| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 192
|
||||
| 4 قاری/قارئین نے Zullu230 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,229
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کسی سیاسی پارٹئ کے جمہوریت پسند ہونے کا واضح ثبوت یہ ہوتا ہے کہ ہر سال یا دو سال بعد پارٹی کے عہدیداران کا آزادانہ نتخاب ہوتا ہے اور اگر پارٹی کا کوئی منتخب صدر اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے تو پارٹی کی مجلس عاملہ فورا اُسے برخاست کر کے نئے انتخابات کرواتی ہے اور پارٹی کا نیا صدر منتخب کر تی ہے لیکن پاکستان میں معاملہ بالکل اُلٹ ہے۔ یہ سیایسی پارٹیاں نہیں بلکہ شاہی پارٹیاں ہیں جس کا بانی یا صدرخود کو شہنشاہ معظم سمجھتا ہے اور دیگر لوگوں کو اپنی رعایا۔ پرانے وقتوں کے جابر، ظالم اور مطلق العنان شہنشاہوں میں اور ان میں فرق صرف اتنا ہے کہ وہ جو لفظ منہ سے نکالتے تھے وہ ناقابل چیلنج شاہی فرمان بن جاتا تھا ۔جو شاہی فرمان سے اختلاف کرتا تھا ا اُس کی گردن تن سے جدا ہو جاتی تھی۔ ہمارے جدید طرز کے شہنشاہ شاہی خاندان کی جگہ سیاسی پارٹی بنا لیتے ہیں اور فرامین کا اجرا مجلس عاملہ یا حکوت کے ذریعے کرتے ہیں جو ان شہنشاہوں کے گھر کی لونڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ پرانے شہنشاہ شاہی لباس زیب تن کرتے تھے اور سر پر تاج رکھتے تھے۔ جدید شہنشاہ مغربی لباس پہنتے ہیں اور ہاتھ میں کشکول پکڑ کر ساری دنیا میں اس شاہانہ ٹھاٹھ سے پھرتے ہیں کہ بھیک دینے والے دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ ہاتھ میں کشکول اس ٹھاٹھ باٹھ سے ۔ کیا ایسے لوگے بھیک دینے کے قابل ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر بھیک دینے والا یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ کاش میرے بھی ایسے ہی ٹھاٹھ باٹھ ہوتے! حقیقت تو یہ ہے کہ شہہنشاہوں نے جمہوری لباس پہنا ہوا ہے۔ اندر سے وہی پرانے زمانے کے مطلق العنان شہنشاہ ہیں۔ پہلے ایک خاندان ہوتا تھا جسے شاہی خاندان کہا جاتا تھا۔ اب درجنوں شاہی خاندان ہیں ۔ پاکستانی عوام کی بد قسمتی ہے کہ پہلے انگریزوں کی غلام تھے اور اب درجنوں شہنشاہوں کے باری باری غلام بنتے رہتے ہیں اور محکومیت کی چکی میں پستے رہتے ہیں۔
Last edited by Zullu230; 15-05-10 at 01:10 PM. |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 456
کمائي: 10,008
شکریہ: 147
332 مراسلہ میں 834 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے خیال میں آمریت وہ ہے جس میں سیاستدانوں کی مٹی پلید اور اُن کے کھانچے بند ہوجاتے ہیں
کھپے کھپے آمریت کھپے جمہوریت نہ کھپے |
|
|
|
| شریف کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (15-05-10) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,229
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لفظ" کھپے" شاید سندھی زبان کا لفظ ہے اور بینظیر کی موت کے بعد بہت مشہور ہوا۔ اگر ہم پاکستان میں حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی نوجوان نسل کے ذہنوں میں جمہوریت کا شعور اجاگر کرنا ہو گا۔ ورنہ آمریت جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر ہر 5 سال بعد ہمیں تو کیا ہماری نسلوں کو بھی ظلم و جبر کی چکی میں پیستی رہے گی۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہوتا, ہے۔, کارنامے, پاکستانی, وزیر, قید, نواز, مقصد, منتقل, الطاف حسین, ترمیم, جائے, حیات, خلاف, دیکھا, دے, دل, زرداری, شکل, عوام, علی, عظیم, صدارت, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر اٹھارویں آئینی ترمیمی بل کی منظوری دے دی | ھارون اعظم | خبریں | 0 | 09-04-10 01:16 AM |
| مُبارک ہو، اٹھارویں ترمیم پر تمام جماعتیں متفق ہوگئیں! | shafresha | گپ شپ | 12 | 04-04-10 01:19 PM |
| آصف علی زرداری نے ملک کے 12 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھا لیا | ابن جلال | خبریں | 0 | 09-09-08 09:47 PM |
| نومبر تک ایمر جنسی نہ اٹھائی تو رکنیت معطل کر دینگے،دولت مشترکہ کا پاکستان کو انتباہ | خرم شہزاد خرم | خبریں | 1 | 13-11-07 09:06 AM |