واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


احمدی نژاد کا انکشاف!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-06-11, 04:02 AM   #1
احمدی نژاد کا انکشاف!
فیصل ناصر فیصل ناصر آف لائن ہے 10-06-11, 04:02 AM

ایران اور امریکہ کی باہمی مخاصمت کے باوجود صدر اسلامی جمہوریہ ایران، محمود احمدی نژاد کے اس غیر مبہم بیان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ”امریکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے تباہ کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے“۔
یہ کوئی ایسا چونکا دینے والا انکشاف بھی نہیں جس سے اہل پاکستان کی رگوں میں سنسنی کی لہر دوڑ گئی ہو۔ خود امریکی ایک مدت سے ہمارے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں ”گہری تشویش“ کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت انتہا پسندوں کے ہاتھ ہمارے ایٹمی ہتھیار پہنچ جائیں گے، جنہیں وہ اپنی سائیکلوں، موٹر سائیکلوں، برسوں پرانی پھٹیچر گاڑیوں پر نصب کر کے ساری دنیا کو بھسم کر ڈالیں گے۔
لیکن کسی ذمہ دار ریاست کے انتہائی اہم منصب پر فائز شخص کی طرف سے ایسے دو ٹوک بیان کو سنی ان سنی کے انداز میں پس پشت ڈال دینا بھی کار دانشمنداں نہیں۔
تہران میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر احمدی نژاد نے کہا کہ ”امریکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے تباہ کرنا چاہتا ہے اور ہمارے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
امریکہ کا مقصد یہ ہے کہ وہ پاکستان کی حکومت اور عوام کو کمزور و ناتواں کر کے عملاً پاکستان پر اپنا کنٹرول حاصل کر لے۔ امریکہ، اقوام متحدہ اور اسی طرح کے دوسرے بین الاقوامی اداروں کو لیور کے طور پر استعمال کرتے ہوئے زمین ہموار کرے گا اور پاکستان میں وسیع پیمانے پر اپنی موجودگی کا جواز پیدا کرتے ہوئے اس کی آزادی و خودمختاری کو مفلوج کر دے گا“۔

اسی پریس کانفرنس کے دوران احمدی نژاد نے امریکی کردار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”پچھلی امریکی انتظامیہ نے اپنے چہرے پر ایک نقاب چڑھا رکھا تھا اور نئی امریکی انتظامیہ نے بھی ایک نقاب چڑھا رکھا ہے۔ پچھلی انتظامیہ نے ایک ”متشددانہ اسلام“ دنیا میں متعارف کرایا اور موجودہ انتظامیہ ایک ”لبرل اسلام“ کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہے۔
یہ دونوں دراصل ”امریکی اسلام“ ہیں۔ یہ ”امریکی اسلام“ امریکہ اور یہودیوں کی بالادستی چاہتے ہیں اور صرف ان ہی کے مفادات کی راہوں پر چلتے ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ گزشتہ کئی عشروں سے مسلط جنگیں، دہشت گردی، قتل و غارت گری اور آمریتیں، دراصل امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عالمی بالادستی کے حصول کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔
نئی امریکی انتظامیہ نے بھی اپنا سامراجی تسلط قائم کرنے کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ صرف نعرے بدل ڈالے ہیں اور طریقہٴ واردات تبدیل کر دیا ہے۔
امریکہ میں یہ ڈرامے تخلیق کرنے والی اصل طاقتیں پردے کے پیچھے چھپی ہیں اور پردوں کے سامنے نظر آنے والے دراصل پس پردہ قوتوں کے عزائم میں رنگ بھرنے والے ایجنٹ ہیں
۔
حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ بقول امریکیوں کے انہوں نے ایک شخص (اسامہ بن لادن) کو پکڑا اور پھر اس کی لاش کو سمندر میں پھینک دیا۔ یہ وہی شخص ہے جو سابق امریکی صدر کے خاندان کا، تیل کے کاروبار میں شراکت دار تھا۔ ہماری معلومات کے مطابق اس شخص کو برسوں حراست میں رکھا گیا۔ اسے بیماریوں میں مبتلا کر کے مار دیا گیا اور اب انہوں نے یہ دعوے اس لئے کئے کہ الیکشن سر پر ہے اور وہ جیتنا چاہتے ہیں۔
اس اہم سوال کا جواب نہیں آ رہا کہ انہوں نے اس کی لاش سمندر میں کیوں پھینک دی؟ صرف اس لئے کہ نعش کا پوسٹ مارٹم امریکیوں کے بہت سے بھید نہ کھول دے“۔
گزشتہ روز ہی دوہا سے آنے والی ایک خبر کے مطابق سوڈان کے سابق نائب وزیر اور ایک اہم سیاسی راہنما جلال الدین عبدالمجید الکریم نے کہا کہ ”امریکہ کی نظریں پاکستان کے جوہری اثاثوں پر ہیں اور وہ انہیں ختم کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے جس کی حفاظت تمام اسلامی ممالک پر لازم ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں امریکہ نے پاکستان کو اپنے جوہری اثاثے ظاہر کرنے کے لئے کہا تھا، لیکن پاکستان نے اس امریکی دھمکی کو نظر انداز کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے امریکہ جو کچھ پاکستان میں کر رہا ہے یا کروا رہا ہے، اس کینظریں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر ہیں“۔
گزشتہ روز ہی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پُریقین انداز میں کہا ہے کہ ”کسی کو اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ ہمارے ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں۔ ہمارے دشمن ایٹمی اثاثوں تک رسائی تو دور کی بات ہے، اُن پر ناپاک نگاہ بھی نہیں ڈال سکتے۔ ہماری خودمختاری اور ملکی سرحدوں کو خطرہ درپیش ہوا تو منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔“
حکومت وقت سے ہزار اختلافات اور مسلح افواج کی بعض پالیسیوں پر گرفت کے باوجود دو باتیں پورے یقین و اعتماد کے ساتھ کہی جاسکتی ہیں اور پوری قوم بھی ان کے حوالے سے یکسو ہے ایک یہ کہ ایٹمی اثاثے عالمی معیار سے بھی زیادہ محکم، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے تحت ہیں اور دوسری یہ کہ کسی بھی انتہا پسند یا دہشت گرد کی ان اثاثوں تک رسائی حد امکان میں نہیں۔
لیکن ان دو باتوں کے ساتھ ساتھ ایک تیسری ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے مدار میں گردش کرتے سیارچوں نے آج تک پاکستان کو ایک ایٹمی قوت کے طور پر قبول نہیں کیا۔ اسرائیل اور بھارت ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ پاکستان کو بے دست و پا کرکے عالمی ڈھورڈنگروں کی چراگاہ بنا دیا جائے۔
اب تک لاتعداد شواہد سامنے آچکے ہیں۔ خود امریکیوں کے بیانات اور اُن کے تھنک ٹینکس کی رپورٹس کا مجموعہ مرتب کیا جائے تو اندازہ ہو جائے گا کہ امریکی کدورت کا عالم کیا ہے۔
کئی بار تذکرہ کر لینے کے بعد بھی کنڈو لیزا رائس کے اس بیان کا حوالہ پرانا نہیں لگتا کہ ”ہم نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں ایک ہنگامی پلان تیار رکھا ہے۔“
ایک فتنہ ساماں ٹاسک فورس کی افغانستان میں موجودگی بھی کوئی نہ کوئی معنی ضرور رکھتی ہے۔ ابھی دو ہفتے قبل نیٹو کے سیکرٹری جنرل ایڈرس فاگ راسموسین نے کہا تھا۔“ مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ ہیں اور ان کی اچھی طرح حفاظت کی جارہی ہے لیکن بہرحال یہ ہمارے لئے تشویش کا ایک موضوع ہے اور ہم گہری نظر سے سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔“
پاکستان کی ہزار کوششوں کے باوجود نہ تو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی یہ تشویش ختم ہورہی ہے اور نہ ہی ہمارے ایٹمی اثاثوں پر جمی ”گہری نظریں“ دائیں بائیں ہٹ رہی ہیں۔
اب تک امریکا نے ایٹمی پروگرام سے رشتہ و تعلق رکھنے والوں کو معاف نہیں کیا۔ پروگرام کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو نمونہ عبرت بنا دیا گیا۔
پروگرام کی تعمیر میں سب سے نمایاں کردار ادا کرنے والے جنرل محمد ضیاء الحق کو بھسم کر دیا گیا۔
دھمکیوں کے باوجود ایٹمی دھماکے کرنے والے نواز شریف کے گرد سرخ دائرہ لگا دیا گیا او ر وہ ناقابل معافی قبیلے کا فرد ہوگیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اپنے اشاروں پر ناچنے والے مکا باز کمانڈو کے ذریعے سربازار رسوا کرکے عملاً قید میں ڈال دیا گیا۔
یہ ساری کہانی ہمارے سامنے ہے۔ ہم جیسوں کی باتوں کو ”غیرت بریگیڈ“ کی فتنہ پردازی کہہ کے رد کر دیا جاتا ہے۔ ہیلری کلنٹن بھی کہہ گئی ہیں کہ سازشی تھیوریوں سے باز آجاؤ۔ لیکن جب حالات و واقعات صاف اشارا کر رہے ہیں جب پاکستان کے عوام کے دل کسی انہونی کے خوف سے لرز رہے ہیں، جب پاکستانی وزیراعظم کو ایٹمی اثاثوں کے بارے میں ایک کڑا بیان جاری کرنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے اور جب احمدی نژاد جیسا ذمہ دار شخص کہہ رہا ہے کہ ایران کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں تو پھر ہمیں صورت حال کی سنگینی کا احساس ہونا چاہئے
اور کسی بھی ممکنہ افتاد کا سدباب کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات میں لمحہ بھر کی تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ فوری طور پر ایران سے رابطہ کرکے احمدی نژاد کے بیان کے محرکات اور متذکرہ ٹھوس شواہد کا جائزہ لینا چاہئے۔
امریکہ پہلی یلغار یقینی طور پر سفارتی محاذ سے کرے گا اور اقوام متحدہ، ایٹمی توانائی ایجنسی اور ایسے ہی دوسرے ادارے اس کے اہم مورچے ہوں گے۔ کیا ہم اس یلغار کے دفاع کے لئے تیار ہیں؟
جناب وزیراعظم نے ”دشمن کی ناپاک نگاہوں“ کا ذکر کیا ہے لیکن اُن دوستوں کی نگاہوں کو کیا نام دیا جائے جو پاکستان میں چار سو دندنا رہے ہیں اور جو کسی بھی وقت کچھ بھی کر گزرنے کی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں۔




عرفان صدیقی
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

 
فیصل ناصر's Avatar
فیصل ناصر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 325
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-06-11), ھارون اعظم (10-06-11), wajee (10-06-11), اویسی (10-06-11), احمد بلال (10-06-11), حیدر (10-06-11), حیدر Rehan (10-06-11), شمشاد احمد (10-06-11)
پرانا 10-06-11, 09:55 AM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یار میں تو کہتا ہوں کہ ایٹم بم ختم کر دینا چاہیے۔
کیا پتا کسی دن کوئی ایف سی والا، کوئی رینجرز والا، کوئی فوجی بوٹ والا، مجھ کو دہشت گرد یا ڈاکو سمجھ کر یا کسی وجہ سے غصہ آ جائے تو مجھ پر ایٹم بم دے مارے۔ گولی مارنا تو اب عام ہوتا جا رہا ہے۔
اب اس معاملے میں۔۔۔میں ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کے ساتھ ہوں۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (10-06-11), اویسی (10-06-11), احمد بلال (10-06-11)
پرانا 10-06-11, 11:02 AM   #3
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حالات و واقعات کو سمجھنے کی بے انتہا ضرورت ہے
ہمیشہ یہی کوشش کرتا رہا ہوں کہ کہ ہر ایک کو فتنوں سے دور رہنے کی یاد دھانی کرواتا رہوں

اپنے اپ کو کسی بھی قسم کے فتنے میں ملوث نہ کریں اور خاص کر کسی بھی ایسی تحریک میں جو فوج یا ملک کی حفاظت پر معمور افراد کے خلاف جارہی ہو۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (10-06-11), اویسی (10-06-11), سام (10-06-11)
پرانا 10-06-11, 04:01 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,203
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
یار میں تو کہتا ہوں کہ ایٹم بم ختم کر دینا چاہیے۔
کیا پتا کسی دن کوئی ایف سی والا، کوئی رینجرز والا، کوئی فوجی بوٹ والا، مجھ کو دہشت گرد یا ڈاکو سمجھ کر یا کسی وجہ سے غصہ آ جائے تو مجھ پر ایٹم بم دے مارے۔ گولی مارنا تو اب عام ہوتا جا رہا ہے۔
اب اس معاملے میں۔۔۔میں ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کے ساتھ ہوں۔
نا جی نا آپ پر اب ہائیڈروجن بم سے حملہ ہو گا
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (10-06-11)
پرانا 10-06-11, 04:48 PM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,577
کمائي: 315,297
شکریہ: 25,210
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جے تھر تھر کمبی جانا اے امریکی چلہ کٹن لئی
فیر ایٹم بم بنایا اے یارو دسو اسیں چٹن لئی ؟؟
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (10-06-11), حیدر (10-06-11)
پرانا 10-06-11, 06:21 PM   #6
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,108
شکریہ: 7,299
5,971 مراسلہ میں 15,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لیبیا میں‌ایک بندے کی ریڑی الٹا دی گئی اس بندے نے لیبیا کی حکومت کا تختہ اڑانے کے مقام تک پہنچ گیا ہے۔
اور پاکستان کی جیسی مفلوج قوم کو اب تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
skjatala (10-06-11), فیصل ناصر (10-06-11), حیدر (10-06-11)
پرانا 10-06-11, 06:38 PM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کوئی لیبیا کے بارے میں کہتا ہے، کوئی یمن کے بارے میں۔ ا
ے کی چکر اے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-06-11, 06:40 PM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : wajee مراسلہ دیکھیں
نا جی نا آپ پر اب ہائیڈروجن بم سے حملہ ہو گا
پاکستان کو تو یہ بنانا ہی نہیں آتا،ص
صرف تبھی بنانا آئے گا جب بھارت بنائے گا۔
پھر انکو اسلام کا حکم یاد آ جائے گا کہ ایمان والو اپنے ہتھیار اور گھوڑے ہر دم تیار رکھا کرو
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
wajee (10-06-11)
پرانا 10-06-11, 09:05 PM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,577
کمائي: 315,297
شکریہ: 25,210
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
کوئی لیبیا کے بارے میں کہتا ہے، کوئی یمن کے بارے میں۔ ا
ے کی چکر اے
یہ نہ لیبیا میں ہوا ہے نہ یمن میں

یہ تیونس کا واقعہ ہے۔ اور یہی واقعہ ہے جس نے پورے عرب خطے اور شمالی افریقہ کے عرب ملک میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ایسا انقلاب جو بڑے بڑے سورماؤں، جرنیلوں اور ڈکٹیٹروں کو نگل گیا اور کتنے ہی اپنی باری کے منتظر ہیں
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پوسٹ, پاکستان, پاکستانی, واقعات, وزیر, وزیراعظم, نواز شریف, نظر, موجودہ, متعارف, آج, ایران, اقوام متحدہ, انتظامیہ, امریکہ, اسلامی, جواب, حال, خبر, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, شخص, علی, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:43 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger