اسرائیل کے سامنے حزب اللہ کا قد اور اونچا ہوگیا
اسرائیل کے سامنے حزب اللہ کا قد اور اونچا ہوگیا
جنوری 2004ء میں اس وقت عرب قوم کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی جب لبنان میں حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ حسن نصر اللہ نے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا ایک معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ان تین اسرائیلی فوجیوں کی لاشوں کی باقیات کے عوض، جنہیں 2000ء میں اغوا کیا گیا تھا، تقریبا چار سو قیدی (جن کی اکثریت فلسطینی اور لبنانی تھی) اسرائیلی جیلوں سے آزاد ہوکر لبنان پہنچے۔ اس معاہدے میں اسرائیل نے صرف چار سو قیدیوں کو ہی آزاد نہیں کیا بلکہ جنوبی لبنان میں ان مقامات کی نشاندہی بھی کی کہ اس نے کن مقامات پر بارودی سرنگیں نصب کردی تھیں۔ اس معاہدے کے بعد شیخ حسن نصر اللہ اکثر و بیشتر یہ کہتے سنے گئے کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں قید مزید افراد کو بھی رہا کرائیں گے۔ خاص بات یہ تھی کہ وہ نام لے کر کہتے تھے کہ وہ انہیں چھڑائیں گے۔
رواں سال کی 16 جولائی کو اسرائیل نے ایک بار پھر ایک معاہدے کے تحت 199 عرب افراد کی باقیات لبنان کے حوالے کیں جبکہ حزب اللہ کے چار کمانڈوز کو بھی رہا کیا جن میں سمیر قنتار بھی شامل ہیں جنہیں اسرائیلی جیل میں لبنانی قیدیوں کا Dean کہا جاتا تھا۔ بدلے میں حسن نصر اللہ نے اسرائیل کو ان دو یہودی فوجیوں کی لاشوں کی باقیات حوالے کیں جن کے 12 جولائی 2006ء کے اغوا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان 33 روزہ جنگ چھیڑ دی تھی۔
شیخ حسن نصر اللہ نے واضح کردیا تھا کہ دونوں مغوی صیہونی فوجی ایہود گولدواسیر اور ایلداد رے گیو صرف اور صرف قیدیوں کے تبادلے کی صورت میں رہا ہوسکتے ہیں اور بدھ کو نقورۃ کراسنگ پوائنٹ پر ایسا ہی ہوا جہاں سمیر قنتار اور ان کے ساتھی اسرائیل کی ہداریم جیل سے لائے گئے تھے۔ قیدیوں کا یہ تبادلہ انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی کی نگرانی میں ہوا۔ حزب اللہ کے سیٹلائٹ چینل پر بریکنگ نیوز کے طور پر دکھائی جانے والے اس تبادلے میں بار بار کہا جا رہا تھا کہ ’’شیخ نصر اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا‘‘۔
عرب اسرائیل تعلقات میں یہ بات نئی نہیں ہے۔ یہ تبادلہ ثابت کرتا ہے کہ حزب اللہ آئندہ بھی صیہونی فوجیوں کو اغوا کرکے انہیں لاتعداد قیدیوں کے تبادلے کے لئے استعمال کرسکتی ہے۔ قیدیوں کا یہ حالیہ تبادلہ حزب اللہ کےلیے ایک سفارتی کامیابی ہے۔
2004ء میں حزب اللہ نے قیدیوں کے تبادلے میں اپنے ساتھی مصطفیٰ الدیرانی کی رہائی کو یقینی بنایا۔ مصطفیٰ الدیرانی کو اسرائیل نے جنوبی لبنان سے 1994ء میں اغوا کرلیا تھا۔ 1986ء کی خانہ جنگی کے دوران مصطفیٰ الدیرانی رون ایراد نامی اسرائیلی پائلٹ کو اغوا کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔ اور اس بار حسن نصر اللہ نے سمیر قنتار کی آزادی کو یقینی بنایا جو 1979ء سے اسرائیلی جیل میں قید تھا اور پانچ اسرائیلیوں کے قتل میں ملوث تھا۔ قنتار ایک کارروائی ’’آپریشن نصر‘‘ کے سلسلے میں لبنانی شہر طائر سے ایک کشتی کے ذریعے اسرائیل پہنچا جہاں اس نے ایک بچے سمیت پانچ صیہونیوں کا قتل کیا۔ اسرائیلی عدالت نے اسے 542 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ انہوں نے 30 سال اسرائیلی جیلوں میں گزارے اور بدھ کو ان کی لبنان واپسی کے موقع پر وزیراعظم فواد سینورا اور صدر مائیکل سلیمان نے ان کا ایک قومی ہیرو کی حیثیت سے استقبال کیا۔ اس پوری کارروائی میں شیخ حسن نصر اللہ فتح یاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے ارد گرد عرب عوام کا گھیرا بنا لیا ہے۔ گزشتہ 8 سال میں انہوں نے اپنے حلقے کو کامیابی کے علاوہ کچھ نہیں دیا اور قیدیوں کے اس حالیہ تبادلے کے بعد ان کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں اب ایک بھی لبنانی قیدی موجود نہیں۔
ارے بھئی اگر کوئی کامیاب ہوتا ہے تو ظاہر ہے ناکامی بھی کسی کی جھولی میں آئے گی۔ جی ہاں اسرائیل کو ناکام ہوا ہی لیکن ساتھ میں فلسطینی صدر محمود عباس بھی زلیل و خوار ہوگئے ہیں کہ جتنی تعداد میں حسن نصر اللہ نے فلسطینی قیدیوں کو چھڑایا ہے اتنی تعداد کو نہ وہ اور نہ ہی سابق صدر یاسر عرفات رہا کرا پائے۔ یاسر عرفات کے انتقال کے بعد سے حسن نصر اللہ حماس اور اسلامک ریزسٹنس کی مدد کرتے آ رہے ہیں اور ان کے اس عمل سے محمود عباس کو شدید نقصان ہوتا آ رہا ہے۔ حیران کن طور پر محمود عباس اس نقصان سے اب بھی بے خبر ہیں۔
اس پوری کہانی، جس نے شیخ حسن نصر اللہ کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے، کا اہم پہلو یہ ہے کہ اگر اسرائیل نے اپنے دو یا تین فوجیوں کے عوض لبنانی اور فلسیطینی قیدیوں کو رہا ہی کرنا تھا تو اس نے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا؟ لبنان سے جنگ کا فیصلہ کیوں کیا؟ شیخ حسن نصر اللہ کی بات کو کیوں مسترد کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی فوج دونوں محاظوں پر ناکام ہوگئی، چاہے وہ لبنان کے ساتھ 2006ء کی جنگ ہو یا قیدیوں کا تبادلہ۔ اسرائیل کے سامنے شیخ حسن نصر اللہ کا قد بہت ہی اونچا ہوگیا ہے اور یہ ایسی چیز ہے جسے اسرائیل خود روک سکتا تھا۔
|