واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


افغانستان: منشیات کے دھندے میں‌ ملوث کون؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-08-08, 04:06 AM   #1
افغانستان: منشیات کے دھندے میں‌ ملوث کون؟
شیخ ہمدان شیخ ہمدان آف لائن ہے 01-08-08, 04:06 AM

عالمی سطح پر انسداد منشیات کےلئے امریکی ادارے کے سابق عہدیدار تھامس سیویچ نے نیو یارک ٹائمز میں ایک آرٹیکل تحریر کیا ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ امریکا نے افغانستان کو منشیات کی چیمپئن ریاست بننے میں مدد دی اور اس معاملے میں افغان صدر کا بھی کچھ کردار ہے۔ آئیے آرٹیکل تحریر کرنے والے کی ہی زبانی ٹرانسلیشن پڑھتے ہیں:
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــ
”یہ یکم مارچ 2006ءکا دن تھا، میں پہلی بار افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے ملاقات کر رہا تھا۔ کابل کا موسم صاف شفاف تھا۔ افغان صدر نے امریکی صدر، ان کی اہلیہ، وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور امریکی سفیر رونلڈ نیومن کے ہمراہ امریکی سفارتخانے کا افتتاح کیا۔ افغانستان کےلئے امریکی لوگوں نے جو کچھ بھی کیا تھا اس پر افغان صدر نے انکا شکریہ ادا کیا۔ میں اس وقت انسداد منشیات کے اعلیٰ افسر کی حیثیت سے ایک ایسے ملک ؛ افغانستان پہنچا تھا جس نے دنیا کو 90 فیصد ہیروئن فراہم کی تھی۔ اس وقت میں نے افغان صدر حامد کرزئی کے منشیات کے خاتمے کے عزم سے متعلق الفاظ کو سچ سمجھ بیٹھا تھا۔ وہ میری پہلی غلطی تھی “۔
آنے والے 2 برسوں میں مجھے معلوم ہوا کہ افغان حکومت کس قدر امریکا کی بنائی گئی پالیسیوں سے منشیات کے کاروبار کو تحفظ دینے میں ملوث ہے۔ ایک طرف یہ بات بالکل درست ہے کہ کرزئی کے دشمن یعنی طالبان منشیات کے ذریعے ہی اپنی مالی ضروریات پوری کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف حامد کرزئی کے حامی بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ ٹھیک اسی وقت ہماری اپنی وزارت دفاع نے بھی نیٹو سے تعلق رکھنے والے ہمارے کچھ اتحادیوں کی طرح پوست کی کاشت کےخلاف کی جانےوالی کارروائیوں کےخلاف مزاحمت بھی کی ہے، یہ چاہتے ہیں کہ ایک بار یہ جنگ ختم ہوجائے تو اس کاروبار کو بھی دیکھ لیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب تک منشیات ختم نہیں ہونگی اور کابل حکومت اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کےلئے پوست پر انحصار کرتی رہے گی، اس وقت تک طالبان بھی اپنی مالی ضروریات یہیں سے پوری کرتے رہیں گے اور ممکنہ طور پر یہ جنگ جاری رہے گی۔
اس بات کا بالکل امکان نہیں تھا کہ ایسا ہوگا۔ این پیٹرسن کے نائب وزیر خارجہ برائے امورِ عالمی انسداد منشیات بننے پر میں نے یکم دسمبر 2005ءکو ان کےلئے ایک بریفنگ میں شرکت کی تھی۔ میری طرف متوجہ ہوکر انہوں نے کہا کہ یہ ہم نے خود کو کس معاملے میں ڈال دیا ہے؟ اس وقت ہمیں یہ معلوم ہوا کہ ایک لاکھ 65 ہزار ہیکٹر کے رقبے پر صرف 2 ماہ کے عرصے میں افغان کاشتکاروں نے ایک سال قبل کے مقابلے میں 60 فیصد مزید پوست کاشت کی ہے اور 2006ء کی یہ کاشت تاریخ کی سب سے بڑی کاشت کہلائی جائے گی۔ یہ وہ چیلنج تھا جس کا ہمیں سامنا تھا۔
تین بار سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والی پیٹرسن نے لاءاینفورسمنٹ بیورو (جس کے درجن بھر ممالک میں انسداد جرائم کے پروگرامز جاری ہیں) میں مجھے اپنا نائب بنایا۔ تھامس کہتے ہیں کہ افغانستان میں منشیات کے خاتمے کےلئے میں نے مقامی قبائل سے ملاقات کی، امریکا میں وائٹ ہائوس حکام کو بریفنگ دیں اور یہ آئیڈیا پیش کیا کہ افغانستان میں پوست کے کھیتوں پر ”گلائی فوسیٹ“ کا فضائی اسپرے کیا جائے۔ یہ ایک ایسا کیمیکل ہے جو امریکا اور یورپ میں کھیتوں میں اضافے پودے ختم کرنے کےلئے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کا انسانی صحت پر کوئی اثر نہیں۔ تاہم حامد کرزئی نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ لوگ یہ سمجھیں گے کہ فضاءسے زہر اسپرے کیا جا رہا ہے اور ایسا کیا گیا تو سخت مزاحمت ہوگی جس سے میری (کرزئی کی) حکومت کو خطرات لاحق ہوجائینگے، حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں تھی لیکن حامد کرزئی کی مخالفت کے باعث ایسا اسپرے نہ ہوسکا۔
اس وقت کے امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ بھی میرے خیالات کا دفاع کرتے تھے لیکن اس وقت وہ سیاسی مشکلات میں گھر چکے تھے اسلئے وہ جب بھی میرا دفاع کرتے تھے کونڈولیزا رائس انہیں خاموش کرادیتی تھیں۔ اس سلسلے میں این پیٹرسن نے اور افغانستان میں اعلیٰ ترین امریکی فوجی لیفٹیننٹ جنرل کارل آئیکن بیری کے درمیان بات چیت ہوئی تو آئیکن بیری نے انہیں بتایا کہ منشیات یقیناً بری چیز ہیں لیکن ہمارا حکم یہ ہے[ کہ منشیات افغانستان میں ہماری ترجیح نہیں۔ پیٹرسن نے انہیں بتایا کولمبیا میں باغیوں کی جانب سے منشیات سے مالی مدد حاصل کرنے کی مثال پیش بھی پیش کی۔ آئیکن بیری کو کولمبیا کے اس واقعے کا علم تھا لیکن پینٹاگون کی حکمت عملی واضح ترین تھی: ”طالبان کو شکست دو اور بعد میں کسی سے کہو کہ وہ منشیات کے اس کاروبار کو تباہ کرے“۔
بہرالحال، ہمارے ادارے ڈرگ اینفورسمنٹ اینڈمنسٹریشن (ڈی ای اے) نے ہیروئن کی اسمگلنگ اور اس کے خاتمے کے لیے اپنے طور پر کارروائی کرنا شروع کیا۔ اسمگلرز اور سرغنہ کو نشانہ بنایا، ڈرگ اسمگلنگ نیٹ ورکس کو تباہ کیا لیکن زمینی کارروائی میں‌ حملوں کا خطرہ بہت تھا۔ ڈی ای اے کے پاس افغانستان میں زبردست ایجنٹ تھے لیکن زیادہ نہیں۔ پینٹاگون نے منشیات کے خاتمے کے پروگرام کے حوالے سے ہمیں ایم آئی 17 ہیلی کاپٹرز دینے کا وعدہ کیا تھا، وہ نہیں ملے۔ ایجنٹس کو کارروائی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا تھا۔ کارروائی کے حوالے سے پینٹاگون نے ہمیں کابل ائر پورٹ پر تھوڑی جگہ بھی دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن۔۔۔۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے کوششیں‌ دھیرے دھیرے سست پڑتی گئیں۔ افغانستان میں جتنی پوست پیدا ہو رہی تھی اس کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ پکڑا جا رہا تھا۔ منشیات کی کھیپوں کو پکڑنے کا یہ سلسلہ 2006ء میں اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہوا جب افغانستان میں‌ مشرقی کمان سنبھالنے والے ٹو اسٹار جرنیل بینجمن فریکلی نے پوست کی کاشت کے حوالے سے نمبر ون سمجھا جانے والے افغان صوبے ننگر ہار میں ڈی ای اے کی تمام کارروائیاں بند کردیں۔ جرنیل کا کہنا تھا کہ انسداد منشیات کے لیے کی جانے والی کارروائیاں اسکے آپریشنز میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا کر رہی تھیں۔
افغان کاشتکاروں کو متبادل فصلیں فراہم نہ کرنے پر یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ یعنی یو ایس ایڈ (USAid) پر بھی شدید تنقید کی گئی (خصوصاً کانگریس نے تنقید کی)۔ یو ایس ایڈ نے افغان کاشتکاروں کو متبادل فصلوں کے بیج، کھاد اور دیگر ضروری چیزیں فراہم کی تھیں لیکن اس حوالے سے ملک کے دیگر حصوں میں زرعی پروگرامز شروع نہیں ہوسکے۔ کابل میں موجود یو ایس ایڈ کے افسران و اہلکار لائق، اہل اور پرعزم تھے لیکن شدت پسندوں کے حملوں میں ان کے کئی ساتھی مارے جاچکے تھے لہٰذا وہ طالبان کے علاقوں میں‌ اپنے پروگرامز شروع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے۔
اس دوران ہمارے محکمہ انصاف نے افغانستان میں انسداد منشیات کے مقدمات کی عدالتیں لگانے کے کام کو حتمی شکل دیدی۔ افغانستان میں انصاف کا معاملہ قبائلی سردار، مذہبی رہنما اور کم تنخواہ والے انتہائی بدعنوان ججوں کے سر پر ڈالا ہوا تھا۔ اگر کسی مقدمہ میں منشیات اسمگل کرنےوالا شخص عدالت میں‌ لایا بھی جاتا تھا تو ہم اسے رشوت کے عوض عدالت کے دوسرے دروازے سے باہر جاتا دیکھتے تھے۔ اس معاملے میں ہمیں کئی اور بھی رپورٹس ملیں۔
پھر افغان نیشنل پولیس کا مسئلہ سر پر کھڑا ہوگیا۔ پینٹاگون تواتر کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا رہتا تھا کہ افغان نیشنل پولیس (جسے پینٹاگون نے ہی تربیت دی تھی) زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے، لیکن حقیقت میں اس پولیس، جسے جرمن فوج اور امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے تربیت ملی تھی، کی کارکردگی ایسی نہیں تھی۔ افغانستان میں‌ ایک قابل احترام فوجی نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اصل میں‌ افغان فوج بھی کوئی خاص کارکردگی نہیں‌ دکھا رہی، اسکی تربیت کا معاملہ ناقابل یقین ہے اور اس پر کم رقم خرچ کی جا رہی ہے لہٰذا فوج میں‌ جہاں‌ ضرورت پڑتی ہے وہاں پولیس کے اہلکاروں کے ذریعے خالی جگہیں پر کی جاتی ہیں۔ فوج میں دھکیلے گئے ان پولیس اہلکاروں نے جہاں بھی حکومتی رٹ برقرار رکھنے کے لیے مشکل علاقے میں کارروائی میں‌ حصہ لیا صرف جانیں‌ ہی گنوائیں۔
امریکی اداروں اور افغام حکومت کے پاس ان ایشوز سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں‌ تھی۔ جب میں نے اسٹیٹ‌ ڈپارٹمنٹ کے کیریئر افسر سے افغانستان میں انسداد دہشت گردی کے لیے مختلف ایجنسیوں‌ کے درمیان رابطے کے حوالے سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے وہی چارٹس دکھانا شروع کئے جو مہینوں‌ قبل میں واشنگٹن میں کابینہ کو دکھا کر بریف کیا کرتا تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ تحریری طور پر کوئی حکمت عملی موجود نہیں ہے۔

(باقی بعد میں)

Last edited by شیخ ہمدان; 01-08-08 at 04:16 AM..

 
شیخ ہمدان's Avatar
شیخ ہمدان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 50
مراسلات: 280
شکریہ: 12
163 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 381
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا
پیاسا (01-08-08), تفسیر حیدر (01-08-08), عبدالقدوس (03-08-08)
پرانا 03-08-08, 02:14 AM   #2
Senior Member
 
شیخ ہمدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 50
مراسلات: 280
کمائي: 8,368
شکریہ: 12
163 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
شیخ ہمدان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Arrow جواب: افغانستان: منشیات کے دھندے میں‌ ملوث کون؟

گزشتہ سے پیوستہ
؂؂؂؂؂؂؂؂؂

مذکورہ بالا مسائل کا سامنا تو ہمیں‌ تھا ہی لیکن اب ان سے بھی بڑے مسائل سامنے آچکے تھے۔ زبردست انٹیلی جنس معلومات کے نتیجے میں ہمیں معلوم ہوا کہ منشیات کے کاروبار میں سینئر ترین افغان حکام بھی ملوث تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑے بڑے سرغنہ افغان پولیس کے سینئر اہلکاروں، ججوں اور دیگر حکام کو خرید رہے تھے اور یہ سلسلہ افغان حکومت کے اعلیٰ ترین افراد تک پہنچ گیا۔ اٹارنی جنرل عبدالجبار ثابت، جو ایک سخت گیر پشتون ہیں، نے مجھے اور دیگر امریکی حکام کو بتایا کہ اس کے پاس 20 ایسے اعلیٰ ترین افغان حکام کی فہرست موجود ہے جو انتہائی کرپٹ ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ نارکوٹکس / منشیات کے دھندے میں ملوث ہیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ افغان صدر حامد کرزئی نے چند سیاسی وجوہات کی بناء پر مجھے ہدایات دی ہیں کہ ان 20 افراد کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی جائے۔ یہاں یہ واضح کرتا چلوں کہ گزشتہ ماہ کی 16 تاریخ کو عبدالجبار ثابت کی جانب سے صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان کرنے پر حامد کرزئی نے انہیں اٹارنی جنرل کے عہدے سے برطرف کردیا۔
انسداد منشیات کی کارروائی میں‌ امریکی فوج سے زیادہ برطانوی فوج نے کام خراب کیا۔ برطانوی فورسز نے ہلمند میں ایسے پمفلٹ تقسیم کئے اور ریڈیو پر پیغامات جاری کرائے کہ برطانوی فوج انسداد منشیات کی کسی مہم کا حصہ نہیں ہے۔ میں‌ برطانوی فورسز کی جانب سے شائع کرائے گئے ان پمفلٹس کو لے کر نیٹو کے برسلز میں‌ موجود ہیڈ کوارٹرز گیا تاکہ انہیں بھی حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے لیکن سب پوست کی فصل کی فضائی طریقے سے خاتمے کے خلاف تھے۔
اگرچہ پینٹاگون نے ہمیں ہیلی کاپٹرز اور دیگر ضروری سامان مہیا نہیں کیا لیکن اس کے باوجود مثبت پیش رفت ہوتی رہی۔ ہمیں نے ہاتھوں سے پوست کی کاشت ختم کرنے کےلئے انسداد منشیات کے افغان یونٹ کو تیار کرلیا اس سے پہلے 10 فیصد فصل ختم کی گئی اور بعد میں یہ لیول 20 فیصد تک پہنچ گیا لیکن بعد میں‌ صورتحال بگڑنا شروع ہوگئی۔ ہمیں معلوم ہوا کہ جنوبی افغانستان میں پوست کی پیداوار میں اضافے کی خبریں مل رہی تھیں۔ جنوب میں مزاحمت زیادہ اور کسان امیر تھے جبکہ ملک کے شمالی، وسطی اور مشرقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے غریب کسان انسداد منشیات پروگرام سے فوائد حاصل کر رہے تھے اور پوست کی کاشت سے دور ہو رہے تھے۔ ملک کے جنوبی حصے میں‌ صورتحال اس کے برعکس تھی اور طالبان اپنی مزاحمت کے لیے منشیات سے حاصل ہونے والی رقم استعمال کر رہے تھے، جیسا کہ این پیٹرسن نے پیشگوئی کی تھی۔
جنوری 2007ء میں صورتحال پر بحث‌ کے لیے امریکی کابینہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں شرکاء اس بات پر رضامند ہوئے کہ ڈپٹی وزیر خارجہ جان نیگرو پونٹے اور منشیات کے بادشاہ جان والٹرز انسداد منشیات کے لیے افغانستان میں مختلف ایجنسیوں کے کام کی نگرانی کریں گے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ میں اس معاملے میں‌ رابطہ کاری کا کام کروں اور این پیٹرسن کی مداخلت پر مجھے سفارتی رتبہ دے دیا گیا۔ ہم نے دوبارہ اپنی کوششیں شروع کیں اور نیگرو پونٹے، جان والٹرز، اٹارنی جنرل البرٹو گونزالوس اور پینٹاگون کے دیگر حکام کے لیے بریفنگ کا اہتمام کیا۔ ہم نے انہیں نقشے دکھائے کہ کس طرح افغانستان میں پوست صرف جنوبی علاقوں تک محدود ہو رہی ہے۔ بریفنگ کے دوران پینٹاگون حکام جھنجلائے ہوئے نظر آئے کیونکہ ہماری بریفنگ انہیں ایک نئی حقیقیت دکھا رہی تھی کہ منشیات انسانی زندگی کے لیے مسئلہ بننے کی بجائے مزاحمت کے لیے رقم کے حصول کا ذریعہ بن رہی تھی۔
اقوام متحدہ کا انسداد منشیات کے لیے کام کرنے والا سیل بھی اس ہی نتیجے پر پہنچا تھا جو ہم پہلے ہی بتا چکے تھے۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کے اسی ادارے نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں‌ مزاحمت کی منشیات سے وابستگی ظاہر کی گئی تھی اور ایک بیان جاری کیا گیا کہ افغانستان میں پوست کی کاشت کا اب غربت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، یہ اب امراء کے علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے اور اس کا مزاحمت سے تعلق ہے۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی تھی کہ انسداد منشیات کے لیے سنجیدہ اور ایماندارانہ کوششوں کی ضرورت ہے اور انسداد منشیات کے لیے سخت ترین اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں اس تاثر کو مسترد کردیا گیا کہ اگر افغان کسان پوست کی کاشت نہ کریں تو وہ بھوکوں مر جائیں‌ گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حالیہ برسوں میں یہ غربت کا عنصر نہیں جس کی وجہ سے افغانستان میں‌ پوست کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ نے اس گتھی کو سلجھا دیا کہ افغانستان میں وہ غریب کسان پوست کاشت کر رہے ہیں جن کے پاس کرنے کے لیے اور کوئی کام نہیں ہے۔ کاشتکاروں نے گندم، سبزیاں، کپاس اور دیگر چیزیں اگانا چھوڑ کر پوست کاشت کرنے کا ہی انتخاب کرلیا ہے؛ وہ سیکیورٹی کے خلاء کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں اور انتہائی منافع بخش فصل یعنی پوست کاشت کر رہے ہیں۔
اسی دوران امریکا نے پوست کے صنعتی سائز کے فارمز کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کیں، ان میں سے کافی حکومت کے حامیوں جبکہ کچھ طالبان کے ہمدردوں کے تھے۔ اکثر فارمز جنوبی صوبوں کے بڑے شہروں سے قریب تر تھے۔ کاشتکار پوست کی کاشت کے لیے کنویں کھود رہے تھے، نئی زمینیں زرخیز کر رہے تھے اور امریکا کے تعمیر کئے گئے ایریگیشن کینالز کو اپنے کھیتوں کی طرف موڑ رہے تھے۔
اب بھی افغان حکومت یہی کہہ رہی تھی کہ پوست کاشت کرنے والے غریب کسان ہیں۔ افغان حکومت کی جانب سے غیر مخلصانہ رویے کا ثبوت مجھے اس وقت ملا جب میں برسلز میں ایک اجلاس میں شرکت کر رہا تھا، اس میں افغان وزیر برائے انسداد منشیات حبیب اللہ قادری بھی شریک تھے۔ انہوں نے اجلاس میں کہا کہ صرف غریب کسان پوست کاشت کر رہے ہیں اور ان کے پاس ایسا کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہیں اور ہمیں انسداد منشیات کے لیے مزید رقم درکار ہے۔ اس موقع پر ایک یورپی سفارتکار نے حبیب اللہ قادری کے بیان کو چیلنج کیا اور انہیں‌ اقوام متحدہ کے تیار کردہ وہ نقشے دکھائے جس میں واضح‌ تھا کہ پوست افغانستان کے غریب علاقوں میں نہیں بلکہ امیر ترین علاقوں میں‌ کاشت کی جا رہی ہے۔ اس بات پر افغان وزیر بھونچکا رہ گئے لیکن فوراً ہی اپنے حواس بحال کرتے ہوئے انہوں نے اپنا بیان دہراتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو غریب ترین کسانوں کے لیے مزید رقم درکار ہے۔ اجلاس کے دوران ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ ظہرانے کے بعد قادری میرے پاس آیا اور میرے کان میں کہنے لگا ’’آپ جو کہہ رہے تھے وہ بالکل صحیح ہے، لوگ پوست کاشت کر رہے ہیں اس کی وجہ غریب نہیں ہے لیکن آج میں نے جو کچھ کہا ہے وہ مجھے افغان صدر کہتے ہیں کہ ایسے مواقع پر یہی بولا کروں‘‘۔
جولائی 2007ء میں، میں نے افغان صدر کرزئی سے ملاقات کرکے انسداد منشیات کے حوالے سے نئی سوچ، نئے اقدامات اور کسانوں کے لیے نئی مراعات کا ذکر کیا لیکن جب میں نے اپنی کارروائی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے بڑے ڈرگ مافیائوں کی گرفتاری اور افغانستان کے امیر ترین علاقوں میں پوست کے کھیت ختم کرنے کا ذکر کیا توہ سیخ پا ہوگئے اور کوئی جواب نہیں دیا۔

(جاری ہے)

Last edited by شیخ ہمدان; 03-08-08 at 03:41 AM.
شیخ ہمدان آف لائن ہے   Reply With Quote
شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس (03-08-08)
جواب

Tags
پولیس, واشنگٹن, وزیر, لوگ, نظر, مسائل, معلوم, آج, اللہ, امیر, اعلیٰ, تحریر, تحریری, تصاویر, حکم, دریافت, سال, شخص, طالبان, صاف, صحت, صدارتی, صدر, صدر،, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہم گناہ گار بھی ہیں‌تیرے پرستاروں میں‌ ابوسعد شعر و شاعری 3 03-03-11 11:09 PM
’بالی وڈ ستارے افغانستان کا دورہ کریں‘ ALI-OAD خبریں 0 17-12-10 08:52 PM
پاکستانیوں میں‌ ایک اور پاکستانی علی ذاکر تعارف 9 09-10-10 01:30 AM
وزیرستان میں‌ متوقع آپریشن پاکستان نواز گروپ معاون بن سکتے ہیں‌ مزمل فاروق سیاست 0 01-06-09 11:15 AM
وزیرستان پر میزائل حملے سے قبل امریکہ نے ہمیں آگاہ نہیں کیا‘حملوں سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں‘ پاکستان ابن جلال خبریں 2 18-09-08 11:51 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:44 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger