| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| مندرجہ ذیل 11 صارفین نے طاھر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#151 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 313
کمائي: 4,222
شکریہ: 0
140 مراسلہ میں 204 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
يہ ايک غلط تاثر ہے کہ فاٹا کے علاقوں ميں امريکی حکومت کی جانب سے صرف طاقت کے استعمال کی پاليسی پر زور ديا جا رہا ہے۔ حقائق اس تاثر کی نفی کرتے ہيں۔ اس حوالے سے امريکی حکومت نے فاٹا کے علاقے کی امداد کے ليے ايک مربوط پروگرام تشکيل ديا ہے جس کا مقصد اس علاقے ميں لوگوں کی بنيادی ضروريات پوری کرنے کے علاوہ منتظمين کو ايسی سہوليات فراہم کرنا ہے جس کے ذريعے لوگوں کی معاشی اور معاشرتی زندگيوں ميں انقلابی تبديلياں لائ جا سکيں۔ صرف اسی صورت ميں ان علاقوں کو دہشت گردوں کی آمجگاہ بننے سے روکا جا سکتا ہے۔ امريکی حکومت نے ايف – ڈی – ايس (فاٹا ڈيويليپمنٹ سٹريٹجی) کے نام سے وسيع بنيادوں پر ايک منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت حکومت پاکستان کے اشتراک سے اس علاقے ميں اگلے پانچ سالوں ميں 750 ملين ڈالرز خرچ کيے جائيں گے۔ ايف – ڈی – ايس کے تحت تمام امداد اور منصوبوں کا محور اس علاقے کے لوگوں کے معيار زندگی ميں بہتری لانے کے علاوہ مقامی انتظاميہ کو فعال بنانا ہے تا کہ مستقل بنيادوں پر معاشی اور معاشرتی نظام زندگی بہتر کيا جا سکے۔ اس ضمن ميں سال 2007 سے 2011 کے درميانی عرصے ميں امريکی حکومت کی جانب سے 100 ملين ڈالرز تعليم اور صحت کے شعبے کے ليے مختص کيے گۓ ہيں۔ اسی طرح کئ ذيلی منصوبوں پر بھی کام شروع کيا جا چکا ہے جن کا مقصد مقامی اساتذہ کی تربيت، شرح خواندگی ميں اضافہ، صاف پانی کی فراہمی، بيماريوں کی روک تھام اور تجارت ميں اضافے کے پروگرام شامل ہيں۔ فاٹا کے علاقے ميں تعميری منصوبوں پر خاص توجہ دی گئ ہے اور اب تک امريکی حکومت کی امداد سے 800 کلوميٹر سڑک اور قريب 800 کے قريب بجلی اور آب پاشی کے چھوٹے منصوبے پايہ تکميل تک پہنچ چکے ہيں۔ ميں نے جان بوجھ کر ان منصوبوں اور امداد کے اس حصے کا ذکر نہيں کيا جس کا مقصد علاقے ميں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحيت ميں اضافہ کرنا ہے کيوں ميرا مقصد آپ کو يہ باور کروانا ہے کہ امريکہ اس علاقے ميں صرف طاقت اور فوج کے استعمال کو مسلۓ کا واحد حل نہيں سمجھتا۔ ليکن يہ بھی حقيقت ہے کہ تعليم، صحت اور معاشی بہبود کے منصوبوں کے علاوہ امريکہ قانون کی بالا دستی اور منشيات کی روک تھام کے حوالے سے بھی حکومت پاکستان کو مالی امداد فراہم کر رہا ہے۔ اس ضمن ميں ايف – سی کے ہزاروں اہلکاروں کی تربيت اور فوجی سازوسامان کی فراہمی کے کئ منصوبے شامل ہيں۔ يہ تمام اعداد وشمار اور منصوبے اس بات کا واضح ثبوت ہيں کہ امريکہ اس بات کو تسليم کرتا ہے کہ محض طاقت کے استعمال سے اس علاقے ميں دہشت گردی کو شکست نہيں دی جا سکتی۔ اسی ليے ان علاقے کے لوگوں کے معيار زندگی ميں بہتری لانے کے ليے کئ قابل عمل منصوبے نہ صرف منظور کيے جا چکے ہيں بلکہ ان پر کام بھی جاری ہے تاکہ اس علاقے سے دہشت گردی کا خاتمہ کيا جا سکے جس کا بلواسطہ يا بلاواسطہ اثر ديگر علاقوں پر بھی پڑے گا۔ جيسا کہ ميں نے پہلے کہا کہ امريکی حکومت پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر اس علاقے کے لوگوں کی بہتری کے ليے شروع کیے جانے والے کئ منصوبوں کی تکميل کی کے ليے ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔ ليکن کيا انتہا پسند اور دہشت گرد تنظيموں کی جانب سے علاقے کے عام لوگوں کی بہبود کے حوالے سے کوئ ايک بھی منصوبہ منظر عام پر آيا ہے؟ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
|
|
|
#152 |
|
Senior Member
![]() |
دہشت گردی کے خلاف جنگ ۔۔۔۔ مائی فٹ!!!
1۔ وہ کون سا ملک ہے جس نے 1945 کے بعد سے دنیا کے 20 سے زائد ممالک پر بم برسائے؟ 2۔ وہ کون سا واحد ملک ہے جس نے جوہری ہتھیار استعمال کئے ہیں؟ 3۔ 1985ء میں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک کار بم دھماکے، جس میں80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، میں کونسا ملک ملوث تھا (یہ حملہ ناکام قتل کی کوشش اور جدید مشرق وسطیٰ کا پہلا تباہ کن دھماکا تھا) 4۔ 1986ء میں کس ملک نے لیبیا پر بمباری کی تھی جس پر اقوام متحدہ کی لیگل کمیٹی نے اس اقدام کو دہشت گردی کا کلاسک معاملہ قرار دیا تھا؟ 5۔ وہ کونسا ملک ہے جس نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کا نکارا گوا کے خلاف 1986ء میں ’’طاقت کے غیر قانونی استعمال‘‘ روکنے کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا اور بعد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کئے جانے والے اس بل کو ویٹو کردیا تھا جس میں دنیا کے تمام ممالک سے بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنے کو کہا گیا تھا؟ 6۔ وہ کونسا ملک ہے جسے 1980ء کی دہائی میں اقوام متحدہ کے Truth Commission نے گوئٹے مالا میں ماین انڈینز کے قتل عام میں مدد فراہم کرنے میں ملوث قرار دیا تھا؟ 7۔ وہ کونسا ملک ہے جس نے یکطرفہ طور پر دسمبر 2001ء میں اینٹی بلسٹک میزائل ٹریٹی سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا؟ 8۔ وہ کونسا ملک ہے جس نے جولائی 2001ء میں حیاتیاتی ہتھیاروں کی تصدیق کرانے سے متعلق بیالوجیکل ویپنز کنونشن کو مسترد کردیا تھا اور بعد میں اجلاس ختم کردیا تھا۔ 9۔ وہ کونسا ملک ہے جس نے جولائی 2001ء میں اقوام متحدہ کو سمال آرمز ٹریڈ کے اجلاس میں بندوق کی تجارت پر پابندی عائد کرنے سے روکا؟ 10۔ صومالیہ کے علاوہ، دنیا کا وہ کونسا ملک ہے جس نے اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق بچوں کے حقوق کی توثیق سے انکار کیا ہے؟ 11۔ وہ کونسا ملک ہے جو بچوں کو سزائے موت دینے کا حامی ہے؟ 12۔ وہ کونسا ملک ہے جس نے 1997ء میں بارودی سرنگوں کے استعمال پر پابندی کے معاہدے پر دستخط سے انکار کردیا؟ 13۔ وہ کونسا ملک ہے جس نے 1998ء میں انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے قیام کے خلاف ووٹ دیا؟ 14۔ وہ کونسا ملک ہے جس نے 1987ء میں اسرائیل کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کی مذمت کی؟ 15 وہ کونسا ملک ہے جس نے اب تک اقوام متحدہ کو اپنی تمام واجبات کی ادائیگی نہیں کی لیکن اس کے باوجود اسے ویٹو کا اختیار حاصل ہے؟ کیا ان تمام سوالوں کا جواب ’’امریکا‘‘ تو نہیں!!!!! آپ کی کیا رائے ہے؟ |
|
|
|
|
|
#153 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 7,470
کمائي: 37,374
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,102
3,831 مراسلہ میں 9,547 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ تو باعث ذلالت ہی تصور کیے جا سکتے ہیں۔
10- صومالیہ کے علاوہ، دنیا کا وہ کونسا ملک ہے جس نے اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق بچوں کے حقوق کی توثیق سے انکار کیا ہے؟ 11۔ وہ کونسا ملک ہے جو بچوں کو سزائے موت دینے کا حامی ہے؟ فواد صاحب جواب ذرا جلدی مل جائیں تو بہت ساری غلط فہمیاں دور ہو جائیں گیں۔
__________________
"یہ ضروری تو نہیں کہ ہم جن سے محبت کرتے ہیں ان کے ساتھ زندگی بھی بتا سکیں" |
|
|
|
|
|
#154 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: کوئٹہ
عمر: 18
مراسلات: 5,287
کمائي: 21,342
ميرا موڈ:
شکریہ: 9,413
2,466 مراسلہ میں 3,955 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فواد صاحب آپ کی بحث لا حاصل ہے اور آج ایک بار پھر امریکہ نے وزیرستان میںحملہ کیا ہے جس میں دس کے قریب بے گناہ لوگ شہید ہوئے۔
|
|
|
|
|
|
#155 |
|
Senior Member
![]() |
شیخ صاحب ویلکم ٹو دی نیو ایرا ۔Welcome to the new era، اب دیکھنا ہے کہ اعدادو شمار کی جادوگریاں کیا کرتی ہیں۔
|
|
|
|
|
|
#156 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 27
مراسلات: 1,824
کمائي: 1,922
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,712
822 مراسلہ میں 1,600 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
Last edited by پیاسا; 10-10-08 at 09:34 PM. |
|
|
|
|
|
|
#157 |
|
Senior Member
![]() |
طالبان سے مذاکرات اور کسی تیسرے ملک کو ضامن بنا کر کیا امریکا اپنا ہی تھوکا ہوا نہیں چاٹے گا ؟
|
|
|
|
|
|
#158 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 7,470
کمائي: 37,374
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,102
3,831 مراسلہ میں 9,547 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہم مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔ دیر آئد درست آئد۔
|
|
|
|
|
|
#159 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: کوئٹہ
عمر: 18
مراسلات: 5,287
کمائي: 21,342
ميرا موڈ:
شکریہ: 9,413
2,466 مراسلہ میں 3,955 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
افغانستان میں تو طالبان ویسے بھی برتری حاصل کرچکے ہیں اس لیے وہ امریکی شرائط قبول ہی نہیںکریںگے۔
پاکستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہیے۔ |
|
|
|
|
|
#160 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 313
کمائي: 4,222
شکریہ: 0
140 مراسلہ میں 204 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سب سے پہلے تو ميں يہ واضح کر دوں کہ طالبان کے حوالے سے کوئ پاليسی تبديل نہيں کی گئ ہے۔ ڈيفنس سيکرٹری رابرٹ گيٹس کا بيان محض اس بات کی توثيق تھا کہ جو مسلح گروپ دہشت گردی کو ترک کر کے امن معاہدوں کا حصہ بننا چاہتے ہيں اور قانونی طريقے سے سياسی دائرے ميں شامل ہونا چاہتے ہيں انھيں اس کا پورا موقع ديا جاۓ گا۔ آپ نے "تھوک چاٹنے" کی جو مثال دی ہے وہ ايک جذباتی بحث کا موجب تو بن سکتی ہے مگر حقيقی دنيا ميں اس کا اطلاق نہيں ہوتا۔ دنيا کا ہر ملک خارجہ پاليسی بناتے وقت اپنے بہترين مفادات کو سامنے رکھتا ہے۔ ليکن ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ امريکہ اس بات کو اچھی طرح سے سمجھتا ہے کہ صرف وہی پاليسياں کامياب اور ديرپا ثابت ہوتی ہيں جو باہمی اور وسيع تر بنيادوں پر استوار کی گئ ہوں۔ اس ميں اس وقت کے زمينی حقائق بھی ديکھے جاتے ہيں اور مختلف ممالک سے تعلقات اور اس کے دوررس اثرات اور نتائج پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ يہ حقيقت بھی پيش نظر رکھی جانی چاہيے کہ ہر نئ حکومت کی پاليسی پچھلی حکومت سے الگ ہوتی ہے اور زمينی حقائق کی بنياد پر ان پاليسيوں ميں تبديلی بھی آتی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر 70 کی دہائ ميں پاکستان پيپلز پارٹی اور خود بھٹو صاحب امريکہ سے اچھے تعلقات کو پاکستان کے مفادات کے خلاف سمجھتے تھے۔ ليکن 80 اور 90 کی دہاہی میں پاکستان پيپلز پارٹی اور بھٹو صاحب کی اپنی بيٹی امريکہ سے اچھے تعلقات کی اہميت پر زور ديتے رہے۔ اس کے علاوہ آپ پاکستان اور بھارت کے درميان تعلقات کی تاريخ ديکھيں تو ايسے ادوار بھی گزرے ہيں جب دونوں ممالک کے درميان جنگوں ميں ہزاروں فوجی مارے گۓ اور پھر ايسی خارجہ پاليسياں بھی بنيں کہ دونوں ممالک کے درميان دوستی اور امن کی بنياد پر ٹرينيں اور بسيں بھی چليں۔ حقيقت يہ ہے کہ عالمی سياست کے تيزی سے بدلتے حالات کے تناظر ميں دنيا کا کوئ ملک يہ دعوی نہيں کر سکتا کہ اس کی خارجہ پاليسی ہميشہ يکساں رہے گی اور اس ميں تبديلی کی گنجائش نہيں ہے۔ کسی بھی حکومت کے ليے يہ ممکن نہيں ہے کہ وہ ايسی خارجہ پاليسی بناۓ جو سب کو مطمئن بھی کر سکے اور حقيقت کا تدارک کرتے ہوۓ سو فيصد صحيح بھی ثابت ہو۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov Page has moved |
|
|
|
|
|
|
#161 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 313
کمائي: 4,222
شکریہ: 0
140 مراسلہ میں 204 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
يہ امر خاصہ دلچسپ ہے کہ آپ نے اپنی پوسٹ کا آغاز دہشت گردی کے خلاف جنگ پر تنقيد سے کيا ليکن اس کے ليے دلائل آپ نے کئ عشروں پرانے ان واقعات کی بنياد پر ديے جن کا موجودہ عالمی حالات سے کوئ تعلق نہيں۔ آپ نے نہ ہی 11 ستمبر 2001 کے واقعے کا ذکر کيا ہے اور نہ ہی القاعدہ کی جانب سے کيے جانے والے ان درجنوں حملوں کا ذکر کيا ہے جو دنيا بھر ميں کيے گۓ ہيں اور جن کی وجہ سے عالمی برداری نے دہشت گردی کے خلاف مہم کا آغاز کيا ہے۔
ميرا ذاتی خيال يہ ہے کہ تاريخ کے اوراق تبديل کرنا کوئ تعميری فعل نہيں ہے کيونکہ اس سے موجودہ دور کے چيلنچز اور لوگوں کے سياسی اور معاشی مسائل کو حل کرنے ميں کوئ مدد نہيں ملتی۔ يہ درست ہے کہ آپ کسی بھی بيماری کی جڑ تک پہنچے بغير اس کی تشخيص نہيں کر سکتے ليکن اس کا يہ مطلب بھی نہيں کہ ہم موجودہ دور کے ہر مسلۓ کا حل برسوں پرانے واقعات ميں تلاش کرتے رہيں۔ آج کے دور کی حقيقتوں کا سامنا کيے بغير موجودہ دور کے تنازعات کا حل ممکن نہیں ہے اور اس ضمن ميں امريکی حکومت ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔ ميں نے کبھی يہ دعوی نہيں کيا کہ امريکہ کا ماضی بے داغ ہے۔ يہ ايک حقيقت ہے کہ غلط فيصلے کيے گۓ ہيں اور ايسی خارجہ پاليسياں بھی بنی ہيں جو غلط ثابت ہوئ ہيں۔ ليکن کيا آپ کسی ايسے ملک کا نام بتا سکتے ہيں جس کی تاريخ خارجہ پاليسيوں کے حوالے سے غلطيوں سے پاک ہو۔ ہميں ماضی ميں جھانکنے کی بجاۓ ان موضوعات پر بات کرنی چاہيے جن کا تعلق موجودہ امريکی حکومت، اسکی پاليسيوں کے حوالے سے اٹھاۓ جانے والے اقدامات اور مستقبل ميں اس کے اثرات سے ہے۔ ماضی کو کوئ بھی تبديل نہيں کر سکتا ليکن مستقبل کا انحصار آج کيے جانے والے فيصلوں اور پاليسيوں پر ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوۓ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے آپ کی تنقيد پر يہ سوال اٹھتا ہے کہ آپ کے خيال کے مطابق 11 ستمبر 2001 کے واقعے کے بعد امريکی حکومت کو کيا کرنا چاہيے تھا؟ کيا آپ کے خيال ميں يہ پاليسی درست تصور کی جاتی کہ القائدہ کے خلاف کوئ کاروائ نہ کی جاتی اور انھيں طالبان کے ساۓ تلے اپنے اثرورسوخ کو بڑھانے کا پورا موقع فراہم کيا جاتا ؟ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov Page has moved |
|
|
|
|
|
#162 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
میرے خیال میں جہاں امریکا کی اپنی بج رہی ہے وہاں پر تو وہ معاہدوں کا حامی نظر آتا ہے لیکن جہاں مسلمانوں کی بج رہی ہو تو بزرگ شیطان اپنا منہ پھیر کر کہتا ہے ’’میں نہ مانوں!‘‘ |
|
|
|
|
|
|
#163 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 27
مراسلات: 1,824
کمائي: 1,922
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,712
822 مراسلہ میں 1,600 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
..............
|
|
|
|
|
| پیاسا کا شکریہ ادا کیا گیا | وجدان (08-11-08) |
|
|
#164 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 313
کمائي: 4,222
شکریہ: 0
140 مراسلہ میں 204 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سب سے پہلے تو ميں يہ واضح کر دوں کہ افغانستان ميں طالبان کے حوالے سے کوئ پاليسی تبديل نہيں کی گئ ہے۔ رچرڈ باؤچرکا حاليہ بيان محض اس بات کی توثيق تھا کہ جو مسلح گروپ دہشت گردی کو ترک کر کے امن معاہدوں کا حصہ بننا چاہتے ہيں اور قانونی طريقے سے سياسی دائرے ميں شامل ہونا چاہتے ہيں انھيں اس کا پورا موقع ديا جاۓ گا۔ اور يہ پاليسی افغانستان اور پاکستان دونوں کے ليے يکساں ہے۔ اس ضمن ميں آپ کو رچرڈ باؤچر کا جواب انھی کی زبانی دے رہا ہوں جس سے يہ واضح ہے کہ افغانستان اور پاکستان ميں امن معاہدوں اور مصالحتی کوششوں کے عمل کی امريکی حکومت حمايت کرتی ہے۔ "ہم محض افغانستان ميں طالبان سے بات چيت نہيں کر رہے ہيں۔ افغانستان اور پاکستان کی حکومتيں کی جانب سے مصالحتی عمل کے ضمن ميں پاليسياں موجود ہيں۔ ہم پہلے بھی اور اب بھی ان پاليسيوں کی حمايت کرتے ہيں۔" فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov Page has moved |
|
|
|
|
|
|
#165 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 40
مراسلات: 2,288
کمائي: 26,053
ميرا موڈ:
شکریہ: 954
1,402 مراسلہ میں 3,864 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب فواد صاحب ! السلام علیکم،
اسرائیلی حملوں کے بارے میں آپ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ اسرائیل کا اندرونی معاملہ قرار دے دیا گیا ہے؟ آپ کی اتنی لمبی تقاریر سے تو ہمیں یہ شک ہونے لگا ہے کہ واقعی امریکہ دنیا کی تمام اقوام کا ہمدرد ہے۔ ایک ایسی ہی ہمدردی آپ نے عراق میں دکھائ کہ عوام کو مرحوم صدام کے چنگل سے نکالا جائے۔ اب جبکہ بلکہ یہ صحیح ہو گا کہ کئ عرصے سے فلسطینی بھی آپ کی طرف مدد کے طلبگار ہیں مگر آپ لوگ انہیں درخوراعتنا جانتے ہی نہیں۔ کیا آپ کی حکومت اس حملے کو انسانیت کے خلاف ظلم تصور نہیں کرتی اور کیا آپ اسرائیل کو کچھ نہیں کہہ سکتے؟ کیا یہ دہشت گردی نہیں؟ والسلام، طاہر |
|
|
|
| طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا | عدنان (22-01-09) |
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| color, com, digital, email, fawad, fawwad, php, فورم, فورمز, فروخت, پیاسا, پاک, پاکستان, پسند, قواعد, لوگ, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, منتقل, ممکن, اقوام متحدہ, امریکہ, بھائی, بچوں, تصویر, جھوٹ, جواب, حضرات, درخواست, ضوابط, صومالیہ, صبر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایک سوال ایک جواب | خرم شہزاد خرم | گپ شپ | 78 | 29-11-07 10:27 AM |
| ایک غزل برائے تنقید آپکی خدمت میں حاضر ہے۔ | ایم اے راجا | شعر و شاعری | 6 | 02-10-07 09:33 PM |
| ایک سوال | عدنان | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 15 | 14-07-07 11:52 PM |