|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 232
|
||||
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم،
جب زکوٰۃ فرض ہو جائے تو اسے جلد از جلد ادا کر دینا چاہیے۔ تھوڑی تھوڑی کر کے ہر ماہ بھی ادا کر سکتے ہیں۔ والسلام علیکم |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
ذکوۃ کے مسائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,861
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم بھائی ، بلال ، زکوۃ اللہ کا حق ہے اور مسلمانوں پر زکوۃ کے نصاب کے مطابق ایک سال پورے ہوتے ہی واجب الادا ہو جاتا ہے ، اللہ کا اس بندے پر قرض ہو جاتا ہے پس اسے چاہیے کہ وہ اس کی ادائیگی میں تاخیر نہ کرے ، ابنِ عباس رضی اللہ عنھْما کا کہنا ہے کہ """ أنَ إِمرأۃً رکَبَت البَحرَ فَنَذَ رت إِنِ اللَّہ تبارَکَ وتعالیٰ أنجَاھَا أن تَصْومَ شَھراً ، فَأنجَاھَا اللَّہْ عزَّ و جلَّ، فَلَم تَصْم حَتٰی مَاتَت، فَجَاءَ ت قَرَابَۃٌ لَھَا (إِمَّا اْختَھَا أو إِبنَتْھَا) إِلیَ النبيّْ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ، فَذَکَرَت ذَلِکَ لَہْ ::: ایک عورت سمندری سفر پر نکلی اور اْس نے منت ( نذر ) مانی کہ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اْس کا یہ سفر سے بخیر و عافیت مکمل کروا دیا تو وہ عورت ایک مہینہ روزے رکھے گی ، اللہ تعالیٰ نے اْس کا سفر خیریت کے ساتھ تمام فرمایا ، مگر اْس عورت نے روزے نہیں رکھے ، اور اِسی طرح ( اپنی منت پْوری کیئے بغیر ) مر گئی، ( اْس کے مرنے کے بعد ) اْس کی کوئی رشتہ دار ( بہن یا بیٹی ) نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس آئی اور یہ واقعہ اْن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے سامنے بیان کیا ،تو ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ((((( أرأیتکِ لَو کَانَ عَلِیھَا دَینٌ کْنتِ تَقضِینَہْ ؟ ::: اگر اِس مرنے والی پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تُم اس کا قرض ادا کرتی ؟ ))))) اس نے عرض کیا """ نَعَم ::: جی ہاں """ تو ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ((((( فَدَینْ اللَّہ أحَق أن یْقضَیٰ ، (ف) اقضِ عَن اْمَکِ ::: اللہ کا قرض کِسی دوسرے کے قرض سے زیادہ ( ادائیگی کا ) حق رکھتا ہے ، لہذا اپنی ماں کی طرف سے ادا کر و ))))) """'' ' صحیح المْسلم ::: حدیث ، ١١٤٨ ، سْنن ابو داؤد : حدیث ، ٣٢٩٨ ، پس اگر نفلی عبادات کی ادائیگی کا ایسا معاملہ ہے تو فرضی کا اس سے کہیں زیادہ اہم ہے ، اگر کسی شرعی عذر کی وجہ سے کوئی شخص اپنے اس مال میں سے جس پر زکوۃ ادا کرنا ہے ، کچھ نکال نہیں سکتا اور اس کے علاوہ کوئی اور مال بھی نہیں رکھتا جس کے ذریعے وہ زکوۃ ادا کر سکے تو اسے اپنے حالات دیکھ کر کوئی سبب اختیار کر کے زکوۃ فوراً ادا کرنا چاہیے ، یاد رہے کسی بھی چیز کی زکوۃ ادا کرنےکے لیے کسی اضافی مال کا ہونا ضروری نہیں اسی مال میں سے مقرر مقدار فروخت کر کے زکوۃ ادا کر ہی دی جانی چاہیے ، اگر ایک سال کی زکوۃ اسی طرح رہ گئی ہو تو پھر مزید احتیاط کی ضرورت ہے کہ ایک کے دو نہ ہوں اور اپنے نصابء زکوۃ میں سے کچھ فروخت کر کے زکوۃ ادا کر دی جائے ، کسی سے قرض لے کر بھی ادا کی جا سکتی ہے ، لیکن اس کے لیے قرض لینے اور اسے واپس کرنے کے لیے ایسا انتظام ضرور کر لینا چاہے کہ اگر اس کی ادائیگی سے پہلے انسان کی موت واقع ہو جائے تو اس کے لواحقین فورا اس کی ادائیگی کر سکیں ، کیونکہ قرض ایسی چیز ہے جو ایک جنتی کو بھی جنت میں داخل ہونے سے رکے رہنے کا سبب بنتا ہے ، ::::::: سعد بن الأطول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اْنکا بھائی مرا تو اْس نے اپنے پیچھے تین سو دینار چھوڑے اور اْسکے بیوی بچے بھی تھے ، سعد بن الأطول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ::: میں نے اِرادہ کیا کہ وہ مال اپنے بھائی کے بیوی بچوں پر خرچ کر دوں ، تو ( میرے اِس اِرادے کو جاننے کے بعد ) رَسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مُجھ سے فرمایا ، ((((( إِنَّ أخاکَ مَحتَبسٌ بِدَینہِ فاقضِ عنہُ ::: تْمہارا بھائی قرض کی وجہ سے ( جنت میں داخلے سے ) روک دیا گیا ہے ، اْسکا قرض ادا کرو ))))) ، سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ::: میں اْس کا قرض ادا کرنے کے بعد پھر رَسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس آیا اور اْن سے کہا ::: اے اللہ کے رَسول میں نے اپنے بھائی کا قرض ادا کر دیا ہے سِوائے دو دینار کے ، اور اِن دو دیناروں کا دعویٰ ایک عورت کر رہی ہے مگر اْسکے پاس اپنی بات کی سچائی کی دلیل نہیں ہے ، تو رَسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ((((( أعطِھا فَإِنھَا مْحقّۃٌ ::: اْس ( عورت ) کو ( دو دینار ) دے دو ، وہ سچی ہے ))))) سْنن ابنِ ماجہ ::: حدیث ، ٢٤٣٣ ، إِمام البوصیری نے '' مصباح الزّجاجہ فی زوائد ابن ماجہ '' میں اِس حدیث کو صحیح قراردیا ہے ۔ ( قرض کے بارے میں کچھ مزید تفصیل میری کتاب """ ایصال ثواب اور اس کی حقیقت """ میں موجود ہے ، پس جہاں تک ممکن ہو قرض سے بچا جانا چاہیے ، اوراضافی مال نہ ہونے کی صورت میں زکوۃ کی ادائیگی کے لیے نصاب میں سے نکال لینا چاہیے ، و اللہ أعلم ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (13-07-11), shafresha (08-09-09), پاکستانی لڑکی (08-09-09), ابو عمار (08-09-09), احمد بلال (08-09-09), عبداللہ حیدر (08-09-09) |
![]() |
| Tags |
| color, فروخت, فرض, پوسٹ, مکمل, موت, ممکن, ماں, اللہ, انسان, اسلام, بھائی, بچوں, جلد, حل, حدیث, رمضان, سفر, سال, شخص, عورت, عباس, عذر, عرض, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|