| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| مندرجہ ذیل 11 صارفین نے طاھر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 40
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,032
ميرا موڈ:
شکریہ: 952
1,400 مراسلہ میں 3,861 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم فواد صاحب -
السلام علیکم، میں نے آزاد زرائع سے کچھ اطلاعات ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے مگر کچھ اپنی مصروفیات کی بناء پر قاصر رہا۔ بہرحال کچھ غور طلب نکات حاضر ہیں ۔ 1۔ امریکی امداد برائے افغانستان امریکی حکومت نے افغان عوام سے امن اور جمہوریت کا وعدہ کیا جو جنگ سے متاثرہ عوام کے لیئے ابھی بھی خواب ہے۔ طالبان ریجن سے باہر، عوام کی امیدیں خاصی روشن اور بلند تھیں اور وہ اس سلسلے میں کام کرنے کو تیار بھی تھے۔ یہ ایک عمومی خیال تھا کہ تعمیر نو کا وعدہ ان کے ملک میں نوکریاں، اسکول، گھر اور صحت کی بنیادی ضروریات لے کر آئے گا۔ اور امریکی جمہوریت کے جھنڈے تلے عوام ایک ہو سکیں گےاور یہ خواب ایک حقیقت بن سکے گا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ کئ حصوں میں تعمیرنو ایک خواب ہی رہا۔ جب ناٹو فورس برطانوی لیفٹینینٹ جنرل ڈی رچرڈز کے ہمراہ جنوبی افغانستان میں پہنچی تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں تعمیر نو کا نام و نشان تک نہیں۔ امریکہ کو اس معاملہ میں ذمہ دار ٹہرایا گیا۔ امریکی قیادت میں بین الاقوامی فورس صرف کابل کے آس پاس ہی کاروائ کرتی رہی کیوں کہ ان کے پاس مناسب قوت ہی نہیں تھی۔ پرائیوٹ کنٹریکٹرز جو کہ اس صوبے میں موجود تھے اکثر اس رقم کو استعمال کرتے تھے جو کہ تعمیر نو کی امداد کے طور پر دی جاتی تھی۔ یو ایس ایڈ میں ضرورت سے زائد خرچ انہی کا پیدا کردہ ہے۔ امریکی اور بین الاقوامی امداد کی تقسیم کا مکینزم بھی خاصا دلچسپ ہے۔ امریکہ اور دوسرے ڈونر ممالک بلین ڈالرز کا وعدہ کرتے رہے مگر افغان حکومت ابھی تک ان کا پتہ پوچھ رہی ہے۔ سرکاری جواب افغان کرپشن ہی تھا۔ جوہانسبرگ سے تعلق رکھنے والی ایک آزاد تنظیم ایکشن ایڈ نے اس سلسلے میں ایک تفصیلی اسٹڈی کی جس کے مطابق صرف 40 فیصد اصل امداد ہی پہنچی ہے، باقی سب کتابی امداد ہے۔ اس میں وہ رقم بھی شامل ہے جو کہ سفارت خانے کے نئے احاطے کے بنانے پر خرچ کی گئی ہے۔ بہت بڑے اعداد صرف امداد دینے والے اداروں کے کھاتوں ہی میں ہیں۔ اسی امداد کے کھاتے میں ان تمام غیر ملکی ایکسپرٹس کے اخراجات بھی شامل ہیں جو یو-ایس-ایڈ کے لیئے کام کرتے ہیں اور یہ رقم واپس امریکی بینک میں چلی جاتی ہے۔ اس رپورٹ میں اس بات پر خاصا زور دیا گیا ہے کہ امداد کا ایک بڑا حصہ فائنانسس اور ٹیکنیکل اسسٹنس کی مد میں رائیٹ آف کر دیا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں امریکی ایکسپرٹ اس رقم کو فیسس وغیرہ کے ضمرے میں ہڑپ کر جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ڈونر ممالک کی امداد کا ایک اور حصہ صرف اس بات کے لیئے مختص ہے کہ افغانستان انہی ڈونر ممالک سے سامان درآمد کرے، چاہے لوکل مارکیٹ میں وہ چیز با آسانی اور کم قیمت میں مل رہی ہو۔ 47 فیصد امریکی امداد برائے تعمیر نو صرف ٹیکنیکل اسسٹنس کی مد میں چلی جاتی ہے جو کہ ایک بہت بڑا اور زیادہ حصہ ہے۔ اسی مد میں سوئیڈن صرف 4 فیصد جبکہ لکسمبرگ اور آئیرلینڈ 2 فیصد چارج کرتے ہیں۔ سوئیڈن اور ناروے اس سلسلے میں اس خرچ کو اس قسم کی امداد میں شامل یہ نہیں کرتے۔ امریکہ اپنی امداد کا 70 فیصد سامان کی خریداری کے لیئے مختص کرتا ھے جو کہ زیادہ تر اسلحہ کی مد میں خرچ ہوتی ہے -- جی ہاں امریکی اسلحہ۔ کئ سال پہلے اقوام متحدہ نے ایک طریقہ کار وضع کیا تھا جس پر تمام ممالک کو اتفاق تھا کہ تمام امیر ممالک اپنی قومی آمدنی کا اعشاریہ 7 فیصد% 0.7 سالانہ غریب ممالک کو امداد کے طور ادا کیں گے۔ اس وقت صرف اسکینڈے نیوین ممالک، ہالینڈ اور لکسمبرگ اپنا حصہ %0.65 کے حساب سے ادا کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ %0.02 ادا کر رہا ہے۔ |
|
|
|
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 40
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,032
ميرا موڈ:
شکریہ: 952
1,400 مراسلہ میں 3,861 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
باقی آئندہ
والسلام طاہر |
|
|
|
|
|
#18 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 20
کمائي: 1
شکریہ: 48
4 مراسلہ میں 5 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فواد صاحب کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے کہ یہ جو افغانستان، عراق، اور دوسرے کئی ممالک میںہورہا ہے بلکہ امریکہ کررہا ہے کیا یہ امریکہ کی مسلمانوں سے محبت کے اظہار کا انداز ہے یا کہ کچھ اور ؟
خدارا کچھ ہوش کے ناخن لیں اور اپنے ملک کی خدمت کریںجہاں آپ پیدا ہوئے ، پلے بڑھے تعلیم حاصل کی صرف اس دن کےلئے کہ اس ملک اور اسلام دشمنوںکے لئے کام کرو |
|
|
|
|
|
#19 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Away
مراسلات: 8
کمائي: 126
شکریہ: 0
4 مراسلہ میں 15 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام !
میرے پاس کچھ اور بھی ہے -- فواد صاحب کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں - تاریخی طور پر کچھ ایسے ثبوت موجود ہیں کہ امریکہ اپنی اقتصادی وجوہات کی بناء پر افغانستان کی حکومت تبدیل کرنا چاہتا تھا - طالبان کی حکومت ۔ مندرجہ ذیل ثبوت شاید آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کردے کہ بش انتظامیہ کیوں افغان لشکر کشی کے لیئے تیار تھی۔ 1998 میں امریکہ نئ افغان حکومت چاہتا تھا جو کہ تیل کی پائپ لائن تعمیر کرنے کی اجازت دے۔ 11 ستمبر سےتین سال پہلے امریکی افغانستان میں ایک مغرب دوست حکومت چاہتے تھے۔ 12 فروری 1998 سرکاری فارن پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں اس بارے میں تفصیلی غور کیا گیا۔ رپورٹ کے الفاظ کچھ یوں ہیں "The U.S. Government's position is that we support multiple pipelines... The Unocal pipeline is among those pipelines that would receive our support under that policy. I would caution that while we do support the project, the U.S. Government has not at this point recognized any governing regime of the transit country, one of the transit countries, Afghanistan, through which that pipeline would be routed. But we do support the project." [ U.S. House of Reps., "U.S. Interests in the Central Asian Republics", 12 Feb 1998 ] "The only other possible route [for the desired oil pipeline] is across, Afghanistan which has of course its own unique challenges." [ "U.S. Interests in the Central Asian Republics", 12 Feb 1998 ] "CentGas can not begin construction until an internationally recognized Afghanistan Government is in place." [ "U.S. Interests in the Central Asian Republics", 12 Feb 1998 ] افغان پائپ لائن پروجیکٹ کو مئ 2002 میں فائنل ہونا تھا اور یہ صرف اس صورت میں ہو سکتا تھا جبکہ امریکہ کسی بھی ایکشن سے افغان حکومت تبدیل کر دے۔ دنیا اور امریکی عوام کے لیئے دھشت گردی کے خلاف جنگ 11 ستمبر 2001 میں شروع کی گئ جبکہ ملٹری ایکشن اس سے کافی پہلے سوچ لیا گیا۔ 9/11 صرف ایک صحیح وقت پر صحیح ایکشن تھا جو بذات خود ایک ڈرامہ ہی ہے۔ باقی کل |
|
|
|
|
|
#20 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 309
کمائي: 4,186
شکریہ: 0
139 مراسلہ میں 203 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم،
ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے ممبر کی حيثيت سے میں اردو کے بہت سے قورمز اور بلاگز پر لوگوں کی آرا پڑھتا ہوں۔ اور ان تمام فورمز پر سينکڑوں کی تعداد ميں سوالات مجھ سے کيے جا رہے ہيں۔ اس ميں بے شمار موضوعات ہيں جو واقعی جواب طلب ہيں۔ ليکن ميرے ليے يہ ممکن نہيں کہ ميں ان تمام سوالات کے جوابات فوری طور پر دے سکوں ليکن ميں آپ کو يہ يقين دلاتا ہوں کہ ميں سب کی آرا پڑھتا ہوں اور سارے سوالات نوٹ کر ليتا ہوں۔ ميری کوشش ہوتی ہے کہ جواب کے ليے ان موضوعات کا انتخاب کروں جن پر بيک وقت بہت سے فورم پر سوال اٹھايا جا رہا ہےتاکہ ايک ہی جواب بہت سے فورمز پر پوسٹ کيا جا سکے۔ ايک بات اور، ميں کسی بھی موضوع پر محض اپنے جذبات کا اظہار نہيں کرتا بلکہ يو-ايس –اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ اور مختلف حکومتی اداروں سے متعلقہ موضوع کے حوالے سے صحيح اعدادوشمار اور حکومتی موقف حاصل کر کے اپنا جواب ديتا ہوں۔ ظاہر ہے کہ اس ميں وقت لگتا ہے۔ مثال کے طور پر گوانتاناموبے کے حوالے سے بہت سوالات کیے جا رہے تھے لہذا ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم نے بذات خود وہاں کا دورہ کيا۔ بہت سے فورمز پر مجھ سے ماضی بعيد ميں پيش آنے والے واقعات کے بارے ميں سوال کيے جاتے ہيں جيسے کہ 1988 ميں ضياالحق کی ہلاکت ميں امريکی کا مبينہ کردار يا 1971 کی جنگ ميں امريکہ کا وعدے کے مطابق بحری بيڑہ نہ بيجھنے کا الزام ايسے سوالات ہيں جن کا جواب دينا ناممکن نہيں تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔ اس کی وجہ يہ ہے کہ امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ ميں ماضی کے وہ لوگ جو ان واقعات کے اہم کردار تھے اب موجود نہيں ہيں لہذا ان کے بيانات کے بغير جو بھی بات ہو گی وہ محض قياس پر مبنی ہو گی۔ اس کے علاوہ يہ بات بھی ياد رہے کہ ہر امريکی حکومت کی پاليسی اپنے مخصوص دور کے حوالے سے اس دور کے زمينی حقائق کی مناسبت سے ترتيب دی جاتی ہے۔ ميرا ذاتی خیال يہ ہے کہ ہميں ماضی ميں جھانکنے کی بجاۓ ان موضوعات پر بات کرنی چاہيے جن کا تعلق موجودہ امريکی حکومت، اسکی پاليسيوں کے حوالے سے اٹھاۓ جانے والے اقدامات اور مستقبل ميں اس کے اثرات سے ہے۔ کچھ ساتھيوں نے مجھ سے ان خدشات کا اظہار بھی کيا ہے کہ اگر وہ امريکہ کے خلاف کچھ بات کريں گے تو امريکی حکومتی ادارے ان کے خلاف کاروائ کريں گے۔ ان دوستوں کی خدمت ميں عرض ہے کہ وہ امريکہ کے کسی بھی نشرياتی ادارے کے ٹی وی چينل يا کوئ بھی اخبار اٹھا کے ديکھ ليں اس ميں آپ کو مسلمانوں سميت ہر مقطبہ فکر کے لوگ امريکی حکومت کی مختلف پاليسيوں کے خلاف يا اس کے حق ميں اظہار خيال بغير کسی خوف کے کرتے نظر آئيں گے۔ ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے قيام کا مقصد ہی يہ ہے کہ امريکی پاليسيوں کے حوالے سے آپ کو امريکی حکومت کے موقف سے آگاہ کيا جا سکے۔ آخر ميں صرف اتنا کہوں گا کہ ميرا مقصد کسی بھی موضوع پر آپ کو قائل کرنا نہيں ہے۔ ميرا نقطہ نظر صرف اتنا ہے کہ جب آپ کسی خبر يا موضوع پر اپنی راۓ قائم کريں تو تحقيق اور اعدادوشمار کی روشنی ميں تصوير کے دونوں رخ سمجھنے کی کوشش کريں۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov |
|
|
|
| Fawad - Digital Outreach Team US State Dept کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (21-09-08) |
|
|
#21 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Away
مراسلات: 8
کمائي: 126
شکریہ: 0
4 مراسلہ میں 15 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام،
عراق پر امریکی لشکر کشی کے بارے میں ہی سائیٹ بھی ضرور دیکھ لیجیئے گا، علم میں اضافہ ہو گا۔ میری خواہش ہے کہ کوئ بھائ اس کو اردو میں ٹرانسلیٹ کر سکے۔ [thedebate.org/thedebate/iraq.asp] فواد صاحب ! کیا آپ آزادانہ زرائع سے اس کے بارے میں کچھ کہ سکتے ہیں؟ سرکاری مشنری یقیناً اس کو غلط ہی ثابت کرے گی :D |
|
|
|
|
|
#22 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 309
کمائي: 4,186
شکریہ: 0
139 مراسلہ میں 203 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس وقت ہزاروں کی تعداد ميں پاکستانی امريکہ ميں برسرروزگار ہيں اور امريکی حکومت کو براہراست ٹيکس ديتے ہيں۔ اس کے علاوہ ان کے توسط سے ايک بڑا زرمبادلہ پاکستان ہر سال آتا ہے۔ کيا آپ کے نزديک يہ سب بھی "غدار وطن" ہيں۔ اس کے علاوہ اگر آپ کی منطق کو مان ليا جاۓ تو يورپ اور ديگر ممالک ميں کام کرنے والے تمام پاکستانيوں کو اپنے روزگار ختم کر کے واپس اپنے وطن لوٹ جانا چاہيے۔ کيا يہ حقیقت پسندانہ سوچ ہے؟ يقين جانيے ميں آپ کے جذبات کی قدر کرتا ہوں۔ مگر جيسا کہ ميں نے پہلے کہا کہ ميرا مقصد کسی بھی موضوع پر آپ کو قائل کرنا نہيں ہے۔ ميرا نقطہ نظر صرف اتنا ہے کہ جب آپ کسی خبر يا موضوع پر اپنی راۓ قائم کريں تو تحقيق اور اعدادوشمار کی روشنی ميں تصوير کے دونوں رخ سمجھنے کی کوشش کريں۔ ميں نے ايک اور فورم پر کسی صاحب کے اسی قسم کے سوال کے حوالے سے ايک واقعہ بيان کيا تھا۔ پيش خدمت ہے۔ آپکے خيالات پڑھ کر مجھے اپنے کالج کے زمانے کا ايک واقعہ ياد آ گيا جب ايک مذہبی نما سياسی جماعت کے ليڈر نے ہمارے کالج کا دورہ کيا تھا اور ہمارے کالج کی طلبہ تنظيم نے ان کے اعزاز ميں ايک تقريب کا اہتمام کيآ تھا۔ ميں چونکہ پاکستان ميں نووارد تھا اور کسی پاکستانی ليڈر کی تقریر براہراست سننے کا يہ ميرے ليے پہلا موقع تھا اس ليے ميں بھی اس تقريب ميں چلا گيا۔ ميرا اندازہ تھا کہ شائد وہ اپنی تقرير ميں اپنی پارٹی کے منشور کی بات کريں گے اور طلبہ کے مفادات کے ليے اپنی پارٹی کے منصوبوں پر روشنی ڈاليں گے۔ ليکن ان کی پوری تقرير محض "امريکہ – دشمن اسلام"، "امريکہ کے سازشی منصوبے" اور "یہودی اور بھارتی لابی کا امريکہ کے ساتھ گٹھ چوڑ" جيسے موضوعات پر مشتمل تھی۔ اس کے علاوہ وہ مسلئہ کشمير سميت عالم اسلام کو درپيش تمام مسائل کا ذمہ دار امريکہ کو قرار ديتے رہے۔ ان کی تقرير کے دوران پورا ہال "امريکہ کا جو يار ہے، غدار ہے، غدار ہے" کے پرجوش نعروں سے گونجتا رہا۔ اس کے علاوہ وہ نوجوانوں کو جہاد کشمير ميں شامل ہونے کی تلقين بھی کرتے رہے۔ اس حوالے سے انکی جماعت کے کارکن طلبہ سے جہاد کشمير کے نام پر مختلف فارمز بھی پر کرواتے رہے۔ اس واقعے کا سب سے دلچسپ پہلو يہ ہے کہ جس وقت يہ مذکورہ ليڈر امريکہ سے نفرت کے حوالے سے زمين آسمان ايک کر رہے تھے اس وقت ان کے اپنے دونوں بيٹے امريکہ کی يونيورسٹيوں ميں اعلی تعليم حاصل کر رہے تھے اور اپنے تابناک مستقبل کے لیے بنياديں مضبوط کر رہے تھے۔ کچھ دن پہلے ميں نے انہی سياسی ليڈر کو حاليہ انتخابات کے سلسلے ميں ٹی وی پر ايک جلسے ميں تقرير کرتے ہوۓ ديکھا۔ ان کے جلسے ميں کارکنوں نے بہت سارے بينر اٹھا رکھے تھے جس پر مجھے وہی مانوس نعرہ درج دکھائ ديا۔ "امريکہ کا جو يار ہے – غدار ہے، غدار ہے"۔ يہاں يہ بھی بتاتا چلوں کہ ان ليڈر صاحب کے دونوں بيٹے آج بھی اپنی فيمليز کے ساتھ امريکہ ميں مقيم ہيں اور تعليم مکمل کرنے کے بعد اعلی اداروں ميں ملازمتيں کر رہے ہيں۔ يہ واقعہ پاکستان کے کسی ايک سياسی ليڈر کی زندگی تک محدود نہيں ہے۔آپ کسی بھی سياسی جماعت کی اعلی قيادت کا جائزہ لےليں وہ ہر پبلک فورم اور ہر عوامی اجتماع ميں "امريکہ سے نفرت" کا ٹکٹ ضرور استعمال کرتے ہيں ليکن اس کے باوجود اپنے اور اپنے خاندان کے ليۓ وہ تمام آسائشيں ضرور سميٹتے ہيں جو امريکی معاشرہ اپنے ہر شہری کو ديتا ہے۔ امريکہ سے نفرت کے يہ نعرے محض عوام کی توجہ اپنی ناکاميوں سے ہٹانے کے ليے تخليق کيے جاتے ہيں۔ کسی بھی قوم کی تقدير کے ذمہ دار "بيرونی ہاتھ" نہيں بلکہ اس ملک کے سياستدان ہوتے ہيں جو اسمبليوں ميں جا کر قآنون سازی کے ذريعے اس ملک کی تقدير بناتے ہيں۔ يہی وجہ ہے کہ 1985 سے لے کر اب تک آپ کوئ بھی اسمبلی اٹھا کر ديکھ ليں، کوئ بھی سياسی جماعت اپنے کسی منشور، پروگرام اور عوامی بہبود کے کسی منصوبے کے ليے عوام کے سامنے جوابدہ نہيں کيونکہ تمام تر مسائل کا ذمہ دار تو امريکہ ہے۔ امريکی حکومت اور امريکی نجی تنظيموں کی جانب سے پاکستان کو اربوں روپوں کی امداد دی گئ ہے۔کيا امريکہ سے نفرت کا درس دينے والے ان سياست دانوں کا احتساب نہيں ہونا چاہيے کہ اتنی امداد ملنے کے باوجود نہ ہی وہ پاکستان کو اپنے پيروں پر کھڑا کر سکے اور نہ ہی عوام کے حالات زندگی ميں تبديلی لا سکے؟ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 5 صارفین نے Fawad - Digital Outreach Team US State Dept کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | فاروق سرورخان (21-09-08), ملک بھائی (31-08-09), منتظمین (03-03-08), جیدی (29-12-08), عبدالقدوس (16-02-08) |
|
|
#23 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 40
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,032
ميرا موڈ:
شکریہ: 952
1,400 مراسلہ میں 3,861 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حضرت !
کیا صرف میر صادق اور میر جعفر کا غدار اور برا بھلا کہنا ہی کافی ہے یا ان کے پیچھے جو تھے یعنی انگریز سرکار ان کا بھی قصور تھا؟ آپ کا مطلب تو یہی ہے کہ اپنے لوگوں کو برا کہو اور جو اس غداری کے اصل محرکات تھے انہیں کچھ نہ کہا جائے؟ آپ کی بات بھی صحیح ہے کہ دشمن بغیر اندرونی ھمدردی کی کچھ نہیں کر سکتا مگر ان اندرونی ھمدردوں کے علاوہ وہ دشمن بھی اتنا ہی قابل مذمت ہے جتنا کہ اندرونی غدار۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں کہ جس کی بنیاد پر امریکیوں سے سرکاری، سیاسی اور عوامی سطح پر نفرت کے باوجود امریکہ پاکستان سے اتنی ہمدردی کیوں رکھتا ہے؟ اگر اسے مسلمانوں سے اتنی ہی ہمدردی ہے تو بھائ لیبیا، ایران، سوڈان ان سب ملکوں میں مسلمان ہی حکمران ہیں - اور تو اور صومالیہ کی مسلم اسلامی حکومت کے خلاف امریکہ کیوں ہے؟ کیوں ان سے امریکہ بہادر بے لوث محبت کیوں نہیں کرتے جیسا کہ پاکستان سے انہیں ہے؟ بھائ سرکاری الفاظ حقیقت سے دور ہوتے ہیں انہیں آزادانہ سورسز سے پرکھا جاتا ہے نہ کہ اس طرح جیسا کے آپ کر رہے ہیں! والسلام، طاہر |
|
|
|
| طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا | مسٹر رائٹ (16-02-08) |
|
|
#24 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 40
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,032
ميرا موڈ:
شکریہ: 952
1,400 مراسلہ میں 3,861 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
امریکہ اور دوسرے ممالک میں رہ کر کام کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ پاکستان میں کیڑے نکالنے لگیں اور اس کے دشمن ممالک کی خوبیاں بلا جھجک بیان کرتے رہیں۔ ملک کی خدمت بیرون ملک پاکستانی ڈالرز میں کر رہے ہیں اور دوسرا اپنے اچھے رویوں اور کاموں سے ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔ حضرت ! ملک کی بہتری، اپنے لوگوں کی بھلائ کے لیئے بھی کچھ وقت نکال لیں نہ کہ آپ غیر ملکی پروپیگینڈا مشینری کا حصہ بن جائیں۔ والسلام طاہر |
|
|
|
|
|
|
#25 |
|
Senior Member
![]() |
جناب فواد صاحب،
امید ہے آپ خیریت سے اور دل و جان سے دن رات اپنے آقا امریکا کی خدمت میں مصروف عمل ہونگے۔ آپ نے بلاوجہ اتنا لمبا چوڑا جواب دیا۔ بہت سارے چارٹس، گرافس اور تجزیئے پیش کئے جنہیں یقینا بہت سے لوگوں نے پڑھ کر اپنا قیمتی وقت ضایع کیا ہوگا۔ یہ بات میں نے اس لیے کہی ہے کہ آپ کو تو شیاد امریکا کی ترجمانی کرنے کے لیے پیسے ملتے ہیں وہ بھی ڈالر میں جبکہ پڑھنے والے تو بیچارے پاکستان روپے میں لین دین کرتے ہیں لہٰذا آپ کی گزارشات پڑھ کر انہوں نے اپنا وقت ہی ضایع کیا ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ اعداد و شمار کی جادوگری ایک الگ کہانی ہے جبکہ زمینی حقائق الگ چیز ہوتے ہیں۔ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ جو اعداد و شمار آپ نے پیش کئے ہیں یا پھر یوں کہہ لیجیے کہ آپ کو گمراہ کرنے کے لیے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے دیئے ہیں وہ 100 فیصد درست ہوں۔ ویسے پاکستانی اعداد و شمار میں بھی آپ کو ایسے کئی پروجیکٹس ملیں گے جو صرف کاغذات کی حد تک تو مکمل ہوجاتے ہیں لیکن ان کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہوتا۔ اتنا سمجھ لیجیے کہ ظالم کا کسی بھی طرح سے ساتھ دینے والا بھی ظالم ہی ہوتا ہے۔ اعداد و شمار تو ہم بھی بہت سے دے سکتے ہیں حتیٰ کہ امریکا کی لونڈی اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد و شمار بھی امریکا ہی کے خلاف ہیں۔ عراق میں جنگ سے قبل ہی کتنی بڑی تعداد میں معصوم بچے ادویات پر پابندی اور غذائی کمی کے باعث ہلاک ہوئے وہ ایک ہوش ربا تعداد ہے جو پانچ لاکھ سے زائد ہے۔ یہ تو وہ بچے ہیں جن کی موت دنیا کے سامنے آ ہی نہیں سکی جنہیں بغیر کسی بم و گولی کے ہلاک کردیا گیا اور اب جو خود کش بم دھماکے عراق میں ہو رہے ہیں اس کے بارے میں بھی جدید ترین ذرائع ابلاغ کی مدد سے دنیا کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ یہ جنونی مسلمانوں کا کام ہے جو خودکش دھماکے کر رہے ہیں حالآنکہ امریکا کا ہی ایک متعصب ٹی وی چینل فاکس نیوز یہ بتا چکا ہے کہ عراقی شہریوں کو خودکش بم دھماکوں کے لیے اکثر اوقات اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ خود انہیں بھی یہ معلوم نہیں ہوپاتا کہ وہ جس کار، ٹرک یا کسی اور گاڑی میں سفر کر رہے ہیں اس میں تباہ کن دھماکا خیز مواد موجود ہے اور اس کا ریموٹ کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ عراق جنگ کی رپورٹنگ کرنے والے ایک صحافی پیٹرک کاکبرن نے عراق جنگ کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے وہ یہ ہے: The need for the White House to produce a fantasy picture of Iraq is because it dare not admit that it has engineered one of the greatest disasters in American history. It is worse than Vietnam because the enemy is punier and the original ambitions greater." اب آتے ہیں افغانستان کی طرف۔ افغانستان میں امریکا اس بہانے آیا کہ وہاں اسامہ بن لادن موجود ہے جس نے ٹوئن ٹاورز تباہ کرائے۔ پہلے یہ بتادوں کہ یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ طالبان کی جانب سے امریکی کمپنی یونوکول کو سینٹرل ایشیا سے تیل پائپ لائن پروجیکٹ شروع کرنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد ہی امریکی انتظامیہ نے طالبان حکومت کا تختہ کسی بہانے سے الٹنے کی سازش شروع کردی تھی جو افغان وار پر منتج ہوئی۔ اب آتے ہیں ٹوئن ٹاورز کی طرف۔ ہمیں یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ان ٹاورز کی تباہی کے پیچھے امریکا کے کن کن اداروں اور افراد کا ہاتھ ہے۔ اس کام کے لیے خود امریکی ہی کافی ہیں جنہوں نے انٹرنیٹ پر ٹوئن ٹاورز کی کہانی کا ایسا پول کھولا ہے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں مل سکتی۔ صرف ایک مثال پر اکتفا کروں گا: جس روز یہ دونوں عمارتیں صبح منہدم ہوئیں اس ہی دن شام کو 4 بجے کے قریب آس پاس ایک اور 47 منزلہ عمارت تاش کے پتوں کی طرح بیٹھ گئی۔ کسی امریکی اعلیٰ عہدیدار بشمول بش نے آج تک اس عمارت کا ذکر نہیں کیا کہ وہ اچانک کس طرح بغیر کسی طیارے کے ٹکرائے منہدم ہوئی اور میڈیا نے اسے توجہ کا مرکز بھی نہ بنایا۔ آخر کیوں یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ عمارت جو ٹوئن ٹاورز سے صرف ایک بلاک کے فاصلے پر تھی کس وجہ سے گرگئی۔ ہر تھوڑے عرصے کے بعد امریکی طیارے جو کلسٹر بم افغانیوں پر گراتے ہیں، جن سے ایک طرح سے نسل کشی ہو رہی ہے، بچے و خواتین مر رہے ہیں، وہ بھی شاید آپ کو نظر نہیں آ رہے ہونگے۔ خبر تو یہ بھی سامنے نہیں آئی تھی کہ افغان صوبے قندوز میں جن سیکڑوں طالبان نے افغان جنگ کے فورا خود کو ناردرن الائنس اور امریکی فوج کے حوالے کردیا تھا انہیں شدید سردی کے عالم میں کنٹینرز میں بند کرکے بغیر کھانا پینا دیئے مار ڈالا گیا۔ بہرحال یہ چاول کا صرف ایک دانہ تھا کیونکہ پوری دیگ اتنی بڑی ہے جو اس کالم میں سما نہیں سکتی۔جہاں تک انسانی حقوق کا سوال ہے تو یہ گوانتانامو بے اور ابو غریب سے آنے والی خبروں اور تصویروں اور قرآن کریم کے نسخوں کی بھرپور بے حرمتی کے واقعات سے پوری دنیا کو معلوم ہوچکا ہے کہ انسانی حقوق کا علمبردار دنیا میں کیا کرتا پھر رہا ہے۔ بہر الحال یہ ساری باتیں آپ کے گوش گزار کرنا بیکار ہے کیونکہ آپ تو ڈیجیٹل آئوٹ ریچ ٹیم کے میمبر بہ الفاظ دیگر امریکا کے ملازم ہیں اور اس ہی کی چاکری کر رہے ہیں۔ آپ تھوڑا بھی خیال کرتے تو پوری دنیا میں پورے ایک سو سال سے زائد عرصے سے ادھم مچائے رکھنے والے امریکا کی اس طرح صفائیاں پیش کرنے کی بجائے مسلمانوں کا تاثر بہتر کرنے کے لیے امریکی فورمز اور بلاگس جوائن کرتے اور یہودیوں کے اعداد و شمار پیش کرنے کی بجائے مسلمانوں کے اعداد و شمار پیش کرتے۔ دنیا میں یہ تو بات بڑے زور و شور سے پھیلائی جاتی رہی ہے کہ ’’فلاں جگہ حملہ ہوا اور اس میں اسلامی انتہا پسند ملوث تھے‘‘ لیکن جب اوکلوہاما (امریکا) میں ٹموتھی میک وے نامی ایک عیسائی نے ایک عمارت کو تباہ کرکے سیکڑوں معصوم انسانوں کو ہلاک کردیا تھا تو اس وقت یہ بات کیوں نہیں کی گئی کہ ’’اوکلوہاما بم دھماکے میں ایک کیتھولک دہشت گرد ملوث ہے‘‘۔ آئرلینڈ کی تنظیم آئرش ری پبلکن آرمی نے برسوں تک معصوم شہریوں کا قتل کیا لیکن برطانیہ نے کبھی یہ نہیں کہا آئرش ری پبلکن آرمی عیسائی دہشت گرد تنظیم ہے۔ لہٰذا آپ اپنا کام کرتے جائیں تاآنکہ اللہ کا فیصلہ آجائے اور ایک روز قیامت بھی آنی ہے چاہے آپ اس پر یقین رکھیں یا نہ رکھیں۔ اس دن ہر شخص کو اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہوگا۔ لہٰذا معذرت، معافی یا تلافی کا موقع صرف اس دنیا ہی میں ہے۔ --------------------------------- ٹموتھی میک وے، جو کہ ایک عیسائی امریکی فوجی تھا، کے بارے میں انٹرنیٹ پر کافی معلومات موجود ہے: میں ایک لنک پیش کرتا ہوں: http://en.wikipedia.org/wiki/Timothy_McVeigh |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 9 صارفین نے شیخ ہمدان کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | ملک بھائی (31-08-09), مزمل فاروق (07-03-08), مسٹر رائٹ (17-02-08), ابو-عبداللہ (17-08-08), جیدی (29-12-08), زین خان (18-09-08), عبدالقدوس (16-02-08), عدنان (17-02-08), عرفان حیدر (17-02-08) |
|
|
#26 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 40
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,032
ميرا موڈ:
شکریہ: 952
1,400 مراسلہ میں 3,861 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جوزف صاحب --
کیسی باتیں کرتے ہیں جناب؟ کیا آپ کے باس کوئ یو ایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی سائٹ کے اعدادوشمار یا رپورٹس ہیں جو آپ خواہ مخواہ بیچارے امریکہ مسلمانوں کے واحد دوست کے خلاف الزامات لگا رہے ہیں؟ بھائ پوری دنیا اور خود امریکی پبلک کے بھی یہ سمجھنے سے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نہیں مانتا۔ |
|
|
|
| طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا | عدنان (17-02-08) |
|
|
#27 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 40
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,032
ميرا موڈ:
شکریہ: 952
1,400 مراسلہ میں 3,861 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فواد صاحب ----
فقط ایک اور سوال کیا آپ لوگ مختلف کتابوں کے مصنفین اور ویب سائٹس پر موجود مواد کو ٹھیک نہیں کروا سکتے - میرا مطلب ہے کہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو آپ کے آقا کے خلاف بھڑکاتے رہتے ہیں۔ ادہر بلاگز اور فورمز پر تو مجھ جیسے جاہل لوگ ہی ہوتے ہیں جو جذبات میں آ کر امریکہ بہادر کے خلاف غلط سلاط ہانکتے رہتے ہیں۔ براہ مہربانی ایک آؤٹ ریچ ٹیم کو اٰدھر کا رخ بھی کروا دیں۔ آپ کی مدد کے لیئے دو سایئٹس حاضر ہیں۔ http://globalresearch.ca/index.php http://www.secretwarsinter.com/content.html |
|
|
|
|
|
#28 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
آپکا مطلب شاید یہ ہے۔ http://news.maktoob.com/forum/news4107/ كتبت قبل حوالي أسبوعين أن توفُّر البيئة المناسبة سمح للرئيسين ريغان وكلنتون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذ بالفرص المتوفرة هو انتحار للذات البشرية. وليد جواد فريق التواصل الإلكتروني وزارة الخارجية الأمريكية DigitalOutreach@state.gov http://usinfo.state.gov/ar walidjawad@maktoobblog.com http://news.maktoob.com/706764_%D8%A...B1%D8%A7%D9%81 http://helmialasmar.maktoobblog.com/...6!%D8%9F%D8%9F http://22s22.com/vb/showthread.php?t=104569&page=4 http://www.lakii.com/vb/archive/index.php/t-245973.html http://pkpolitics.com/2007/12/27/ben...-assassinated/ وسلام |
|
|
|
|
|
|
#29 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 40
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,032
ميرا موڈ:
شکریہ: 952
1,400 مراسلہ میں 3,861 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی عرفان بھائ میں نے وہیں سے اس آؤٹ ریچ کے بارے میں سنا تھا
|
|
|
|
|
|
#30 |
|
محسن
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 33
مراسلات: 1,385
کمائي: 7,547
ميرا موڈ:
شکریہ: 238
333 مراسلہ میں 708 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جوزف صاحب۔ کمال کا جواب دیا ہے۔ امید ہے کہ فواد صاحب بھی کچھ رائے دیں گے۔
|
|
|
|
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| color, com, digital, email, fawad, fawwad, php, فورم, فورمز, فروخت, پیاسا, پاک, پاکستان, پسند, قواعد, لوگ, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, منتقل, ممکن, اقوام متحدہ, امریکہ, بھائی, بچوں, تصویر, جھوٹ, جواب, حضرات, درخواست, ضوابط, صومالیہ, صبر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایک سوال ایک جواب | خرم شہزاد خرم | گپ شپ | 78 | 29-11-07 10:27 AM |
| ایک غزل برائے تنقید آپکی خدمت میں حاضر ہے۔ | ایم اے راجا | شعر و شاعری | 6 | 02-10-07 09:33 PM |
| ایک سوال | عدنان | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 15 | 14-07-07 11:52 PM |