|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,191
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شہر اورنگ آباد دکن کا ایک قدیم اور مشہور شہر ہے، جو عرصہ سے ریاست مہاراشٹرمیں شامل ہے، اس کے نام سے اندازہ ہوتا ہے کہ اورنگ زیبؒ نے اسے آباد کیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اورنگ زیب کے عہد سے کافی پہلے اسے بسایا گیا، شہر کا پرانا نام ”کھڑکی“ ہے۔ ملک عنبر نے ۰۱۶۱ءمیں اسے اپنا صدر مقام بنایا اور ”فتح نگر“ نام رکھا، مغل دور حکومت میں اورنگ زیب کو دکن کی صوبیداری پر فائز کیا گیا تو انہوں نے ۲۵۶۱ءمیں اس شہر کا نام ”اورنگ آباد“ رکھا اور اسی نام سے آج تک یہ شہر مشہور ہے۔
اورنگ آباد اپنی علمی، ملی اور سماجی سرگرمیوں کی وجہ سے پورے ملک میں جانا جاتا ہے، بزرگان دین نے اس سرزمین کو کلمہ حق بلند کرنے کےلئے کیا، سینکڑوں مساجد درجنوں مدارس اور بے شمار تاریخی عمارات نے اس شہر کی شان اور ملی حمیت میں اضافہ کیا ، پرانا شہر دن بدن وسیع ہورہا ہے قدیم محلوں میں آبادی بڑھنے سے نئی بستیاں بھی بسائی جارہی ہیں۔ کوئی اٹھائیس سال پہلے ۱۷۹۱ءمیں پہلی مرتبہ اس شہر کی جامع مسجد میں تبلیغی اجتماع کے دوران میں نے قیام کیا تھا تو مسجد کے ارد گرد دور دور تک آبادی نہیں تھی لیکن رابطہ ادب اسلامی کے۷۲ویں سیمنار میں شرکت کےلئے ہمارا قافلہ پروفیسرمحمد حسان خاں اور مولانا عمیر الصدیق ندوی کی قیادت میںوہاں پہونچاتو ہمیں اورنگ آبادی کی دنیا ہی بدلی نظر آئی، جامعہ اسلامیہ کا شف العلوم واقع جامع مسجد کو پہلے بھی دیکھا تھا، اب اس کی عمارت دور دور تک پھیل گئی ہیں اور شہری آبادی نے اسے گھیر لیا ہے۔ اورنگ آباد شہر کے چاروں طرف فصیل کو اورنگ زیب نے بنوایا تھا، جس کی باقیات آج بھی موجود ہیں، شہر کے مغربی جانب فصیل سے متصل ایک نہر بہتی ہے اسی نہر سے کبھی ”پن چکی“ چلتی تھی، صبح وشام شہر کے لوگ یہاں سیر وتفریح کے لئے آتے ہیں، اورنگ آباد میں یوں تو پرانے زمانہ کی بے شمار خوبصورت عمارتیں، مسجدیں اور مقبرے موجود ہیں لیکن ان میں ”جامع مسجد“ اور ”بی بی کے مقبرہ“ کو اہمیت حاصل ہے۔ تاریخی جامع مسجد کو بجاطور پر ہندوستان کی چند عظیم وشاندار مساجد میں شمار کیا جاسکتا ہے، اس کی تعمیر میں دو نیک دل فرماں رواں یعنی ملک عنبر اور اورنگ زیب ؒ کا حصہ ہے، مسجد کے ۷۴ حجروں میں مدرسہ کاشف العلوم کا آغاز ہوا، جو ترقی کرکے جامعہ بن گیا ہے اور مشرقی دروازے کے باہر دو بڑی عمارتوں میں، اس کے درجات لگتے ہیں اور طلباءکی اقامت گاہ قائم ہے، یہاں کثرت سے دینی اجتماعات ہوتے ہیں، رابطہ ادبِ اسلامی کا ایک سیمی نار پہلے اور دوسرا اب ہورہا ہے۔ بی بی کے مقبرہ میں اورنگ زیب کی بیوی بی بی رابعہ دورانی کی قبر ہے، یہ مقبرہ آگرہ کے تاج محل کا چھوٹا نمونہ معلوم ہوتا ہے، اسی طرح کا باغ اور نہریں، درمیان میں بلند چبوترہ ، اس کے چاروں کونوں پر اونچے اونچے مینار، وسط میں بڑا گنبد اور ارد گرد چھوٹی چھوٹی برجیاں اسے چھوٹا تاج محل ثابت کرنے کےلئے کافی ہیں، اسی لئے لوگ بی بی کے مقبرہ کو ”دکن کے تاج محل“ کے نام سے پکارتے ہیں، ہرے بھرے درختوں کے درمیان سفید عمارت نہایت دلکش نظر آتی ہے، آگرے کا تاج محل مکمل طور پر سنگِ مرمر سے بنا ہے اس میں رنگ برنگ کے قیمتی پتھر جڑے ہیں، لیکن بی بی کے مقبرے کےلئے غالباً قیمتی پتھر میسر نہ آسکے، حقیقت یہ ہے کہ تاج محل کو اورنگ زیب کے والد شاہ جہاں نے بنوایا تھا اور یہ مقبرہ اورنگ زیب کے بیٹے محمد اعظم شاہ نے تعمیرکرایا ہے، یہ دونوں عمارتیں دادا اور پوتے کی بنوائی ہوئی ہیں اور اسی لئے ان میں واضح فرق ہے، ایک تمام دنیا میں مشہور ہے اور دوسری کی شہرت مہارشٹر ودکن تک محدود ہے۔ نظام شاہی حکومت کے دوران بی بی کے مقررہ کو حیدرآباد منتقل کرنے کی کوشش ہوئی تھی لیکن وہ ناکام رہی، نواب سکندر جاہ نے یہاں ایک اور مسجد بنوائی جس سے مقبرہ کی خوبصورتی وجازبیت پر منفی اثر مرتب ہوا۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ ملک شاہ نے مقبرہ کو منتقل کرنے کے لئے وہاں کام شروع کرایا تو ایک نیک بخت خاتون کے مقبرہ کی بے حرمتی قدرت کو گوارہ نہ ہوئی، ایک شب ملک شاہ کی مرحومہ بیوی دلبرس بانو نے خواب میں آکر اس پر ناراضگی ظاہر کی لہذا کام روک دیا گیا اور اپنی اس غلطی کے کفارہ میں ملک شاہ نے وہاں مسجد تعمیر کرادی۔ اورنگ آباد میں ملک عنبر نے نہروں کے ذریعہ آب رسانی کا ایسا انتظام کیا تھا کہ شہر میں پانی وافر مقدار میں ملنے لگا، گھر گھر باغ نظر آنے لگا، ایسا انتظام ہندوستان کے کسی دوسرے شہر میں نہ تھا، جب اورنگ زیب یہاں آئے تو اس شہر کی مزید ترقی ہوئی اور آبادی کئی لاکھ تک پہونچ گئی ”ہر کمال را زوال کے مصداق“ شہر کے برے دن آئے تو بستی اجڑتی گئی، اب پرانی عمارتوں کے کھنڈر شہر کے چاروں طرف دور دور تک نظر آتے ہیں، اس سب کے باوجود اورنگ آباد کی رونق میں کوئی فرق نہیں آیا، بلکہ تیس سال کے دوران شہر کی آبادی بڑھنے کے باوجود مجھے یہ شہر پہلے کی طرح پرسکون وخوبصورت ہی دکھائی دیا۔نئی آبادی بڑی حد تک منظم ہے، سڑکیں کشادہ ، کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، اس لئے ترقی کی رفتار تیز ہے ، مسلمان آج بھی پچاس فیصد کے قریب ہیں، کبھی مسلم سلاطین کی جولانگاہ رہا، یہ شہر اپنے آثار قدیمہ کی وجہ آج بھی دیکھنے کے لائق ہے دولت آباد کا بے مثال قلعہ اور اولیاءاللہ کی سرزمین خلد آباد شہر اورنگ آباد کے مغرب میں پندرہ کلو میٹر کی مسافت اور ایلورا روڈ پر دولت آباد واقع ہے جسے یادونسل کے راج پوت بھلم نے ۲۱ویں صدی عیسوی میں بسایا تھا، یہ وہی مقام ہے جس کو سلطان محمد تغلق نے اپنی حکومت کا دارالخلافہ بنانا چاہا اور دہلی کے لوگوں کو حکم دیا کہ سب دولت آباد چلے جائیں، اس شہر کا قدیم نام ”دیو گری “ہے، تیرھویں صدی عیسوی کے آخر میں دیو گری پر علاءالدین خلجی کی فوج کے حملہ کے بعد یہ علاقہ دہلی کے مسلم حکمرانوں کی آماجگاہ بن گیا، محمد تغلق پہلا حکمراں ہے، جس کے دور میں دولت آباد کو مرکزی حیثیت حاصل ہوئی اور یہ مکمل طور پر مسلم حکمرانوں کے زیر تسلط آگیا، بعد میں مرتضیٰ نظام شاہ ثانی کے حوصلہ مند وزیر ملک عنبر نے دولت آباد کو اپنی ریاست کا پائے تخت بنا لیا، لیکن جیسے جیسے ملک عنبر کی طاقت بڑھتی گئی اور اسے ایک بڑے شہر کی ضرورت محسوس ہوئی تو کھڑکی (اورنگ آباد) کو اس کے لئے منتخب کرکے ملک عنبر نے اپنی فوج کے علاوہ عالموں اور اہل ہنر کو بھی وہاں آباد کرنا شروع کردیا، اورنگ زیب کے عہد میں دولت آباد کی رہی سہی حیثیت بھی ختم ہوگئی لیکن یہاں کا قلعہ بہت مشہور ہوا، آج بھی سیاح اسے دیکھنے دور دور سے آتے ہیں، ایسا زبردست قلعہ دنیا میں شاید ہی کوئی دوسرا ہو، اس کی وسعت، بلندی اور پیچیدگی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ مورخوں کا دعویٰ ہے کہ اس قلعہ کو دیکھ کر محمد تغلق اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اپنا دارالسلطنت دہلی سے یہاں منتقل کرنے کا ارادہ کرلیا لیکن بعض وجوہ سے تغلق کا یہ فیصلہ عملی جامہ نہیں پہن سکا۔ ہمارا قافلہ جس میں راقم کے علاوہ ڈاکٹر محمد حسان خاں، مولانا عمیر الصدیق ندوی، مولانا شعیب کوٹی ندوی، ڈاکٹر عزیز الرحمن ندوی، حکیم ڈاکٹر محمد حسین ندوی، حافظ محمد الطاف، مولوی محمد سفیان ندوی اور حافظ محمد لئیق کے علاوہ پربھنی کے ڈاکٹر محمد ایوب علیگ شامل تھے، قلعہ کو دیکھنے کے لئے وہاں پہونچا، موسم بڑا خوشگوار تھا، آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے، خوشگوار ہوا نے فضا کو مزید ہموار کردیا تھا۔ بلند پہاڑ پر تعمیر قلعہ دولت آباد سطح زمین سے دوسو کلومیٹر بلندی تک پھیلا ہوا ہے، اس کی حفاظت کے لئے سات دیواریں بنوائی گئی تھیں جو آج بھی ٹوٹی پھوٹی حالت میں موجود ہیں، باہر کی دیوار جسے مہا کوٹ کہا جاتا تھا سب سے مضبوط تھی، قلعہ کی حفاظت کا دوسرا انتظام اسے چاروں سمت سے گھیرنے والی گہری کھائی ہے، جسے عبور کرنا آسان نہیں ہے، قلعہ کی شوکت وعظمت کا اندازہ اس کے دروازہ سے ہی ہوجاتا ہے، آگے کے کچھ حصے عبور کرنے کے بعد چاند مینار دکھائی دیتا ہے، جسے ۵۳۴۱ءمیں علاءالدین بہمنی نے بنوایا تھا، یہ آج بھی بہتر حالت میں قائم ہے، چار منزلوں پر مشتمل اور ۰۳میٹر بلند یہ مینار دہلی کے مشہور قطب مینار کے بعد ملک کا دوسرا سب سے اونچا اور پرانا مینار ہے۔ کئی اندھیرے اور روشن راستوں، اونچی اور نیچی گیلریوں سے گزر کر سیاح جب چوٹی پر واقع بارہ دری محل میں قدم رکھتے ہیں تو وہاں سے دولت آباد شہر کا نظارہ ان کی ساری تھکان دور کرنے کےلئے کافی ہوتا ہے، پتھر اور چونے سے تعمیر بارہ کمانوں والی اس عمارت پر موسم کے سرد و گرم کے اثرات اگرچہ نمایاں ہوگئے ہیں لیکن ماضی میں اس کی رونق کیا ہوگی، اس کا بھی بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، اسی بارہ دری کے پشت پر موتی ٹاکی ہے، جہاں کا صاف اور ٹھنڈا پانی پی کر تعجب ہوتا ہے کہ یہ کہاں سے اور کیسے اتنی بلندی پر پہونچ رہا ہے۔ اورنگ زیب کی آرام گاہ: دولت آباد سے ۲۱ کلومیٹر آگے بڑھیں تو خلد آباد آتا ہے ، جہاں اورنگ زیب عالمگیرؒ کا مزار ہے اور کئی دیگر اولیاءاللہ محو خواب ہیں، اسے دکن میں ہم اشاعت دین کا اولین مرکز اور روحانی شہر بھی کہہ سکتے ہیں ، کیونکہ یہاں بزرگانِ دین کی آمد کا سلسلہ بہت پہلے شروع ہوگیا تھا، سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیائؒ نے اپنے مرید منتخب الدین زرزدی زر بخشؒ کو اپنا خلیفہ مقرر کرکے ۲۹۶ھ میں دولت آباد روانہ کیا تھا، ان کے ہمراہ سینکڑوںمعتقدین بھی آئے تھے، اپنے قیام کے لئے انہوں نے جو جگہ منتخب کی وصیت کے مطابق وہیں انہیں پیوند خاک کیا گیا، زربخشؒ کے مزار کا گنبد روضہ کہلایا اور اسی بناءپر یہ آباد بستی روضہ کے نام سے موسوم ہوئی، اس سرزمین پر پچاس برس گزارنے کے بعد جب اورنگ زیبؒ نے وفات پائی تو شہزادہ محمد اعظم شاہ نے انہیں زین الدین شیرازیؒ کے مقبرہ کے صحن میں دفن کیا، اورنگ زیب ”خلد مکاں“ کے لقب سے ملقب ہوئے، اسی مناسبت سے روضہ خلد آباد کہا جانے لگا۔ گنبد وعمارت سے عاری اورنگ زیبؒ کی قبر ان کی وصیت کے مطابق نہایت سادھی ہے، سنگین چبوترے پر بنی ہوئی، اس قبر پر مولسری کا درخت سایہ فگن ہے، یہیں ایک کمرہ میں اورنگ زیب کے قلم سے تحریر کیا ہوا ایک سپارہ بھی محفوظ ہے، ہندوستان کے اس جلیل القدر شہنشاہ کی نہایت سیدھی سادھی قبر دیکھ کر احترام و عقیدت کے جو جذبات پیدا ہوئے اور آج تک ذہن میں تازہ ہیں ، علامہ اقبال نے ”رموز بے خودی“ میں اورنگ زیب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کفر وبے دینی کے مقابلہ میں ملت کا آخری تیر قرار دیا ہے اور پنجاب سے خلد آباد کا دور دراز سفر صرف ان کے نہایت سادھا مزار کی زیارت کے لئے کیا تھا۔ اسی احاطہ میںمغل خاندان کے دوسرے افراد بھی دفن ہیں، اس کے متصل ایک بڑی مسجد اور وسیع خانقاہ ہے اورنگ زیب کے تدفین کے بعد محمد اعظم شاہ کے حکم سے خلد آباد شہر کو چھ بڑے دروازوں اور دو کھڑکیوں کے ذریعہ فصیل بند کرکے قلعہ نما کردیا گیا تھا۔ کچھ دروازے آج بھی موجود ہے اِیلورا اور اجنتا، سنگ تراشی ومصوری کے نادر شاہکار اورنگ آباد سے ۰۳ کلومیٹر دور شمال مشرق میں اور خلدآباد سے تین کلو میٹر کے فاصلہ پر ”ایلورا“ کے شہرت یافتہ چٹانی طرز تعمیر کے غار ہیں، جنہیں ملک اور بیرون ملک کے ہزاروں سیاح دیکھنے کےلئے روزانہ سفر کرتے ہیں، یہ تھیوناٹ نامی ایک یوروپی سیاح کی کھوج بتائے جاتے ہیں، انہیں چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی میں بڑی نفاست کے ساتھ پہاڑی چٹانوں میں تراشا گیا ہے، یہاں بودھ، جین اور ہندو مذہب کے ۵۳ غار ہیں، ان میں سے ۵۱ بودھوں کے بنائے ہوئے غار اور خانقاہیں ہیں، یہاں کاہر غار اپنے فنی نقش ونگار کے باعث عجائبِ روزگار شمار ہوتا ہے تاہم ان تمام غاروں میں سولہ نمبر کا غار اپنی صناّعی اوردست کاری میں فقید المثال ہے، ان غاروں میں ایک حصہ ”رنگ محل“ کے نام سے موسوم ہے، سینکڑوں قسم کی سنگ تراشی کے یہ نمونے بلاشبہ آج بے رنگ وروغن ہیں اوران میں سے اکثر پر کہنگی نیز شکستگی کے اثرات بھی نمودار ہوگئے ہیں، پھر بھی یہ قدر شناس نظروں کے لئے لائقِ توجہ بنے ہوئے ہیں۔انہیں غاریاگفا نہ کہہ کر ہم پہاڑوں پر سنگ تراشی کے نادر نمونے بھی کہہ سکتے ہیں، جنہیں ماہر فنکاروں نے چھینیوں کی مدد سے تراش کر مختلف شکل وصورتوں میں مجسم کردیا ہے، کہیں ہاتھی سونڈ اٹھائے کھڑے ہیں ، کہیں شیر دھاڑ رہے ہیں، درختوں پر پرندے بیٹھے ہیں، تالابوں میں بطخیں تیر رہی ہیں، ایک طرف رقص ہورہا ہے تو دوسری جانب جنگ وجدال کی منظر کشی ہے، کہیں بازار آراستہ ہے تو کہیں شادی کی دھوم دھام ہے، ادھر لوگ کھانا کھا رہے ہیں تو ادھر فقیر بھیک کے لئے دست سوال دراز کئے ہوئے ہیں، انہیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک جیتی جاگتی بستی تھی، جو صدیوں پہلے پتھر کی بن گئی، یہاں کے تمام انسان اپنے اپنے مشاغل میں مصروف تھے کہ کسی نے جادو کے زور سے انہیں پتھر میں تبدیل کردیا۔ ہمارا قافلہ ایلورا کے غاروں کا مطالعہ کررہا تھا کہ ایک گائڈ نے جو شاید کسی دوسری پارٹی کے ساتھ تھا میرے ہاتھ میں قلم اور نوٹ بک دیکھ کر استفسار کیا، جب اسے معلوم ہوا کہ میں ایک صحافی ہوں تو اس نے خوش ہوکر کہا کہ آپ اس سفر کی روئیداد لکھیں تو پڑھنے والوں کو میرا یہ پیام پہونچادیں کہ ایلورا کے غاروں کا مشاہدہ کرنے کےلئے وہ اپنا وقت فارغ کریں اوریہاں کے عجائبات کو دیکھ کر سبق لیں غالباً وہ مسلمان گائڈ کہنا چاہتا تھا مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے ہمارے اس سفر کی آخری منزل مصوری وسنگ تراشی کے شاہکار ”اجنتا“ کے شہرہ¿ آفاق غار تھے جو اورنگ آباد- جلگاﺅں شاہراہ پر اورنگ آباد سے ۶۰۱ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہیں اور ۵۸ا سال سے ملک وبیرونِ ملک کے سیاحوں کے لئے یکساں طورپر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، ایک اندازہ کے مطابق یہاں ہر سال آنے والے سیاحوں کی تعداد ساڑھے چار لاکھ کے قریب ہوتی ہے، ہمارا قافلہ ۸ جون ۹۰۰۲ءکی علی الصبح اورنگ آباد سے اجنتا گاﺅں کےلئے عاز ِ سفر ہوا، صبح ۹ بجے کے قریب ہم اجنتاوادی کے حدود میں موجودبازار کی ایک ہوٹل میں ناشتہ کررہے تھے لیکن ہماری توجہ جلد سے جلد اس وادی میں داخل ہونے پر مرکوز تھی جو گھوڑے کے نال کی شکل کے ایک پہاڑ سے گھری ہوئی ہے اور جس کے تیس مختلف غاروں میں گوتم بودھ کی زندگی کے مختلف پہلوﺅں کو فن مصوری وسنگ تراشی کے ذریعہ اجاگر کیا گیا ہے۔ ہم جب اپنے عمر رسیدہ اور نوجوان ساتھیوں کے ہمراہ مذکورہ غاروں یاگفاﺅں کو دیکھنے کے لئے سیڑھیوں کے ذریعہ پہاڑ کو عبور کررہے تھے تو میرے ذہن میں سیاحت کی ترغیب کے بارے میں مولانا اسماعیل میرٹھی کا شعر گونج رہا تھا سیر کر غافل زندگانی پھر کہاں زندگی گر کچھ رہی تھی تو نوجوانی پھر کہاں اس سفر کے دوران دوسری مرتبہ مجھے احساس ہوا کہ سیاحت کے لئے مناسب وقت جوانی ہے ، عمر ڈھلنے کے بعد یہ لطف محدود ہوجاتا ہے (اس سلسلہ کا پہلا احساس مجھے دولت آباد کے قلعہ پر چڑھتے وقت ہوا تھا) بہر حال بتایا جاتا ہے کہ اجنتا کے نادر روزگار غاروں کا یہ سلسلہ طویل عرصہ تک دنیا کی نظر سے پوشیدہ رہا، ۹۱۸۱ءمیں ایک انگریز فوجی دستہ لٹیروں کا تعاقب کرتا ہوا، اس وادی کے کنارے پر آکر رک گیا، جس کے آگے گہری اور خوفناک کھائی تھی، اس سے قبل بھی یہ فوجی ڈاکوﺅں کا پیچھا کرتے یہاں تک پہونچتے تو وہ ڈاکو اور لٹیرے گھوڑوں کی سموں کی دھول بکھیر کر نظروں سے اوجھل ہوجاتے تھے، اس مرتبہ ان کا دور تک تعاقب ہوا پھر بھی وہ غائب ہوگئے، دستہ کی رہنمائی کرنے والے انگریز فوجی افسر الیگزینڈر اسمتھ نے نشیب میں جھانک کر دیکھا تو اسے نہ صرف ایک گہری کھائی دکھائی دی بلکہ بہتے دریا کے اوپر واقع پہاڑ کے دامن میں پتھر سے تراشی ہوئی ایک کمان کے دھندلے نقوش بھی محسوس ہوئے، محویت کے عالم سے چونک کر اس نے دو ربین کا سہارا لیا تو اسے وہ کمان، فنِ سنگ تراشی کا اعلیٰ نمونہ نظر آئی، افسر اس تک پہونچنے کے لئے بے چین ہوگیا، وقت کم تھا ڈھلان عبور کرکے اس نے دریا پار کیا اور جیسے تیسے ساتھیوں کے ہمراہ کمان تک جا پہونچا اس نے دیکھا کہ وہ ایک مستطیل نما گفا ہے، جس میں انسانی ہاتھوں کی فنکاری کے نقوش جگہ جگہ مرتسم ہیں، اس واقعہ کی اطلاع ایسٹ انڈیا کمپنی کو دی گئی، اس کے بعد آرٹ اور فن کے قدر دانوں کا ایک تانتا بندھ گیا، صدیوں کی خاموشی کے بعد وادی اجنتا میں زندگی کے آثار نظر آنے لگے، فرق صرف یہ تھا کہ صدیوں پہلے یہ وادی بودھوں کے اشلوک سے گونجتی تھی، تو اب ماہرین آثار قدیمہ اور ان کی معاونت کرنے والے کارکن ومزدور کی آماجگاہ بن گئی تھی، جو گفاﺅں سے مٹی نکالنے کا کام تندہی سے انجام دے رہے تھے، ان کی تگ ودو کے نتیجہ میں ۰۳ گفائیں دریافت ہوئیں، جن میں ۴۲ ویہار(خانقاہیں) شامل ہیں، اس زمانہ میں اجنتا کا علاقہ نظام حیدرآباد کی ماتحتی میں تھا۔ نظام نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہر ممکن تعاون دیا بلکہ اپنے خصوصی فرمان سے محکمہ آثار قدیمہ کا اعلان کیا اور اس کے پہلے ڈائریکٹر کی حیثیت سے مولوی غلام یزدانی کا تقرر ہوا، جن کی بیش بہا اور وسیع خدمات نے اجنتا کے آثار قدیمہ کے تحفظ میں زبردست کردار ادا کیا۔ اجنتا کے غار امتداد زمانہ یا بودھ دھرم پر مذہبی یورش کے باعث تقریباً ایک ہزار سال یا اس سے کچھ زیادہ عرصہ تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہے۔ سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر رادھاکرشنن کے بقول بودھ مذہب پر ہندو دھرم کی جارحانہ یلغار سے گھبرا کر اجنتا کے بودھ بھکشوﺅں نے اسی میں عافیت سمجھی کہ اپنے آثار کو بچانے کےلئے انہیں مٹی کے انبار اور جھاڑیوں سے ڈھک دیں، ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اجنتا کا محل وقوع ایسا ہے کہ وہ شمال سے جنوب کی طرف آنے والے قافلوں کے راستہ میں نہیں آتا، اس لئے اجنتا کے آثار زمانہ کے دستبرد سے محفوظ رہے ورنہ مذہبی تعصب وجانبداری کی آندھی میں اتنے طویل عرصہ تک یہ ہرگز محفوظ نہیں رہتے اور فن وآرٹ کا یہ نادر خزانہ ۹۱ ویں صدی تک نہ پہونچ پاتا، اگر دشمنوں کی نظر سے یہ بچا بھی رہتا تو سرد وگرم موسم کے اثرات دھیرے دھیرے اس کے نقوش وہیئت کو کافی پہلے متاثر کردیتے جیسا کہ ۹۱۸۱ءکے بعد ہوا کہ کوئی پونے دوسو سال کے دوران پانی اور دھوپ کے سامنے کھلے رہنے سے ان کے نقش ونگار بالخصوص رنگ وروغن پھیکے پڑ گئے ہیں۔ اجنتا کی مصوری کے بارے میں ایک گائڈ کا یہ تجزیہ حقیقت سے زیادہ قریب نظر آتا ہے کہ بودھ فنکار غاروں کی دیوار کی کھردری سطح پر پہلے گوبر اور چاول کی بھوسی کو لیپ دیا کرتے تھے، اس کے بعد پلاسٹر ہوتا ہے اور اس کے خاکے اتارنے کے بعد انہیں پینٹ کردیا جاتا تھا۔اسی لئے غاروں کی تصاویر کو قریب سے دیکھنے پر یہ بھدی اور بے معنی دکھائی دیتی ہیں لیکن سات فٹ کے فاصلے سے نظر ڈالنے پر ہر نقش کا فن ابھر کر سامنے آجاتا ہے، اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ بودھ فنکاروں نے نہایت عقیدت ورغبت کے ساتھ یہ تصاویر بنائی ہیں اور زندگی کے معمولی سے معمولی اور بڑے مظہر کو بھی نقاشی کے فن میں منتقل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے، خلوت کی بے باک تنہائیاں، جلوس، رقص، دربار، جنگل، رزم، بزم غرضیکہ زندگی کے ہر مظہر کی فنکاروں نے عکاسی کرنے کی سعی کی ہے اور جب تصویر کشی سے ان کی طبیعت اوب جاتی تو سنگ تراشی کے ذریعہ اسی زندگی کو پتھروں پر نقش کرنے کی کوشش کی جاتی، کیونکہ جس فنکاری کا اظہار انہوں نے برش کے وسیلہ سے کیا، وہی انداز بسولوں اور چھینیوں کے ذریعہ پتھر کا جگر چیر کر اپنایا گیا، ان تصویروں میں جن رنگوں کا استعمال ہوا وہ اول مقامی نباتات سے حاصل کئے گئے یا دھاتوں کو گھول کر انہیں تیار کیا گیا تھا۔ گائڈ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جہان رنگ بنائے جاتے تھے، ان کے باقیات بھی موجود ہیں۔ ہم ظہر سے پہلے سبھی گفاﺅں پر ایک نظر ڈال چکے تھے۔ تفصیلی جائزے کےلئے نہ وقت تھا اور نہ ہمت، پھر ہیں بھوپال واپسی کے لئے بھساول سے ٹرین بھی پکڑنی تھی۔ عارف عزیز (بھوپال)
__________________
![]() |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فنی, کمال, وزیر, وصیت, قدم, لوگ, چین, نظر, مکمل, مقابلہ, منتقل, ممکن, مسجد, معلوم, آبادی, آج, انسان, اسلامی, اعلیٰ, تاج, تصاویر, حکم, دریافت, غار, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|