واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > سفر نامے




جاناں تیرے شہر میں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-04-10, 05:20 AM   #1
Junior Member
اجنبی
 
واصف ملک's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مقام: Lahore
مراسلات: 13
کمائي: 608
شکریہ: 23
13 مراسلہ میں 50 بارشکریہ ادا کیا گیا
واصف ملک کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جاناں تیرے شہر میں

جاناں تیرے شہر میں

ایک دن مَیں اور حماد پیدل گھر آرہے تھے کہ راستے میں ہمیں لینڈ لارڈ وَرما مل گیا وہ سخت غصے میں تھا۔ اس نے کہا کہ تم لوگ کرایہ کب دو گے جبکہ ہم تو کئی روز پہلے ہی کرایہ دے چکے تھے۔ ہم نے اسے بتایا کہ ہم تو کرایہ دے چکے ہیں۔ جس پر اُس نے ہم پر چیخنا شروع کر دیا کہ اُس نے ہم لوگوں کو ایماندار سمجھ کر رہنے کیلئے جگہ دی اور ہم لوگ ایسے نکل آئے ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہمیں تھوڑا وقت دو۔ ہم آپ کو ملتے ہیں۔ گھر آئے اور چیتے سے پوچھا کہ تم نے ورما کو کرایہ دیا تھا یا نہیں کیونکہ ہم سارا کرایہ چیتے کو پکڑا دیتے تھے اور وہی یہ کرایہ ورما کو دیتا تھا۔ چیتے نے ہمیں یقین دلایا کہ اس نے رقم ورما کو پہنچا دی ہے اور اس نے تم لوگوں سے مذاق کیا ہو گا؟ ورما کے تیور مذاق والے بالکل بھی نہ تھے۔ ہمیں یقین نہیں آیا تو اس نے ہمارے سامنے ورما کو کال کی اور وہ ورما سے کہہ رہا تھا کہ جب اُس نے کرایہ ادا کیا ہے تو تم اُس کے دوستوں سے مذاق کیوں کیا ہے۔ ورما کی فون میں سے کچھ کچھ آواز آرہی تھی لیکن سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس نے کیا کہا تھا۔ فون بند کرکے چیتا کہنے لگا کہ اب یقین آگیا۔ ہم نے کہا ہمیں سمجھ نہیں آسکی کہ ورما نے کیا کہا ہے؟ تو اس نے کہا کہ ورما کہہ رہا تھا کہ اس نے ہم مذاق کیا ہے۔ عجیب و غریب مذاق تھا مگر ہم مطمئن ہو گئے۔

نیو لک وکٹوریہ کی منیجر ایک نوجوان ترکش لڑکی فاطمہ تھی جس کی رنگت تانبے کی طرح چمکتی تھی۔ یہ جان کر مجھے خوشی ہوئی کہ وہ مسلمان ہے کیونکہ فاطمہ نام کسی مسلمان کا ہی ہو سکتا تھا۔ اپنی اس خوشی کا اظہار میں نے فاطمہ کے سامنے بھی کیا جس پر فاطمہ نے یہ کہہ کر میری خوشی کافُور کر دی کہ اُس کا نام ضرور فاطمہ ہے لیکن وہ مذہب پر یقین نہیں رکھتی۔

مَیں بہت تھک چکا تھا۔ اچھا وقت تو کہیں پیچھے بہت دور رہ گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ اچھے وقت میں ایک بُرائی ہوتی ہے۔۔۔ کہ اچھا وقت گزر جاتا ہے بُرے وقت میں ایک اچھائی ہوتی کہ ۔۔۔برا وقت بھی گزر جاتا ہے۔ ہم باتھ روڈ کے جس گھر میں رہتے تھے یہاں اس کمرے کا کرایہ تقریباً ڈیڑھ سو پاؤنڈز ہفتہ تھا۔ جس کا آدھا میرے اور آدھا حمادکے ذمہ تھا۔ گھر کا کرایہ، کھانا، ٹریولنگ پاس اور دوسرے اخراجات کے بعد جو بھی کچھ میرے پاس ہوتا تھا وہ پیچھے بھیج دیتا تھا اور پھر پورا ہفتہ میری جیب میں ایک پاؤنڈ بھی نہ بچتا تھا۔ ایسے وقت میں میرے دوستوں نے میرا بھرپور ساتھ دیا۔ خصوصاً حماد اور زاہد نے۔حماد نے ہر جگہ ہر وقت میرا ساتھ نبھایا۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

باسط کی شکل خرگوش سے بہت ملتی تھی جس پر اس کا نام خرگوش پڑ گیا۔ خرگوش ہم چاروں سے تیس پاؤنڈ فی کس کے حساب سے وصول کرتا تھا جو کہ مجموعی طور پر ایک سو بیس پاؤنڈ بنتا تھا جبکہ کمرے کا کرایہ صرف سو پاؤنڈ تھا۔ سو اس حساب سے خرگوش نہ صرف یہ کہ خود مفت میں رہتا تھا بلکہ ویکلی بیس پاؤنڈ منافع بھی کما رہا تھا۔ میرے علاوہ یہاں صوم و صلوٰۃ کا پابند لڑکا ثاقب، گوجرانوالہ کا عرفان اور لاہور کا آصف بھی تھا۔ عرفان بہت اچھا شخص تھا۔ اکثر ہم سب کی طرف سے کرایہ ادا کر دیتا تھا۔ جسے ہم بعد میں اُس کو لوٹا دیتے تھے۔ جبکہ خرگوش بہت مطلبی ، خود غرض اور مفاد پرست تھا۔ وہ ہم سب کو گھیر کے یہاں لے آیا تھا۔ یہاں ٹھیک سے سونے کی جگہ بھی نہیں تھی جبکہ اس کو یہاں رکھنے کیلئے اور بندوں کی بھی تلاش تھی۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

پچھلے کچھ دنوں سے یہاں پر ایک ڈیڑھ بالشت لمبی داڑھی والے حضرت بیٹھے نظر آرہے تھے۔ ایک دن مَیں نے پوچھا مولانا۔ آپ یہاں کہاں؟ یہ تو شراب کی دکان ہے آپ کے چہرے سجی سنتِ رسولؐ آپ کو زیبا نہیں دیتا یہاں کام کرنا۔ مولانا نے بتایا کہ وہ جماعت کے ساتھ یہاں تبلیغ کی غرض سے آیا تھا۔ اور وہ واہ کینٹ کی کسی مسجد میں مؤذن تھا۔ لیکن اس نے تبلیغی جماعت کے ساتھ واپس جانے کی بجائے یہاں نوکری کر لی ہے۔ یہ دُکان اس کے بھائی کے دوست کی تھی اس نے بتایا کہ اس کا بھائی واہ کینٹ کا معروف تاجر ہے۔ مَیں نے کہا کہ اگر آپ نے یہاں رہنا ہی ہے تو کہیں اور نوکری کر لیں ایک طرف مسجد اور وہاں سے نکلے تو سیدھے میخانے میں ہی کیوں۔ مولانا نے بتایا کہ اس کو کوئی بھی یہاں نہیں جانتا۔ وہ کہاں جائے یہاں تو نوکری کے ساتھ ساتھ رہائش بھی ملی ہوئی ہے۔ مولانا کی بات ٹھیک ہی تو تھی۔ نہ جانے لوگوں کی کیسی کیسی مجبوریاں ہیں۔ کوئی کربھی کیا سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں سرائیت کرتی ہوئی ناانصافی رشوت ستانی، چور بازاری اور حق تلفی نے امیر غریب کے درمیان خلیج کو وسیع تر کر دیا ہے اور متوسط طبقہ تو فنا ہی ہو گیا ہے۔ مڈل کلاس طبقے کے لوگوں کو باعزت زندگی کی تگ و دو میں کیسی کیسی بے عزتی برداشت کرنا پڑتی ہے۔ یہ مَیں خوب اچھی طرح جان چکا تھا۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

یہاں سے ہم سیدھا ہسپتال پہنچے، جہاں میرے ابو داخل تھے۔ ہسپتال کے دروازے پر میری والدہ اور ماموں ممتاز سے ملاقات ہوئی، پھر مَیں اندر گیا۔ جہاں روم میں ابو بستر پر موجود تھے۔ مَیں یہاں سے گیا تھا تو وہ تندرست و توانا تھے۔ اب لوٹا تو وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکے تھے۔ وہ پہچانے نہ جا رہے تھے۔ میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ میرے ابو میرے تصور سے بھی زیادہ بیمار تھے۔ مَیں انگلینڈ میں تھا تو ان کی کمزور آواز سن کر میں بے چین ہو جاتا تھا مگر ایسی حالت ہوگی یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ ابو کو کینسر تھا اور وہ آخری سٹیج تھی۔ اُن کو بہت تکلیف تھی۔ بار بار اُلٹیاں آرہی تھیں۔ یہ سب برداشت کرنا بہت مشکل تھا۔ آنکھیں یقین کرنے پر تیار نہ تھیں۔ لیکن یہ ہی حقیقت تھی جو نظر آرہی تھی۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

مَیں ابو کے بستر کے کنارے بیٹھا سوچ رہا تھا۔ ایک فلم کی طرح اُن کی زندگی میری آنکھوں کے سامنے تھی۔ بہت چھوٹے تھے جب باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ ماں بھی چل بسی۔ ماموں نے پالا وہ سب دُکھ جس کا سامنا ہر یتیم کو ہوتا ہے۔ میرے والد نے بھی جھیلے وہ سارے دُکھ۔ نوکری کی۔ بہنوں کی شادیاں کیں۔ پھر میں اپنی شادی کی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلزپارٹی سے سیاسی وابستگی کی بناء پر ضیاء دور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ قید تنہائی کاٹی۔ کوڑے کھائے۔ اپنا پیٹ کاٹ کر ہمیں پالا پوسا۔ دنیا کی ہر وہ چیز جو ان کی دسترس میں تھی ہمیں مہیا کی۔ عید، شادی بیاہ ہر موقع پر ہمیں ہمارے پسند کے کپڑے، جوتے سب کچھ دلایا خود پرانے لباس ہی زیبِ تن کیے۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

پاکستان آئے ہوئے مجھے چھ روز ہو چکے تھے۔ ہر وقت ابو کی طبیعت سنبھلتی اور بگڑتی رہتی تھی۔ پریشانی تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ ہر پل ایک دھڑکا لگا ہوا تھا۔ 28 اکتوبر 2004ء تیرہواں روزہ اور جمعرات کا دن تھا۔ صبح سے کاشف، احُسن، امی اور ماموں اشتیاق ہسپتال میں ابو کے پاس تھے۔ آج دل بہت بے چین تھا۔ افطاری کے وقت میرا کچھ بھی کھانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ میں بغیر روزہ افطار کیے ہسپتال چلا گیا۔ ماموں نے بتایا کہ اب ابو کی طبیعت کچھ بہتر ہے۔ رات کو مَیں، سائل اور میرا خالہ زاد بھائی عتیق ہسپتال میں رُکے ہوئے تھے۔ کچھ ہی دیر پہلے باقی لوگ گھر گئے تھے۔ رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ میرے ابو دیوار کی طرف بڑے غور سے دیکھ رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کسی دوسری ہی دنیا میں دیکھ رہے ہوں۔ تب اُن کے چہرے پر تکلیف کے آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ آہستہ آہستہ ابو کی آنکھوں کا رنگ بدل رہا تھا۔ مَیں گھبرا گیا۔

ابو کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا۔ ایمرجنسی سٹاف زیادہ مہارت نہیں رکھتا تھا شاید۔ ان کو وین ہی نہ مل پارہی تھی کہ انجیکشن لگا لیکن سب باری باری کوشش کر رہے تھے مگر بے سُود، ہم سب لوگوں کی آنکھوں سے اشک بہہ رہے تھے اور ہونٹوں پر دعائیں تھیں۔ مگر شائد قبولیت کا وقت نہ تھا۔ سحری کے وقت جب لوگ روزہ رکھنے کی تیاریاں کر رہے تھے، میرے ابو نے میرے ہاتھوں میں میری آنکھوں کے سامنے۔۔۔ جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی۔۔۔موت برحق ہے۔۔۔ مگر۔۔۔ اتنی بڑی حقیقت ہے۔۔۔ اُسی روز سمجھ میں آیا تھا۔ یہاں تو سبھی سب کچھ ہارے بیٹھے تھے۔ کون کسے حوصلہ دیتا۔ مَیں۔۔۔ میرے بھائی۔۔۔ ہم یتیم ہو گئے تھے اور میری ماں بیوہ۔۔۔ سب اُجڑ چکا تھا۔۔۔ ہم اس پیاری ہستی کو ہماریسائباں کو سپردِ خاک کر کے خالی ہاتھ واپس لوٹ آئے۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس
؂
مجھ کو یوں لگ رہا تھا کہ میری زندگی کا کل سرمایہ لُٹ چکا ہے۔ اپنا آپ بہت خالی اور بے مقصد محسوس ہو رہا تھا۔ میں لاہور ایئرپورٹ کی طرف جا رہا تھا جہاں سے مجھ کو براستہ دبئی لندن پہنچنا تھا۔ میرے سب گھر والے، رشتہ دار، مجھے چھوڑنے آئے ہوئے تھے۔ بس ایک تبدیلی تھی اس بار کہ اُن سب میں میرے ابو نہیں تھے۔ مجھے یاد آرہا تھا کہ پہلی بار جب میں انگلینڈ جا رہا تھا تو میرے ابو نے پہلے سے ہی سب تیاری کر رکھی تھی۔ میرا پاسپورٹ، ٹکٹ ہر چیز ان کے پاس تھی اس بار ان چیزوں کا خیال مجھے خود ہی رکھنا تھا کہ میرے سر سے سایہ اُٹھ چکا تھا۔ میری آنکھوں میں بہت آنسو جمع تھے۔ جس وجہ سے سب لوگوں کے چہرے دھندلے دھندلے اور ہلتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ مَیں نے سب گھر والوں سے رخصت لی۔ میری امی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ صرف کچھ دنوں میں یہ دوسرا غم مل رہا تھا انہیں۔ شوہر چلا گیا ہمیشہ کیلئے اور اب میں بھی دُور دیارِ غیر جا رہا تھا۔ اپنے بچپن سے لے کر جوانی تک کی بہت سی یادیں منظروں کی صورت میری آنکھوں میں سماتی جا رہی تھیں اور اشکوں کی صورت رواں تھیں۔ پاکستان سے چلا تو میرے پاس صرف 20 پاؤنڈز کا ایک نوٹ تھا۔ یہی اب تک کی بچت تھی میری۔ لاہور سے دبئی اور دبئی سے ہیتھرو لندن تک کا سفر بس اسی کیفیت میں گزر گیا کہ یادیں میرا احاطہ کئے رہیں۔ خوشی بھی جب یاد بن کر آتی ہے تو آنسو آنسو رُلاتی ہے۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس
لاہور سے آئے ہوئے دو نوجوانوں سے میری نئی نئی دوستی ہوئی تھی۔ جٹ اور بٹ، جٹ برکسٹن (Brixton) میں رہتا تھا اور بٹ ہَیرو (Harrow) میں ۔ دونوں بہت زیادہ شراب پیتے تھے۔ دونوں تازہ تازہ پاکستان سے آئے تھے اور ابھی ان کے پاس کرنے کو کوئی کام نہ تھے۔ بٹ اور جٹ ویسے تو ہر وقت ہی پیتے رہتے تھے لیکن ہفتہ کے روز اُن دونوں میں باقاعدہ مقابلہ ہوتا تھا، جسے دیکھنے کے لیے تمام دوست اکٹھے ہو جاتے تھے۔ مقابلہ کچھ یوں ہوتا تھا کہ اُن کے فلیٹ کے نیچے واقع سٹور سے جیک ڈینئل،وہسکی (Jack Daniel) کی بوتلیں لائی جاتی تھیں جنہیں یہ دونوں غٹا غٹ پی جاتے تھے۔ پھر بھاگ کر نیچے جاتے تھے اور نئی بوتلیں لاتے تھے۔ دونوں خود کو دوسرے سے بڑا شرابیا سمجھتے تھے۔ مقابلے سے بیشتر یہ اپنے اپنے پیسے میرے پاس جمع کروا دیتے تھے۔ شروع شروع کے مقابلوں میں جٹ بٹ کو چکر دینے کی کوشش کرتا تھا۔ وہ یوں کہ وہ شراب پی کر پیشاب کرنے کے بہانے ٹوائلٹ میں جا کر قے کر آتا تھا جبکہ بٹ فیئر گیم کرتا تھا۔ جٹ کی یہ ٹمپرنگ پکڑ لی گئی۔ جس کے بعد کوئی بھی مقابلہ جٹ کبھی نہ جیت سکا تھا۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

میرا ارادہ رابعہ کے پاس لائبریری جانے کا ہی تھا، جو صبح ساڑھے9بجے ڈیوٹی پر آتی تھی۔ کہ اچانک شور مچ گیا۔ ایجوئیر روڈ پر ہر طرف سائرن بج رہے تھے۔ ایمبولینس اور پولیس کے سائرنز نے افراتفری مچا رکھی تھی۔ چاروں طرف پولیس ہی پولیس نظر آرہی تھی۔ کچھ سمجھ نہ آرہا تھاکہ آخر ہوا کیا ہے۔ پتہ چلا کہ لندن انڈر گراؤنڈ کی ٹرینوں میں دھماکے ہو گئے ہیں جنہیں خودکش قرار دیا جا رہا تھا۔ پہلے پہلے دھماکوں کی تعداد چھ بتائی گئی لیکن صورتحال واضح ہونے پر تین دھماکوں کی تصدیق کر دی گئی۔ یہ دھماکے 8 بج کر 50 منٹ پر یکے بعد دیگرے پچاس پچاس سیکنڈز کے وقفے سے کئے گئے تھے۔ پہلا دھماکا ایسٹ باؤنڈ سرکل لائن کی ٹرین پر کیا گیا تھا جو کہ لیور پول سٹریٹ سے آلگیٹ ایسٹ کے درمیان چل رہی تھی۔ اس دھماکے میں خود کش بمبار کے علاوہ سات لوگ مارے گئے تھے۔ دوسرا دھماکا ویسٹ باؤنڈ سرکل لائن کی ٹرین پر اس وقت کیا گیا جب ٹرین نے ابھی ایجویئر روڈ کا پلیٹ فارم چھوڑا ہی تھا، جس میں دہشت گرد کے علاوہ چھ اور افراد کی موت واقع ہو گئی تھی۔ تیسرا ساؤتھ باؤنڈ پکاڈلی لائن میں ہوا جو کنگز کراس سے رسل اسکوائر کے درمیان جارہی تھی۔ ٹرین کے کنگز کراس، پلیٹ فارم چھوڑنے کے عین ایک منٹ بعد ہوا جب ٹرین نے صرف 450 میٹر کا فاصلہ ہی طے کیا تھا۔یہاں 20لوگ مارے گئے تھے۔
سرکل لائن کی ٹرین پرہی مَیں اور رابعہ سفر کرتے تھے۔ مَیں بے چینی سے بار بار اس کے موبائل پر ڈائل کررہا تھالیکن ہر دفعہ آنسرمشین آن ہو جاتی تھی۔ لندن کی ٹرینیں چونکہ زیر زمین چلتی ہیں اس لیے وہاں موبائل فونز کے نیٹ وَرک کام نہیں کرتے۔ مَیں تو محفوظ تھا پتہ نہیں وہ کیسی تھی۔
شہر میں ہر طرف بھاگم بھاگ اور افراتفری مچی ہوئی تھی کہ ایسے میں 9 بج کر 47 منٹ پر ماربل آرچ سے ہیکنی (Hackney) کی طرف جاتی ہوئی ایک ڈبل ڈیکر بس میں بھی دھماکا ہو گیا۔ یہ دھماکا اُسی دو منزلہ بس کے اوپری حصے میں ہوا تھا۔ دھماکے نے بس کا پچھلا حصہ تباہ کر دیا تھا۔ اس حملے میں خودکش بمبار کے علاوہ 13 لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔
چاروں دھماکوں میں مجموعی طور پر 56 افراد کی موت واقع ہو گئی تھی جبکہ 7 سو کے قریب لوگ زخمی ہوئے تھے۔ ایجویئر روڈ پر خود کو دھماکے سے اُڑانے والا شخص 30 سالہ صدیق خان تھا، جس کا تعلق ڈیوز بری سے تھا جہاں وہ اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ رہتا تھا۔ آلگیلٹ ایسٹ پر حملہ کرنے والا 22 سالہ شہزاد تنویر تھا جو لیڈز میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا اور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں کام کرتاتھا۔ رسل اسکوائر پر خود کو اُڑانے والا دہشت گرد 19 سالہ جمیکن جرمین لنڈسے (Germaine Lendsay) تھا ، جو اپنی حاملہ بیوی کے ساتھ بکنگھم شائر کے علاقے ایلزری میں رہتا تھا۔
بس میں دھماکا کرنے والا 18 سالہ حبیب حسین تھا جو لیڈز میں اپنے بھائی اور بھابی کے ہاں رہتا تھا۔ ان میں تین پاکستانی برٹش اور ایک جمیکن تھا۔ یہ چاروں افراد بذریعہ کار لوٹن اور پھر لوٹن سے بذریعہ ٹرین صبح 8 بج کر 30 منٹ پر کنگز کراس لندن پہنچے تھے۔ یکم ستمبر 05ء کو الجزیرہ ٹی وی سے صدیق خان کی ویڈیو ٹیپ جاری کر دی گئی جس میں وہ کہہ رہا تھا کہ ۔۔۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

لندن پر ہونے والے ان خودکش حملوں کے بعد پورے ملک میں مسلمانوں خصوصاً پاکستانیوں کی کم بختی آگئی تھی۔ پکڑ دھکڑ کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ گوروں کا انداز جارحانہ تھا۔ دہشت گردی کے اس واقعہ سے سب سے زیادہ نقصان معاشی مجبوریوں کے باعث آنے والے تارکین وطن کا ہوا تھا۔ جن کے لیے یہاں کام کرنا مشکل بنا دیا گیا۔ یہاں پر ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی مہاجرین موجود ہیں جن کے یہاں رہنے اور کام کرنے کے باعث وطن میں ان کے گھر والوں کو دو وقت کی روٹی باعزت طریقے سے مل رہی تھی۔ باقاعدہ قانونی طور پر یہاں رہنے والے اور کام کرنے والے مشکل میں آگئے تھے تو غیر قانونی مہاجرین کا جو حال نہ ہوتا کم تھا۔ ہر جگہ سے لوگ پکڑے گئے، سینکڑوں لوگوں کو ان کے وطن ڈیپورٹ کر دیا گیا۔ وَرک ویزہ کے بغیر کام دینے والے ایمپلائرز کو سزائیں اور جرمانے کر دیئے گئے۔ ہر کوئی تناؤ کا شکار تھا۔ زندگی ناممکن ہوتی جا رہی تھی۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

گرین سٹریٹ لندن کا ایک ایسا علاقہ ہے جس کو بجا طور پر مِنی پاکستان کہا جا سکتا ہے۔ یہاں پر تمام دکانیں پاکستانیوں کی ہیں جہاں ہر طرح کی پاکستانی مصنوعات دستیاب ہیں۔ شلوار قمیض میں ملبوس لڑکیاں خریداری کر رہی ہوتی ہیں۔ میرے ساتھ ایک معاملہ بہت عجیب ہے کہ جب پاکستان میں ہوتا تھا تو شلوار قمیض کی بجائے ویسٹرن انداز کی ٹی شرٹ اور جینز زیب تن کیے ہوئے لڑکیوں سے متاثر ہوتا تھا لیکن یہاں دیارِ غیر میں کوئی چہرہ جب مشرقی انداز و اطوار لیے پاکستانی لباس پہنے سامنے سے گزرتا تھا تو زمین پر پڑتے ہوئے قدم مجھے میرے دل پر پڑتے محسوس ہوتے تھے۔ میرا دل چاہتا تھا کہ میں آگے بڑھ کر ایسی ہی کسی حسینہ کے سامنے دو زانو ہو کر اپنا دل نکال کر اس کے قدموں میں رکھتے ہوئے کہوں کہ
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

لندن میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہیں وہاں اپنا قیام مستقل کرنے کیلئے کیسے کیسے جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ کیا کیا ڈھونگ رچانے پڑتے ہیں۔ وہاں ایک ایسی ہی فیملی تھی جس کا تعلق فیصل آباد سے تھا۔ مسٹر اینڈ مسز عبدالجبار۔ عبدالجبار کی بیوی 9 سال پہلے کسی اور شخص کی بیوی بن کر یہاں آئی تھی۔ اُس ایجنٹ نے اُسے یہاں لانے کے عوض عبدالجبار سے 10 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔ اُس عورت نے یہاں پہنچ کر اُس ایجنٹ کے کہنے پر پناہ کی درخواست دے دی۔ کہانی کے مطابق اسے یہ کہنا پڑا کہ اُس کا شوہر مجھ کو بدکاری پر مجبور کرتا تھا۔ لہٰذا وہ اب اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ چند سال اُس کا مقدمہ چلتا رہا۔ بعدازاں اُس عورت کو یہاں مستقل قیام کی اجازت مل گئی۔ اس دوران اس کا شوہر ایجنٹوں کو لاکھوں روپے دے کر ترکی براستہ سمندر پورے یورپ کی خاک چھانتا یہاں پہنچ گیا۔ اور یہاں حقیقی میاں بیوی نے دوبارہ شادی کی۔ انہوں نے یہی شو کیا جیسے وہ دونوں یہیں ملے تھے اب عبدالجبار کا کیس بھی مستقل قیام کے لیے امیگریشن حکام کے سامنے تھا اوروہ اپنے حقیقی بچوں کا سوتیلا باپ بن گیا تھا کیونکہ کاغذوں کے مطابق عورت کے یہ بچے اس کے پرانے شوہر کے تھے۔
دوسرا کیس جہلم کے عطاء سیٹھی اور فاروق کا تھا۔ عطاء سیٹھی کا تعلق احمدی فرقے سے تھا جبکہ فاروق نے صرف یہاں مستقل قیام کے لالچ میں نہ صرف خود کو احمدی بنا لیا تھا بلکہ سیٹھی اور فاروق نے ہوم آفس کے روبرو خود کو ہم جنس ثابت کر رکھا تھا اور کہا تھا کہ چونکہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اس لیے وہاں ان دونوں کو یہ آزادی نصیب نہیں تھی جس وجہ سے وہ مجبوراً برطانیہ آ بسے ہیں۔
فاروق اکثر یہ واقعہ سنایا کرتا تھا کہ ایک روز پاکستان میں وہ اپنے گاؤں میں اپنی گدھی کے ساتھ راز و نیاز میں مصروف تھا کہ اُس کی ہمسائی نے دیکھ لیا۔ جس کے بعد اِک دن فاروق اپنی گدھی کو چارہ ڈال رہا تھا کہ اُس کی ماں نے اپنی ہمسائی سے پوچھا کہ فاروق کہاں ہے جس کا جواب ہمسائی نے فاروق کی ماں کو یہ دیا کہ وہ تمہاری بہو کو کھانا کھلا رہا ہے۔
ایک شخص نے یہاں شادی کر رکھی تھی جو پہلے سے ہی پاکستان میں بال بچے دار تھا۔ چونکہ یُوکے میں ایک وقت میں ایک ہی شادی کا قانون ہے اس لیے اس نے اپنی پاکستانی بیوی کو اپنی حقیقی بہن قرار دے کر یہاں بلوا رکھا تھا اورہوم آفس ریکارڈ کے مطابق وہ اپنے ہی بچوں کا ماموں تھا۔
لوٹن میں رہائش پذیر ایک شخص نے یہاں قیام حاصل کرنے کے لیے ’‘’نبی پاکؐ کے خلاف اخبارات میں چند کالم لکھے تھے۔ اور اس کو بنیاد بناکر یہاں قیام کی درخواست دے رکھی تھی کہ پاکستان میں اس کی جان کو خطرہ ہے۔ ہزاروں ایسی کہانیاں یہاں ہر طرف بکھری پڑی تھیں کہ بس شرم ہی آگئی کہ چند روزہ زندگی کے سکون کے لیے کیسے کیسے ڈھونگ رچائے جاتے ہیں۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

والتھم اسٹوو ایسٹ لندن میں دو کمرے کے ایک فلیٹ میں بیس سے زائد پاکستانی رہتے تھے۔ جن میں یا تو انسانی اسمگلر تھے اور یا سمگل شدہ انسان۔ انسانی اسمگلروں کے گروہ کا سر غنہ مانچسٹر کا اعجاز تھا، جس کے ایجنٹ پاکستان کے دور درازکے دیہاتوں سے اچھے مستقبل کے سہانے سپنے دِکھا دِکھا کر شکار پھانستے تھے اور پھر بھاری رقوم کے عوض یہ ایجنٹ ان کو سمندری راستوں سے مہینوں کے سفر کے بعد انگلینڈ پہنچاتے تھے۔ سینکڑوں کی تعداد میں پاکستانی ان اسمگلروں کا شکار ہنستے ہوئے ایران، ترکی اور دوسرے ملکوں کی سرحدوں پر گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں اور متعدد سمندر میں مچھلیوں کی خوراک بن گئے ہیں۔ اپنے بوڑھے والدین کی خدمت، بہنوں کے ہاتھ پیلے کرنے کی خواہش، لے کر وطن سے اَن دیکھے سفر پر روانہ ہونے والے موت کے منہ میں پہنچ جاتے ہیں اور جو خوش قسمتی سے یہاں پہنچ بھی جاتے ہیں تو بھی اُن کو گوہر مراد نہیں ملتا۔ انسانی اسمگلر اعجاز کے دو ایجنٹ گجرات کا اشفاق اور سیالکوٹ کا رشید بابو یہاں اپنے 18 شکاروں کے ساتھ موجود تھے۔ اس فلیٹ میں موجود سمگل ہو کر آنے والے افراد کے چہروں پر موت کی سی زردی تھی۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

ظفر پٹھان ہونے کے ساتھ ساتھ سندھی بھی تھا۔ کیونکہ وہ سندھ میں پیدا ہوا تھا اور بوقت ضرورت سندھی یا پٹھان بن جاتا تھا۔اگر کبھی سندھی کے خلاف کوئی بات ہوتی تو وہ جھٹ سے پٹھان بن جاتا اور اگر کوئی پٹھان کو کچھ بات کرتا تو وہ جلدی سے کہتا وہ تو سندھی ہے۔ جیسے ایک بار وہ آسمان میں اُڑتے جہاز کو دیکھ کر رو رہا تھا تو اُس کے ساتھی نے اُسے کہا کہ مت رو، ہمت کر ظفر پٹھان تو بہت باہمت ہوتے ہیں تو ظفر نے روتے ہوئے کہا کہ اُسے رونے دو، اسے گھر یاد آ رہا ہے اور وہ پٹھان نہیں سندھی ہے۔ کسی سے بدتمیزی کرتا تو کوئی کہتا کہ سندھی تو بہت خوش اخلاق اور مہذب ہوتے ہیں، تم کیسے سندھی ہو جو ایسی بدتمیزی سے پیش آتے ہو تو وہ کہتا کہ وہ سندھی نہیں پٹھان ہے۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

وہ ایک عیاش رنگین مزاج نودولتیا تھا۔ اسٹوری اسکرپٹ سے لے کر کاسٹ فائنل کرنے تک اور تمام مالی معاملات کی نگرانی میری ذمہ داری تھی۔ یہاں کام کرنے والوں کی اکثریت جی حضور ٹائپ کے لوگوں کی تھی جن کی زندگی کا واحد مقصدباس کی خوشنودی حاصل کرنا تھا۔ ان میں سے ایک راجو بھی تھا جو اس معاملے میں تمام حدیں پار کر چکا تھا۔ عزت نفس نام کی کوئی چیز اُس کے پاس نہ تھی۔ اُسے اداکار بننے کا بھی شوق تھا۔ لیکن کیمرے کے سامنے آتے ہی ایکٹنگ بھول کر تھر تھر کانپنا شروع کر دیتا تھا۔ باس کا چمچہ ہونے کی وجہ سے اُس کی کافی چلتی تھی۔ سٹاف نوکری بچانے کے چکر میں اُس کے منہ کم ہی لگتا تھا۔ لیکن مجھ پر اس کا زور نہ چل سکا تھا۔ دل سے وہ میرے سخت خلاف تھا اور بظاہر میرا دوست بنا رہتا تھا کیونکہ باس کے سامنے دو چار مرتبہ میری شکائتیں لگا کر اُس نے دیکھ لیا تھا۔ راجو اداکاری کی شوقین لڑکیوں کو گھیر کر لاتا تھا۔ یہ شکار وہ خود کے لیے نہیں بلکہ باس کے لیے کرتا تھا۔ ایک اور نوجوان وسیم احمد تھا جس کا تعلق لاہور سے تھا۔ اُس کا ناک دیکھ کر لگتا تھا جیسے اُس کے ناک میں ہڈی نہ ہو اور ربڑ کا بناہوا کوئی مصنوعی گیند رکھا ہو۔ وسیم بہت بڑا پھینکو تھا۔ بہت لمبی لمبی چھوڑتا تھا، اُس کا دعویٰ تھاکہ سمندروں میں جتنے بھی طوفان آتے ہیں وہ اُس کی نظروں کا کمال ہے۔ اُس کا کہنا تھا کہ جب بھی شہر میں آندھی آئے سمجھو کہ اُس کا دل دُکھا ہے۔ میں اُس کوچھیڑ دیتا تھا اور پھر بمشکل اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے اس کی ماورائی گفتگو پورے انہماک سے چہرے پر یہ تاثر قائم کرتے ہوئے سنتا تھا جیسے کہے گئے حرف حرف پر مجھے یقین ہو۔ اُس کو بھی شاید پہلی بار بہت سنجیدہ و بردبار سامع نصیب ہوا تھا۔ وہ مجھے اپنا مرید سمجھتا تھا اور اسکی حالت ایسے پیر کی سی تھی جس کے پاس صرف ایک اکلوتا مرید ہو لہذا وہ میرا خاص خیال رکھتا تھا۔ ایک دن مَیں نے اُس سے کوئی المناک عشقیہ قصہ سنانے کی فرمائش کر دی تو وہ بولا کہ بہت پرانی بات ہے جب اُس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد اُسے ایک لڑکی سے پیار ہوگیا۔ لڑکی اُس سے عمر میں بہت چھوٹی تھی۔ اور وہ دن بدن اُس کی محبت میں ڈوب رہا تھا۔ ایک روز اُس نے لڑکی کو حالِ دل کہہ سنایا لیکن لڑکی نے انکار کر دیا۔ لڑکی کا انکار کرتے ہی اُس کی آنکھوں میں آنسو اُمڈ آئے۔ ایسے میں اچانک اُس کی بیوی کا فون آیا اور اُس نے کہا کہ سرتاج آپ کا دل ٹوٹ گیا کیا؟ جس پر سرتاج نے پوچھا کہ تم کو کیسے پتہ چلا؟ تو اُس کی بیوی نے جواب دیا کہ پورا شہر اس وقت آندھیوں کی زد میں ہے اور سمندر میں طوفان کی پشین گوئی ہو رہی ہے۔ جس پر وسیم نے جلد از جلد خود کو کنٹرول کیا کہ اگر اُس نے اپنے آنسو نہ روکے تو یہ طوفان شہر میں تباہی برپا کر دیتا۔
ایک شام میں آفس سے گھر لوٹا ہی تھا تو مجھے وسیم کی کال آ گئی۔ اُس نے کہا کہ مَیں اُس کے گھر آ جاؤں۔ رات کا کھانا مل کر کھائیں گے۔ مَیں اُس کے گھر گیا تو کھانے کی ٹیبل پر پلیٹ یں ایک بسکٹ اور آدھا کپ گرم پانی پڑا تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ اُٹھا اور اپنی الماری میں سے ایک ٹی بیگ بھی نکال کر میرے حوالے کیا کہ مَیں اُسے آدھا کپ پانی میں ڈال کر چائے بنا لوں۔ انداز کچھ ایسا تھا جیسے ٹی بیگ کی صورت میں دنیا بھر کے خزانے مجھے دے رہا ہو۔ جب میری چائے کا کچھ رنگ نکل آیا تو وہی ٹی بیگ اُس نے اپنے کپ میں ڈال کے اپنے لیے بھی چائے بنا لی جس کے بعد بسکٹ کو دو برابر حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ مجھے دیا اور دوسرا اپنے ہاتھ میں پکڑ کر بولا کہ یہ اُس کا گھر ہیں بلکہ دربار ہے۔ یہاں ہر کسی کو کھانا ملتا ہے۔ سب کھانے آتے ہیں یہاں۔ مَیں بھی کھاؤں شرماؤں نہیں۔ مَیں اپنے حصے کا ہی رزق کھا رہا ہوں اور وہ تو صرف وسیلہ بنا ہے۔ مَیں نے بسکٹ کو چائے میں ڈبوتے ہوئے اُسے کہا کہ خدا اس کا دسترخوان کبھی تنگ نہیں کرے گا کہ وہ بھوکوں کا بہت خیال رکھتا ہے
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

ایک رات والتھم اسٹو (Walthem Stow) کے اس فلیٹ میں امیگریشن پولیس نے چھاپہ مارا جہاں پر دو انسانی اسمگلرز اور اسمگل کئے جانے والے انسان رہتے تھے۔ اس رات میں وہاں دونوں ایجنٹوں کے علاوہ آٹھ لوگ اور موجود تھے۔ جن کو امیگریشن پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔ ایجنٹوں سمیت یہ تمام لوگ انگریزی صرف یس اور نو کی حد تک ہی جانتے تھے۔ وہ اپنے دفاع میں کچھ کہنے سے قاصر تھے۔جہاں ایجنٹوں کے پکڑے جانے کی مجھے خوشی ہو رہی تھی۔ وہیں بے چارے آٹھ لوگوں کا غم بھی تھا کیونکہ اب ان لوگوں کو برطانیہ سے ڈیپورٹ کر دیا جانا تھا۔ اور چونکہ وہ لاکھوں روپیہ ڈبو کر یہاں پہنچے تھے۔ لہذا اب ان کا مستقبل پاکستان میں بھی تاریک ہی تھا۔ بلکہ پہلے تو اُن کو برطانیہ میں جیل کاٹنی پڑنی تھی اور اُس کے بعد پاکستان پہنچنے پر ایف آئی اے کے گِدھ ان کی رہی سہی بوٹیاں بھی نوچیں گے۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

یہاں پاکستانی لوگوں کا ایک ٹولہ چہروں پر گوروں سے بڑھ کر خوشیاں بکھیرے نظر آیا۔ وہ لوگ اپنی خوشی کا اظہار لپک لپک کر گوری میموں سے جپھے ڈال ڈال کر رہے تھے۔ میں نے اُس ٹولے کے ایک ممبر سے پوچھا تم نئے سال کی آمد پر بہت خوش دکھائی دے رہے ہو کیا بات ہے؟ جس پر اس نے ہنستے ہوئے کہا کہ انہیں نہ تو جانے والے سال کا کوئی غم ہے اور نہ نئے سال کی خوشی۔۔۔ وہ تو سارا سال بس اسی گھڑی کا انتظار کرتے ہیں جب انہیں گوریوں سے گھٹ گھٹ کر جپھے ڈالنے کا چانس ملتا ہے۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

یہاں پاکستانی لوگوں کا ایک ٹولہ چہروں پر گوروں سے بڑھ کر خوشیاں بکھیرے نظر آیا۔ وہ لوگ اپنی خوشی کا اظہار لپک لپک کر گوری میموں سے جپھے ڈال ڈال کر رہے تھے۔ میں نے اُس ٹولے کے ایک ممبر سے پوچھا تم نئے سال کی آمد پر بہت خوش دکھائی دے رہے ہو کیا بات ہے؟ جس پر اس نے ہنستے ہوئے کہا کہ انہیں نہ تو جانے والے سال کا کوئی غم ہے اور نہ نئے سال کی خوشی۔۔۔ وہ تو سارا سال بس اسی گھڑی کا انتظار کرتے ہیں جب انہیں گوریوں سے گھٹ گھٹ کر جپھے ڈالنے کا چانس ملتا ہے۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس


میرا ایک دوست جو کہ اسی ہوٹل میں میرے ساتھ ہی کام کرتا تھا۔اس کا ایک گوری لڑکی سے پکا معاشقہ چل رہا تھا۔ وہ لڑکی بھی ہمارے ساتھ ہی کام کرتی تھی اور کافی آزاد خیال تھی۔ پورے ہوٹل میں کہیں بھی کسی سے بھی چپک کر بوس و کنار شروع کر دیتی تھی اور ندا بھی پروا نہ کرتی تھی کہ اس کا بوائے فرینڈ بھی پاس کھڑا ہے۔ یہ دوست حیرت انگیزطور پر یہ سارا عمل دیکھتے ہوئے بھی دانتوں کی نمائش کرتا رہتا تھا۔ایک روز میں نے اُس سے پوچھا یار تیری گرل فرینڈ تیرے سامنے کیسے کیسے سین کرتی ہے۔ تو کیا بے غیرت ہے ۔ کہ اُس کو چھوڑنا تو دور کی بات روکتا بھی نہیں بلکہ اُلٹا دانت نکالتا رہتا ہے ۔جس پر وہ دانت نکالتے ہوئے مجھے کہنے لگا کہ یار میں بے غیرت نہیں براڈ مائنڈڈ ہوں۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

پچھلے کچھ روز سے میرے سر میں شدید درد اُٹھنا شروع ہوا تھا۔ خصوصاً میرا ماتھا تو جیسے پھٹنے والا ہوا رہتا تھا۔ایک دن میں میریٹ میں تھا مجھے شدید بخار تھا لیکن میں جاب پر آ گیا تھا۔ یہاں پر مجھے قے ‘آنا شروع ہو گئی۔ میں ٹیکسی پکڑ کر گھر آ گیا۔ ان دنوں روالپنڈی سے ایک اور نوجوان رضوان بھی آیا ہواتھا اور ہمارے ساتھ ہی رہتا تھا۔ قیصر اور وہ دونوں جاب پر چلے جاتے اور میں سارا دن بخار میں پھنکتا درد سے کراہتا رہتا تھا۔
پردیس کی تمام تلخیاں میں جھیل چکا تھا لیکن یہاں اکیلے درد سے کراہتے ،قے کرتے اوربخار میں تپتے ہوئے مجھے سمجھ آرہا تھا کہ پردیس میں رہنے کو پردیس کاٹنا کیوں کہتے ہیں۔ میراوطن ، میرا گھر اور خصوصاً مجھ کومیری ماں بہت یاد آتی تھی ۔ رضوان اور قیصر میرا خیال رکھتے تھے ۔ رضوان جتنی دیر گھر پر ہوتا مجھے پٹیاں کرتا تھا سر بھی دباتا تھا ۔لیکن میرے طبیعت سنبھل نہیں رہی تھی۔ کچھ سمجھ نہ آتا تھا کہ اچانک ہوا کیا ہے میرا دل چاہتاتھا کہ اُڑ کر وطن واپس اپنی امی کی گود میں پہنچ جاؤں۔
میری امی کوُ بلادے کوئی
ورنہ مجھ کو ہیُ سلا دے کوئی
مجھ کو بستر کی عادت نہیں
اپنی گود میں جُھلا دے کوئی
شائد آ جائیں وہ رونا سُن کر
مجھ کوبے وجہ رُلا دے کوئی
میں نے کئی روز سے نہیں کھایا
اُس محبت سے کھِلا دے کوئی
مجھ کو خواہش نہیں ملے دنیا
مجھ کو امی سے ملا دے کوئی
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

کچھ دیر گھلنے ملنے کے بعد دپتی نے بتایا کہ وہ طوائفیں ہیں اور بزنس کرنا چاہتی ہیں۔ حماد نے پوچھا کہ ڈیل کیا ہے؟ جس پردپتی نے کہا کہ وہ شب بسری کا سو پاؤنڈز چارج کریں گی اور باقی خدمات کے ساتھ ننگا ڈانس فری میں پیش کریں گی۔ جس پر حماد نے کہا کہ باقی خدمات ہمیں نہیں چاہیں لیکن یہ جو ننگا ڈانس فری ہے اس کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے ۔ وہ اپنا قیمتی وقت ہم جیسوں پر ضائع کرنے کی بجائے ہمیں گھورتے اور منہ میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے دوسری جانب چلی گئیں یقیناًڈانس آئٹم فری پیش کرنے میں انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی اور کاروبار کا ٹائم کھوٹا کرنا بھی انہیں گوارہ نہ تھا؂۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

سوزانے کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ہم الکوحل نہیں لیتے لیکن اس نے ہمیں بتایا نہیں بس ہنستے ہوئے میرا ہاتھ پکڑا اور فرنچ زبان میں کچھ کہا اور زور زور سے ہنسنا شروع کر دیا۔ واپسی پر پیدل ہوٹل آتے ہوئے راستہ بھر وہ وقتاً فوقتاً وہی فقرہ دہراتی رہی۔ مجھ کو اُلجھن ہو رہی تھی میرے بہت اصرار کرنے پراس نے بتایا کہ میں اس کے لیے بے بی کی طرح ہوں اور ابھی میرے ’دودھ پینے کے دن ہیں۔ اس نے کہا کہ وہ جانتی تھی کہ وہاں ہم نے واڈکا نہیں صرف کوک لی تھی، میں نے شرمندگی کے تاثرات کو چہرے پر گہرا کرتے ہوئے اعتراف جرم کرلیا ۔ہوٹل پہنچ کر ہم دوبارہ لابی میں بیٹھ گئے۔ اور کافی پی۔ سوزانے تھک چکی تھی چونکہ وہ بہت ٹائرڈ ہو رہی تھی اس لیے وہ چاہتی تھی کہ میں اس کے روم تک اسے چھوڑ آؤں ۔ میں اس کے ساتھ ہولیا ۔ اس کے کمرے کے دروازے پر رُک کر اُس کو گڈنائٹ کہا تو اس نے مجھے اندر آنے کی دعوت دی جس پرمیں نے اسے یاد دلایا کہ نیچے حماد میرانتظار کر رہا ہے اور مجھے جانا چاہیے۔ اس نے ہنستے ہوئے ایک بار پھر فرنچ میں وہی بات کہی جس کا مفہوم یہی تھا کہ تم ایک بے بی ہو اور تمہارے دودھ پینے کے دن ہیں۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

وہ منظر آج بھی میری نگاہوں میں تازہ ہے۔ اُس نے سفید رنگ کی بہت ہی خوبصورت شلوار قمیض پہن رکھی تھی وہ اتنی حسین اتنی خوبصورت لگ ر ہی تھی کہ بس کیا کہوں میں بس اُس کادیکھتا ہی جا رہا تھا اور اِرد گرد سے بالکل بے خبر، مدہوش تھا۔ میرے قدم اُس کے پیچھے پیچھے اُٹھ رہے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ اپنی پوری زندگی میں اُس قدر پیارا میں نے کبھی کوئی نہ دیکھا تھا۔ زندگی میں پہلی بارکوئی اس قدر پیارا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے آیا تھا۔ کھلتا ہوا رنگ، لمبی گہری آنکھیں براؤن بال ، متناسب جسم، اور اس کا قد بھی بہت اچھا تھا ۔ میرے دل کی دھڑکن ، میرے قابو میں نہ تھی مگر اس نے تو آنکھ اٹھاکے بھی مجھ نہ دیکھا تھا۔ دیکھنا چاہیے بھی نہیں تھا کہ وہ مجسم حُسن تراشا ہوا پیکر آنکھوں کو خیرہ کر دینے والا حُسن اور میری ہستی ہی کیا تھی، یہ مجھے پتہ چل رہا تھا۔ وہ ایسا چہرہ تھا کہ جس کے انتظار میں عمر گزاری جا سکتی تھی۔ اگر اُس کے ساتھ صدیاں بھی گزارنے کومل جائیں تو بھی کم لگتیں۔ پہلی بارمجھ کوپہلی نظر میں محبت ہوگئی تھی۔ کبھی کسی کو دیکھ کر مَیں نے میں ایسامحسوس نہ کیا تھا۔ جیسا اُس وقت کر رہا تھا۔ وہ کون تھی کہاں سے آئی تھی، کس کی تھی۔۔۔ مجھے کچھ خبر نہ تھی ہوش تھا تو بس اتنا کہ کاش وہ میری ، بس میری ہوجائے ۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

یہ سچ تھا کہ اس ایک گھڑی کے لیے میں ساری عمر انتظار کر سکتا تھا مجھے یوں لگ رہا تھا کہ اگر میں اس شہر میں نہ آتا تو شائد کرہ ارض کا سب سے حسین ترین منظر کبھی نہ دیکھ پاتا اسے نہ دیکھ پاتا اور دنیا ساری دیکھ لیتا تو کیا حاصل تھا۔ اس کے چہرے نے میری نظروں کو قیدکر رکھا تھا۔ بس گیٹس ہیڈ پر اپنے آخری سٹاپ اور یورپ کے سب سے بڑے انڈور شاپنگ مال پر رُک چکی تھی۔ سب اُتر رہے تھے اور جب وائٹ شلوار قمیض میں ملبوس وہ اُٹھی اتنی حسین اتنی پاکیزگی تھی اُس ماہ جبیں کے چہرے پر کہ نمازِ عشق ادا کرنے کو دِل بے قرار تھا ۔ جبیں اُس کے حضور سجدہ ریز ہوئے کھڑی تھی۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

میں صبح اُٹھا تو مجھ سے پہلے مانو مجھ میں بیدار ہوئی۔ وہ رات بھر میرے لاشعور میں رہی تھی۔ میں تیار ہو رہا تھا ۔ مجھ کو نیو کاسل کی ایک علمی و ادبی شخصیت ممتاز کالم نگار اور نیو کاسل کے مقامی ریڈیو کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اردو پنجابی سروسز میاں یاور حسین کے گھراُن کے انٹرویو کے لیے جانا تھا ۔میں وہاں پہنچاتو ان کی مسز نے دروازہ کھول کر مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھایا۔ میں مئی 2002ء ؁ میں یُوکے آیا تھا اور یہ مئی 2007ء ؁ تھا۔ مجھ کو 5 سا ل ہو چکے تھے یہاں اس دوران میں یہاں شہروں شہروں گھوما تھا اور بہت سی پاکستانی ، انڈینز، بنگالی اور انگلش فیملیز سے میرے گھریلو مراسم قائم ہوئے تھے۔ ان سب کے گھروں میں گیاتھا لیکن میں نے یاور صاحب کے گھر سے زیادہ منظم، صاف ستھرا، سلیقہ مندی ہر چیز قرینے سے اپنی جگہ پر رکھی۔ یہ ترتیب اور خوبصورتی، کسی اور گھر میں نہ دیکھی تھی۔ بلا شبہ یہ برطانیہ کی سب سے زیادہ سلیقہ مند، سگھڑ اور منظم عورت کا گھر تھا۔ کہ عورت ہی گھر کو جنت بناتی ہے۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں‘‘ سے اقتباس

وہاں کی عورت کو بُرا سمجھنے کی راہ میں حائل وہ سب سے بڑی رکاوٹ تھیں ان کو ملنے کے بعد کم از کم تھری ڈبلیوز‘ وَرک، وَیدر، وُومن میں سے ایک ڈبلیو وُومن پر میرا اعتبار ایک بار پھر بہت مضبوطی سے قائم ہو چکاتھا ۔وہ ماں کی طرح شفیق تھیں ان کے ہاں مجھے یوں لگتا تھا جیسے میں اپنے گھر میں ہوں اُس گھر میں ایسا سکون تھا جو شاید خانہ کعبہ میں ہی ہوتا ہوگا۔ وہ یقیناًکسی عظیم والدین کی تربیت کا منہ بولتا ثبوت تھیں اُن کا گھرمیرے لیے کسی مسجد سے کم نہ تھا۔
کہاں تو مجھے یُوکے کی وُومن پر اعتبار نہ تھا اور کہاں یہ تھیں کہ میں ان کی پاکیزگی، ایمانداری،وفا اور کردار کی قسم تک اُٹھا سکتا تھا۔
واصف ملک کے سفر نامہ ’’جاناں تیرے شہر میں ‘‘سے اقتباس

ہم نے بہت باتیں کیں۔ میں نے اُسے بتایا کہ میں اُس سے بہت پیار کرتا ہوں۔اور میں اُس کے بنا جی نہیں سکتا ۔وہ دھیرے سے مسکرائی اُس کی مسکراہٹ میں چھپا غم بھی تھا۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا تم مجھ سے پیار نہیں کر سکتی ہو۔ جس پر اُس نے کہا کہ کاش کرسکتی میں نے کہا کہ رکاوٹ کیا ہے ۔ جس پر اُس نے مجھے بتایا کہ اُس کا رشتہ ہو چکا ہے جو اگر ٹوٹا تو خاندان ٹوٹ جائیں گے۔یہ سن کر میرے دل کے اندر کچھ ٹوٹتا سا محسوس ہوا۔ شائد کچھ نہیں سب ہی کچھ ٹوٹ رہاتھا ۔ میرے خواب میرے سپنے اور سارے ارمان ٹوٹ رہے تھے اُس نے کہا کہ اُسے اُس شخص سے کوئی دلچسپی نہیں جو کہ اس کا شوہر بننے والا ہے۔
واصف ملک کے سفرنامہ ’’جاناں تیرے شہر میں‘‘ سے اقتباس

اُس کے ہاتھ کی گرفت مضبوط ہوگئی تھی ۔ میں نے دیکھا اُس کی پلکوں پر ننھے ننھے آنسو کے قطرے چمک رہے تھے۔ میں نے اُس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا اور اپنے ہونٹوں سے اس کی پلکوں سے سب آنسو چن لیے ۔ وہ مجھ سے پیار کرتی تھی اورمیرے لیے اُس سے بڑھ کر اس کائنات میں اور کچھ نہ تھا۔ اُس نے کہا وہ میرے بغیر رہ نہیں پائے گی اور میر ی تو زندگی ہی اس کے ہونے سے تھی۔ میں نے اُسے کہا کہ تم میرے لئے کل کائنات ہو ۔ میری زندگی بھر کی متاع ہو تم ۔
وواصف ملک کے سفرنامہ ’’جاناں تیرے شہر میں‘‘ سے اقتباس
واصف ملک آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے واصف ملک کا شکریہ ادا کیا
rabab (24-04-10), shafresha (24-04-10), گوہر (25-04-10), ھارون اعظم (24-04-10), اویسی (26-04-10), احمد بلال (04-06-10), عروج (19-02-11)
پرانا 24-04-10, 09:45 AM   #2
Senior Member
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,777
شکریہ: 53,120
7,705 مراسلہ میں 22,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

واصف ملک بھائی السلام علیکم،
شئیرنگ کا شکریہ!
میں‌سوچ ہی رہا تھا کہ کب آُپ کی جانب سے اپنا سفر نامہ شئیر کیا جاتا ہے۔ میں‌نے آپ کی میل کا بھی انتظار کیا تھا۔
اگر آپ چاھیں‌تو اپنی کتاب پاک میگ میں‌بھی شائع کروا سکتے ہیں۔

نوٹ: آپ نے ایک ہی موضوع دو مرتبہ بنا دیا ہے اس لیئے میں‌ایک کو ڈیلیٹ‌کررہا ہوں!
shafresha آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (24-04-10), واصف ملک (25-04-10), wajee (26-04-10)
پرانا 24-04-10, 09:21 PM   #3
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,609
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

واٍصف صاحب اگر چاہیں تو میگزین میں قسط وار اس سفرنامے کو شائع کرسکتے ہیں۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
واصف ملک (25-04-10)
پرانا 25-04-10, 12:03 AM   #4
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,077
شکریہ: 24,031
4,992 مراسلہ میں 14,715 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یار ایمان سے اتنا لمبا ایک ہی دفعہ پڑھنے لگیں تو شاید دو دفعہ لائٹ جائے اور آئے لیکن یہ ختم نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
اتنی لمبی چیز قسطوں میں تھوڑی تھوری کر کے ہی ہضم ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (25-04-10)
پرانا 25-04-10, 12:06 AM   #5
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,041
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کمال کا انداز تحریر ہے سادہ اور دلچسپ
واصف بھائی
مکمل سفر نامے کا انتظار رہے گا
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-04-10), واصف ملک (25-04-10)
پرانا 25-04-10, 03:34 AM   #6
Junior Member
اجنبی
 
واصف ملک's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مقام: Lahore
مراسلات: 13
کمائي: 608
شکریہ: 23
13 مراسلہ میں 50 بارشکریہ ادا کیا گیا
واصف ملک کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default سلام

جی آپ مجکو بتا دیں کیسے آے گا میگ میں......شکریہ
واصف ملک آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے واصف ملک کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-04-10), شاہ جی 90 (26-04-10)
پرانا 25-04-10, 03:51 AM   #7
Junior Member
اجنبی
 
واصف ملک's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مقام: Lahore
مراسلات: 13
کمائي: 608
شکریہ: 23
13 مراسلہ میں 50 بارشکریہ ادا کیا گیا
واصف ملک کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلا م بھائی کیا آپ مجھ کو بتا ئیں گےکیسے میگ میں پئبلیسھ کرتے ہیں.... شکریہ
واصف ملک آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے واصف ملک کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-04-10), ھارون اعظم (25-04-10), شاہ جی 90 (26-04-10)
پرانا 25-04-10, 12:43 PM   #8
Senior Member
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,777
شکریہ: 53,120
7,705 مراسلہ میں 22,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

واصف بھائی آپ مندرجہ ذیل لنک کو وزٹ کریں:
پاک میگ کے لئے لکھئے
shafresha آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (25-04-10), شاہ جی 90 (26-04-10)
پرانا 26-04-10, 01:30 AM   #9
Junior Member
اجنبی
 
واصف ملک's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مقام: Lahore
مراسلات: 13
کمائي: 608
شکریہ: 23
13 مراسلہ میں 50 بارشکریہ ادا کیا گیا
واصف ملک کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی جان میں آپ کو اپنی کتاب بھجنا چاھتا ھوں کیا میں آپ کا پوسٹل اڈریس اور فون نمبر لے سکتا ھوں..... شکریہ.... واصف ملک
واصف ملک آف لائن ہے   Reply With Quote
واصف ملک کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (26-04-10)
پرانا 26-04-10, 08:43 AM   #10
Senior Member
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,777
شکریہ: 53,120
7,705 مراسلہ میں 22,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : واصف ملک مراسلہ دیکھیں
بھائی جان میں آپ کو اپنی کتاب بھجنا چاھتا ھوں کیا میں آپ کا پوسٹل اڈریس اور فون نمبر لے سکتا ھوں..... شکریہ.... واصف ملک
واصف بھائی آپ کو ایک پرسنل میسج کیا ہے، آُپ اپنا Inbox چیک کرلیں۔
shafresha آن لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (26-04-10)
پرانا 26-04-10, 12:22 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,537
کمائي: 88,200
شکریہ: 5,212
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی اچھے اور سادہ الفاظ میں لکھا ہے .لیکن قسط وار کریں اسکو
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-04-10), شاہ جی 90 (02-05-10), عبداللہ آدم (27-04-10)
پرانا 26-05-10, 05:27 PM   #12
Senior Member
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,777
شکریہ: 53,120
7,705 مراسلہ میں 22,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دوستوں پاک نیٹ‌پر واصف بھائی کے اس سفر نامہ کو سب سے پہلے پڑھنے کا اعزاز مجھے حاصل ہوچکا ہے!
میں‌جلد ہی اس کا تعارف لکھوں‌گا!

واصف بھائی بہت بہت بہت اچھا لکھا ہے آپ نے
shafresha آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
واصف ملک (28-05-10), شاہ جی 90 (26-05-10)
جواب

Tags
فارم, کمال, پولیس, پاکستانی, پسند, قید, چین, چور, نظر, ماں, مسجد, اردو, بچوں, تلاش, جھوٹ, جیل, خودکش, خدا, داڑھی, دبئی, ذوالفقار علی بھٹو, روزہ, سحری, عورت, علی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میں تو لفظ لفظ تیری تیری ذات ہوں زارا شعر و شاعری 1 12-02-11 07:53 AM
گھریلو صارفین احتیاطی تدابیر اختیار کریں، گیس کی بو ہو تو بجلی کے بٹن آن نہ کریں گلاب خان خبریں 1 08-01-11 12:29 PM
تیری باتیں تیری یادیں بہت مصروف رکھتی ہیں The Great شعر و شاعری 0 07-08-08 06:57 PM
تفتیشی ٹیم کو موت کی وجہ جاننے سے آگے کا اختیار نہیں، برطانوی ہائی کمیشن عبدالقدوس خبریں 0 07-01-08 07:51 AM
بے نظیر کی حکومتوں میں تفتیش کیلئے کبھی غیرملکی ایجنسیوں کو نہیں بلایا گیا,,,,رپورٹ :…انصار عباسی خرم شہزاد خرم خبریں 0 29-10-07 10:43 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:29 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger