واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


اقوام متحدہ یا United Nations Organization

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-12-08, 09:21 PM   #1
اقوام متحدہ یا United Nations Organization
طارق راحیل طارق راحیل آف لائن ہے 28-12-08, 09:21 PM

اقوام متحدہ


25 اپریل 1945 ء سے 26 جون 1945 ء تک سان فرانسسکو، امریکہ میں پچاس ملکوں کے نمائندوں کی ایک کانفرس منعقد ہوئی۔ اس کانفرس میں ایک بین الاقوامی ادارے کے قیام پر غور کیا گیا۔ چنانچہ اقوام متحدہ یا United Nations کا منشور یا چارٹر مرتب کیا گیا۔ لیکن اقوام متحدہ 24 اکتوبر 1945 ء میں معرض وجود میں آئی۔

اقوام متحدہ یا United Nations Organization کا نام امریکہ کے سابق صدر مسٹر روز ویلٹ نے تجویز کیا تھا۔




* 1 منشور اور مقاصد
o 1.1 مقاصد
* 2 رکنیت
* 3 اعضاء
* 4 جنرل اسمبلی
o 4.1 کمیٹیاں
o 4.2 اختیارات اور فرائض
* 5 سلامتی کونسل
o 5.1 سلامتی کونسل کے فرائض اور اختیارات
o 5.2 ایٹمی کمیشن
* 6 اکنامک اور سوشل کونسل
* 7 ٹرسٹی شپ کونسل
* 8 بین الاقوامی عدالت
* 9 سیکریٹریٹ
* 10 متعلقہ مضامین

منشور اور مقاصد

اس کے چارٹر کی تمہید میں لکھا ہے کہ

ہم اقوام متحدہ کے لوگوں نے مصمم ارادہ کیا ہے کہ آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچائیں گے جو ہماری زندگی میں بنی نوع انسان پر دو مرتبہ بے انتہا مصیبتیں لا چکی ہے۔ انسانوں کے بنیادی حقوق پر دوبارہ ایمان لائیں گے اور انسانی اقدار کی عزت اور قدرومنزلت کریں گے۔ مرد اور عورت کے حقوق برابر ہوں گے۔ اور چھوٹی بڑی قوموں کے حقوق برابر ہوں گے۔ ایسے حالات پیدا کریں گے کہ عہد ناموں اور بین الاقوامی آئین کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو نبھایا جائے۔ آزادی کی ایک وسیع فضا میں اجتماعی ترقی کی رفتار بڑھے اور زندگی کا معیار بلند ہو۔

یہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے رواداری اختیار کریں۔ ہمسایوں سے پر امن زندگی بسر کریں۔ بین الاقوامی امن اور تحفظ کی خاطر اپنی طاقت متحد کریں۔ نیز اصولوں اور روایتوں کو قبول کر سکیں اس بات کا یقین دلائیں کی مشترکہ مفاف کے سوا کبھی طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔ تمام اقوام عالم اقتصادی اور اجتماعی ترقی کی خاطر بین الاقوامی ذرائع اختیار کریں۔


مقاصد

اقوام متحدہ کی شق نمبر 1 کے تحت اقوام متحدہ کے عناصر درج ذیل ہیں۔

1. مشترکہ مساعی سے بین الاقوامی امن اور تحفظ قائم کرنا۔
2. قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو بڑھانا۔
3. بین الاقوامی اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور انسانوں کو بہتری سے متعلق گتھیوں کو سلجھانے کی خاطر بین الاقوامی تعاون پیدا کرنا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے لیے لوگوں کے دلوں میں عزت پیدا کرنا۔
4. ایک ایسا مرکز پیدا کرنا جس کے ذریعے قومیں رابطہ عمل پیدا کر کے ان مشترکہ مقاصد کو حاصل کر سکیں۔
5. آرٹیکل نمبر 2 کے تحت تمام رکن ممالک کو مرتبہ برابری کی بنیاد پر ہے۔


رکنیت

ہر امن پسند ملک جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی شرائط تسلیم کرے اور ادارہ کی نظر میں وہ ملک ان شرائط کو پورا کر سکے اور اقوام متحدہ کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے تیار ہو برابری کی بنیاد پر اقوام متحدہ کا رکن بن سکتا ہے۔ شروع شروع میں اس کے صرف 50 ممبر تھے۔ بعد میں بڑھتے گئے۔ سیکورٹی کونسل یا سلامتی کونسل کی سفارش پر جنرل اسمبلی اراکین کو معطل یا خارج کر سکتی ہے۔ اور اگر کوئی رکن چارٹر کی مسلسل خلاف ورزی کرے اسے خارج کیا جا سکتا ہے۔ سلامتی کونسل معطل شدہ اراکین کے حقوق رکنیت کو بحال کر سکتی ہے۔اس وقت اس کے ارکان ممالک کی تعداد 192 ہے۔ تفصیلی فہرست کے لیے دیکھئیے: اقوام متحدہ کے رکن ممالک۔

اعضاء

اقوام متحدہ کے 6 اعضاء ہیں

* جنرل اسمبلی
* سلامتی کونسل یا سیکورٹی کونسل
* اقتصادی اور سماجی اکنامک اور سوشل کونسل
* ٹرسٹی شپ کونسل
* بین الاقوامی عدالت یا انٹر نیشنل کورٹ
* سیکریٹریٹ


جنرل اسمبلی
دفتر اقوام متحدہ

جنرل اسمبلی تمام رکن ممالک پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہر رکن ملک اسمبلی میں زیادہ سے زیادہ پانچ نمائندے بھیج سکتا ہے۔ ایسے نمائندوں کا انتخاب ملک خود کرتا ہے۔ ہر رکن ملک کو صرف ایک ووٹ ہوتا ہے۔

جنرل اسمبلی کا اجلاس سال میں ایک دفعہ ماہ ستمبر کے تیسرے منگل کوشروع ہوتا ہے۔ لیکن اگر سلامتی کونسل چاہے یا اقوام متحدہ کے اراکین کی اکثریت کہے تو جنرل اسمبلی کا خاص اجلاس بھی بلایا جاسکتا ہے۔


کمیٹیاں

جنرل اسمبلی کا کام سر انجام دینے کے لیے چھ کمیٹیاں بنائی گئیں ہیں۔ ان کمیٹیوں میں نمائندگی کا حق ہر ممبر ملک کو حاصل ہے۔

* پہلی کمیٹی تحفظاتی اور سیاسی معاملات سے متعلق ہے۔ ہتھیاروں میں تخفیف کا معاملہ بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ اسکی مزید امداد کے لیے ایک خصوصی سیاسی کمیٹی بھی ہے۔

* دوسری کمیٹی اقتصادی اور مالیاتی معاملات کے متعلق ہے۔

* تیسری کمیٹی سماجی انسانی اور ثقافتی معاملات کے بارے میں ہے۔

* چوتھی کمیٹی تولیتی معاملات کے متعلق ہے جس میں غیر مختار علاقوں کے معاملات بھی شامل ہیں۔

* پانچویں کمیٹی انتظامی معاملات اور بجٹ کے متعلق ہے۔

* چھٹی کمیٹی قانون سے متعلق ہے۔


ان کے علاوہ ایک جنرل اسمبلی کے پریذیڈنٹ، 17 وائس پریذیڈنٹ اور بڑی کمیٹی کے 6 ممبران پر مشتمل ہے جن کا انتخاب جنرل اسمبلی کرتی ہے۔ جنرل کمیٹی کا اجلاس اسمبلی کے کام کا جائزہ لینے اور اسے بخوبی سر انجام دینے کے لیے اکثر منعقد ہوتا ہے۔ جنرل اسمبلی کی امداد کے لیے مزید کئی کمیٹیاں بھی ہیں۔ جنرل اسمبلی اکثر اوقات بہ وقت ضرورت ہنگامی کمیٹیاں بھی مقرر کرتی ہے۔ مثلاً امبلی نے دسمبر 1948 ء میں کوریا کے لیے اقوام متحدہ کا کمیشن مقرر کیا۔ اقوام متحدہ نے مصالحتی کمیشن برائے فلسطین مقرر کیا۔ تمام کمیٹیوں کی سفارشات جنرل اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔

اختیارات اور فرائض

جنرل اسمبلی کے اختیارات اور فرائض وسیع ہیں۔ مثلاً

* امن اور عافیت کے لیے بین الاقوامی اصولوں پر غور کرنا اور اس ضمن میں اپنی سفارشات پیش کرنا۔

* بین الاقوامی سیاست کی ترویج کرنا

* بین الاقوامی قانون کی ترقی و تدوین

* تمام بنی نوع انسان کے لیے بنیادی حقوق اور آزادیوں کو حاصل کرنا۔

* اقتصادی، سماجی، ثقافتی، تعلیمی اور صحت عامہ کے متعلق بین الاقو امی اشتراک عمل

* سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے دوسرے اعضا کی رپورٹوں پر غور کرنا

* کسی تنازعہ کی صورت میں اس کے حل کے لیے اپنی سفارشات پیش کرنا

* ٹرسٹی شپ کونسل کے ذریعہ تولیتی معاہدات کی تعمیل کی نگرانی کرنا

* سلامتی کونسل کے دس غیر مستقل ارکان کا انتخاب

* اقوام متحدہ کے بجٹ پر غور و غوض کرنا اور اسے منظور کرنا

* ارکان ملک کے لیے چندے کی رقم مقرر کرنا

* مخصوص اداروں کے بجٹ کی جانچ پڑتال کرنا وغیرہ


* اہم مسائل دو تہائ اکثریت سے طے پاتے ہیں۔ باقی مسائل کا فیصلہ حاضر ارکان کی سادہ اکثریت سے کیا جاتا ہے۔

سلامتی کونسل

سلامتی کونسل یا سکیورٹی کونسل اقوام متحدہ کا سب سے اہم عضو ہے اس کے کل پندرہ ارکان ہوتے ہیں، جن میں سے پانچ مستقل ارکان جو کہ فرانس، روس، برطانیہ، چین اور امریکا ہیں اور ان کے پاس کسی بھی معاملہ میں راے شماری کو تنہا رد یعنی ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے۔

ان کے علاوہ اس کے دس غیر مستقل اراکین بھی ہیں جن کو جنرل اسمبلی دو دو سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔ انھیں فوری طور پر دوبارہ منتخب نہیں کیا جاسکتا۔


سلامتی کونسل کے فرائض اور اختیارات

* اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق دنیا بھر میں امن اور سلامتی قائم رکھنا

* کسی ایسے جھگڑے یا موضوع کی تفشیش کرنا جو بین الاقوامی نزاع پیدا کر سکتا ہو

* بین الاقوامی تنازعوں کو سلجھانے کے بارے میں منصوبے تیار کرنا۔


* سلامتی کونسل اقوام متحدہ کے تمام اراکین کی طرف سے کاروائی کرتی ہے۔ یہ سب اراکان سلامتی کونسل کے فیصلوں کی تعمیل میں حامی بھرتے ہیں اور اسکی درخواست پر بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے مسلح فوجیں یا دیگر مناسب اقدام کرتے ہیں۔

* سلامتی کونسل کی کاروائی ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ اس لیے رکن ملک کا ایک ایک نمائندہ ہر وقت اقوام متحدہ کے ہیڈ کواٹرز میں موجود رہتا ہے۔ سلامتی کونسل جہاں چاہے اپنا اجلاس فورا منعقد کر سکتی ہے۔


* فوجی عملے کی کمیٹی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے چیف آپ سٹاف یا ان کے نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے۔


ایٹمی کمیشن

اکنامک اور سوشل کونسل

اس کے 54 اراکین ہیں جس میں سے 18 ممبروں کو جنرل اسمبلی ہر بار باری باری 3 ، 3 سال لے لیے منتخب کرتی ہے۔ جنرل اسمبلی کے زیر انتظام یہ کونسل اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی سرگرمیوں کی ذمہ دار ہے۔


اس کونسل میں ہر فیصلہ محض کثرت رائے سے کیا جاتا ہے۔ یہ رکن کا ایک ووٹ ہوتا ہے۔ یہ کونسل کمیشنوں اور کمیٹیوں کے ذریعے کام کرتی ہے۔

اس کونسل کے کمیشنوں میں درج ذیل کمیشن شامل ہیں۔

* اقتصادیات، روزگار اور ترقی سے متعلق کمیشن

* رسل اور مواصلات سے متعلق کمیشن

* سرکاری خزانے سے متعلق کمیشن

* شماریات سے متعلق کمیشن

* آبادی سے متعلق کمیشن

* انسانی حقوق سے متعلق کمیشن

* سماجی ترقی سے متعلق کمیشن

* خواتین کے حقوق سے متعلق کمیشن

* منشی ادویات سے متعلق کمیشن


* ان کے علاوہ تین علاقہ واری کمیشن بھی موجودہ ہیں۔

* یورپ کے لیے اقتصادی کمیشن

* ایشیا اور مشرق بعید کے لیے اقتصادی کمیشن


* جنوبی امریکا کے لیے اقتصادی کمیشن

ٹرسٹی شپ کونسل

اقوام متحدہ نے ایک بین الاقوامی تولیتی نظام قائم کیا تاکہ ان علاقوں کی نگرانی اور بندوبست کا انتظام کرے جو جداگانہ تولیتی معاہدوں کے ذریعہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی آ گئے۔

تولیتی نظام کا مقصد بین الاقوامی امن و امان اور حفاظت کو ترویض کرنا۔ تولیتی علاقی جات کے باشندوں کی ترقی کا خیال رکھنا تا کہ وہ خود مختاری اور آزادی حاصل کر سکیں۔

تولیتی کانفرس کا فرض ہے کہ تولیتی علاقہ جات کے باشندوں کی سیاسی، اقتصادی، سماجی اور تعلیمی ترقی کے بارے میں استفسار نامہ مرتب کرے جس کی بنا پر انتظام کرنے والی حکومتیں سالانہ رپورٹ تیار کریں۔ اس کے ممبروں میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے علاوہ ٹرسٹ علاقوں کا انتظام کرنے والے ممالک شامل ہوتے ہیں۔


بین الاقوامی عدالت

بین الاقوامی عدالت کا صدر مقام شہر ہگ واقع نیدر لینڈز (ہالینڈ) ہے۔ یہ عدالت اقوام متحدہ کا سب سے بڑا قانونی ادارہ ہے۔ تمام ملک جنہوں نے آئین عدالت کے منشور پر دستخط کئے، جس مقدمے کو چاہیں اس عدالت میں پیش کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں خود بھی سلامتی کونسل قانونی تنازعے عدالت بھیج سکتی ہے۔


بین الا قوامی عدالت 15 ججوں پر مشتمل ہے۔ عدالت کی ان ممبران کو جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل آزاد رائے شماری کے زریعی نو سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔ جج اپنی ذاتی قابلیت کی بنا پر منتخب ہوتا ہے۔ تاہم یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ اہم قانونی نظام کی نمائندگی ہو جائے۔ یاد رہے کہ ایک ہی ملک کے دو جج بیک وقت منتخب نہیں ہو سکتے۔


سیکریٹریٹ

سیکٹری جنرل اقوام متحدہ کے سب سے بڑے ناظم امور کی حثیت سے کام کرتا ہے۔ سلامتی کونسل کی سفارش پر جنرل اسمبلی سیکٹری جنرل منتخب کرتی ہے۔ سیکٹری جنرل اسمبلی کو ایک سالانہ رپورٹ پیش کرتا ہے اور اسے حق حاصل ہے کہ اپنا عملہ خود نامزد کرے۔


اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ میں مندرجہ ذیل دفاتر شامل ہیں۔

1. سیکٹری جنرل کا دفتر
2. اقتصادی اور سماجی امور کا محکمہ
3. خصوصی سیاسی معاملات کا دفتر
4. تولیتی اور غیر مختار علاقوں کا عملہ
5. اطلاعات عامہ کا دفتر
6. قانونی امور کا دفتر
7. کانفرس سروس کا دفتر
8. کنٹرولر کا دفتر
9. جنرل سروسز کا دفتر
10. سیاسی اور تحفظاتی امور کا محکمہ
11. اقوام متحدہ کا جنیوا کا دفتر


مندرجہ ذیل امدادی اداروں میں بھی اقوام متحدہ کا عملہ کام کرتا ہے۔


وہ ادارے جنہیں جنرل اسمبلی یا اقتصادی کونسل قائم کرے


* یونیسف (unicef) اس کا صدر دفتر ینو یارک میں ہے۔

* ترقیاتی پروگرام (UNDP)

* مہاجرین کا کمیشن(UNRWA)

* اقتصادی ترقی کی تنظیم (UNIDO)

* انکٹاڈ (UNCTAD)
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں
اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ
www.tariqraheel.blogspot.com

 
طارق راحیل's Avatar
طارق راحیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 185
Reply With Quote
پرانا 28-12-08, 09:22 PM   #2
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,889
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اقوام متحدہ یا United Nations Organization

اقوام متحدہ کے رکن ممالک


تقریباً تمام تسلیم شدہ ممالک اقوام متحدہ کے رکن ہیں۔ اس وقت اقوام متحدہ کے ارکان ممالک کی تعداد 192 ہے۔ کچھ اقوام متحدہ کے تشکیل کے وقت سے رکن ہیں اور کچھ وقت کے ساتھ ساتھ بنے ہیں۔ دنیا میں ایک ہی تسلیم شدہ ملک اقوام متحدہ کا رکن نہیں اور یہ ملک ویٹیکن سٹی ہے۔ مگر اسے اقوام متحدہ میں خصوصی حیثیت حاصل ہے اور وہ جب چاہے اپنی مرضی سے رکن بن سکتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ جیسا ملک بھی 2002ء میں رکن بنا تھا۔ ایسے ممالک جو ابھی تسلیم شدہ نہیں مثلاً فلسطین، انہیں باقاعدہ رکنیت نہیں دی گئی مگر ان کی ایک مشاہدہ کنندہ (observer) کی حیثیت ہے اور وہ اقوام متحدہ کی مجالس میں شرکت کر سکتے ہیں اگرچہ ووٹ نہیں ڈال سکتے۔

نیچے دی گئی فہرست کو اردو حروف تہجی کے حساب سے یا انگریزی کے حساب سے یا رکنیت کی تاریخ کے حساب سے ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ اردو نام کے حساب سے ترتیب دینے کے لیے نمبر شمار والا خانہ استعمال کیا جائے تاکہ اردو حروف کی درست ترتیب کے مطابق جدول کو مرتب کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے رکن ممالک شمار ↓ ملک ↓ ملک کا انگریزی نام ↓ رکنیت کی تاریخ ↓
1 آذربائیجان Azerbaijan 02-03-1992
2 آرمینیا Armenia 02-03-1992
3 آسٹریا Austria 14-12-1955
4 آسٹریلیا Australia 01-11-1945
5 آئرلینڈ Ireland or Republic of Ireland 14-12-1955
6 آئس لینڈ Iceland 19-11-1946
7 اتحاد القمری Comoros 12-11-1975
8 ارجنٹائن Argentina 24-10-1945
9 اردن Jordan 14-12-1955
10 اریتریا Eritrea 28-05-1993
11 ازبکستان Uzbekistan 02-03-1992
12 استوائی گنی Equatorial Guinea 12-11-1968
13 اسرائیل Israel 11-05-1949
14 استونیا Estonia 17-09-1991
15 اطالیہ Italy 14-12-1955
16 افغانستان Afghanistan 19-11-1946
17 البانیہ Albania 14-12-1955
18 الجزائر Algeria 08-10-1962
19 انڈورا Andorra 28-07-1993
20 انڈونیشیا Indonesia 28-09-1950
21 انگولا Angola 01-12-1976
22 ایتھوپیا Ethiopia 13-11-1945
23 ایران Iran or Islamic Republic of Iran 24-10-1945
24 ایکواڈور Ecuador 21-12-1945
25 ایل سیلواڈور El Salvador 24-10-1945
26 اینٹیگوا و باربوڈا Antigua and Barbuda 11-11-1981
27 بارباڈوس Barbados 09-12-1966
28 بحرین Bahrain 21-09-1971
29 برازیل Brazil 24-10-1945
30 برطانیہ United Kingdom 24-10-1945
31 برکینا فاسو Burkina Faso 20-09-1960
32 برونائی Brunei Darussalam 21-09-1984
33 برونڈی Burundi 18-09-1962
34 تصویر:Flag of Unknown Country.svg بلجئیم Belgium 27-12-1945
35 بلغاریہ Bulgaria 14-12-1955
36 بنگلہ دیش Bangladesh 17-09-1974
37 بوسنیا و ہرزیگووینا Bosnia and Herzegovina 22-05-1992
38 بولیویا Bolivia 14-11-1945
39 بوٹسوانا Botswana 17-10-1966
40 بھارت India 30-10-1945
41 بھوٹان Bhutan 21-09-1971
42 بہاماس Bahamas 18-09-1973
43 بیلاروس Belarus 24-10-1945
44 بیلیز Belize 25-09-1981
45 بینن Benin 20-09-1960
46 پاپوا نیو گنی Papua New Guinea 10-10-1975
47 پاکستان Pakistan or Islamic Republic of Pakistan 30-09-1947
48 پالاؤ Palau 15-12-1994
49 پاناما Panama 13-11-1945
50 پرتگال Portugal 14-12-1955
51 پولینڈ Poland 24-10-1945
52 پیراگوئے Paraguay 24-10-1945
53 پیرو Peru 31-10-1945
54 تاجکستان Tajikistan 02-03-1992
55 ترکمانستان Turkmenistan 02-03-1992
56 ترکی Turkey 24-10-1945
57 تنزانیہ Tanzania 14-12-1961
58 تووالو Tuvalu 05-09-2000
59 تھائی لینڈ Thailand 16-12-1946
60 تیونس Tunisia 12-11-1956
61 ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو Trinidad and Tobago 18-09-1962
62 ٹوگو Togo 20-09-1960
63 ٹونگا Tonga 14-09-1999
64 جاپان Japan 18-12-1956
65 جارجیا Georgia 31-07-1992
66 جبوتی Djibouti 20-09-1977
67 جرمنی Germany 18-09-1973
68 جزائر سلیمان Solomon Islands 19-09-1978
69 جزائر مارشل Marshall Islands 17-09-1991
70 جمہوریہ چیک Czech Republic 19-01-1993
71 جمہوریہ ڈومینیکن Dominican Republic 24-10-1945
72 جمیکا Jamaica 18-09-1962
73 جنوبی افریقہ South Africa 07-11-1945
74 جنوبی کوریا South Korea 17-09-1991
75 چاڈ Chad 20-09-1960
76 چلی Chile 24-10-1945
77 چین China 24-10-1945
78 ڈنمارک Denmark 24-10-1945
79 ڈومینیکا Dominica 18-12-1978
80 روانڈا Rwanda 18-09-1962
81 روس Russian Federation 24-10-1945
82 رومانیہ Romania 14-12-1955
83 ریاستہائے متحدہ امریکہ United States 24-10-1945
84 زمبابوے Zimbabwe 25-08-1980
85 زیمبیا Zambia 01-12-1964
86 ساؤٹوم Sao Tome & Principe 16-09-1975
87 سامووا Samoa 15-12-1976
88 سان مارینو San Marino 02-03-1992
89 سربیا Serbia 01-11-2000
90 سری لنکا Sri Lanka 14-12-1955
91 سرینام Suriname 04-12-1975
92 سعودی عرب Saudi Arabia 24-10-1945
93 سلوواکیہ Slovakia 19-01-1993
94 سلووینیا Slovenia 22-05-1992
95 سنگاپور Singapore 21-09-1965
96 سوازی لینڈ Swaziland 24-09-1968
97 سوڈان Sudan 12-11-1956
98 سویٹزر لینڈ Switzerland 10-09-2002
99 سویڈن Sweden 19-11-1946
100 سیچیلیس Seychelles 21-09-1976
101 سیرالیون Sierra Leone 27-09-1961
102 سینٹ کیٹز Saint Kitts and Nevis 23-09-1983
103 سینٹ لوسیا Saint Lucia 18-09-1979
104 سینٹ وینسینٹ و گریناڈائنز Saint Vincent and the Grenadines 16-09-1980
105 سینیگال Senegal 28-09-1960
106 شام Syria 24-10-1945
107 شمالی کوریا North Korea 17-09-1991
108 صومالیہ Somalia 20-09-1960
109 عراق Iraq 21-12-1945
110 عمان Oman 07-10-1971
111 فجی Fiji 13-10-1970
112 فرانس France 24-10-1945
113 فلپائن Philippines 24-10-1945
114 فن لینڈ Finland 14-12-1955
115 قازقستان Kazakhstan 02-03-1992
116 قبرص Cyprus 20-09-1960
117 قطر Qatar 21-09-1971
118 کانگو Congo or Republic of the Congo 20-09-1960
119 کانگو (زائر) Congo or
Democratic Republic of Congo or old name:Zair 20-09-1960
120 کرغیزستان Kyrgyzstan 02-03-1992
121 کروشیا Croatia 22-05-1992
122 کمبوڈیا Cambodia 14-12-1955
123 کوت داوواغ Côte d'Ivoire 20-09-1960
124 کوسٹا ریکا Costa Rica 02-11-1945
125 کولمبیا Colombia 05-11-1945
126 کویت Kuwait 14-05-1963
127 کیپ ورڈی Cape Verd 16-09-1975
128 کیریباتی Kiribati 14-09-1999
129 کیمرون Cameroon 20-09-1960
130 کینیا Kenya 16-12-1963
131 کینیڈا Canada 09-11-1945
132 کیوبا Cuba 24-10-1945
133 گریناڈا Grenada 17-09-1974
134 گنی Guinea 12-12-1958
135 گنی بساؤ Guinea-Bissau 17-09-1974
136 گوئٹے مالا Guatemala 21-11-1945
137 گھانا Ghana 08-03-1957
138 گیانا Guyana 20-09-1966
139 گیبون Gabon 20-09-1960
140 گیمبیا Gambia 21-09-1965
141 لاؤس Laos 14-12-1955
142 لائبیریا Liberia 02-11-1945
143 لبنان Lebanon 24-10-1945
144 لتھووینیا Lithuania 17-09-1991
145 لٹویا Latvia 17-09-1991
146 لکسمبرگ Luxembourg 24-10-1945
147 لیبیا Libya 14-12-1955
148 لیختینستائن Liechtenstein 18-09-1990
149 لیسوتھو Lesotho 17-10-1966
150 مالدیپ Maldives 21-09-1965
151 مالٹا Malta 01-12-1964
152 مالڈووا Moldova 02-03-1992
153 مالی Mali 28-09-1960
154 مائکرونیشیا Micronesia 17-09-1991
155 متحدہ عرب امارات United Arab Emirates 09-12-1971
156 مڈغاسکر Madagascar 20-09-1960
157 مراکش Morocco 12-11-1956
158 مشرقی تیمور East Timor 27-09-2002
159 مصر Egypt 24-10-1945
160 مقدونیہ Macedonia or Republic of Macedonia 08-04-1993
161 ملائشیا Malaysia 17-09-1957
162 ملاوی Malawi 01-12-1964
163 مناکو Monaco 28-05-1993
164 منگولیا Mongolia 27-10-1961
165 موریتانیہ Mauritania or Islamic Republic of Mauritania 27-10-1961
166 موریشس Mauritius 24-04-1968
167 موزمبیق Mozambique 16-09-1975
168 مونٹینیگرو Montenegro 28-06-2006
169 میانمار Myanmar or old name:Burma 19-04-1948
170 میکسیکو Mexico 07-11-1945
171 ناروے Norway 27-11-1945
172 ناورو Nauru 14-09-1999
173 نائجر Niger 20-09-1960
174 نائجیریا Nigeria 07-10-1960
175 نکاراگوا Nicaragua 24-10-1945
176 نمیبیا Namibia 23-04-1990
177 نیپال Nepal 14-12-1955
178 نیدرلینڈز Netherlands 10-12-1945
179 نیوزی لینڈ New Zealand 24-10-1945
180 وانواتو Vanuatu 15-09-1981
181 وسطی افریقی جمہوریہ Central African Republic 20-09-1960
182 ویتنام Vietnam 20-09-1977
183 وینیزویلا Venezuela 15-11-1945
184 ہسپانیہ Spain 14-12-1955
185 ہنگری Hungary 14-12-1955
186 ہونڈوراس Honduras 17-12-1945
187 ہیٹی Haiti 24-10-1945
188 یمن Yemen 30-09-1947
189 یوراگوئے Uruguay 18-12-1945
190 یوکرین Ukraine 24-10-1945
191 یوگنڈا Uganda 25-10-1962
192 یونان Greece 25-10-1
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, پسند, چین, نظر, موجودہ, منشور, مسائل, آبادی, ایمان, اقوام متحدہ, انسان, امریکہ, حل, خواتین, خلاف, درخواست, رفتار, زندگی, سٹاف, سیاست, شہر, عہد, عورت, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اقتصادی تعاون کی تنظیم (انگریزی:Economic Cooperation Organization) طارق راحیل سیاست 0 31-12-08 09:25 PM
Exposing the Zionist Hidden Hand That Rules Britain and the United States میاں شاہد English Literature and Books 6 28-05-08 10:05 AM
TrackMania Nations Forever میاں شاہد کمپیوٹر گیمز 5 02-05-08 04:03 AM
Change the Registered Owner and Organization (All Windows) عبدالقدوس کمپیوٹر کی باتیں 0 19-08-07 10:59 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:45 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger