| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 12 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | bas_tera_intazar (02-02-09), shafresha (03-09-09), وجدان (08-07-08), نیلم خان (31-08-09), موجو (30-07-09), ملک بھائی (31-08-09), yashaka (06-05-09), ابن جلال (07-01-09), رضی (10-06-09), شاہد جمیل حفیظ (10-10-08), طارق راحیل (30-05-10), عُکاشہ (01-07-08) |
|
|
#91 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#92 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ نے امريکی فوجيوں کی بدسلوکی کے حوالے سے جن ويڈيوز کا لنک ديا ہے ان ميں سے جن ويڈيوز کی تصديق ہو گئ ہے ان ميں ذمہ دار فوجيوں کے خلاف امريکی فوجی قوانين کی روشنی ميں کاروائ کی گئ ہے۔
اس حوالے سے ايک بات واضح کر دوں کہ امريکی فوجيوں کے طرز عمل کے حوالے سے فوجی قوانين موجود ہيں اور ضابطے کے مطابق ان پر سختی سے عمل کيا جاتا ہے۔ انٹرنيٹ پر جن ويڈيوز کا آپ نے ذکر کيا ہے اس ميں زيادہ ترويڈيوز خود امريکی فوجيوں نے بنائ ہيں۔ ايسی کئ مثاليں موجود ہيں جن ميں امريکی فوجيوں نے اپنے کسی ساتھی کے غلط طرزعمل کی رپورٹ کی اور تصديق شدہ ثبوتوں کی روشنی ميں ان کے خلاف باقاعدہ کاروائ کی گئ۔ کسی دوست نے يہ الزام بھی لگايا کہ امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ ان ويڈيوز کو مختلف ويب سائٹس سے ہٹانے کے ليے اپنا اثرورسوخ استعمال کر رہا ہے۔ آپ اور ميں اچھی طرح سے جانتے ہيں کہ انٹرنيٹ ايک ايسا ميڈيم ہے جس پر کسی بھی کسی قسم کے مواد پر نا تو پابندی لگائ جا سکتی ہے اور نا ہی اسے کنٹرول کيا جا سکتا ہے۔ اگر ايسا ممکن ہوتا تو يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کو ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے ذريعے اپنا موقف پيش کرنے کی کيا ضرورت ہے۔ اگر انٹرنيٹ پر مواد کو کنٹرول کرنا ہی پاليسی ہوتی تو پھر تو تمام تر" امريکہ مخالف" مواد کو ہٹا ديا جاتا۔ يہ کيسی منطق ہے کہ کچھ ويڈيوز پر پابندی لگا دی جاۓ اور باقی ويڈيوز جو کہ وہی پیغام دے رہی ہيں، ان کی تشہير کی کھلی اجازت دے دی جاۓ۔ پچھلے ہفتے امريکی فوجی کے ہاتھوں ايک کتے کے ساتھ بدسلوکی کی جو ويڈيو آپ نے اپنے فورم پر پوسٹ کی ہے، وہ بھی باقی ويڈيوز کی طرح امريکی حکومت کے علم ميں لائ گئ ہے۔ ميں اس ميٹينگ کا عينی شاہد ہوں جس ميں اس ويڈيو کا ذکر کيا گيا۔ اس ليے يہ کہنا کہ اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ اس ويڈيو کو انٹرنيٹ سے "غائب" کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حقيقت پر مبنی نہيں ہے۔ اس حوالے سے امريکی فوج کی ايک سرکاری ای ميل کا حصہ پيش خدمت ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ اس قسم کی ويڈيوز پر پردہ ڈالنے کی کوشش نہيں کرتا بلکہ مناسب تحقيق کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائ کی پاليسی پر عمل کرتا ہے۔ Release # 0304-08-1247 MARINE CORPS BASE HAWAII, Oahu -- The video of a Marine mistreating a puppy gained widespread attention on the internet yesterday. The video is shocking and deplorable and is contrary to the high standards the Marine Corps expects of every Marine. The video came to the Marine Corps' attention early Monday morning and has prompted an investigation. The Marine Corps does not tolerate this type of behavior and will take appropriate action. The vast majority of Marines conduct themselves in an honorable manner that brings great credit upon the Marine Corps and the United States. There have been numerous stories of Marines adopting pets and bringing them home from Iraq or helping to arrange life-saving medical care for Iraqi children. These are the stories that exemplify what the Marine Corps stands for and how most Marines behave. فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
|
|
#93 |
|
محسن
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 36
مراسلات: 1,489
کمائي: 10,968
شکریہ: 280
495 مراسلہ میں 1,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یار مجھے تو تم لوگوں کی سمجھ نہیں آرہی کہ کیوں فالتو ٹائم ضائع کر رہے فواد صاحب کو منانے میں۔
چھوڑو کوئی اور کام کرو۔ ادھر کوے سفید ہی ملیں گے آپ کو |
|
|
|
|
|
#94 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
ارے جناب یہ تو اردو کا ایک بڑا موضوع بن گیا ہے، مبارک ہو منتظیمین بھائی وسلام |
|
|
|
|
|
#95 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گوانتاناموبے – کچھ مزيد حقائق
کچھ ہفتے پہلے ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم نے گوانتاناموبے کا دورہ کيا تھا اور ہم نے اپنے مشاہدات مختلف فورمز پر پيش کيے تھے۔ ليکن اس حوالے سے سوالات کا ايک لامتناہی سلسلہ ہے جو صرف اردو فورمز تک محدود نہيں ہے بلکہ عربی اور فارسی فورمز پر بھی اس حوالے سے بے شمار سوالات کيے جاتے ہيں۔ ميں جانتا ہوں کہ گوانتاناموبے کے بارے ميں منفی تاثر بہت مضبوط ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے دورے سے پہلے خود ميرے ذہن ميں بھی بے شمار سوالات تھے۔ ليکن جو حقائق آپ اپنی آنکھوں سے ديکھ چکے ہوں انھيں نظرانداز نہيں کيا جا سکتا۔ يہ بھی حقيقت ہے کہ کسی بھی موضوع پر راۓ قائم کرنے کے ليے ضروری ہے کہ آپ دونوں طرف کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کريں۔ کچھ دن پہلےآج ٹی وی پر ايک پروگرام ديکھنے کا اتفاق ہوا جس ميں "گم شدہ افراد" کے عنوان سے گفتگو کی گئ۔ اس پروگرام ميں پچھلے چند سالوں ميں دہشت گردی کے الزام ميں مبينہ طور پر امريکہ کے ايما پر ايجنسيوں کے کردار پر گفتگو کی گئ۔ اس حوالے سے کئ بار گوانتاناموبے کا ذکر آيا اور يہ تاثر ديا گيا کا وہاں پر سينکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد ميں پاکستانی جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہے ہيں۔ اس تاثر کو مضبوط کرنے کے ليے "بليک ہول" کا لفظ بھی استعمال کيا گيا جس سے يہ باور کرانے کی کوشش کی گئ کہ گوانتاناموبے ميں قيد پاکستانيوں کے بارے ميں کسی کو کچھ معلوم نہيں کہ وہ کون ہيں، ان کے ساتھ کيا سلوک کيا جا رہا ہے اور ان کا مستقبل کيا ہو گا۔ آپ کی اطلاع کے ليے عرض ہے کہ گوانتاناموبے ميں موجود قيديوں کی مکمل فہرست متعلقہ ممالک کی حکومتوں کو تمام تر کوائف کے ساتھ مہيا کی گئ ہے۔ يہی نہيں بلکہ بہت سی متعلقہ حکومتوں کے ترجمان گوانتاناموبے کا دورہ بھی کر چکے ہيں۔ يہ فہرست آپ بھی اس لنک پر پڑھ سکتے ہيں۔ http://www.dod.mil/pubs/foi/detainee...e15May2006.pdf اس ميں قيديوں کے نام، ان کی عمريں اور شہريت بھی موجود ہيں۔ يہ وضاحت بھی کرتا چلوں کہ اس وقت گوانتاناموبے ميں قريب 280 قيدی باقی رہ گۓ ہيں جن ميں پاکستانی قيدی دس سے بھی کم ہيں۔ مجموعی طور پر پاکستانی قيديوں کی تعداد 70 کے قريب تھی۔ گوانتاناموبے ميں قيديوں کے ساتھ غيرانسانی سلوک؟ انٹرنيٹ پر موجود چند سال پرانی تصاوير کا حوالہ بار بار ديا جاتا ہے۔ ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم نے گوانتانومےبے پہنچ کر سب سے پہلا سوال اسی حوالے سے کيا تھا۔ ہميں وہ جگہ بھی دکھائ گئ جہاں پر يہ تصاوير لی گئ تھيں۔ آج سے چھ سال پہلے جب دہشت گردی کے الزام ميں ان قيديوں کو يہاں منتقل کيا گيا تھا اس وقت يہاں پر جيل کی عمارت،سيکيورٹی اور رہائش کے انتظامات ابتدائ مرحلے پر تھے۔ اس وقت يہ بھی واضح نہيں تھا کہ ان کی کتنی تعداد يہاں پر قيد رہے گی اور انکی گروہ بندی کيسے کی جائ گی۔ قيديوں کی ترسيل اور انھيں محتلف عمارات کے درميان منتقل کرنے کے مرحلے ميں ايک کھلے ميدان ميں جمع کيا جاتا تھا جس کے دوران وہ صورت حال سامنے آئ جو آپ نے ان تصاوير ميں ديکھی۔ ليکن يہ اقدامات صرف قيديوں کو منتقل کرنے کے دوران کيے جاتے تھے۔ يہاں پر يہ بھی واضح کر دوں کہ جو تصاوير انٹرنيٹ پر موجود ہيں وہ کسی صحافی نے نہيں لی تھيں بلکہ وہاں پر موجود فوجيوں نےخود لي تھيں تاکہ متعلقہ اہلکاروں کو وہاں پر عمارت کی توسيع اور سيکیورٹی کے دائرہ کار ميں اضافے کی ضرورت سے آگاہ کيا جا سکے۔ يہ صورت حال جنوری 2002 سے اپريل 2002 تک رہی جس کے دوران قيديوں کے منہ پر کپڑا چڑھا کر انھيں ايک ٹرالی ميں ڈال کر ايک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کيا جاتا رہا۔ گوانتاناموبے ميں سب سے پہلا قيدی کيمپ ايکس رے ميں 11 جنوری 2002 کو لايا گيا۔ اس وقت ايک ملٹری کيمرہ مين کو يہ ذمہ داری سونپی گئ کہ وہ قيديوں کی ترسيل کے مراحل کی دستاويز تيار کرے۔ اس کيمرہ مين نے جو تصاوير لی تھيں، انھيں پينٹا گون نے خود ريليز کيا تھا۔ ان تصاوير کو سب سے پہلے ميامی ہيرلڈ نے اپنی 11 جنوری 2002 کی اشاعت ميں شائع کيا تھا۔ يہ وہی تصاوير ہيں جو بعد ميں انٹرنيٹ پر ہم سب نے ديکھی تھيں۔ ميامی ہيرالڈ کی 11 جنوری 2002 کی اشاعت اور قيديوں کے پہلے گروپ کی گوانتاناموبے ميں آمد کے بارے ميں رپورٹ پيش ہے http://www.miamiherald.com/924/galle....html?number=0 http://video.ap.org/v/Legacy.aspx?g=...g=copy&f=flmih http://www.miamiherald.com/guantanam...ry/279932.html اپريل 2002 ميں اس سارے علاقے کے گرد ايک خاردار جنگلہ لگا کر سيکورٹی کا دائرہ کار بڑھا ديا گيا۔ يہی وجہ ہے کہ جن تصاوير کا ذکر کيا جاتا ہے وہ اپريل 2002 سے پہلے کی ہيں۔ اس ويب لنک پر آپ کيمپ ايکس – رے کی موجودہ صورت حال ديکھ سکتے ہيں۔ يہ وہی جگہ ہے جہاں پر يہ تصاوير لی گئ تھيں۔ http://www.jtfgtmo.southcom.mil/vvvintro.html ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم نے گوانتاناموبے ميں 44 گھنٹے قيام کيا تھا۔ اس دوران ہماری ٹيم نے وہاں پر تصاوير بھی بنائيں اور ويڈيو فلم بھی بنائ اور وہاں پر تعنيات فوجی اہلکاروں سے بات چيت بھی کی اور ان تمام سہوليات کا ازخود مشاہدہ کيا جن کا ذکر ميں نے اپنی پوسٹ ميں کيا تھا۔ اس کے علاوہ عالمی ريڈکراس اور کئ نشرياتی اداروں کی ٹيميں وہاں کے سينکڑوں دورے کر چکی ہيں۔ آپ کی اطلاع کے ليے يہ بتا دوں کہ اس وقت امريکی سپريم کورٹ ( جو کہ امریکہ ميں قانون کا سب سے اعلی ادارہ ہے) سميت بہت سی عدالتوں ميں ايسے کئ کيس زير سماعت ہيں جن کی رو سے ان قيديوں کے قانونی حقوق کا تعين کيا جاۓ گا۔ اس کے علاوہ اگلے چند ہفتوں ميں امريکی ملٹری ججز گوانتاناموبے کے قيديوں کے خلاف پيش کيے جانے والے مقدموں پر کاروائ کريں گے۔ ان قيديوں کی جانب سےوکيل بھی مقرر کيے جائيں گے۔ اور عدالت کی کاروائ ديکھنے کے ليے غير جانب دار افراد کی ايک ٹيم بھی موجود ہو گی۔ ايک بات اور، ہماری جتنے بھی اہلکاروں سے بات چيت ہوئ ان سب نے اسی خواہش کا اظہار کيا کہ جتنی جلدی ممکن ہو ان قيديوں کے مستقبل کا فيصلہ ہو جانا چاہيے تاکہ اس قيد خانے کو بند کيا جا سکے۔ اس حوالے سے بے شمار آئينی اور قانونی عوامل پر امريکی حکومتی ادارے سرگرم عمل ہيں۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov |
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (21-09-08) |
|
|
#96 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
عمر: 25
مراسلات: 1,247
کمائي: 81,354
شکریہ: 1,023
782 مراسلہ میں 1,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
Fawwad Sahab aap se aik sawwal karna tha woh yeh aap ne cuba main khaid lago ki list di hai kia aap batayein gaye unne kis ilzaam main khaid kia huwa hai aap ke jawab ka muntazir rahe hoon ga
Last edited by مزمل فاروق; 21-03-08 at 07:49 PM. |
|
|
|
|
|
#97 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
عمر: 25
مراسلات: 1,247
کمائي: 81,354
شکریہ: 1,023
782 مراسلہ میں 1,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
aik buhat intresting cheez iss list ke baaray mian share karna chahta hoon likkin phele fawwad shaab ke reply ka intizar hai ?
|
|
|
|
|
|
#98 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کچھ دوستوں کی جانب سے گوانتاناموبے ميں موجود قيديوں پرلگاۓ جانے والے الزامات کے حوالے سے سوالات اٹھاۓ گۓ ہيں۔ 11 فروری 2008 کو گوانتاناموبے ميں قيد 6 ملزمان کے خلاف امريکی حکومت کی جانب سے باقاعدہ چارج شيٹ جاری کی گئ جس کی بنياد پر گوانتاناموبے کے قيديوں کے خلاف مقدمے کا آغاز کيا جاۓ گا۔
يہ چارج شيٹ اس مرحلہ وار قانونی عمل کی پہلی کڑی ہے جس کے تحت گوانتاناموبے ميں موجود تمام قيديوں کے مستقبل کا فيصلہ کيا جاۓ گا۔ ميں نے اس چارج شيٹ کی کاپی امريکی حکومت کے متعلقہ دفتر سے حاصل کی ہے جو يہاں پيش کر رہا ہوں۔ ميری آپ سے درخواست ہے کہ گوانتاناموبے کے قيديوں کے بارے ميں راۓ قائم کرنے سے پہلے اس چارج شيٹ کو ايک دفعہ ضرور پڑھ ليں۔ http://www.mediafire.com/?zvjd2gyxj00 فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov |
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (21-09-08) |
|
|
#99 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ميں نے اسی فورم پر شايد ايک مرتبہ يہ کہا تھا کہ 11/9 کے حوالے سے ميں اب تک 122 دستاويزی فلميں ديکھ چکا ہوں جس ميں اس واقعے کے بارے ميں ہر قسم کی سازش کے دعوی سے بخوبی واقف ہوں۔ اس موضوع پر ميں نے جب بھی کسی اردو فورم پر راۓ کا اظہار کيا ہے تو دوستوں نے اس کے جواب ميں مجھے ہر طرح کی دستاويز اور ويڈيو لنکس بيجھے ہيں۔ سب سے بڑا مسلہ يہ ہے کہ جو لوگ اس واقعے کو سازش قرار ديتے ہيں ان کی ساری تحقيق اور جستجو اسی نقطہ نظر پر مرکوز ہوتی ہے۔ وہ ہميشہ اس مواد کو دانستہ نظرانداز کرتے ہيں جس ميں اعداد و شمار اور سائنسی تحقيق کی روشنی ميں ہر سوال کا جواب ديا گيا ہے۔ ويسے تو اس فورم پر اٹھاۓ جانے والے ہر سوال کا جواب تحقيق کی روشنی ميں ديا جا سکتا ہے۔ ليکن اس کے ليے تو کئ کتابيں لکھنی پڑھيں گی۔ ليکن ميں پھر بھی کچھ سوالات کا جواب ضرور دوں گا۔ ايک سوال جو ميں نے قريب ہر اردو فورم پر ديکھا ہے وہ يہ ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے دن 4000 يہودی غير حاضر کيوں تھے؟ ان کی غير حاضری اس بات کا ثبوت ہے کہ يہ يہودی سازش ہے۔ ويسے آپ کے ليے يہ بات دلچسپی کا باعث ہو گی کہ کچھ يہوديوں کی جانب سے ميں يہ الزام مختلف ويب سائٹس پر پڑھ چکا ہوں کہ 11 ستمبر 2001 کے دن نيويارک ميں بيشتر مسلمان ٹيکسی ڈرائيورز چھٹی پر تھے کيونکہ انھيں اس واقعے کی اطلاع دے دی گئ تھی۔ ميرے نزديک دونوں ہی باتيں مضحکہ خيز ہيں۔ ميں اس حوالے سے جلد ہی آپ کو کچھ اعدادوشمار پيش کروں گا جو آپ کو حقيقت سمجھنے ميں مدد ديں گے۔ ويسے اس حوالے سے ميرا بھی ايک سوال ہے۔ کيا پچھلے 50 يا 60 سالوں ميں کوئ بھی ايسا واقعہ ہے جس کے بارے ميں "سازش" کے دعوے دار نہ ہوں۔ وہ چاہے شہزادی ڈيانا کی موت کا واقعہ ہو يا انسان کا چاند پر پہلا قدم۔ آپ کو انٹرنيٹ پرہر "سازش" کا ثبوت مل جاۓ گا۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (21-09-08) |
|
|
#100 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
11 ستمبر 2001 – 4000 گمشدہ يہوديوں کا معمہ
11 ستمبر 2001 کے واقعے کے بعد يہ افواہ گردش کرنے لگی کہ اس دن 4000 يہودی کام پر نہيں آۓ۔ جس سے اس تاثر کو تقويت ملی کہ اس حادثے کے پيچھے اسرائيل کی خفيہ ايجينسيوں اور امريکی حکومت کا ہاتھ تھا۔ سب سے پہلے اس بات کا ذکر حزب الللہ کے ٹی – وی نيٹ ورک ال منار پر 17 ستمبر 2001 کو کيا گيا۔ ٹی – وی پر ايک خبر چلائ گئ جس ميں يہ دعوی کيا گيا کہ 4000 يہودی معجزانہ طور پر ورلڈ ٹريڈ سينٹر سے غير حاضر رہے۔ يہوديوں کی اس تعداد کا حوالہ ايک اداريے سے ليا گيا تھا جس کا عنوان تھا "11 ستمبر کے واقعے ميں سينکڑوں اسرائيلوں کی گمشدگی"۔ يہ اداريہ جيروسلم پوسٹ کے 12 ستمبر 2001 کے انٹرنيٹ ايڈيشن ميں شائع کيا گيا تھا۔ اس اداريے کے مطابق "جيروسلم کے دفتر خارجہ کو اب تک 4000 اسرائيلوں کے نام موصول ہوۓ ہيں جو حملے کے وقت پينٹاگون اور ورلڈ ٹريڈ سينٹر کے آس پاس موجود تھے"۔ يہ اداريہ آپ اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہيں۔ http://www.fpp.co.uk/online/02/10/JerusPost120901.html المنار ٹی- وی نے اس خبر کو اس طرح سے شائع کيا کہ اس کا سياق وسباق ہی تبديل ہو گيا۔ اور اس خبر نے ايک افواہ کی شکل اختيار کر لی۔ 11 ستمبر 2001 کو ہلاک ہونے والے افراد ميں سے ورلڈ ٹريڈ سينٹر ميں کام کرنے والے افراد 2071 تھے۔ 11 اکتوبر 2001 کو وال اسٹريٹ جرنل ميں شائع ہونے والے ايک اداريے کے مطابق قريب 1700 افراد نے اپنا مذہب رجسٹر کروايا تھا جس ميں سے 10 فيصد يہودی تھے۔ 5 ستمبر 2002 کو ماہنامہ جيوش کے ايک اداريے کے مطابق "نيويارک ٹائمز نے مرنے والے افراد کے جو نام اور ديگر اعداد وشمار حاصل کيے ہيں اس کے مطابق قريب 400 يہودی اس حادثے ميں ہلاک ہوۓ۔" اس حساب سے 11 ستمبر 2001 کو ہلاک شدگان ميں 15 فيصد يہودی شامل تھے۔ کينٹر فٹزجيرلڈ نامی صرف ايک کمپنی کے 658 ميں سے 390 ملازمين اس حادثے ميں مارے گۓ جس ميں سے 49 يہودی تھے، جس کا تناسب 12 سے 13 فيصد بنتا ہے۔ ان 49 ملازمين کے نام اور انکی آخری رسومات کہاں ادا کی گئيں اسکی تفصيلات اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہيں۔ http://myfriendsphotos.tripod.com/cf.html 2002 ميں نيويارک کی مجموعی آبادی ميں يہودی آبادی کا تناسب 12 فيصد تھا۔ ورلڈ ٹريڈ سينٹر ميں 10 سے 15 فيصد يہوديوں کی ہلاکت عددی اعتبار سے نيورک ميں مقيم يہودی آبادی کے تناسب کے عين مطابق ہے۔ ورلڈ ٹريڈ سينٹر کے ہلاک شدگان ميں 76 يہودی ايسے تھے جو عمارت کے ان حصوں ميں کام کرتے تھے جہاں پر ہوائ جہاز ٹکرايا تھا۔ اس ميں کينٹر فٹزجيرلڈ کے علاوہ مارش اينڈ مکلينن کے 295 اور اون کارپوريشن کے 176 ملازمين لقمہ اجل بنے۔ ان ہلاک شدگان ميں سے بيشتر کی تصاوير اور ذاتی کوائف آپ اس ويب لنک پو ديکھ سکتے ہيں۔ http://www.september11victims.com/se...ctims_list.htm "4000 يہوديوں کا معمہ" ان سينکڑوں بلکہ ہزاروں "سازشی داستانوں" ميں سے ايک ہے جو 11 ستمبر 2001 کے حوالے سے انٹرنيٹ پر موجود ہيں۔ جيسا کہ ميں نے پہلے کہا کہ اگر ہر الزام کا جواب دينے کی کوشش کی جاۓ تو اس کے ليے تو کئ کتابيں لکھی جا سکتی ہيں۔ ليکن حقيقت يہی ہے کہ اس حادثے کے حوالے سے اٹھاۓ جانے والے ہر سوال کا جواب سائنسی تحقيق اور اعداد وشمار کی روشنی ميں ديا جا سکتا ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (21-09-08) |
|
|
#101 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
11 ستمبر 2001 کے حوالے سے بے شمار مفروضے انٹرنيٹ پر موجود ہيں جن ميں سے کچھ تو اتنے غير منطقی ہيں کہ ان کو کسی سنجيدہ گفتگو کا حصہ نہيں بنايا جا سکتا۔ حيران کن بات يہ ہے يہ تمام مفروضے اور قياس آرائياں ايک ايسے واقعے کے بارے ميں ہيں جو دن کی روشنی ميں دنيا کے گنجان ترين شہر ميں ہزاروں افراد کی آنکھوں کے سامنے پيش آيا۔ درجنوں نشرياتی اداروں نے اس سارے واقعے کو کيمرے کی آنکھ ميں محفوظ کيا اور جسے کروڑوں لوگوں نے دنيا بھر ميں براہراست ديکھا۔ اس واقعے ميں ہزاروں لوگوں ہلاک ہوۓ جن کا تعلق بے شمار قوموں اور مذاہب سے تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لے کر تحقيقی کميشن کے قيام تک سينکڑوں سرکاری اور غير سرکاری اداروں کے ہزاروں ماہرين اور اہلکار کسی نہ کسی حيثيت ميں اس واقعے کی تحقيق سے منسلک رہے۔ يہ کسی جادوگر کی شعبدہ بازی نہيں تھی جو چند لوگوں کے سامنے ہاتھ کی صفائ دکھاتا ہے۔ 11 ستمبر کے حوالے سے ہزاروں سوالات مجھ سے اردو فورمز پر کيے جاتے ہيں ليکن ميں چند اہم سوالات کے حوالے سے سائنسی تحقيق کی روشنی ميں باری باری بات کروں گا جو واقعی جواب طلب ہيں۔
کيا ورلڈ ٹريڈ سينٹر کی عمارات کو پہلے سے نصب شدہ ڈائنامايٹ کے ذريعے زمين بوس کيا گيا؟ امريکہ کے نيشنل انسٹيوٹ آف سٹينڈر اينڈ ٹيکنالوجی نے قريب تين سالوں تک سائنسی بنيادوں پر اس بات کی تحقيق کی تھی کہ ان عمارات کے گرنے ميں کيا عوامل شامل تھے۔ اس ادارے کے 200 ماہرين جن ميں 85 نيشنل انسٹيوٹ آف سٹينڈر اينڈ ٹيکنالوجی کے اپنے اور 125 ماہرين مختلف نجی اور تعليمی اداروں سے ليے گۓ۔ ان ماہرين نے ہزاروں دستاويزات کو اپنی تحقيق ميں شامل کيا۔ اس کے علاوہ ايک ہزار سے زائد لوگوں سے انٹرويو کيا گيا۔ قريب 7000 سے زائد تصاوير اور فلمی مواد کا مطالعہ کيا گيا۔ ملبے سے حاصل کردہ 236 ٹن سٹيل کو بھی اس تحقيق ميں شامل کيا گيا۔ 11 ستمبر 2001 کے حوالے سے بے شمار دستاويزی فلموں ميں مختلف خستہ حال اور بوسيدہ عمارات کو ڈائنامايٹ کے ذريعے دانستہ منعدم کرنے کے مناظر دکھاۓ گۓ ہيں اور ان مناظر کے ساتھ ورلڈ ٹريڈ سينٹر کی عمارات کو زمين بوس ہوتے دکھايا جاتا ہے اور يہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان دونوں ميں مماثلت يہ ثابت کرتی ہے کہ ورلڈ ٹريڈ سينٹر ميں پہلے سے ڈائاناميٹ نصب تھے۔ سب سے پہلی بات تو يہ ہے کہ جب عمارات کو منہدم کرنے کے ليے ڈائنامايٹ لگاۓ جاتے ہيں تو دھماکوں کا سلسلہ ہميشہ عمارت کی سب سے نچلی منزل سے شروع ہو کر بالائ منزل کی طرف جاتا ہے جبکہ ورلڈ ٹريڈ سينٹر کی عمارات اوپر سے نيچے کی جانب منعدم ہوئيں۔ " ڈائنامايٹ تھيوری" کے حوالے سے سب سے اہم نقطہ جو ہميشہ نظر انداز کيا جاتا ہے وہ يہ ہے کہ دونوں عمارات کی توڑ پھوڑ اور گرنے کا عمل کہاں سے شروع ہوا؟ ورلڈ ٹريڈ سينٹر کی پہلی عمارت (ڈبليو – ٹی – سی 1) کی 98 ويں منزل پر جہاز ٹکرايا تھا۔ اسی طرح دوسری عمارت (ڈبليو – ٹی – سی 2) کی 82 ويں منزل پر جہاز سے حملہ کيا گيا تھا۔ اگر آپ دونوں عمارات کے گرنے سے کچھ دير پہلے کے مناظر دوبارہ ديکھيں تو يہ واضح ہے کہ دونوں عمارات کی ٹوٹ پھوٹ اور گرنے کا عمل عين انھی منازل سے شروع ہوا جہاں پر جہاز ٹکراۓ تھے۔ يہ تصوير اس بات کا ثبوت ہے۔ http://img204.imageshack.us/my.php?i...ollapsejk9.jpg اگر ان عمارات کو ڈائنامايٹ کی مدد سے گرايا گيا تھا تو ايسا صرف دو صورتوں ميں ممکن ہے۔ 1۔ (ڈبليو – ٹی – سی 1) کی 98 ويں منزل اور (ڈبليو – ٹی – سی 2) کی 82 ويں منزل پرجہازوں کے ٹکرانے سے پہلے ہی وہاں ڈائنامايٹ نصب تھے۔ يہ مفروضہ اس ليے ناکام ہو جاتا ہے کہ ايسی صورت ميں 98 ويں اور 82 ويں منازل ميں نصب ڈائنامايٹ جہازوں کے ٹکراتے ہی تباہ ہو جاتے اور عمارات کے گرنے کا عمل فوری شروع ہو جاتا۔ ليکن ايسا نہيں ہوا بلکہ حقيقت يہ ہے کہ پہلی عمارت 102 منٹ اور دوسری عمارت 56 منٹ کے بعد منعدم ہونا شروع ہوئ۔ 2۔ دوسری صورت يہ ہے کہ دونوں عمارات ميں جہازوں کے ٹکرانے کے بعد ڈائنامايٹ لگاۓ گۓ۔ مگر يہ ناممکن ہے کيونکہ جہازوں کے ٹکرانے کے بعد 98 ويں اور 82 ويں منازل پر درجہ حرارت 2000 سينٹی گريٹ سے زيادہ ہو چکا تھا اس ليے وہاں تک رسائ ناممکن تھی۔ اس کے علاوہ 56 منٹ اور 102 منٹ کے عرصے ميں ڈائنامايٹ نصب کرنے جيسا پيچيدہ عمل ممکن نہيں ہے۔ سوال يہ ہے کہ اگر ان عمارات کو ڈائنامايٹ سے گرايا گيا تو پھر ان کے گرنے کا عمل عين اس مقام سے کيوں شروع ہوا جہاں جہاز ٹکراۓ تھے ؟ ورلڈ ٹريڈ سينٹر کو دنيا کے سب سے مصروف ترين کاروباری مرکز کی حيثيت حاصل تھی جس ميں سينکڑوں کی تعداد ميں کمپنيوں کے دفاتر تھے۔ کسی بھی عمارت کو ڈائنامايٹ سے تباہ کرنے کے ليے ضروری ہوتا ہے کہ اس عمارت کی ديواروں کے اندر ڈائناميٹس کا ايک نيٹ ورک بچھايا جاۓ۔ اس مقصد کے ليے عمارت ميں موجود پلمبنگ، مواصلات اور برقی نظام بند کرنا پڑتا ہے۔ اتنے بڑے پيمانے پر سارے سسٹم کو لوگوں کی نظروں ميں لاۓ بغير معطل کرنا ناممکن ہے۔ " ڈائنامايٹ تھيوری" کے ثبوت کے طور پر ايک اور دليل يہ جاتی ہے کہ دونوں عمارات کے گرنے کے دوران مختلف کھڑکيوں سے سفيد دھواں نکلتے صاف ديکھا جا سکتا ہے جس سے ان عمارات میں دھماکہ خيز مواد کی موجودگی ثابت ہوتی ہے۔ اس سوال کا مفصل جواب پروٹيک نامی ايک ادارے نے اپنی رپورٹ ميں ديا تھا۔ کمزور اور غير مستحکم عمارات کو ڈائنامايٹ سے منعدم کرنے کی فيلڈ ميں پروٹيک دنيا کا سب سے بڑا اور قابل اعتماد ادارہ ہے۔ اس ادارے کے ماہرين اور ان کی تکنيکی معلومات کا ذخيرہ سند کا درجہ رکھتے ہيں۔ اس ادارے کے ماہرين 30 سے زيادہ ممالک ميں 1000 سے زائد عمارات کو منعدم کرنے کا وسيع تجربہ رکھتے ہيں۔ اس فيلڈ کے حوالے سے سارے ورلڈ ريکارڈ اسی ادارے کے پاس ہيں۔ صرف يہی نہیں بلکہ پروٹيک کے ماہرين 20 سے زائد امريکی کمپنيوں کو تکنيکی معلومات اور دستاويز بھی فراہم کرتے ہيں۔ پروٹيک کے ماہرين کے مطابق کسی بھی ايسی عمارت کے اندر جس ميں انسان مکين ہوں 70 فيصد ہوا اور 30 فيصد ديگر مواد ہوتا ہے جس ميں فرنيچر، اسٹيل، پلاسٹک اور پائپ وغيرہ شامل ہيں۔ عمارت کے گرنے کے عمل کے دوران اس 70 فيصد ہوا کے اخراج کے ليے دباؤ شدت اختيار کر جاتا ہے۔ کشش ثقل کی قوت کے باعث جب عمارت کا حجم نيچے کی جانب سفر کرتا ہے تو ہوا اپنے اخراج کے ليے ان مقامات پر دباؤ بڑھاتی ہے جہاں کم سے کم مزاحمت ہو جيسے کہ کھڑکياں، دروازے اور ان ميں لگا ہوا شيشہ۔ ہوا کے اخراج کے اس عمل ميں لکڑی، سٹيل اور پلاسٹک پر مشتمل بے شمار مواد بھی شامل تھا جو ان دفاتر میں موجود تھا۔ "ڈائنامايٹ تھيوری" کی نفی کے ليے سب سے بڑا ثبوت خود پروٹيک نے فراہم کيا اور اس کی تصديق کولمبيا يونيورسٹی کے زمينی مشاہدات کے ادارے ايمونٹ ڈورتھی نے کی۔ 11 ستمبر 2001 کو ان دونوں اداروں کے مرکزی دفاتر ميں زمين کا ارتعاش محسوس کرنے اور اس سے متعلقہ اعداد وشمار کو ريکارڈ کرنے کی غرض سے کئ مشينيں کام کر رہی تھيں۔ پورٹيک کے بہت سے ماہرين اس دن نيويارک ميں زير تعمير کچھ عمارتوں کے حوالے سے زمين کے ارتعاش کے ليے اعدادوشمار اکٹھے کر رہے تھے۔ انشورنس کے پيش نظر اس قسم کی کاروائ معمول کا حصہ ہے۔ مختلف اداروں کے زير اثر ان تمام ماہرين نے زمين کے ارتعاش کے حوالے سے جو اعدادوشمار اکٹھے کيے وہ يکساں تھے۔ ان اعداد وشمار پر مشتمل گراف پيش خدمت ہے http://img394.imageshack.us/my.php?i...ograph2uc9.jpg اس گراف ميں آپ صاف ديکھ سکتے ہيں کہ جہازوں کے عمارات سے ٹکرانے اور ان عمارات کے منہدم ہونے کے عمل ميں کہيں بھی ڈائنامايٹ کے استعمال کے شوائد نہيں ملتے۔ ڈائنامايٹ کے استعمال کی صورت ميں اس گراف پر بغير کسی وقفے کے عمودی لکيريں موجود ہوتیں۔ اس کی ايک مثال کرکٹ کے کھيل ميں سنکو ميٹر کے استعمال کے دوران آپ ديکھتے ہيں۔ بيٹ کے گيند سے ٹکرانے کی صورت ميں ايسی ہی عمودی لکيريں ديکھنے کو ملتی ہيں۔ ياد رہے کہ يہ اعداد وشمار مختلف اداروں کے ماہرين نے اپنی مشينوں پر حاصل کيے تھے اور ان سب کے نتائج يکساں تھے۔ يہ ايک ايسا ناقابل ترديد ثبوت ہے جس کے بعد يہ دعوی کرنا غير منطقی اور حقيقت کے منافی ہے کہ ان عمارات کو منعدم کرنے کے ليے ڈائنامايٹ کا استعمال کيا گيا۔ کچھ عرصہ قبل، شکاگو کی مشہور زمانہ پرڈو يونيورسٹی ميں ايک ريسرچ ٹيم نے اسی پراجيکٹ پر کام کيا تھا کہ ہوائ جہاز کے ٹکرانے کے نتيجے ميں ورلڈ ٹريڈ سينٹر کی عمارات کيسے منہدم ہوئيں۔ اس ريسرچ ٹيم نے اس سارے منظر کو کمپيوٹر کے ذريعے واضح کيا ہے۔ اس ويڈيو کا ويب لنک پيش ہے۔ http://www.youtube.com/watch?v=S01RaG9mGLc فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (21-09-08) |
|
|
#102 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
[QUOTE=طاھرخلیل;46955][QUOTE=Fawad - Digital Outreach Team US State Dept;46952]
اقتباس:
محترم، آپ نے ايک بہت اہم نقطے کی طرف اشارہ کيا ہے۔ يہ سوال بہت اہم ہے کہ افغانستان ميں طالبان اور القائدہ کے منظم ہونے اور اس کے نتيجے ميں دہشت گردی کی وبا کا آغاز کيسے ہوا؟ دہشت گردی کے حوالے سے اب تک جتنی بھی تحقيق ہوئ ہے اس سے ايک بات واضح ہے کہ کسی بھی انتہا پسند اور دہشت گرد گروہ، تنظيم يا جماعت کو اپنا اثر ورسوخ بڑھانے اور اپنے مذموم ارادوں کی تکميل کے ليے مقامی، علاقائ يا حکومتی سطح پر کسی نہ کسی درجے ميں عملی حمايت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بغير کوئ بھی گروہ کسی مخصوص علاقے میں اپنی بنياديں مضبوط نہيں کر سکتا۔ يہ محض اتفاق نہيں تھا کہ کئ افريقی ممالک میں کوششوں کے بعد اسامہ بن لادن نے القائدہ کی تنظيم نو اور اسے مزيد فعال بنانے کے ليۓ طالبان کے دور حکومت میں افغانستان کی سرزمين کا انتخاب کيا۔ قريب دس سال پر محيط عرصے میں دنيا بھر ميں القائدہ کی دہشت گردی کے سبب سينکڑوں کی تعداد میں بے گناہ شہری مارے گۓ اور يہ سب کچھ طالبان کی مکمل حمايت کے سبب ممکن ہوا۔ 11 ستمبر 2001 کا واقعہ محض ايک اتفاقی حادثہ نہيں تھا بلکہ اس کے پيچھے قريب ايک دہاہی کی منظم کوششيں شامل تھيں جس ميں طالبان نے القائدہ کو تمام تر وسائل فراہم کر کے اپنا بھرپور کردار ادا کيا تھا۔ پاکستان ميں11 ستمبر 2001 کے بعد مختلف سياسی ليڈروں، کچھ ريٹائرڈ فوجی افسران اور حکومتی اہلکاروں کی جانب سے ميڈيا کے ذريعے ايک تاثر کو عام کيا گيا جس کا لب لباب کچھ يوں تھا۔ "امريکہ پر حملہ القائدہ نے کيا جس کے جواب میں افغانستان پر حملہ کيا گيا اور اس سارے تناظے ميں ملبہ پاکستان پر گر گيا"۔ " ستمبر11 2001 کا واقعہ امريکہ کی اپنی غلط پاليسيوں کا نتيجہ ہے جو اس نے افغانستان ميں سويت تسلط کے دوران طالبان اور عرب جنگجوؤں کی حمايت کر کے کی تھی اور اب پاکستان کو اس مسلۓ ميں ملوث کرنا انصاف کے منافی ہے"۔ "القائدہ اور طالبان امريکہ کے تيار کردہ دہشت گرد ہيں جنھيں امريکہ نے افغان جہاد کے دوران استعمال کيا اور اب پاکستان پر دباؤ ڈال کر اپنی غلطيوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے"۔ طالبان اور القائدہ کے حوالے سے يہ وہ عمومی جذبات اور تاثرات ہيں جو آپ کو ہر اردو فورم، اخباری کالمز اور ٹی – وی پروگرامز پر ملیں گے۔ دلچسپ بات يہ ہے کہ اگر آپ 11 ستمبر 2001 کے واقعے سے پہلے کے اخبارات اور ٹی – وی پروگرامز ديکھيں تو يہی سياست دان اور حکومتی اہلکار افغانستان ميں طالبان حکومت کے قيام اور مسلہ افغانستان کے اس "متفقہ حل" کا کريڈٹ لينے کے ليے ايک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ 1995 ميں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان پہلا ملک تھا جس نے ان کی حکومت کو تسلیم کيا تھا۔ اس وقت کے وزير داخلہ نے طالبان کو اپنی اولاد قرار ديا تھا۔ ايک اور سيات دان نے يہ بيان ديا تھا کہ " طالبان حکومت کے قيام کے بعد مسلہ افغانستان حل ہو گيا ہے اور ہم کابل ميں شکرانے کے نوافل بھی پڑھ آۓ ہيں"۔ حاليہ برسوں ميں جس طريقے سے مختلف سياست دانوں اور حکومتی اہلکاروں کی جانب سے طالبان سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کيا جاتا ہے اس پر يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ ميں بعض امريکی اہلکار شديد حيرت کا اظہار کرتے ہيں کيونکہ افغانستان ميں طالبان کو برسر اقتدار لانے اور اس کے بعد ان کے دائرہ کار کو وسيع کرنے ميں پاکستان نے انتہاہی کليدی کردار ادا کيا ہے۔ پاکستانی اہلکار براہراست طالبان کے حکومتی معاملات ميں شامل تھے۔ حکومت پاکستان اور طالبان کے مابين تعلقات، طالبان کے زير اثر اسامہ بن لادن اور القائدہ کی تنظيم نو اور اس حوالے سے امريکہ کے خدشات اور تحفظات – اس حوالے سے ميں نے يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے کچھ دستاويزات جاصل کی ہيں جو آپ کو جذبات اور بيانات سے ہٹ کر کچھ تلخ حقائق سمجھنے ميں مدد ديں گے۔ ان دستاويزی شواہد کے بعد آپ کو طالبان اور پاکستان کے تعلقات اور اس حوالے سے امريکی خدشات سمجھنے ميں بھی مدد ملے گی۔ نومبر7 1996 کی اس دستاويز ميں پاکستان کی جانب سے طالبان کی براہراست فوجی امداد پر تشويش کا اظہار کيا گيا ہے۔ اس دستاويز ميں ان خبروں کی تصديق کی گئ ہے کہ آئ – ايس – آئ افغانستان ميں براہ راست ملوث ہے۔ اس ميں آئ – ايس – آئ کے مختلف اہلکاروں کا افغانستان ميں دائرہ کار کا بھی ذکر موجود ہے۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...41a19df/17.pdf ستمبر26 2000 کو يو – ايس – اسٹیٹ ڈيپارٹمنٹ کی اس رپورٹ ميں پاکستان کی جانب سے طالبان کو فوجی کاروائيوں کے ليے پاکستانی حدود کے اندر اجازت دينے پر شديد خدشات کا اظہار ان الفاظ ميں کيا گيا ہے "يوں تو پاکستان کی جانب سے طالبان کی امداد کاقی عرصے سے جاری ہے ليکن اس حمايت ميں موجودہ توسيع کی ماضی ميں مثال نہيں ملتی"۔ اس دستاويز کے مطابق پاکستان طالبان کو اپنی کاروائيوں کے ليے پاکستان کی سرحدی حدود کے اندر سہوليات مہيا کرنے کے علاوہ پاکستانی شہری بھی استعمال کر رہا ہے۔ اس دستاويز کے مطابق پاکستان کی پختون فرنٹير کور افغانستان ميں طالبان کے شانہ بشانہ لڑائ ميں ملوث ہے۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...6ba230b/34.pdf اگست 1996 ميں سی – آئ – اے کی اس دستاويز کے مطابق حرکت الانصار نامی انتہا پسند تنظيم جسے حکومت پاکستان کی حمايت حاصل رہی ہے، کے حوالے سے خدشات کا اظہار کيا گيا ہے۔ حرکت الانصار کی جانب سے غير ملکی شہريوں پر حملے اور عالمی دہشت گردی کے حوالے سے اپنے دائرہ کار کو وسيع کرنے کی غرض سے افغانستان ميں اسامہ بن لادن کے ساتھ بڑھتے ہوۓ روابط مستقبل ميں اس جماعت کی جانب سے امريکہ کے خلاف دہشت گردی کے کسی بڑے واقعے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس دستاويز کے مطابق پاکستانی اينٹيلی جينس انتہا پسند تنظيم حرکت الانصار کو مالی امداد مہيا کرتی ہے مگر اس کے باوجود يہ تنظيم اسامہ بن لادن سے تعلقات بڑھانے کی خواہش مند ہے جو کہ مستقبل ميں نہ صرف اسلام آباد بلکہ امريکہ کے ليے دہشت گردی کے نۓ خطرات کو جنم دے گا۔ اس تنظيم کی جانب سے دہشت گردی کے حوالے سے ہوائ جہازوں کے استعمال کے بھی شواہد ملے ہيں۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...a93a09d/10.pdf فروری6 1997 کی اس دستاویز ميں امريکی حکومت کی جانب سے پاکستان کے ايک حکومتی اہلکار کو يہ باور کرايا گيا ہے کہ امريکی حکومت کو افغانستان ميں اسامہ بن لادن، طالبان اور حرکت الانصار کے درميان بڑھتے ہوۓ تعلقات پر شديد تشويش ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے حرکت الانصار کی پشت پناہی کے حوالے سے پاکستانی حکومتی اہلکار کا يہ دعوی تھا کہ اس تنظيم کی کاروائيوں پر مکمل کنٹرول ہے اور اس حوالے سے مستقبل ميں پکستان کو کوئ خطرات درپيش نہیں ہيں۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...be3547e/16.pdf جنوری 16 1997 کی اس دستاويز کے مطابق طالبان کی انتہا پسند سوچ کا پاکستان کے قبائلی علاقے ميں براہراست اثرات کے خطرے کے حوالے سے حکومت پاکستان کا موقف يہ تھا کہ "يہ مسلہ فوری ترجيحات ميں شامل نہيں ہے"۔ کابل ميں طالبان کی موجودہ حکومت پاکستان کے بہترين مفاد ميں ہے۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...692d26d/20.pdf اکتوبر 22 1996 کی اس دستاويز کے مطابق آئ – ايس –آئ کے طالبان کے ساتھ روابط کا دائرہ کار اس سے کہيں زيادہ وسيع ہے جس کا اظہار حکومت پاکستان امريکی سفارت کاروں سے کرتی رہی ہے۔ آئ – ايس – آئ ايک نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کے ذريعے طالبان کو امداد مہيا کرتی رہی ہے۔ اس دستاويز کے مطابق آئ – ايس – آئ طالبان کو اسلحہ مہيا کرنے ميں براہراست ملوث ہے اور اس حوالے سے پاکستانی سفارت کار دانستہ يا کم علمی کی وجہ سے غلط بيانی سے کام ليتے رہے ہيں۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...58f8259/15.pdf امريکی انٹيلی جينس کی اس دستاويز کے مطابق پاکستان طالبان کی فوجی امداد ميں براہ راست ملوث ہے۔ اس دستاويز ميں حکومت پاکستان کی اس تشويش کا بھی ذکر ہے کہ پاکستان ميں پختون آبادی کو طالبان کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے ليے حکوت پاکستان طالبان کو اپنی پاليسيوں ميں اعتدال پيدا کرنے کے ليے اپنا رول ادا کرے گی۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...c736dd2a/8.pdf اگست 27 1997 کی اس دستاويز کے مطابق افغانستان کے مسلۓ کے حوالے سے پاکستان کا کردار محض مصالحتی نہيں ہے بلکہ پاکستان براہراست فريق ہے۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...cca6282/24.pdf دسمبر 22 1995 کی اس دستاويز کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے تہران اور تاشقند کو اس يقين دہانی کے باوجود کہ پاکستان طالبان کو کنٹرول کر سکتا ہے، امريکی حکومتی حلقے اس حوالے سے شديد تحفظات رکھتے ہيں۔ اس دستاويز ميں امريکہ کی جانب سے حکومت پاکستان کی طالبان کی پشت پناہی کی پاليسی کو افغانستان ميں قيام امن کے ليے کی جانے والی عالمی کوششوں کی راہ ميں رکاوٹ قرار ديا ہے۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...6ab/talib7.pdf اکتوبر 18 1996 کو کينيڈين اينٹيلی ايجنسی کی اس دستاويز کے مطابق کابل ميں طالبان کی توقع سے بڑھ کر کاميابی خود حکومت پاکستان کے لیے خدشات کا باعث بن رہی ہے اور طالبان پر حکومت پاکستان کا اثر ورسوخ کم ہونے کی صورت ميں خود پاکستان کے ليے نۓ چيليجنز پيدا ہو جائيں گے۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...3d991e3/14.pdf مارچ 9 1998 کی اس دستاويز ميں اسلام آباد ميں امريکی ڈپٹی چيف آف مشن ايلن ايستھم اور پاکستان کے دفتر خارجہ کے ايک اہلکار افتخار مرشد کی ملاقات کا ذکر ہے جس ميں امريکی حکومت کی جانب سے اسامہ بن لادن سے منسوب حاليہ فتوے اور پاکستان ميں حرکت الانصار کے ليڈر فضل الرحمن خليل کی جانب سے اس فتوے کی تحريری حمايت کے حوالے سے امريکی حکومت کے خدشات کا اعادہ کيا گيا۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...58f/talib6.pdf ستمبر 28 1998 اور 25 مارچ 1999 کی ان دو دستاويزات ميں امريکی حکومت نے ان خدشات کا اظہار کيا ہے کہ پاکستان طالبان پر اپنے اثر ورسوخ کے باوجود اسامہ بن لادن کی بازيابی ميں اپنا کردار ادا نہيں کر رہا۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...075885c/31.pdf http://f4.filecrunch.com/files/20080...5c22a76/33.pdf دسمبر 5 1994 کی اس دستاويز کے مطابق حکومت پاکستان کی افغانستان کی سياست ميں براہراست مداخلت اور طالبان پر آئ – ايس – آئ کے اثرورسوخ کے سبب طالبان قندھار اور قلات پر قبضہ کرنے ميں کامياب ہوۓ۔ پاکستان کی اس غير معمولی مداخلت کے سبب اقوام متحدہ ميں افغانستان کے خصوصی ايلچی محمود ميسٹری کی افغانستان مين قيام امن کی کوششوں ميں شديد مشکلات حائل ہيں۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...7408c82a/1.pdf جنوری 29 1995 کی اس دستاويز میں حکومت پاکستان کے اہلکاروں کی جرنل دوسطم سے ملاقات کا ذکر ہے جس ميں انھيں يہ باور کروايا گيا کہ طالبان ان کے خلاف کاروائ نہيں کريں گے ليکن اس يقين دہانی کے باوجود مئ 1997 ميں مزار شريف پر قبضہ کر کے انھيں جلاوطن ہونے پر مجبور کر ديا۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...3496cd09/2.pdf اکتوبر 18 1995 کی اس دستاويز ميں افغانستان ميں پاکستانی سفير قاضی ہمايوں نے حکومت پاکستان کی جانب سے طالبان کی سپورٹ اور اس کے نتيجے ميں پيدا ہونے والی مشکلات کا ذکر کيا ہے۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...219a1edb/4.pdf ستمبر 30 1996 کو کابل ميں طالبان کے قبضے کے چار دن بعد سی – آئ – اے کی جانب سے اس دستاويز ميں طالبان کی جانب سے دہشت گرد تنظيموں کی پشت پناہی کے حوالے سے غير متوازن پاليسی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گيا ہے۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...f431937/11.pdf اکتوبر 2 1996 کی اس دستاويز ميں آئ – ايس – آئ کی جانب سے 30 سے 35 ٹرک اور 15 سے 20 تيل کے ٹينکر افغانستان منتقل کرنے کا حوالہ ہے۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...ec9066b/12.pdf نومبر 12 1996 کی اس دستاویز ميں طالبان کے ترجمان ملا غوث کے توسط سے اس دعوے کا ذکر ہے کہ اسامہ بن لادن افغانستان ميں موجود نہيں ہيں۔ اس دستاويز ميں اسامہ بن لادن کو افغانستان ميں لانے اور طالبان سے متعارف کروانے ميں پاکستان کے براہراست کردار کا بھی ذکر ہے۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...c82df83/18.pdf مارچ 10 1997 کی اس دستاويز ميں حکومت پاکستان کی جانب سے طالبان کے حوالے سے پاليسی ميں تبديلی کا عنديہ ديا گيا ہے ليکن آئ – ايس – آئ کی جانب سے طالبان کی بھرپور حمايت کا اعادہ کيا گيا ہے۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...ef5571f/21.pdf جولائ 1 1998 کی اس دستاويز ميں پاکستان کے ايٹمی دھماکے کے بعد نئ سياسی فضا کے پس منظر ميں پاکستان کی جانب سے پہلی بار کھلم کھلا طالبان کی پشت پناہی کا اعادہ کيا گيا۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...7b6/talib8.pdf اگست 6 1998 کی اس دستاويز ميں ايک رپورٹ کے حوالے سے يہ باور کرايا گيا کہ طالبان کی صفوں ميں 20 سے 40 فيصد فوجی پاکستانی ہيں۔ http://f4.filecrunch.com/files/20080...b82d12d/30.pdf پاکستان کی جانب سے طالبان کی پشت پناہی، اور اس کے نتيجے ميں افغانستان ميں القائدہ کی تنظيم نو اور 11 ستمبر 2001 کے حادثے سميت دنيا بھر ميں دہشت گردی کے واقعات کی اس تاريخ کے پس منظر ميں کيا يہ دعوی کرنا حقيقت کے منافی نہيں کہ ہم امريکہ کی جنگ لڑ رہے ہيں اور"طالبان کا مسلہ" ہم پر مسلط کيا جا رہا ہے؟ طالبان اور پاکستان کی يہی وہ تاريخ ہے جس کے نتيجے ميں امريکی حکومتی حلقوں ميں پاکستان کے سرحدی علاقوں ميں طالبان کے بڑھتے ہوۓ اثرورسوخ پر شديد تشويش پائ جاتی ہے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (21-09-08) |
|
|
#103 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
محترم ! ہماری پچھلی اطلاعات کے حساب سے امریکہ کے پاس کافی تیل ہے اور اس کے اپنے ذخائر اتنے ہیں کہ وہ عرب تیل پر انحصار نہیںکرتا - بھائ اب کیوں اوپیک اور خصوصاً سعودی عرب کے پیچھے پڑے ہو کہ پیٹرول کی سپلائ میں اضافہ کرو؟؟ |
|
|
|
|
|
|
#104 |
|
Senior Member
![]() |
یہ جو لنک دیئے گئے ہیں ان کے مستند ہونے کی کیا گارنٹی ہے۔ یہ لنکس اور ڈاکیومینٹس کسی غیر جانبدار شخص یا کمپنی نے نہیں بلکہ امریکیوں کی ہی بنائی گئی ہیں۔ مینی پیولیٹ کرنا بہت ہی آسان ہے۔
|
|
|
|
|
|
#105 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے Fawad کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (21-09-08), آفرین بخت (16-08-08) |
![]() |
| Tags |
| color, com, digital, email, fawad, fawwad, php, فورم, فورمز, فروخت, پیاسا, پاک, پاکستان, پسند, قواعد, لوگ, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, منتقل, ممکن, اقوام متحدہ, امریکہ, بھائی, بچوں, تصویر, جھوٹ, جواب, حضرات, درخواست, ضوابط, صومالیہ, صبر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 05:22 AM |
| اسلام آباد +سوات(مانیٹرنگ ڈیسک ) سوات میں پاکستانی فوج نے مقامی طالبان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے علاقے میں آپریشن شروع کر | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 13-11-07 09:06 AM |