واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


اس میں نئ خبر کیا ھے ؟؟؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-11-09, 02:13 AM   #1
اس میں نئ خبر کیا ھے ؟؟؟
Haya 786 Haya 786 آف لائن ہے 13-11-09, 02:13 AM

ایک فرانسیسی اخبار کے مطابق پاک بحریہ نے 1994ء میں تین فرانسیسی سب میرین خریدی تھیں ۔ صدر زرداری نے ان سب میرینوں کی خریداری پر 43 لاکھ ڈالرز وصول کیےاس میں نئ خبر کیا ھے
وہ صدر بننے سے پہلے ساری دنیا میں مسٹر ٹن پرسینٹ مشہور تھے جب صدر بنے تو بہت سے اخبارات نے ایک سوال کیا تھا کیا پاکستان میں کوئ شفاف کردار کا انسان نہیں ھے جو ساری دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کر سکے - پاکستان کے عوام اس وقت بہت جذباتی تھے بی بی کا زخم ابھی تازہ تھا
ایک بات میری سمجھ مین ابھی تک نہیں آسکی کیا بے نظیر پاکستان کی صدر تھیں ؟ کیا اس عہدے کے لیے ان کی فیملی کا کوئ جانشین حقدار تھا ؟بلاول زرداری بھٹو ابھی زیرِ تعلیم ھیں زرداری سر پرست ھیں پہلے وہ پارٹی کی صدرات کے حق دار بنے ان کے بعد کیا بلاول پیپلز پارٹی کا صدر ھوگا ؟؟ کیا یہ جمہوریت ھے - کیا جمہوریت ھے وراثت کا کوئ تصور ھے ؟
دو دن پہلے ایک کالم پڑھا جس مین لکھا تھا دنیا کے سپر پاور کے صدر کے پاس کل 26 لاکھ ڈالر کی جائداد ھے ان میں سے تین لاکھ نقد ھیں ایک گھر جو قسطوں پہ ھے جس کی ابھی تیرہ لاکھ کی ادائیگی ھونا باقی ھے گویا ابھی ان کے پاس کل تیرہ لاکھ ھیں ان کی بیوی کی تنخواہ بھی اچھی خاصی ھے - اور ھمارے صدر جو سالانہ چند ھزار ٹیکس ادا کرتے ھیں جن کی جائداد 8۔1 ارب ڈالر ھے چند سالوں میں اتنی جائداد کہاں سے آئ ان کے پاس کوئ جواب نہیں صدر بنتے ھی سب مقدمے ختم ھوگئے اب کوئ ان کی طرف کوئ انگلی نہیں اٹھا سکتا پاکستان میں کوئ ان کا نام لے کر کوئ کچھ نہین کہہ سکتا مگر بین الاقوامی اخبارات کو کون روک سکتا ھے پاکستانی عوام کو تو وہ صفائ دیں گے نہیں مگر پاکستان نے وقار کو سلامت رکھنے کے لیے ان کا فرض ھے وہ بین الاقوامی میڈیا
کے سامنے اس بات کو کلئیر کریں
جرمنی کی ایک وزیر نے سرکاری گاڑی استعمال کی تین سو کیلومیٹر کا سفر کیا پٹرول سرکاری خزانے سے ڈلوایا گیا تھا سارے اخبارات نے ھنگامہ کر دیا پارلیمنٹ میں معاملہ پیش ھوا سرکاری خزانہ کوئ اپنی ذات پہ خرچ نہیں کر سکتا سرکاری خزانے پہ عوام کا حق ھے وہ ٹیکس ادا کرتے ھیں ھر وزیر کو ذاتی خرچ کے لیے تنخواہ دی جاتی ھے - اس وزیر نے معذرت کی اپنی غلطی کو تسلیم کیا اس نے ایک ناجائز کام کیا اور استیفیٰ دے دیا
ایسا کیا کبھی پاکستان میں ھوگا ؟
کیا کبھی پاکستان میں ایسا ھوگا جب ملکی خزانے کے ایک ایک پیسے کو عوام کی امانت سمجھا جائے گا ؟؟
پاکستان میں اربوں آتے ھیں چاھے وہ امداد کی صورت میں ھو یا قرض کی صورت میں وہ کہاں جاتے ھیں کیا حکومت کے پاس کوئ حساب ھے چاھے وہ موجودہ حکومت ھو یا کوئ سابقہ حکومت

کیا پاکستان میں کبھی ایسا ھوگا ھمارے کوئ وزیر اعظم یا صدر ٹونی بلئیر کی طرح اپنے عہدے سے برخاست ھونے کے بعد ٹرین میں گھر جائے گا ؟؟

یا ھماری پارلیمنٹ خود کھاؤ اور دوسرے کو کھانے دو کے اصول پہ چلتی رھے گی اور ملک میں رشوت اور بے ایمانی کا دور دورہ رھے گا ؟؟

Haya 786
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 193
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (13-11-09), راجہ اکرام (13-11-09)
پرانا 13-11-09, 08:30 AM   #2
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,019
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شکریہ حیا جی آپ کا
آپ نے حقائق پر منبی ایک بھرپور تحریر لکھی
درخواست ہے کہ اسے سرورق پر پیش کیا جائے
بحث وقفے کے بعد
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (13-11-09)
پرانا 13-11-09, 09:39 AM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,577
کمائي: 315,297
شکریہ: 25,210
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام
ایک اچھی تحریر پر مبارکباد
بات واقعی اس میں کوئی نہیں لیکن ان پرانی باتوں کو غلط سمجھ کر توبہ نہ کرنے کی عادت ہمیں تباہی کے کنارے پر لے آئی ہے۔
اور جس اخلاقی اقدار اور حسن معاملہ کے ہم دعوے دار ہیں چراغ رخ زیبا لے کر بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔
جب کہ دیگر اقوام جنہیں ہم گمراہ کہتے ہیں اگر غلطی ہو تو نہ صرف اسے تسلیم کر کے معافی مانگتے ہیں بلکہ اپنے آپ کو نا اہل سمجھتے ہوئے مستعفی بھی ہو جاتے ہیں۔
لیکن ہم غلطیوں پر غلطیاں کرتے چلے جاتے ہیں اور فکر فردا سے بے خبر محو غم دوش رہتے ہیں۔۔۔۔ اگر ہمارے ارباب اختیار کی یہی عادت ٹھہری تو عوام کو ابھی مزید قربانیوں کے لئے تیار رہنا ہو گا۔

اور جمہوریت میں وراثت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اطلاعا عرض ہے کہ یہ وہ جمہوریت نہیں جو ٹونی بلیئر کو ریل میں بٹھا دے۔۔ ان کی جمہوریت اپنی ذاتی ہے اور انہوں نے یہ نظام انتہائی تفکر و تدبر کے بعد اختیار کیا ہے، اس کی خوبیوں اور خامیوں سے وہ واقف ہیں۔۔
ہماری جمہوریت اپنی نہیں‌ہے، یہ درآمد شدہ ہے۔۔ ہم صرف تقلید میں ایسا کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ اور اس میں بھی ان ہی کی مرضی کی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔۔۔
لہذا ہماری جمہوریت میں وراثت ہی نہیں بہت کچھ پایا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ کچھ اپنے مفاد کے لئے اور کچھ غیروں کے مفاد کے لئے۔

لیکن عوام بھی تو بے حسی کے آخری مراحل میں ہے۔۔۔۔۔۔ ووٹ پھر بھی انہی کو دینا ہے۔۔۔
اور ویسے بھی
جمہوریت وہ طرز حکومت ہے جس میں
گھوڑوں کی طرح بکتے ہیں انسان وغیرہ

اک نظر ادھر بھی
فیر تسیں ووٹ جے لٹیریاں نوں پاؤ گے (گلگت بلتستان انتخابی نتائج)
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 13-11-09, 09:51 AM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Haya 786 مراسلہ دیکھیں
ا
اور ھمارے صدر جو سالانہ چند ھزار ٹیکس ادا کرتے ھیں جن کی جائداد 8۔1 ارب ڈالر ھے چند سالوں میں اتنی جائداد کہاں سے آئ ان کے پاس کوئ جواب نہیں صدر بنتے ھی سب مقدمے ختم ھوگئے اب کوئ ان کی طرف کوئ انگلی نہیں اٹھا سکتا

جرمنی کی ایک وزیر نے سرکاری گاڑی استعمال کی تین سو کیلومیٹر کا سفر کیا پٹرول سرکاری خزانے سے ڈلوایا گیا تھا سارے اخبارات نے ھنگامہ کر دیا

یا ھماری پارلیمنٹ خود کھاؤ اور دوسرے کو کھانے دو کے اصول پہ چلتی رھے گی اور ملک میں رشوت اور بے ایمانی کا دور دورہ رھے گا ؟؟
جہاں انگلیاں نہیں اٹھتیں ۔ ۔ ۔ وہاں پھر بندوقیں اٹھ جاتی ہیں ۔ ہم پاکستانی اپنے اوپر انگلی اٹھنا برداشت نہیں کرتے چاہے اس کے نتیجے بندوق ہی کیوں نہ اتھا لی جائے۔ اگر یقین نہیں تو دیکھ لیں آج کے پاکستان کا حال ۔ ۔ ۔ جس ملک میں نا انصافی کا دور دورہ ہو ۔ ۔ ۔ وہاں انسانی جانیں کتنی ارزاں ہو جاتی ہیں۔ایک انسانی جان کی قیمت چند سو روپے کا جیکٹ میں بھرا بارود۔

اور جرمنی کی مثال سے یاد آیا وہاں حکمران تو حکمران عوام بھی نرالے ہیں۔ میں نے بھی ایک خبر پڑھی تھی کہ جرمنی کے چند امرا نے ٹیکس میں کمی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پر ٹیکس بڑھا دیا جائے تاکہ اس رقم سے ملک کے غربا کی مدد کی جا سکے۔ اور ادھر ہمارا حال یہ ہے کہ مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ کو تو چھوڑیں ۔ ۔ ۔ مسٹر کلین شریف اپنی جائیداد ایک لاکھ 5225 روپے ظاہر کرتے ہیں۔ ہر کوئی اس ملک میں ہنڈرڈ پرسنٹ ہے۔

0جب اس ملک کے حکمران تو حکمران ۔ ۔ ۔ عوام تک برائی کی دلدل میں اوندھے پڑے ہوئے ہیں تو پھر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (13-11-09), راجہ اکرام (13-11-09)
جواب

Tags
color, فرض, پاک, پاکستان, پاکستانی, وزیر, نظر, موجودہ, معذرت, انسان, بیوی, بے نظیر, تحریر, تعلیم, جواب, حسن, خبر, زرداری, سفر, عوام, غلطی, صدر, صدر زرداری, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
::: اسلام کو جرمن کے سرکاری ادیان میں شامل ہونا چاہیے ؟؟؟ ::: عادل سہیل عمومی بحث 3 09-02-11 12:10 AM
صدر کیا کریں گے؟؟؟ گلاب خان عمومی بحث 2 09-01-10 12:12 AM
سب کہاں ہیں ؟؟؟ محمدعدنان گپ شپ 22 20-09-09 09:11 PM
::: کیا ان کا درد ، درد نہیں ؟؟؟ ::: عادل سہیل میرا پاکستان 0 06-01-09 12:04 AM
کیا کریں ؟؟؟ فیصل ناصر تجاویز اور شکایات 7 06-11-08 07:06 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:43 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger