واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


قرآن کی پکار .... قلم کمان ..... حامد میر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-12-09, 02:56 AM  
قرآن کی پکار .... قلم کمان ..... حامد میر
کنعان کنعان آن لائن ہے 08-12-09, 02:56 AM

قرآن کی پکار .... قلم کمان ..... حامد میر


2009-12-07 10:45:46 :تاریخ اشاعت



دور جدید میں امن، رواداری اور روشن خیالی کی اکثر علمی و سیاسی تحریکوں کا مرکز یورپ رہا ہے۔ لیکن حال ہی میں سوئٹزرلینڈ میں ہونیوالے ایک ریفرنڈم کے نتائج نے دنیا بھر کو حیران کردیا ہے۔ چند دن قبل ہونیوالے ریفرنڈم میں سوئٹزر لینڈ کے 57 فیصد ووٹروں نے اپنے ملک میں مسجدوں پر مینار بنانے کی مخالفت کردی ہے کیونکہ وہ میناروں کو مسلمانوں کی سیاسی طاقت کی علامت سمجھتے ہیں۔ اس وقت سوئٹزر لینڈ میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ مسلمانوں کیلئے 160 مساجد ہیں جن میں سے صرف چار مساجد میناروں والی ہیں اور انمیں سے بھی زیورخ کی ایک عبادت گاہ قادیانیوں کی ہے۔ مسلمانوں کو اپنی مسجدوں میں مینار تعمیر کرنے کی اجازت نہ دینا سوئٹزرلینڈ کے اپنے آئین، یورپی یونین کے آئین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کیخلاف ورزی ہے۔ یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ یورپ میں لبرل فاشزم بڑھتا جارہا ہے کیونکہ یورپ کے ڈیڑھ کروڑ مسلمانوں کو صرف سوئٹزر لینڈ میں نہیں بلکہ فرانس، جرمنی، ہالینڈ اور دیگر
یورپی ممالک میں بھی مذہبی تعصب کا سامنا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے کیتھولک پادریوں اور یہودیوں کی تنظیموں نے میناروں پر پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے، سوئس اسمبلی نے بھی 50 کے مقابلے میں 129 ووٹوں سے میناروں پر پابندی کو مسترد کردیا ہے لیکن لبرل فاشسٹ جماعت سوئس پیپلز پارٹی اسلام کو ایک خطرے کے طور پر پیش کررہی ہے اور ان دنوں سوئس پیپلز پارٹی کے رہنما کھلم کھلا پاکستان کی مثالیں پیش کر رہے ہیں جہاں مساجد پر خودکش حملے ہورہے ہیں اور یورپی میڈیا ان حملوں کی ذمہ داری بلیک واٹر پر نہیں ڈالتا بلکہ طالبان و القاعدہ پر ڈالتا ہے۔

دوسرے الفاظ میں پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی سے صرف پاکستان کا نہیں بلکہ دنیا بھر میں مسلمانوں کا نام بدنام ہو رہا ہے۔ کچھ ہفتے قبل پشاور کے مینا بازار اور چارسدہ کے فاروق اعظم چوک میں کار بم دھماکے ہوئے تو طالبان اور القاعدہ نے ان بم دھماکوں سے اعلان لاتعلقی کیا۔

القاعدہ افغانستان کے نگران مصطفی ابوالیزہد نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا ہدف تو صرف وہ لوگ ہیں جو براہ راست لال مسجد، سوات، جنوبی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر اور اورکزئی میں معصوم و کمزور مسلمانوں کے قتل عام کے ذمہ دار ہیں لیکن ڈالروں کے پجاری نشریاتی ادارے بازاروں اور سڑکوں پر بم دھماکوں کی ذمہ داری طالبان و القاعدہ پر ڈال کر بددیانتی کررہے ہیں۔

انہوں نے پشاور بم دھماکوں کی ذمہ داری بلیک واٹر پر عائد کی۔ سرحد پولیس کے ذمہ داروں نے بھی مجھے بتایا کہ مینا بازار میں کار بم دھماکہ بھارتی خفیہ ادارے " را " کی کارستانی تھی لیکن راولپنڈی کی پریڈ لائن مسجد میں خودکش حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان جنوبی وزیرستان کے امیر ولی الرحمن محسود نے قبول کرلی ہے۔

انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پریڈ لائن مسجد کو منافقین کی مسجد قرار دیا۔ جس دن اس مسجد پرحملہ ہوا اسی دن مجھے ای میل پر محمد زاہد صدیق مغل کا ایک مضمون بھجوایا گیا جس میں نہ صرف پاکستان کی حکومت بلکہ ریاست کو کافر قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا گیا کہ پاکستان پر جو امریکی حملے جاری ہیں وہ ہماری پارلیمینٹ کی اجازت سے ہورہے ہیں اور پارلیمینٹ عوام کی نمائندہ ہوتی ہے کیا اس منطق سے ساری پاکستانی عوام حربی نہیں ٹھہری کہ وہ ایک حربی کافر کا ساتھ دے رہی ہے؟

آگے چل کر سوال اٹھایا گیا کہ پاکستانیوں نے امریکی حملوں کے خلاف اتنی چستی کیوں نہیں دکھائی جتنی ایک چیف جسٹس کی بحالی کے لئے دکھائی گئی۔ اس مضمون میں ان علماء پر افسوس کا اظہار کیا گیا جو خودکش حملوں کے خلاف فتویٰ دیتے ہیں لیکن امریکی ڈرون حملوں پر خاموش رہتے ہیں۔

محمد زاہد صدیق مغل کی خدمت میں گزارش ہے کہ یہی پاکستانی پارلیمینٹ تھی جس نے اس ریاست کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا، اسی پارلیمینٹ نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا اور اس پارلیمینٹ نے امریکی ڈرون حملوں کے خلاف متفقہ قرارداد بھی منظور کی لہٰذا آپ اس پارلیمینٹ اور پاکستانی عوام کو حربی کافروں کا ساتھی ثابت نہیں کرسکتے۔

یہ درست ہے کہ حکمران طبقے نے اس پارلیمینٹ کو اختیارات سے محروم کر رکھا ہے اور اس کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا لیکن حکمرانوں کے جرائم کی سزا عوام کو دینا کہیں کا اسلام نہیں ہے۔ اگر یہ ریاست طاغوتی قوتوں کی آلہ کار ہے تو پھر آپ نے اس ریاست کے ساتھ مل کر افغانستان میں روسی فوج کے خلاف جہادکیوں کیا؟ وہ جہاد تھا یا فساد؟

پریڈ لائن مسجد پر حملے سے اگلے روز کئی صحافیوں کو انور العلوقی کا ایک بیان بھجوایا گیا جس میں پاکستان، صومالیہ اور عرب ممالک کی افواج پر الزام لگایا گیا کہ یہ کافروں کی ساتھی ہیں اور ان فوجوں سے لڑنا اعلیٰ ترین جہاد ہے۔ انور العلوقی کی عمر 38 سال ہے۔ موصوف نے 11ستمبر 2001ء سے قبل یمنی حکومت کے خرچ پر امریکہ کی کورلوڈو یونیورسٹی سے انجینئرنگ میں بی ایس سی کیا اور اس دوران ایک مقامی مسجد میں نماز پڑھاتے رہے۔ پھر یمن واپس آگئے۔ اگست 2006ء میں القاعدہ سے تعلق کے الزام میں گرفتارہوئے اور بدترین تشدد کا نشانہ بنے۔ دسمبر 2007ء میں رہائی کے بعد مسلم ممالک کی حکومتوں کے خلاف جہاد کا درس دے رہے ہیں۔ مارچ 2009ء سے زیرزمین ہیں۔ پڑھے لکھے ضرور ہیں لیکن کسی مستند دینی ادارے کے فارغ التحصیل نہیں اور فتوے جاری کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔

خدانخواستہ انورالعلوقی کے کہنے پر پاکستانی قوم اپنی فوج کے خلاف اٹھ کھڑی ہو تو سب سے زیادہ خوشی بھارت اور اسرائیل کو ہوگی۔ انور العلوقی کے خیالات دراصل ان مسلمان نوجوانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں جو اپنے حکمرانوں سے خوش نہیں، یا جن پر جیلوں میں تشدد ہوا یا جو پاکستان کے قبائلی علاقوں، افغانستان، کشمیر، فلسطین یا عراق میں بمباری کا نشانہ بنے، انکے عزیز رشتہ دار مارے گئے اور اب یہ جہاد کے نام پر مسلمان فوجیوں اور ان کے بچوں کو مار رہے ہیں۔ میری ناقص رائے میں لال مسجد یا پریڈ لائن مسجد میں گھس کر بچوں کو مارنا کوئی جہاد نہیں صرف اور صرف انتقام یا پاگل پن ہے۔ اور اسلام کیلئے بدنامی کا باعث ہے۔

حالیہ خودکش حملوں سے یہ تو واضح ہے کہ طالبان اپنی جنگ جنوبی وزیرستان میں نہیں بلکہ پشاور، راولپنڈی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں لڑیں گے۔ یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہوگیا کہ جنوبی وزیرستان پرفوج کا کنٹرول قائم ہونے کے بعد خودکش حملے بند ہوجائیں گے۔ جنوبی وزیرستان کو مقبوضہ کشمیر بنانے کی سازش کامیاب ہوچکی ہے اس سازش کا مقابلہ کرنے کیلئے حکومت کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

قرآن پاک کی سورہ النساء میں کہا گیا کہ جو شخص کسی مسلمان کو قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ یہ آیت طالبان اور فوج دونوں کیلئے قابل غور ہے۔ سورة الحجرات میں کہا گیا کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ یہ آیت علمائے کرام کیلئے قابل غور ہے۔

صرف فتوے جاری کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ تمام مکاتب فکر کے علماء اور اہم سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر مربوط حکمت عملی بنائے اور ایک ایسا مصالحتی گروہ بنانے پر غور کرے جو مسلمانوں کے دو گروہوں میں لڑائی بند کرانے کا راستہ تلاش کرے کیونکہ مسلمانوں کے کئی دشمن اس لڑائی سے خوب فائدہ اٹھارہے ہیں۔ وزیر داخلہ رحمان ملک نے خودکش حملے کرنے والوں کو کرائے کے قاتل قرار دیا ہے۔ وہ قاتلوں کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن انکے کرائے ادا کرنیوالوں کا نام کیوں نہیں لیتے؟

پاکستان میں دہشت گردی اسی وقت رُکے گی جب ہم مساجد میں بچوں کو قتل کرنیوالوں کی مذمت کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں میں بے گناہ لوگوں کو مارنا بندکریں گے، ڈرون حملوں کے خلاف عملی طور پر اُٹھ کھڑے ہوں اور غیرملکی مداخلت مسترد کردیں۔ ہم قرآن کی پکار سن لیں تو ہماری اندرونی لڑائی ختم ہوجائے گی لیکن خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو آپس میں لڑنے والے دونوں گروہ آخرکار بیرونی دشمن کے نشانے پر ہوں گے۔

قرآن کی پکار .... قلم کمان ..... حامد میر
__________________



Last edited by کنعان; 08-12-09 at 03:01 AM..

 
کنعان's Avatar
کنعان
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,708 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 668
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
sahj (08-12-09), محمدخلیل (08-12-09), حیدر (11-12-09), حسنین ایوب (08-12-09), سحر (11-12-09), عامرشہزاد (08-12-09), عبداللہ آدم (18-02-10), عبداللہ حیدر (08-12-09)
پرانا 12-12-09, 10:22 PM   #31
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جو الزامات آپ نے رکھے، ان الزامات کو آپ سو گنا کرلیجئے۔ جی !

اب مڑ کر دیکھئے کہ اس قانون ساز اسمبلی کو منتخب کرنے والے کون ہیں؟ پاکستان کے عوام۔

چونکہ پاکستان کی قانون ساز اسمبلیوں کے نمائندگان عارضی ہوتے ہیں، عوام کو ہر پانچ سال بعد موقع ملتا ہے کہ ان کو تبدیل کردیں۔ تو پھر وہ کیا عناصر ہیں‌جس کی کمی ہے کہ درست لوگ منتخب نہیں ہوتے؟ یا پھر ہمارے عوام چننا ہی ایسے لوگوں کو چاہتے ہیں؟

جب تک بہتر قیادت میسر نہیں آتی، اسی قیادت سے کام چلانا پڑے گا۔ صورتحال کوئی بھی ہو، قانون سازی ایک آدمی کا اس لئے حق نہیں بنتی کہ وہ تعلیم یافتہ ہے۔ یہ اصول آج مسلمہ ہے ۔ قانون سازی کے حق کے لئے ضروری ہے کہ قانون ساز منتخب ہو اور قانون باقی عوام کے باہمی مشورے سے بنایا جائے۔ یہ وہ سوچیں ہیں جن سے کچھ پڑھے لکھے برادران و خواہران تو واقف ہیں لیکن سب لوگ نہیں ۔ آج بھی مفتی سے سند مانگتے ہیں فتوی لینے سے پہلے۔ (اشارہ راجہ اکرام کی طرف نہیں، بلکہ مذہبی طور پر متاثر عناصر کی طرف ہے)۔

حامد میر نے بھی لکھا ہے کہ اسی اسمبلی نے کیا کیا اچھے کام کئے ہیں۔

باقی رہ گئے ان کے جرائم تو اس کے لئے ثبوت فراہم کرکے عدالت میں گھسیٹنے میں جو رکاوٹیں ہیں۔ وہ رکاوٹیں دور کی جانی ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں بہتر لوگ آ سکیں۔ اور قیادت کو عدالت میں لے جایا جاسکے۔

آپ کی یہ بہتر سوچ ہی ایک بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ پاکستان کے بیشتر افراد اس بات کو سمجھتے ہیں۔ میں جب پاکستان کی قیادت کو دیکھتا ہوں تو یہ نظر آتا ہے کہ آج کی قیادت آج سے 30 اور 40 سال پہلے کی قیادت سے تھوڑی سی بہتر ہے۔ دعا ہے کہ یہ بہتر ی بڑھتی رہے۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-12-09, 12:16 AM   #32
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میری تحریر کو پرھتے وقت آپ کم از کم ایک بات کو ضرور مد نظر رکھا کریں کہ کسی بھی حالت میں قانون کو ہاتھ میں لینے کا قائل نہیں ہوں۔ کجا یہ کہ کوئی اسلامی قوانین کو خود نافذ کرنے کی کوشش کرے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اسلامی قوانین کا نفاذ خالصتا حکومت کی زمہ داری ہے نہ کہ کسی آدمی یا گروہ کی۔یہ وضاحت میں نے اس لیے کی تاکہ آپکو میرا یہ موقف کہ "موجودہ حکومت بہترین مقننہ نہیں ہے "اس تناظر میں نہ لےلیں کہ میں اس مقننہ کے خلاف بغاوت کو عام حالات میں جائز سمجھتا ہوں۔
اب رہی یہ بات کہ یہ الزامات ہیں ۔ تو جناب الزامات ہی ہوتے ہیں ۔ حق یا غلط کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہوتا ہے۔ اب ایسے میں کہ جب کسی پر الزام ہو اسکو چاہیے کہ وہ خود کو سامنے لانے کے بجائے (جب تک الزامات ختم نہیں ہوتے)کسی متبادل قیادت کو سامنے لائے نہ کہ خود ڈیرے جما کر بیٹھ جائے۔پیپلز پارٹی کے پاس بہت وسیع دامن ہے قیادت کا۔ کسی اور کو سونپ دیا جاتا عارضی طور پر یہ منصب۔

دوسری بات یہ کہ اگر آپ نے سیاسی سسٹم کا بغور مطالعہ کیاہو تو شاید آپکو معلوم ہو اکثر یت علاقوں میں لوگ پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے بلکہ شخصیت کو ووٹ دیتے ہیں۔ اور بد قسمتی سے پاکستان آج تک فیوڈل لارڈز کے چنگل سے نہیں نکل سکا۔ مثال لیجیے رحیم یار خان میں مخدوم احمد محمود اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ کیسے؟ جناب وہ ایک بہت بڑی ریاست کے فرمانروا ہیں۔ جہاں رعایا انکی بخشی ہوئی زمین پر کچے پکے مکان بنا کر رہتی ہے۔ اگر وہ انکو ووٹ نہ دیں گے تو مخدوم صاحب انکو جب چاہیں گھر سے بے گھر کر دیں۔یہی مثال روجھان مزاری کی ہے۔ تحصیل کا بہت بڑا حصہ ان مزاری سرداروں کی ملکیت ہے جہاں رعایا تنگی ترشی میں رہتی ہے (کبھی چکر لگانا میرے پاس میں دکھا دوں گا)کیا انکی کی جرات ہو سکتی ہے ان سرداروں کے خلاف کرنے کی؟
سردار فاروق خان لغاری، سردار آصف علی زرداری، قائم علی شاہ، فیصل صالح حیات، چوہدری برادران، وغیرہ سب اسی کیٹیگری کےلوگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اچھا کریں یا برا جیت جاتے ہیں۔ انکی ہار کے پیچھے انکی سیاسی غلطیوں کا ہاتھ ہوتا ہے نہ کہ انکی حکومتی حماقتوں کا۔کبھی آپ سیاست دانوں کا ڈیٹا بیس بنا کر چیک کر لیجیے گا کہ کتنے پرسنت ممبر اسمبلی یا تو سرداری نوابی سے تعلق رکھتے ہیں یا انکے پروردہ ہیں۔ آپ کو بخوبی سمجھ آ جائے گی کہ ہم (یعنی میں اور میرے ساتھی) جمہوریت کے خلاف نہیں بلکہ ان فیوڈل لارڈز کے خلاف ہیں ۔ مختاراں مائی کا کیس ہو یا بلوچ خواتین کو زندہ دفن کرنے کا، لڑکی پر کتے چھوڑنے کا کیس ہو یا ونی وگیرہ کے معاملات کا یہ تمام کے تمام اشارے اور انگلیاں فیودل لارڈز کی طرف اٹھتی ہیں۔

ان لوگوں نے جو بھی اچھے کام کیے وہ کسی نہ کسی دباؤ پر کیے۔ وگرنہ انکی خواہشات این آر او جیسے کالے قوانین پاس کروانے، غربت کی چکی میں پستے عوام پر مہنگائی اور ٹیکسز کا بم گرانے پر ہی توجہ مرکوز رہتی ہے۔مثال لیجیے دہشت گردی سے تباہ حال صوبہ سرحد کی اسمبلی کی۔ ان لوگوں نے ابھی تک کوئی مفید کام نہیں کیا۔ ہر کام پر شدید اختلافات ہوتے ہیں ۔ لیکن دو کام نہایت تیزی سے کیے۔ ایک صوبہ سرحد کا نام پشتونخواہ رکھنا (جس کا عوام کو کوئی فائدہ ہی نہیں)اور دوسرا حکومت سے یہ مطالبہ کرنا کہ چونکہ صوبہ کے حالات نہایت خراب ہیں اس لیے انکو رہایش کی غرض سے اسلام آباد دیفنس کے علاقے میں رہائش دی جائے۔اور اسکی باری سب نے یک سو یک زبان ہو کر تائید کی۔ نہ کوئی سیکولر رہا نہ کوئی ملا۔ سبھی ایک ہی حمام میں ننگے ہو گئے۔
کیا یہ مطالبہ کرتے وقت انہوں نے یہ ثابت نہیں کر دیا کہ وہ عوام کے منتخب نمائیندے ہیں ہی نہیں۔

آخر میں آپکو مزے کی بات بتاتا چلوں،پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی میں اللہ واسطے کا بیر سمجھا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ بی بی سی کے نمائیندے نے ان کے سابقی امیر پروفیسر غفور احمد سے انٹرویو لیتے ہوئے بھٹو صاحب کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ انکو جو مرضی کہ لو کہ وہ فاشسٹ تھے وہ یہ تھے اور وہ تھے لیکن ایک الزام ان پر کسی کو لگانے کی جرات نہ ہوئی اور وہ تھا کرپشن کا الزام۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (13-12-09), فاروق سرورخان (13-12-09), منتظمین (13-12-09), سحر (13-12-09)
پرانا 13-12-09, 12:18 AM   #33
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں نے اپنا موقف اتنا تفسیلی اس لیے بیان کیاہے تاکہ کسی کے دل میں یہ شک و شبہ نہ رہے کہ میں جمہوریت یا شورائی نظام کے خلاف ہوں۔ میں یہ سمجتا ہوں کہ ہر نطام کی طرح اس میں خامیاں ضرور ہیں لیکن بجائے نظام کو لپیت کر نیا تجربہ کرنے کے اسی کی خامیوں کو دور کرنا چاہیے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
پولیس, پاکستان, پاکستانی, پاگل, قرآن, لوگ, نماز, میناروں, مقابلہ, منافقین, اقوام متحدہ, الزام, امیر, امریکہ, اسلام, اسلامی, اعلیٰ, بچوں, تلاش, خودکش, دھماکہ, راستہ, طالبان, عبادت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:41 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger