| سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 381
|
||||
| 3 قاری/قارئین نے شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
گزشتہ سے پیوستہ
مذکورہ بالا مسائل کا سامنا تو ہمیں تھا ہی لیکن اب ان سے بھی بڑے مسائل سامنے آچکے تھے۔ زبردست انٹیلی جنس معلومات کے نتیجے میں ہمیں معلوم ہوا کہ منشیات کے کاروبار میں سینئر ترین افغان حکام بھی ملوث تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑے بڑے سرغنہ افغان پولیس کے سینئر اہلکاروں، ججوں اور دیگر حکام کو خرید رہے تھے اور یہ سلسلہ افغان حکومت کے اعلیٰ ترین افراد تک پہنچ گیا۔ اٹارنی جنرل عبدالجبار ثابت، جو ایک سخت گیر پشتون ہیں، نے مجھے اور دیگر امریکی حکام کو بتایا کہ اس کے پاس 20 ایسے اعلیٰ ترین افغان حکام کی فہرست موجود ہے جو انتہائی کرپٹ ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ نارکوٹکس / منشیات کے دھندے میں ملوث ہیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ افغان صدر حامد کرزئی نے چند سیاسی وجوہات کی بناء پر مجھے ہدایات دی ہیں کہ ان 20 افراد کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی جائے۔ یہاں یہ واضح کرتا چلوں کہ گزشتہ ماہ کی 16 تاریخ کو عبدالجبار ثابت کی جانب سے صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان کرنے پر حامد کرزئی نے انہیں اٹارنی جنرل کے عہدے سے برطرف کردیا۔ انسداد منشیات کی کارروائی میں امریکی فوج سے زیادہ برطانوی فوج نے کام خراب کیا۔ برطانوی فورسز نے ہلمند میں ایسے پمفلٹ تقسیم کئے اور ریڈیو پر پیغامات جاری کرائے کہ برطانوی فوج انسداد منشیات کی کسی مہم کا حصہ نہیں ہے۔ میں برطانوی فورسز کی جانب سے شائع کرائے گئے ان پمفلٹس کو لے کر نیٹو کے برسلز میں موجود ہیڈ کوارٹرز گیا تاکہ انہیں بھی حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے لیکن سب پوست کی فصل کی فضائی طریقے سے خاتمے کے خلاف تھے۔ اگرچہ پینٹاگون نے ہمیں ہیلی کاپٹرز اور دیگر ضروری سامان مہیا نہیں کیا لیکن اس کے باوجود مثبت پیش رفت ہوتی رہی۔ ہمیں نے ہاتھوں سے پوست کی کاشت ختم کرنے کےلئے انسداد منشیات کے افغان یونٹ کو تیار کرلیا اس سے پہلے 10 فیصد فصل ختم کی گئی اور بعد میں یہ لیول 20 فیصد تک پہنچ گیا لیکن بعد میں صورتحال بگڑنا شروع ہوگئی۔ ہمیں معلوم ہوا کہ جنوبی افغانستان میں پوست کی پیداوار میں اضافے کی خبریں مل رہی تھیں۔ جنوب میں مزاحمت زیادہ اور کسان امیر تھے جبکہ ملک کے شمالی، وسطی اور مشرقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے غریب کسان انسداد منشیات پروگرام سے فوائد حاصل کر رہے تھے اور پوست کی کاشت سے دور ہو رہے تھے۔ ملک کے جنوبی حصے میں صورتحال اس کے برعکس تھی اور طالبان اپنی مزاحمت کے لیے منشیات سے حاصل ہونے والی رقم استعمال کر رہے تھے، جیسا کہ این پیٹرسن نے پیشگوئی کی تھی۔ جنوری 2007ء میں صورتحال پر بحث کے لیے امریکی کابینہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں شرکاء اس بات پر رضامند ہوئے کہ ڈپٹی وزیر خارجہ جان نیگرو پونٹے اور منشیات کے بادشاہ جان والٹرز انسداد منشیات کے لیے افغانستان میں مختلف ایجنسیوں کے کام کی نگرانی کریں گے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ میں اس معاملے میں رابطہ کاری کا کام کروں اور این پیٹرسن کی مداخلت پر مجھے سفارتی رتبہ دے دیا گیا۔ ہم نے دوبارہ اپنی کوششیں شروع کیں اور نیگرو پونٹے، جان والٹرز، اٹارنی جنرل البرٹو گونزالوس اور پینٹاگون کے دیگر حکام کے لیے بریفنگ کا اہتمام کیا۔ ہم نے انہیں نقشے دکھائے کہ کس طرح افغانستان میں پوست صرف جنوبی علاقوں تک محدود ہو رہی ہے۔ بریفنگ کے دوران پینٹاگون حکام جھنجلائے ہوئے نظر آئے کیونکہ ہماری بریفنگ انہیں ایک نئی حقیقیت دکھا رہی تھی کہ منشیات انسانی زندگی کے لیے مسئلہ بننے کی بجائے مزاحمت کے لیے رقم کے حصول کا ذریعہ بن رہی تھی۔ اقوام متحدہ کا انسداد منشیات کے لیے کام کرنے والا سیل بھی اس ہی نتیجے پر پہنچا تھا جو ہم پہلے ہی بتا چکے تھے۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کے اسی ادارے نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں مزاحمت کی منشیات سے وابستگی ظاہر کی گئی تھی اور ایک بیان جاری کیا گیا کہ افغانستان میں پوست کی کاشت کا اب غربت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، یہ اب امراء کے علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے اور اس کا مزاحمت سے تعلق ہے۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی تھی کہ انسداد منشیات کے لیے سنجیدہ اور ایماندارانہ کوششوں کی ضرورت ہے اور انسداد منشیات کے لیے سخت ترین اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں اس تاثر کو مسترد کردیا گیا کہ اگر افغان کسان پوست کی کاشت نہ کریں تو وہ بھوکوں مر جائیں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حالیہ برسوں میں یہ غربت کا عنصر نہیں جس کی وجہ سے افغانستان میں پوست کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ نے اس گتھی کو سلجھا دیا کہ افغانستان میں وہ غریب کسان پوست کاشت کر رہے ہیں جن کے پاس کرنے کے لیے اور کوئی کام نہیں ہے۔ کاشتکاروں نے گندم، سبزیاں، کپاس اور دیگر چیزیں اگانا چھوڑ کر پوست کاشت کرنے کا ہی انتخاب کرلیا ہے؛ وہ سیکیورٹی کے خلاء کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں اور انتہائی منافع بخش فصل یعنی پوست کاشت کر رہے ہیں۔ اسی دوران امریکا نے پوست کے صنعتی سائز کے فارمز کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کیں، ان میں سے کافی حکومت کے حامیوں جبکہ کچھ طالبان کے ہمدردوں کے تھے۔ اکثر فارمز جنوبی صوبوں کے بڑے شہروں سے قریب تر تھے۔ کاشتکار پوست کی کاشت کے لیے کنویں کھود رہے تھے، نئی زمینیں زرخیز کر رہے تھے اور امریکا کے تعمیر کئے گئے ایریگیشن کینالز کو اپنے کھیتوں کی طرف موڑ رہے تھے۔ اب بھی افغان حکومت یہی کہہ رہی تھی کہ پوست کاشت کرنے والے غریب کسان ہیں۔ افغان حکومت کی جانب سے غیر مخلصانہ رویے کا ثبوت مجھے اس وقت ملا جب میں برسلز میں ایک اجلاس میں شرکت کر رہا تھا، اس میں افغان وزیر برائے انسداد منشیات حبیب اللہ قادری بھی شریک تھے۔ انہوں نے اجلاس میں کہا کہ صرف غریب کسان پوست کاشت کر رہے ہیں اور ان کے پاس ایسا کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہیں اور ہمیں انسداد منشیات کے لیے مزید رقم درکار ہے۔ اس موقع پر ایک یورپی سفارتکار نے حبیب اللہ قادری کے بیان کو چیلنج کیا اور انہیں اقوام متحدہ کے تیار کردہ وہ نقشے دکھائے جس میں واضح تھا کہ پوست افغانستان کے غریب علاقوں میں نہیں بلکہ امیر ترین علاقوں میں کاشت کی جا رہی ہے۔ اس بات پر افغان وزیر بھونچکا رہ گئے لیکن فوراً ہی اپنے حواس بحال کرتے ہوئے انہوں نے اپنا بیان دہراتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو غریب ترین کسانوں کے لیے مزید رقم درکار ہے۔ اجلاس کے دوران ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ ظہرانے کے بعد قادری میرے پاس آیا اور میرے کان میں کہنے لگا ’’آپ جو کہہ رہے تھے وہ بالکل صحیح ہے، لوگ پوست کاشت کر رہے ہیں اس کی وجہ غریب نہیں ہے لیکن آج میں نے جو کچھ کہا ہے وہ مجھے افغان صدر کہتے ہیں کہ ایسے مواقع پر یہی بولا کروں‘‘۔ جولائی 2007ء میں، میں نے افغان صدر کرزئی سے ملاقات کرکے انسداد منشیات کے حوالے سے نئی سوچ، نئے اقدامات اور کسانوں کے لیے نئی مراعات کا ذکر کیا لیکن جب میں نے اپنی کارروائی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے بڑے ڈرگ مافیائوں کی گرفتاری اور افغانستان کے امیر ترین علاقوں میں پوست کے کھیت ختم کرنے کا ذکر کیا توہ سیخ پا ہوگئے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ (جاری ہے) Last edited by شیخ ہمدان; 03-08-08 at 03:41 AM. |
|
|
|
| شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالقدوس (03-08-08) |
![]() |
| Tags |
| پولیس, واشنگٹن, وزیر, لوگ, نظر, مسائل, معلوم, آج, اللہ, امیر, اعلیٰ, تحریر, تحریری, تصاویر, حکم, دریافت, سال, شخص, طالبان, صاف, صحت, صدارتی, صدر, صدر،, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ہم گناہ گار بھی ہیںتیرے پرستاروں میں | ابوسعد | شعر و شاعری | 3 | 03-03-11 11:09 PM |
| ’بالی وڈ ستارے افغانستان کا دورہ کریں‘ | ALI-OAD | خبریں | 0 | 17-12-10 08:52 PM |
| پاکستانیوں میں ایک اور پاکستانی | علی ذاکر | تعارف | 9 | 09-10-10 01:30 AM |
| وزیرستان میں متوقع آپریشن پاکستان نواز گروپ معاون بن سکتے ہیں | مزمل فاروق | سیاست | 0 | 01-06-09 11:15 AM |
| وزیرستان پر میزائل حملے سے قبل امریکہ نے ہمیں آگاہ نہیں کیا‘حملوں سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں‘ پاکستان | ابن جلال | خبریں | 2 | 18-09-08 11:51 PM |