واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > سیاست



سیاست پاکستانی سیاست ایک نئے موڑ پر ، طاقت کا اصل مرکز کون ہوگا ؟


امریکی خفیہ ادارے اور قرض کا گھن چکر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-01-12, 09:36 PM   #1
امریکی خفیہ ادارے اور قرض کا گھن چکر
رضی رضی آف لائن ہے 18-01-12, 09:36 PM


 
رضی's Avatar
رضی
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 163
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (20-01-12), ننھا بچہ (18-01-12), احمد نذیر (20-01-12)
پرانا 19-01-12, 10:59 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,937
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

سب سے پہلی بات تو يہ ہے کہ آپ نے جس کتاب کا حوالہ ديا ہے وہ امريکہ ميں ہی چھپی ہے اور اس کی تشہير بھی يہاں پر ہوئ ہے۔ کتاب کے مصنف پر اپنا نقطہ نظر بيان کرنے کی پاداش ميں کوئ پابندياں نہيں لگيں۔ امريکی آئين ميں موجود قوانين اور حقوق اس بات کو يقينی بناتے ہيں کہ کوئ بھی شخص واقعات کے حوالے سے اپنی مخصوص سوچ اور نقطہ نظر کے اظہار ميں مکمل آزاد ہے۔

ليکن اس کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ کسی کتاب يا بيان کی شکل ميں امريکی حکومت پر لگاۓ جانے والے الزامات درست ثابت ہو جاتے ہیں۔

امريکہ کا وہ آئين جو اس بات کو یقينی بناتا ہے کہ ہر شخص اپنے راۓ کے اظہار کا حق رکھتا ہے، وہی آئين ہر شخص کو يہ موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ آپ قانون کی عدالت ميں اپنے الزامات کو ثابت کر کے گناہ کار کو قرار واقعی سزا دلوا سکتے ہيں۔

اس کتاب کے مصنف کے پاس بھی يہ موقع موجود تھا ليکن انھوں نے اپنے الزامات کو قانون کی عدالت ميں ثابت کرنے کے مقابلے ميں کتاب کی اشاعت کو ترجيح دی۔

اپنی کتاب ميں مصنف پرکنز نے يہ دعوی کيا ہے کہ انھيں اين – ايس – اے نے "اکنامک ہٹ مين" کی حيثيت سے منتخب کيا تھا تاکہ وہ دانستہ مختلف ممالک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا کر انھيں امريکہ کے زير اثر رکھ سکيں۔ يہ ايک من گھڑت کہانی ہے۔ حقائق اس تھيوری کی مکمل طور پر نفی کرتے ہيں۔ اس کے برعکس امريکہ نے ماضی کی کئ دہائيوں ميں ايسے اقدامات اور منصوبوں کی حوصلہ افزائ کی ہے جن کا واحد مقصد غريب ممالک کے قرضے معاف کرنا تھا۔

Factsheet -- Debt Relief Under the Heavily Indebted Poor Countries (HIPC) Initiative

پرکنز نے يہ دعوی کيا کہ انھوں نے يہ سب کچھ اين – ايس – اے کے ایماء پر کيا تھا۔ ليکن اس الزام کے ضمن ميں انھوں نے کوئ ثبوت فراہم نہيں کيا۔ انھوں نے اپنی کتاب ميں کہيں بھی يہ دعوی نہيں کيا کہ اين – ايس – اے ميں کسی شخص نے انھيں زبانی يا تحریری طور پر کوئ ہدايات جاری کی تھيں۔

شايد پرکنز اس حقيقت سے واقف نہيں کہ اين – ايس – اے کوئ معاشی ادارہ نہيں بلکہ کوڈ بنانے اور توڑنے سے متعلق ايک ادارہ ہے۔ اس ادارے کے دو مقاصد ہيں۔

امريکی انفارميشن سسٹمز کو ناقابل تسخير بنانے کے ليے نظام وضح کرنا۔

مخالفين کے سسٹمز اور کوڈز میں کمزورياں تلاش کرنا۔

ان دونوں مقاصد کا دوسرے ممالک کی نجی کمپنیوں ميں معاشی ماہرين کی تعنياتی اور ان ممالک کو قرضوں ميں جکڑنے سے دور کا بھی واسطہ نہيں ہے۔

پرکنز نے سازشی کہانیوں سے اپنی رغبت کا اظہار جنوری 10 2006 کو واشنگٹن کے ايک بک سٹور پر اپنی کتاب کے حوالے سے ايک نمائش کے دوران بھی کيا۔ ايک موقع پر انھوں نے مبينہ طور پر يہ دعوی بھی کيا کہ امريکی حکومت صدر کينيڈی، سينيٹر رابرٹ کينيڈی، مارٹن لوتھر کنگ جونير، بيٹل گروپ کے جان لينن اور ايسے بے شمار سينيٹرز کی اموات کی ذمہ دار ہے جو جہاز کے مختلف حادثات ميں جاں بحق ہوۓ تھے۔

پرکنز نے خود اس بات کا اعتراف کيا ہے کہ ان کی کتاب کی مقبوليت کی وجہ يہ ہے کہ يہ ايک دلچسپ جاسوسی کہانی کی طرز پر لکھی گئ ہے جو تيسری دنيا کے ممالک کو معاشی طور پر استعمال کرنے کے حوالے سے عام تاثر اور تصورات کو کاميابی سے استعمال کرتی ہے۔ يہ درست ہے کہ پرکنز نے معاشی ترقی اور تيزی سے پروان چڑھتی جديد دنيا کے نتيجے ميں ترقی پذير ممالک پر اس کے اثرات کے حوالے سے کجھ جائز سوالات اپنی کتاب ميں اٹھائے ہيں۔ ليکن ان کا يہ دعوی کہ وہ اين – ايس – اے کے ايما پر ايک "اکنامک ہٹ مين" کا کردار ادا کر رہے تھے، محض تخلياتی ہے۔

پرکنز کے دعوے کے برعکس امريکہ حکومت نے اپنی پاليسی پر عمل کرتے ہوۓ قرضوں کے بوجھ تلے دبے کئ غريب ممالک کے قرضوں میں کمی کے لیے اقدامات اٹھاۓ ہيں۔

سال 2004 ميں صدر بش نے کئ غريب ممالک کے سرکاری قرضوں کی منسوخی کا باقاعدہ اعلان کيا تھا۔ اس کے ايک سال کے بعد مئ 2005 ميں گلين ايگلز کانفرنس کے دوران جی – ايٹ ممالک نے 18 غريب ممالک کے قرضے معاف کرنے کے علاوہ نائيجيريا کے 17 بلين ڈالرز کے قرضے معاف کيے جو کہ تاريخ میں معاف کيا جانے والا سب سے بڑا قرضہ ہے۔

ستمبر 2005 ميں يو – ايس ٹريجری ڈيپارٹمنٹ ميں عالمی امور کے انڈر سيکرٹری ٹموتھی ايڈمز نے اس پروگرام کی تفصيلات کچھ يوں بيان کيں

"اس پلان کے نتيجے ميں 18 ايچ – آئ – پی – سی ممالک قرضے کی معافی کے فوری حقدار ہيں۔ ان ممالک ميں بينن، بوليويا، برکينا فاسو، ايتھوپيا، گھانا، گيانا، ہونڈورس، مڈاگاسکر، مالی، موری تانيہ، موضمبيگ، نکراگوا، نايجر، روانڈا، سينی گال، تنزانيہ، يوگنڈا اور زمبيا شامل ہيں۔ ايچ – آئ – پی – سی کے باقی ممالک بھی مخصوص ضابطوں کی تکميل کے بعد اس فہرست ميں شامل ہو جائيں گے۔

ان 18 ممالک کو معاف کيے جانے والے قرضہ 40 بلين ڈالرز کے لگ بھگ ہے۔ اس ساری عمل کی تکميل تک يہ عدد 60 بلين ڈالرز سے تجاوز کر جاۓ گا۔"

پرکنز کی سوچ، نقطہ نظر، تخيلاتی اور طلسمی دنياؤں سے ان کی رغبت کو سمجھنے کے لیے ان کی ديگر تنصيفات پر بھی ايک نظر ڈاليں۔
 
• Psychonavigation: “first hand accounts of how diverse tribal cultures travel beyond time and space by means of visions and dream wanderings;”
 
• Shapeshifting: “shamanistic techniques for global and personal transformation;” and
 
• The World Is As You Dream It: “shamanistic techniques from the Amazon and Andes.”

جہاں تک امريکی حکومت کے ايما پر پرکنز کے منصوبوں کا تعلق ہے تو حقائق ان کی خوابی دنيا سے يکسر مختلف ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach - Government Organization - Washington, DC | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس (20-01-12)
پرانا 19-01-12, 11:56 PM   #3
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
سال 2004 ميں صدر بش نے کئ غريب ممالک کے سرکاری قرضوں کی منسوخی کا باقاعدہ اعلان کيا تھا۔ اس کے ايک سال کے بعد مئ 2005 ميں گلين ايگلز کانفرنس کے دوران جی – ايٹ ممالک نے 18 غريب ممالک کے قرضے معاف کرنے کے علاوہ نائيجيريا کے 17 بلين ڈالرز کے قرضے معاف کيے جو کہ تاريخ میں معاف کيا جانے والا سب سے بڑا قرضہ ہے۔
جبکہ غربت کے اعتبار سے نائیجیریا سے بھی کئی غریب ملک ہیں؟

مثلا شاید ہیٹی سب سے زیادہ امریکی امداد حاصل کرنے میں دوسرے نمبر پر ہے اور جی ڈی پی یا پر کیپیٹا انکم میں نائیجیریا سے کہیں نیچے بھی۔

یقینا اس کی وجوہات امریکی قومی مفادات ہیں نا کہ دنیا سے غربت میں کمی۔ کیا خیال ہے؟
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (20-01-12), رضی (20-01-12)
پرانا 20-01-12, 06:45 AM   #4
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,542
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad مراسلہ دیکھیں
سب سے پہلی بات تو يہ ہے کہ آپ نے جس کتاب کا حوالہ ديا ہے وہ امريکہ ميں ہی چھپی ہے اور اس کی تشہير بھی يہاں پر ہوئ ہے۔ کتاب کے مصنف پر اپنا نقطہ نظر بيان کرنے کی پاداش ميں کوئ پابندياں نہيں لگيں۔ امريکی آئين ميں موجود قوانين اور حقوق اس بات کو يقينی بناتے ہيں کہ کوئ بھی شخص واقعات کے حوالے سے اپنی مخصوص سوچ اور نقطہ نظر کے اظہار ميں مکمل آزاد ہے۔

ليکن اس کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ کسی کتاب يا بيان کی شکل ميں امريکی حکومت پر لگاۓ جانے والے الزامات درست ثابت ہو جاتے ہیں۔

امريکہ کا وہ آئين جو اس بات کو یقينی بناتا ہے کہ ہر شخص اپنے راۓ کے اظہار کا حق رکھتا ہے، وہی آئين ہر شخص کو يہ موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ آپ قانون کی عدالت ميں اپنے الزامات کو ثابت کر کے گناہ کار کو قرار واقعی سزا دلوا سکتے ہيں۔

اس کتاب کے مصنف کے پاس بھی يہ موقع موجود تھا ليکن انھوں نے اپنے الزامات کو قانون کی عدالت ميں ثابت کرنے کے مقابلے ميں کتاب کی اشاعت کو ترجيح دی۔

اپنی کتاب ميں مصنف پرکنز نے يہ دعوی کيا ہے کہ انھيں اين – ايس – اے نے "اکنامک ہٹ مين" کی حيثيت سے منتخب کيا تھا تاکہ وہ دانستہ مختلف ممالک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا کر انھيں امريکہ کے زير اثر رکھ سکيں۔ يہ ايک من گھڑت کہانی ہے۔ حقائق اس تھيوری کی مکمل طور پر نفی کرتے ہيں۔ اس کے برعکس امريکہ نے ماضی کی کئ دہائيوں ميں ايسے اقدامات اور منصوبوں کی حوصلہ افزائ کی ہے جن کا واحد مقصد غريب ممالک کے قرضے معاف کرنا تھا۔

Factsheet -- Debt Relief Under the Heavily Indebted Poor Countries (HIPC) Initiative

پرکنز نے يہ دعوی کيا کہ انھوں نے يہ سب کچھ اين – ايس – اے کے ایماء پر کيا تھا۔ ليکن اس الزام کے ضمن ميں انھوں نے کوئ ثبوت فراہم نہيں کيا۔ انھوں نے اپنی کتاب ميں کہيں بھی يہ دعوی نہيں کيا کہ اين – ايس – اے ميں کسی شخص نے انھيں زبانی يا تحریری طور پر کوئ ہدايات جاری کی تھيں۔

شايد پرکنز اس حقيقت سے واقف نہيں کہ اين – ايس – اے کوئ معاشی ادارہ نہيں بلکہ کوڈ بنانے اور توڑنے سے متعلق ايک ادارہ ہے۔ اس ادارے کے دو مقاصد ہيں۔

امريکی انفارميشن سسٹمز کو ناقابل تسخير بنانے کے ليے نظام وضح کرنا۔

مخالفين کے سسٹمز اور کوڈز میں کمزورياں تلاش کرنا۔

ان دونوں مقاصد کا دوسرے ممالک کی نجی کمپنیوں ميں معاشی ماہرين کی تعنياتی اور ان ممالک کو قرضوں ميں جکڑنے سے دور کا بھی واسطہ نہيں ہے۔

پرکنز نے سازشی کہانیوں سے اپنی رغبت کا اظہار جنوری 10 2006 کو واشنگٹن کے ايک بک سٹور پر اپنی کتاب کے حوالے سے ايک نمائش کے دوران بھی کيا۔ ايک موقع پر انھوں نے مبينہ طور پر يہ دعوی بھی کيا کہ امريکی حکومت صدر کينيڈی، سينيٹر رابرٹ کينيڈی، مارٹن لوتھر کنگ جونير، بيٹل گروپ کے جان لينن اور ايسے بے شمار سينيٹرز کی اموات کی ذمہ دار ہے جو جہاز کے مختلف حادثات ميں جاں بحق ہوۓ تھے۔

پرکنز نے خود اس بات کا اعتراف کيا ہے کہ ان کی کتاب کی مقبوليت کی وجہ يہ ہے کہ يہ ايک دلچسپ جاسوسی کہانی کی طرز پر لکھی گئ ہے جو تيسری دنيا کے ممالک کو معاشی طور پر استعمال کرنے کے حوالے سے عام تاثر اور تصورات کو کاميابی سے استعمال کرتی ہے۔ يہ درست ہے کہ پرکنز نے معاشی ترقی اور تيزی سے پروان چڑھتی جديد دنيا کے نتيجے ميں ترقی پذير ممالک پر اس کے اثرات کے حوالے سے کجھ جائز سوالات اپنی کتاب ميں اٹھائے ہيں۔ ليکن ان کا يہ دعوی کہ وہ اين – ايس – اے کے ايما پر ايک "اکنامک ہٹ مين" کا کردار ادا کر رہے تھے، محض تخلياتی ہے۔

پرکنز کے دعوے کے برعکس امريکہ حکومت نے اپنی پاليسی پر عمل کرتے ہوۓ قرضوں کے بوجھ تلے دبے کئ غريب ممالک کے قرضوں میں کمی کے لیے اقدامات اٹھاۓ ہيں۔

سال 2004 ميں صدر بش نے کئ غريب ممالک کے سرکاری قرضوں کی منسوخی کا باقاعدہ اعلان کيا تھا۔ اس کے ايک سال کے بعد مئ 2005 ميں گلين ايگلز کانفرنس کے دوران جی – ايٹ ممالک نے 18 غريب ممالک کے قرضے معاف کرنے کے علاوہ نائيجيريا کے 17 بلين ڈالرز کے قرضے معاف کيے جو کہ تاريخ میں معاف کيا جانے والا سب سے بڑا قرضہ ہے۔

ستمبر 2005 ميں يو – ايس ٹريجری ڈيپارٹمنٹ ميں عالمی امور کے انڈر سيکرٹری ٹموتھی ايڈمز نے اس پروگرام کی تفصيلات کچھ يوں بيان کيں

"اس پلان کے نتيجے ميں 18 ايچ – آئ – پی – سی ممالک قرضے کی معافی کے فوری حقدار ہيں۔ ان ممالک ميں بينن، بوليويا، برکينا فاسو، ايتھوپيا، گھانا، گيانا، ہونڈورس، مڈاگاسکر، مالی، موری تانيہ، موضمبيگ، نکراگوا، نايجر، روانڈا، سينی گال، تنزانيہ، يوگنڈا اور زمبيا شامل ہيں۔ ايچ – آئ – پی – سی کے باقی ممالک بھی مخصوص ضابطوں کی تکميل کے بعد اس فہرست ميں شامل ہو جائيں گے۔

ان 18 ممالک کو معاف کيے جانے والے قرضہ 40 بلين ڈالرز کے لگ بھگ ہے۔ اس ساری عمل کی تکميل تک يہ عدد 60 بلين ڈالرز سے تجاوز کر جاۓ گا۔"

پرکنز کی سوچ، نقطہ نظر، تخيلاتی اور طلسمی دنياؤں سے ان کی رغبت کو سمجھنے کے لیے ان کی ديگر تنصيفات پر بھی ايک نظر ڈاليں۔
 
• Psychonavigation: “first hand accounts of how diverse tribal cultures travel beyond time and space by means of visions and dream wanderings;”
 
• Shapeshifting: “shamanistic techniques for global and personal transformation;” and
 
• The World Is As You Dream It: “shamanistic techniques from the Amazon and Andes.”

جہاں تک امريکی حکومت کے ايما پر پرکنز کے منصوبوں کا تعلق ہے تو حقائق ان کی خوابی دنيا سے يکسر مختلف ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach - Government Organization - Washington, DC | Facebook
آپ جس بنیاد پر سلیپر پاور کو مہذب ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کو بڑی دلیل نہیں۔ اس حساب سے تو پاکستان امریکہ سے کہیں بہتر ہے جو اپنے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کو بھی کھل کر لکھنے کی اجازت دیتا ہے ۔ اس کا ثبوت آپ کو اس فورم پر بھی بیش بہا مل جائے گا۔
باقی پھر سہی۔ابھی لائٹ کا خطرہ ہے۔
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
احمد نذیر (20-01-12)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:46 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger