ایک نیا خطرناک کھیل شروع ہو چکا ہے یہ وہی کھیل ہے جس کا آغاز ستمبر 2007ء میں بھی کیا گیا تھا۔ اس وقت اس کھیل کا مقصد محترمہ بے نظیر بھٹو کو بلیک میل کرنا تھا۔ ستمبر 2007ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی جلاوطنی ختم کر کے پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا تو ایک اخبار میں یہ خبر شائع ہوگئی کہ بیت اللہ محسود کے خودکش حملہ آور محترمہ بے نظیر بھٹو کے استقبال کیلئے پاکستان میں تیار ہیں۔ محترمہ نے اپنی پارٹی کے کچھ رہنماؤں کے ذریعہ جنوبی وزیرستان کے سینیٹر صالح شاہ سے رابطہ قائم کیا۔ سینیٹر صاحب نے بیت اللہ محسود سے رابطہ قائم کیا اور خبر کی تصدیق چاہی تو بقول سینیٹر صالح شاہ انہیں بیت اللہ محسود نے کہا کہ وہ کسی عورت پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ جب محترمہ بے نظیر بھٹو کے پاس سینیٹر صالح شاہ کا پیغام پہنچا تو انہیں یقین ہو گیا کہ ان کے قتل کے منصوبے کی خبر شائع کرانے کا اصل مقصد انہیں پاکستان واپسی سے روکنا ہے یا پھر واپسی کے بعد خوفزدہ رکھنا ہے تاکہ وہ اپنے تحفظ کیلئے مشرف حکومت پر انحصار کرتی رہیں۔ محترمہ 18/اکتوبر کو واپس آئیں تو ان کے استقبالیہ جلوس میں دھماکہ ہوگیا۔ پیپلز پارٹی نے اس دھماکے کی ذمہ داری بیت اللہ محسود پر نہیں ڈالی اور نہ انہیں ایف آئی آر میں نامزد کیا۔ 27/دسمبر 2007ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو پر ایک اور حملہ ہوا جس میں ان کی جان چلی گئی۔ ذرا یاد کیجئے! کیا پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے اپنی لیڈر کے قتل کی ذمہ داری بیت اللہ محسود پر ڈالی؟ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے راولپنڈی کے جنرل ہاسپٹل میں جیسے ہی اپنی لیڈر کی موت کی خبر سنی تو انہوں نے اس وقت کے حکمران پرویز مشرف کے خلاف نعرے لگائے۔ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں کوئی نہیں جھٹلا سکتا۔ ملک بھر میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ردعمل کا نشانہ دینی مدارس یا مذہبی رہنما نہیں بنے بلکہ ان کا نشانہ اس وقت کی حکمران جماعت کے حامی بنے اور یوں پاکستانی معاشرے کو روشن خیالوں اور بنیاد پرستوں میں تقسیم کرنے کی سازش ناکام ہو گئی۔ ایک سال کے بعد یہ سازش دوبارہ اسی پرانے انداز میں شروع کی جا رہی ہے۔ایک دفعہ پھر یہ خبریں شائع ہو رہی ہیں کہ بیت اللہ محسود نے مسلم لیگ (ن) کے قائدین نواز شریف اور شہباز شریف کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت ان خبروں کی صداقت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک اہم رہنما نے ان خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور مقصد یہ نظر آتا ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف مشرف کی شروع کردہ جنگ کو امریکا کی جنگ نہ کہیں بلکہ اپنی جنگ قرار دیدیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیت اللہ محسود مسلم لیگ (ن) کو کیوں نشانہ بنائے گا؟ مسلم لیگ (ن) پہلے دن سے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کی مخالفت کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود بیت اللہ محسود مسلم لیگ (ن) کا دشمن ہے تو پھر وہ کس کیلئے کام کر رہا ہے؟ یقیناً وہ پاکستان کی دشمن غیرملکی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے اور اگر یہ درست ہے تو پھر حکومت ان غیرملکی طاقتوں کا نام کیوں نہیں لیتی؟ مجھ جیسے صحافیوں کیلئے اس وقت مشکل یہ ہے کہ حکومت کی اہم شخصیات آف دی ریکارڈ گفتگو میں یہ صاف کہتی ہیں کہ بھارت اور اسرائیل کے علاوہ خود امریکا بھی قبائلی علاقوں میں جان بوجھ کر حالات خراب کر رہا ہے لیکن آن دی ریکارڈ کچھ اور کہا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک کرائے کی ریاست بن چکے ہیں۔ ہم نے امریکا سے پیسے لے کر ایک جنگ شروع کی۔ چند ہی سالوں میں یہ جنگ ہماری ریاست کا ذریعہ معاش بن گئی اور جب اس جنگ کی آگ نے ہمارے اپنے گھروں کو جلانا شروع کیا تو ریاست نے اسے اپنی جنگ قرار دیدیا۔ سوال یہ ہے کہ جس جنگ میں مرنے والے بھی پاکستانی اور مارنے والے بھی پاکستانی ہیں وہ ہماری جنگ کیسے ہے؟
میں کئی دفعہ لاہور اور کراچی کے معتبر صحافیوں اور دانشوروں سے گزارش کر چکا ہوں کہ وہ ہمت کریں اور پشاور، مردان، کوہاٹ اور بنوں میں دو تین دن ضرور گزاریں تو انہیں ایک صوبے کی رائے عامہ کا اندازہ ہو جائے گا۔ صوبہ پختونخواہ کی رائے عامہ کا بڑا حصہ اس جنگ کو اپنی جنگ نہیں سمجھتا لاہور اور کراچی میں کچھ لوگ اسے اپنی جنگ ضرور کہتے ہیں۔ اپنی جنگ کہنے والوں کی دو اقسام ہیں۔ ایک قسم مخلص لوگوں کی ہے جو واقعی پاکستان کیلئے خطرات محسوس کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ طاقت کے ذریعہ خودکش حملہ آوروں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ مخلص لوگ اس جنگ میں بھارت اور دیگر ممالک کے سازشی کردار کی کھل کر مذمت کرتے ہیں۔ دوسری قسم بدنیت لوگوں کی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے مشرف کے ساتھ تھے اور اب آصف زرداری کو اپنے ایجنڈے پر چلانا چاہتے ہیں۔ ان بدنیت خواتین و حضرات کا ایجنڈا بیرون ملک سے آتا ہے، ان کے بال بچے بھی بیرون ملک رہتے ہیں۔ یہ لوگ بھارت اور امریکا کے خلاف مذمت کا ایک لفظ زبان سے نہیں نکال سکتے کیونکہ ان کا روزگار بند ہو سکتا ہے۔ ایسے بدنیت لوگوں کی طرف سے بڑھ چڑھ کر اس جنگ کی حمایت کرنا دراصل شدت پسندوں کے فائدے میں جاتا ہے۔ ہمیں لبرل فاشسٹوں اور مذہبی انتہا پسندوں کے درمیان کشمکش میں پھنسی اس قوم کو امید دلانے کی ضرورت ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ قانون کی بالادستی ہے۔ قانون کی بالادستی آئین پر عملدرآمد سے ممکن ہے۔ یہ آئین ہمیں قبائلی علاقوں میں بھی نافذ کرنا ہے تاکہ وہ بھی ہماری طرح شہری حقوق حاصل کر سکیں۔ جب انہیں پتہ چلے گا کہ 1973ء کے آئین کی دفعہ 31کے مطابق ریاست کے مسلمان شہریوں کی زندگی کو قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق ڈھالنے کیلئے اقدامات ضروری ہیں تو وہ طالبان سے خود کہیں گے کہ آپ بندوق کے زور پر اسلام نہ لائیں بلکہ پرامن آئینی طریقے سے اسلام لائیں۔ قبائلی علاقوں کو قومی سیاسی دھارے میں لانا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ شدت پسندوں کے خلاف مقامی لشکر تشکیل دینا مسئلے کا حل نہیں۔ یاد کیجئے! اس قسم کے لشکر 1971ء میں بھی کھڑے کئے گئے۔ یہ لشکر نہ تو 1971ء میں پاکستان بچا سکے اور نہ ہی آج بچا سکتے ہیں۔ 1973ء کے آئین کی دفعہ 256 کے مطابق پرائیویٹ لشکر تشکیل دینا ممنوع ہے لیکن ہماری ریاست بار بار قومی مفاد کے نام پر پرائیویٹ لشکر بنانے کی غلطی کرتی ہے۔ ہمارے مسائل کا حل ریاست کی طرف سے بار بار آئین کی خلاف ورزی نہیں بلکہ آئین پر عملدرآمد میں ہماری نجات ہے۔ اگر ہم کرائے کی ریاست بن کر دوسروں کے کھیل میں مصروف رہے تو یہ خطرناک کھیل ایک دفعہ پھر 1971ء جیسے نتائج پیدا کر سکتا ہے اور اگر یقین نہ آئے تو پشاور سے بنوں کی طرف سفر کر کے دیکھ لیجئے۔
(حامد میر۔ روزنامہ جنگ 13 اکتوبر 2008۔ تصویری شکل میں جنگ کی ویب سائٹ پر
یہاں پڑھیے)