیری طرف لگالی ہے تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے ۔ تیری گر فت سے بچنے کے لیے ' تیرے سو اکوئی جا ئے پنا ہ اور مقام نجا ت نہیں ُ میں تیری کتا ب پر ایمان لا یا جو تو نے نا زل کی ہے اور اس نبی پر ایما ن لا یا جسے تو نے بھیجا ' پس اگر تم اپنی اس رات میں فوت ہو گئے تو تمہاری یہ موت فطرت ( اسلام ) پر ہوگی اور اگر تم نے صبح کی تو تم نے بھلائی کو پا لیا ۔'' ( متفق علیہ) براء رضی اللہ عنہ ہی سے صحیحین ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے فر ما یا :'' جب تم بستر پر آنے لگو تو نما ز والے وضو کی طر ح وضو کرو پھر آپنے دا ئیں پہلو پر لیٹ جا ؤ اور یہ دعا پڑھو '' اور آپ نے مذکور با لا دعا ہی بیان کی پھر فر ما یا :'' ان کلما ت کو اپنی آخری گفتگو بناؤ۔ توثیق الحدیث:أخرجہ البخاری ( ١١/١١٣۔١١٥۔فتح) ' ومسلم (٢٧١٠)(٥٧)والروایۃ الثانیۃ عند البخاری ( ١١/١٠٩۔فتح)' ومسلم(٢٧١٠) |
|
|
|
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر اکاسی (٨١)
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب قیرشی تیمی رضی اللہ عنہ وہ (ابوبکر) ان کے والد ( عثمان ) اور ان کی والدہ تینوں صحابی ہیں ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ۔ انھوں نے فر مایا : میں نے مشرکین کے قدموں کی طرف دیکھا جبکہ ہم غار میں تھے اور وہ ہمارے سروں پر تھے تو میںنے عر ض کیا : اے اللہ کے رسو ل ! اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کے نیچے دیکھ لیا تو وہ یقینا ہمیں دیکھ لے گا ۔ آپ نے فر ما یا :'' اے ابو بکر ! تیرا ان دو کے با رے میں کیا خیا ل ہے جن کا تیسرا اللہ ہو ۔'' ( متفق علیہ) توثیق الحدیث : أخرجہ البخاری (٨/ ٣٢٥۔فتح) 'و مسلم (٢٣٨١) |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر بیاسی (٨٢)
ام المو منین ام سلمہ ہند بنت ابی امیہ حذیفہ مخزومیہ ہے سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے گھر سے با ہر تشریف لے جا تے تو یہ دعا پڑھتے تھے :'' اللہ تعالیٰ کے نا م سے ، میں نے اللہ تعا لیٰ ہی پر توکل کیا ، اے اللہ ! میں تیری پنا ہ ما نگتا ہوں اس با ت سے کہ میں گمر اہ ہو جاؤں یا گمراہ کر دیا جاؤں یا میں ( با طل کی طر ف ) پھسل جاؤں یا پھسلادیا جاؤں، یا میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جا ئے یا میں جہا لت کا ارتکا ب کروں یا مجھ سے جہا لت کا معاملہ کیا جائے ۔ ( حدیث صحیح ہے ' اسے ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ نے صحیح سندوں سے روایت کیا ہے ۔ اورامام ترمذی نے کہاکہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ لفظ ابوداؤد کے ہیں ۔) توثیق الحدیث :صحیح 'أخرجہ أبو داود ( ٥٠٩٤) والترمذی (٣٤٨٧) ' وابن ماجہ ( ٤٨٨٣) ' والنسائی فی (( عمل الیوم واللیۃ )) (٨٦) |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر تراسی ( ٨٣)
انس رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا:'' جو شخص اپنے گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے '' اللہ تعالیٰ کے نا م سے شروع کرتا ہوں ، میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا ، گنا ہ سے بچنا اورنیکی کی قوت مل جا نا اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں '' تو اسے کہا جا تا ہے :تجھے ہدا یت دی گئی ۔ تیر ی کفا یت کی گئی تو بچا لیا گیا اور شیطان اس سے دور ہو جا تا ہے ۔'' ( ابوداؤد ، ترمذی اور نسا ئی۔ تر مذی نے کہا حدیث حسن ہے ) ابو داؤ د نے یہ الفا ظ زائدنقل کیے ہیں:'' وہ یعنی شیطا ن دوسر ے شیطان سے کہتا ہے : تیر ااس آدمی پر کیسے بس چلے گا جسے ہدا یت دی گئی ' وہ کفایت کیا گیا اور اسے بچا لیا گیا ؟ توثیق الحدیث :صحیح اخرجہ ابو داود ( ٥٩٠٥)' والترمذی (٣٤٨٦) ' والنسائی فی ((عمل الیو م واللیلۃ )) (٨٩) ' وابن حبان (٢٣٧٥۔موارد )' وابن السنی فی(( عمل الیوم واللیلۃ )(٧٨) اس کی انساد صحیح ہیں اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں سوائے ابن جریح کے کہ وہ مد لس ہے اور عن سے روایت کرتا ہے لیکن اس نے سماع کی وضاحت کی ہے جیسا کہ دار قطبی نے کہا ہے اور حافظ نے '' نتائج الا فکار ( ١٦٤١١) میں نقل کیا ہے اور اس کا ایک قوی الا سناد مر سل شا ہد بھی ہے جسے حافظ نے '' نتائج الا فکار ( ١/١٦٤۔١٢٥)میں نقل کیا ہے |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
حدیث نمبر چو راسی (٨٤)
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں دو بھائی تھے 'ـ ان میں سے ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتااور دوسرا کا روبا ر کرتا اور کما تا ' پس اس کاروباری بھائی نے اپنے بھائی کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کی( کہ وہ کوئی کام نہیں کرتا ) پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا :'' شاید تمہیں رزق اسی کی وجہ سے ملتا ہے ۔'' ( ترمذی ۔ یہ مسلم کی شرط پر صحیح ہے) توثیق الحدیث : صحیح ُا خرجہ التر مذی (٢٣٤٥) |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| لوگ, نیند, موت, موسیٰ علیہ السلام, مقابلہ, معلوم, آدمی, ایمان, اللہ, اسلام, تلاش, حال, حدیث, حسن, دل, دعا, راستہ, شام, شخص, عہد, عمران, صبح, صحیح, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| جعلی پیر کا خاتون پر تشدد،کپڑے پھاڑ دیے‘متاثرہ خاتون کا خود سوزی کا اعلان | ابن جلال | خبریں | 21 | 06-06-11 08:45 PM |
| جن باٹوں سے تول كر دوگے، تمہيں بھی تو اُن ہی باٹوں سے تول كر ملے گا ناں! | ابو عمار | گپ شپ | 3 | 13-01-11 08:31 AM |
| wajee ذیلی ناظم کی ملک توڑنے کی بات "ہندوستان کو توڑ دیا یہ کیا چیز ہے" | اویسی | تھانہ | 27 | 23-04-10 04:41 PM |
| پشتونستان سے خیبر پختونخواہ تک | ھارون اعظم | سیاست | 15 | 12-04-10 01:34 PM |
| تعلق توڑتا ہوں تو مکمل توڑ دیتا ہوں | The Great | شعر و شاعری | 0 | 26-08-09 11:20 AM |