امریکہ اور اس کے اتحادی دس سال گزر جانے کے باوجوداسامہ بن لادن کا کچھ بگاڑ سکے، ایمن الظواہری کو مار یا گرفتار کرسکے ، ملا محمد عمر کا سراغ لگاسکے اور نہ ان کے قریبی ساتھیوں کا۔اس جنگ میں ہزاروں معصوم افغان اور ہزاروں پاکستانی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ افغانستان آباد نہ ہوسکا لیکن پاکستان کا پختون بیلٹ بھی کھنڈر بن گیا۔ دنیا کو محفوظ بنانے کے عزم نے دنیا پہلے سے زیادہ غیرمحفوظ بنادی۔ القاعدہ پہلے سے زیادہ خطرناک اور طالبان دوبارہ افغانستان کی حکمرانی کے خواب دیکھنے لگے ہیں۔ پھر بھی امریکہ اپنی راہ بدلنے پر آمادہ ہے نہ دہشت گردی کے بنیادی عوامل کو ختم کرنے کیلئے کوشاں ۔ ایسا ہوتا تو صدر اوبامہ دورہ ہندوستان میں کشمیر کے مسئلے کے حل کو اپنی ترجیح بناتے اور دنیا بھر میں گھومنے کی بجائے مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے مشرق وسطیٰ میں ڈیرے ڈالتے۔
مخالفین کی جنگ کی سمت بھی معلوم نہیں۔ وہ واشنگٹن، دہلی اور تل ابیب کے ایوانوں کو مسمار کرنے کا عزم لے کر اٹھے تھے لیکن قندھار، پکتیا ، پاکستان کے قبائلی علاقہ جات، کودہشتستان بنا کے رکھ دیا۔ جنگ امریکہ کے ساتھ چھیڑی تھی لیکن اسکول امریکہ مخالف غریب پختون بچوں کے اڑاکے خوش ہورہے ہیں۔ واشنگٹن تک پہنچ سکے ، دہلی تک اور نہ تل ابیب تک ، چنانچہ اسلام آباد اور لاہور کی اینٹ سے اینٹ بجارہے ہیں ۔ ہم توقع لگائے بیٹھے تھے کہ اسپین کے مسجد قرطبہ کے عظمت رفتہ کو بحال اور بابری مسجد کو دوبارہ تعمیر کریں گے لیکن وہ پاکستان کی مساجد میں نمازیوں اور اولیائے کرام کے مزارات کو اڑانا اسلام کی خدمت سمجھ بیٹھے۔ صدر بش تو کیا پرویز مشرف کو بھی کوئی نقصان نہ پہنچاسکے لیکن ان کی جنگ میں مولانا حسن جان، مولانا معراج الدین، مولانانورمحمد ، مولانا سرفراز نعیمی اور ڈاکٹر فاروق خان جیسوں کے دست ہائے شفقت سے پاکستانی محروم ہوگئے۔ جنگ کا آغاز طالبان کی حمایت میں ہوا تھا لیکن پاکستان میں طالبان کے سب سے بڑے حامی اور اپنے آپ کو ان کا استاد قرار دینے والے کرنل امام کے اغواء کو طالبان کی خدمت کا نام دیا جارہا ہے۔
ہمارے حکمران دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکہ اس کا دوست اور ضرورت ہے ۔ دوسری طرف امریکہ نہ صرف پاکستان کو اپنا فرنٹ لائن اتحادی قرار دے رہا ہے بلکہ صدر اوبامہ ، ہندوستان جا کر بھی پاکستان کی صفائیاں پیش کرتا رہتا ہے لیکن دوسری طرف ہمارے بااختیار لوگ ہمیں بتاتے رہتے ہیں کہ بلوچستان میں سارے گڑ بڑ کا ذمہ دارہندوستان ہے جو وہ افغانستان میں بیٹھ کر امریکی شہ سے کرتا جارہا ہے۔ ہمیں سوات اور وزیرستان کے ملٹری آپریشنوں کی اہمیت اور جواز کا قائل کرایا جاتا ہے لیکن ڈرون حملوں کی مخالفت میں آواز اٹھانے کی تلقین کی جاتی ہے ۔ حالانکہ کسی بھی ملٹری آپریشن کے نتیجے میں عسکریت پسندوں کی قیادت کا خاتمہ نہ ہوسکا اور نہ بے گناہوں کو اس کی آگ سے محفوظ رکھا جاسکا۔ دوسری طرف رحیم اللہ یوسفزئی جیسے باخبر صحافی فرماتے ہیں کہ ڈرون حملوں نے افغان طالبان اور القاعدہ سے زیادہ نقصان پاکستانی طالبان کو پہنچایا ہے۔یہ صرف امریکہ اور اس کے مخالفین کی جنگ کا معاملہ نہیں، یہاں کم وبیش ہر جنگ اندھی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اے این پی اور ایم کیوایم کی قیادت یکساں طور پر عسکریت پسندوں کے نشانے پر ہیں لیکن سندھ میں وہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہیں۔ اے این پی والے ،ایم کیوایم کی قیادت کا کچھ بگاڑسکے اور نہ ایم کیو ایم والے اے این پی کی سندھ کی قیادت کا راستہ روک سکے۔ بلکہ دونوں جماعتوں کے رہنما کراچی اور اسلام آباد دونوں جگہ ایک ساتھ ، ایک کابینہ میں بیٹھ کر حکمرانی کررہے ہیں۔ دوسری طرف انہی جماعتوں کی قیادت کی پھیلائی ہوئی نفرتوں کے نتیجے میں ایک طرف غریب پختون مررہا ہے اور دوسری طرف غریب اردو بولنے والالیکن تماشہ یہ ہے کہ پھر بھی کراچی کا پختون ، اے این پی کی قیادت کے لئے اور اردو بولنے والا ، ایم کیوایم کی قیادت کے لئے استعمال ہورہا ہے۔
اسی طرح بلوچ قوم پرست ،اٹھے تھے بلوچوں کو ان کے حقوق دلوانے اور اپنی دھرتی کو جنت بنانے کے لئے لیکن نہ تو پرویز مشرف کا کچھ بگاڑسکے اور نہ بلوچوں کو ان کے حقوق دلواسکے۔ جس نے بلوچ لیڈروں کو مارا، ان کو مارنے کی بجائے وہ ان آبادکاروں کو ماررہے ہیں جو بلوچ بچوں کو تعلیم دلواکر جینے کا ڈھنگ سکھارہے ہیں۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ آپریشنوں پر اربوں روپے اڑاتی اور اسلام آباد کوقبلہ بنانے والے کرپٹ سرداروں کی لوٹ کھسوٹ کو تو برداشت کرتی رہتی ہے لیکن بلوچ عوام کو ان کے جائز حقوق دلوانے اورپیسہ ان کی خوشحالی پر خرچ کرنے کو تیار نہیں۔ بلوچستان کے وسائل گزشتہ ساٹھ سالوں میں بلوچ عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کردیئے جاتے تو بلوچستان کی بے چینی کب کی دور ہوچکی ہوتی۔
یہاں جنگ ہی جنگ ہے اور ہر جنگ دوسرے سے بڑھ کر اندھی ہے۔ ان جنگوں کے نتیجے میں ہم مررہے ہیں اور رسوا ہورہے ہیں لیکن کچھ کرنے کی بجائے ہم اندھے، گونگے اور بہرے بن گئے ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کریں تو ہماری حب الوطنی مشکوک ہوجاتی ہے۔ مذہبی سیاسی قائدین کی گرفت کریں تو یہود ہنود کے ایجنٹ کے خطاب ملنے میں دیر نہیں لگتی ۔ عسکریت پسندوں سے اختلاف کا اظہار کریں تو جان اور ایمان دونوں خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ قوم پرستوں پر تنقید کریں تو ایجنسیوں کے ایجنٹ قرار پاتے ہیں۔ سیاسی قیادت کے محاسبے کی کوشش کریں تو جمہوریت دشمن کا خطاب مل جاتا ہے۔ میڈیا کی روش کی اصلاح کی کوشش کریں تو حکومتی کارندے اور میڈیا کی آزادی کا دشمن قرار پانے میں دیر نہیں لگتی۔ عدلیہ کو توجہ دلادیں تو وکلا مرنے مارنے نکل پڑتے ہیں۔ علیٰ ہذہ القیاس۔ فتویٰ بازی اور عدم برداشت کا کلچر ہے جو اپنی آخری حدوں کو چھونے لگا ہے لیکن برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔ آخر ہم عدم برداشت کے اس کلچر کو کب تک برداشت کرتے رہیں گے؟ آخر کب تک ان اندھی جنگوں کو لڑتے یا پھر ان کا شکار ہوتے رہیں گے؟ ذرا سوچئے تو!
سلیم صافی
اندھی جنگیں ..جرگہ…سلیم صافی