واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


احساس محرومی اور سیاستدان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-10-11, 12:56 PM   #1
احساس محرومی اور سیاستدان
راشد احمد راشد احمد آف لائن ہے 07-10-11, 12:56 PM

میں نے ایک دلچپسپ بات کچھ عرصہ پہلے پڑھی تھی کہ انگریز کا ایک اصول تھا کہ عوام کو بھوکے نہ مرنے دو ان کی بنیادی ضروریات کی اشیاء مہنگی نہ کرو ورنہ اگر عوام بھوکے مرنے لگے تو ان کا ہندوستان سے بوریا بستر گول کردیں گے۔ جتنی یونیورسٹیاں، کالجز، سکولز آج ہیں انگریز کے دور میں نہیں تھے لیکن عوام کو کھانے کو روٹی ملتی تھی یہی وجہ تھی کہ انگریز سوسال ہم پر حکومت کرگیا۔
لیکن قیام پاکستان کے بعد حکمران نہ عوام کو روٹی دے سکے، نہ تعلیم دے سکے اور نہ ہی دوسری بنیادی ضروریات پوری کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں احساس محرومی پیدا ہورہی ہے۔ احساس محرومی کسی بھی ملک کے لئے زہرقاتل ہے۔ احساس محرومی ہی ہے کہ عوام سمجھتی ہے کہ اس ملک کی کسی چیز پر ان کا کوئی حق نہیں۔
سیاستدانوں نے عوام کو احساس محرومی کے علاوہ عوام کو تقسیم در تقسیم کرکے رکھ دیا ہے۔ عوام میں فرقہ پرستی، صوبائی تعصب ابھارا گیا۔ عوام کو ذات برادریوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا گیا۔ ہمارے تعلیمی نظام نے بھی عوام کو تقسیم کرکے رکھ دیا گیا۔ امیر کا بچہ آکسفورڈ کا نصاب پڑھ رہا ہے۔ غریب کا بچہ فرسودہ سرکاری نصاب جو اسے کلرک یا نائب قاصد سے اوپر ترقی نہیں دے سکتا۔ جس کے پاس سکول کے پیسے نہیں وہ یا تو مدرسہ میں پڑھتا ہے یا پھر کسی ورکشاپ میں چھوٹو بن جاتا ہے اور پھر یہی چھوٹو اپنے استاد سے کام کے ساتھ ساتھ گالیاں اور بدزبانی سیکھتا ہے۔ سکول کا بچہ احساس کمتری کا شکار رہتا ہے۔ امیر، سیاستدان کا بچہ آکسفورڈ میں پڑھ کر اپنےاندر اکڑ پن، تکبر لے آتا ہے اور اپنے‌آپ کو دوسروں سےبرتر سمجھتا ہے۔ مدرسے کا بچہ اپنے استاد کی ہر بات کو حرف آخر سمجھتا ہے۔ اگر استاد اسے مذہبی منافرت سکھائے تو وہ بھی مذہبی منافرت کا شکار ہوجاتا ہے۔ اگر اسے کسی خاص فرقے کے خلاف ابھارا جائے تو وہ ابھر جاتا ہے۔ وہ جب مدرسے سے فارغ ہوتا ہے تو اسے کوئی سرکاری نوکری، پرائیویٹ نوکری نہیں ملتی بڑی حد تک اسے کسی مسجد میں امامت مل جاتی ہے اور وہ چندے کی رقم سے اپنا گھر چلانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ہمارے ہاں رواج ہے کہ فزکس، ریاضی کے استاد کو تو پانچ چھ ہزار روپے دے دئیے جاتے ہیں لیکن قرآن پاک پڑھانے والے کو ڈیڑھ سو روپے دیکر سمجھا جاتا ہے کہ اس پر بڑا احسان کیا ہے۔

اس ملک میں امیر کا بچہ، مدرسے کے بچے، چھوٹو، سکول کے بچے سے برتر سمجھاتا جاتا ہے اور یہ سمجھاجاتا ہے کہ اس ملک پر حق ہی امیروں کا ہے۔

عوام کو گدھا (معذرت کے ساتھ) بنادیا گیا ہے جس پر بجلی، گیس، پانی کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ وہ جو بھی چیز خریدتا ہے اس پر ٹیکس بھی دیتا ہے۔ وہ سالہا سال ریڑھی لگا کر اپنے بچوں کے لئے روٹی کماتا ہے پھر اچانک خادم اعلٰٰی کو جوش آتا ہے تو وہ ساری ریڑھیاں الٹ پلٹ‌کرادیتا ہے۔ ایک شخص جو ایمانداری سے اپنی نوکری کرنا چاہتا ہے تو اسے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اعلٰٰی لوگوں کے برے کام بھی کرے اگر نہیں کرتا تو وہ اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے یا اپنے لئے مسائل کھڑے کرادیتا ہے۔

جب لوگ سڑک پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو سڑک پار کرتے ہوئے کئی منٹ‌لگ جاتے ہیں کیونکہ گاڑیوں والے اور موٹر سائیکلوں والے یہ نہیں دیکھتے کہ کس نے سڑک پار کرنی ہے اور وہ اپنی ہی رفتار سے گاڑی چلاتے رہتے ہیں اور سڑک پار کرنیوالے کو یا تو بھاگ کر سڑک پار کرنا پڑتی ہے یا کسی نہ کسی طریقے سے گاڑیوں کے دوران سڑک پار کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ یہاں جو شخص گاڑی چلاتا ہے وہ ساری سڑک کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے وہ کسی پیدل شخص کو اتنا موقع فراہم نہیں کرتا کہ وہ سڑک پار کرسکے۔

عوام جب پرامن ہوکر بھی سڑکوں پر آتی ہے تو اس پر پولیس لاٹھیاں برسانا شروع کرتی ہے پھر اس کا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ عوام بھی جواب میں ہاتھا پائی شروع کردیتے ہیں۔ اشتعال میں آکر گاڑیاں، سرکاری املاک توڑ دی جاتی ہیں۔


عوام میں‌غصہ اور نفرت بڑھتی جارہی ہے۔ جب بھی انہیں موقع ملتا ہے تو یہ سب کچھ تہس نہس کرکے آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ اگر یہ لوگ واپڈا کے دفاتر یا گاڑیوں کو آج آگ لگاسکتے ہیں توکل کلاں ان کی ہمت انتی بڑھ سکتی ہے کہ یہی لوگ کسی وزیر، سرکاری بابو یا سیاستدان کے گھر کو بھی آگ لگاسکتے ہیں۔ یہ لوگ اگر گاڑیوں، دفاتر کو جلاجلا کر اتنی ہمت پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ کسی بھی وزیر، بیوروکریٹ یا سیاستدان کی فیکٹری، گھر یا گاڑی کو توڑنے، لوٹنے یا جلانے میں کی ہمت پیدا کرگئےتو یہ بہت الارمنگ ہے۔

وہ دن زیادہ دور نہیں جب کسی شخص کو گالی دینا پڑے تو اسے سیاستدان کہہ کر مخاطب کیا جائے گا۔ سیاستدان اپنی وقعت اتنی تیزی سے کھورہا ہے کہ سیالکوٹ میں خواجہ آصف کو جوتے دکھائے جاتے ہیں اور ان کے سامنے ہی نواز شریف مردہ باد کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے خلاف نعروں میں زرداری **** ہائے ہائے کے نعرے لگتے ہیں اور یہ ٹی وی پر بھی دکھائے جاتے ہیں۔
__________________
حکمران کے محبوب ہونے اور فرعون بننے میں رویے کا فرق ہے۔

راشد احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 620
شکریہ: 366
475 مراسلہ میں 1,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 189
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (07-10-11), نیلم خان (07-10-11), مرزا عامر (07-10-11), wajee (07-10-11), رضی (07-10-11)
پرانا 07-10-11, 03:08 PM   #2
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,166
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی شئیرنگ ہے ۔
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
خالد حسین (10-02-12)
پرانا 07-10-11, 07:33 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,203
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لیکن عوام کبھی بھی نہیں نکلتی جب تک اس کے پیچھے کسی سیاسی پارٹی کا ہاتھ نا ہو پنجاب میں لوڈشیڈنگ کے خلاف عوام کو نکالنے میں ن لیگ کا ہاتھ ہے جبکہ لوڈشیڈنگ پورے ملک میں ہو رہی ہے دوسرے صوبے کے لوگوں کو جب تک سیاسی پارٹی کا ہاتھ نہیں ہو گا عوام نہیں نکلے گی یہ ایسے ہی رہے گی
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (07-10-11)
پرانا 07-10-11, 09:07 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 620
کمائي: 11,259
شکریہ: 366
475 مراسلہ میں 1,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : wajee مراسلہ دیکھیں
لیکن عوام کبھی بھی نہیں نکلتی جب تک اس کے پیچھے کسی سیاسی پارٹی کا ہاتھ نا ہو پنجاب میں لوڈشیڈنگ کے خلاف عوام کو نکالنے میں ن لیگ کا ہاتھ ہے جبکہ لوڈشیڈنگ پورے ملک میں ہو رہی ہے دوسرے صوبے کے لوگوں کو جب تک سیاسی پارٹی کا ہاتھ نہیں ہو گا عوام نہیں نکلے گی یہ ایسے ہی رہے گی
یہ بات بھی غلط ہے۔ لوگ اپنی مرضی سے گھروں سے نکلے ہیں یا انہیں نکالنے میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کامیاب ہوئی ہے۔ سیالکوٹ میں ہی دیکھ لیں لوگ احتجاج کررہے تھے اور خواجہ آصف بھی اس میں شامل ہوگئے تو لوگوں نے نواز شریف مردہ باد کے نعرے لگانا شروع کردئیے اور خواجہ آصف کو جوتے دکھائے۔ جس پر خواجہ آصف مایوس ہوکر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر گھر روانہ ہوگئے۔

ہاں! لاہور میں ایک احتجاج کی حمزہ شہباز نے قیادت کی ہے اور وہ بھی لوگ احتجاج کررہے تھے اور حمزہ شہباز کو ایک تیارشدہ احتجاج مل گیا اور اس کی قیادت کرنے لگے۔ ذرا حکومت کی مدت پوری ہونے دیں پھر ٹی وی اینکر، کالم نگار یہی کہیں گے کہ پیپلزپارٹی کی مدت پوری کرنے میں ن لیگ کا بڑا ہاتھ ہے اگر وہ فرینڈلی اپوزیشن نہیں کرتی تو حکومت کب کی گرچکی ہوتی۔

پنجاب میں شہباز شریف کی گورننس کا حال دیکھ لیں۔ پاکستان کے چالیس اضلاع اور اٹھارہ کروڑ میں سے نوکروڑ آبادی پر ان کی حکومت ہے۔ اگر انہوں نے نوکروڑ کے لئے ہی کچھ کیا ہوتا تو ہر شخص ایک کال پر ان کے پیچھے کھڑا ہوتا۔
راشد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
راشد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (07-10-11)
جواب

Tags
کوشش, کلرک, پولیس, پاکستان, قرآن, نفرت, نواز شریف, موقع, مسائل, مسجد, معذرت, آج, امیر, استاد, بچوں, تعلیم, جواب, خلاف, رفتار, زرداری, شخص, عوام, عرصہ, غریب, صوبائی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیانے سیاستدان کو ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی! ھارون اعظم سیاست 3 15-04-10 06:00 PM
سیاسی مفاہمت عوام کے خلاف سیاستدانوں کا اتحاد ہے ، جماعت السنہ عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 12:49 PM
19/جون پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، ایم کیو ایم امریکا مسٹر گرزلی خبریں 0 20-06-08 09:45 PM
سیاچین سیاحت: بھارت نے پاکستانی اعتراضات کو نظر انداز کر دیا پاکستانی خبریں 0 20-09-07 08:47 AM
بھارت نے سیاچن کو سیاحت کیلئے کھولنے کے حوالے سے پاکستان کا اعتراض مسترد کر دیا، پاکستانی خبریں 0 17-09-07 10:31 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:43 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger